سندھ حکومت کا غیر قانونی صنعتوں کو رہائشی علاقوں سے منتقل کرنے کا فیصلہ



Post Views:
18

کراچی:  سندھ کے صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ غیر قانونی صنعتوں کو رہائشی علاقوں سے باہر منتقل کرانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔

سندھ حکومت نے رہائشی علاقوں میں صنعتوں کا دوبارہ سروے کرنے اور ماحولیاتی امور کا جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

صوبائی وزیر نے اس ضمن میں حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ صوبے میں تمام ریسٹورانٹس کی صفائی اور اندرونی ماحول کی بھی چیکنگ کی جائے۔

انہوں نے افسران کو احکامات دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی صنعتوں کا ڈیٹا جمع کیا جائے اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




اپنے گھر کو ایکو فرینڈلی کیسے بنائیں؟



Post Views:
1

ماحولیاتی تبدیلی جس تیزی سے ہم پر اثر انداز ہورہی ہے ہم سب جانتے ہیں، یعنی اُن اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق زمین اگلی تین دہائیوں میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ گرم ہوجائیگی۔ حیرت کی بات مگر یہ ہے کہ چند ماہ پہلے اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہی عرصہ لگ بھگ 50 سال کا تھا۔ یہ رپورٹ یہ سمجھنے اور سمجھانے کو کافی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کیلئے کس قدر سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

کہتے ہیں کہ تبدیلی کے سفر کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات سے کرنا چاہیے۔ آج کے دن اپنے آپ سے پوچھنے والے چند ایک اہم ترین سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ زمینی آب و ہوا کی بہتری کیلئے اپنی ذات کی حد تک کیا کررہے ہیں؟ کیا آپ گندگی پھیلانے والوں میں سے ہیں یا پھر اُسے صاف کرنے والوں میں سے؟ کیا آپ اُن لوگوں میں سے ہیں جو صرف صفائی نصف ایمان ہے کو کہنے اور سننے کی حد تک لیتے ہیں یا پھر اُس کا عملی مظاہرہ بھی کرتے ہیں؟ کیا آپ کا گھر، جہاں آپ رہائش پذیر ہیں، اگر کوئی باہر سے آکر دیکھے تو وہ آپ کی شخصیت کے بارے میں یہ تاثر لے کر جائیگا کہ آپ ایک ستھری اور سلجھی شخصیت کے حامل ہیں یا پھر آپ نکھار اور صفائی سے دور دور رہتے ہیں؟ کیا آپ کا گھر ایکو فرینڈلی یعنی ماحول دوست ہے یا آپ بھی ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع کو کسی دور کے ڈھول کی طرح محض پرائی ذات کا دکھ سمجھتے ہیں کہ جس کا آپ کی ذات سے کوئی لینا دینا نہیں؟

اگر آپ کا گھر ماحول دوست ہے تو آپ اس ضمن میں شاباش کے مستحق ہیں کہ آپ ماحولیات پر اپنے غلط اثر کو کسی نہ کسی صورت کم کرنے کی کوشش ضرور کررہے ہیں۔ اگر آپ کا گھر ایکو فرینڈلی نہیں ہے تو آپ کو کوشش یہ کرنی ہے کہ اس تحریر میں درج چند مشوروں پر عمل ضرور کریں تاکہ آپ کی صحت پر بھی ایک اچھا اثر پڑے اور آپ اگلی نسلوں کو صحت مند بریڈنگ گراؤنڈ دینے والوں میں شامل ہوں۔ یہ بات مگر ذہن نشین کرلیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کے پیشِ نظر ایکو فرینڈلی گھروں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

انرجی ایفیشنٹ لائٹ بلب کا استعمال

کوشش یہ کرنی ہے کہ جتنا کم ہوسکے اُتنا بجلی و دیگر وسائل کا استعمال کرنا ہے۔ اس ضمن میں کم توانائی خرچ کرنے والے آلات کا استعمال ضروری ہے۔ انرجی ایفیشنٹ یعنی کم توانائی خرچ کرنے والے لائٹ بلب کا استعمال آپ کے گھر کی کُل توانائی کے خرچ کو آدھا کردیگا۔ اس سے نہ صرف آپ کے بجلی کے بل پر ایک خوشگوار فرق پڑےگا بلکہ آپ بھی کم توانائی استعمال کرنے والوں یعنی زمینی وسائل کا کم استعمال کرنے والوں میں شامل ہوجائینگے۔ انسانی آبادی جس تیزی اور تناسب سے بڑھ رہی ہے، زمین پر اتنے وسائل پیدا کرنے کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ہمیں چاہیے کہ کم توانائی کے خرچ کو طریقِ زندگی بنائیں تاکہ زمین اور قدرتی ریسورسز پر ہماری زندگی کے رفتار سے قدم ملانے میں زیادہ بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

گھروں پر سولر پینلز کا استعمال

گھروں پر سولر پینلز کا استعمال اس ضمن میں بہت ضروری ہے۔ آجکل پاور جنریشن کا یہ طریقہ انتہائی مقبول ہے۔ سولر پینلز دن بھر میسر شمسی توانائی کو اپنے اندر جمع کرتے ہیں اور اسی توانائی سے آپ کے گھر کے برقی آلات کو پاور ملا کرتی ہے۔ اگر آپ مکمل طور پر سولر پینلز پر منتقل ہوجائیں تو بجلی کے یونٹس کے استعمال اور بجلی کی قیمتوں کے بڑھنے کی فکر سے آپ کی جان مکمل طور پر چھوٹ جائیگی۔ اور تو اور آپ کو یہ فکر بھی نہیں ہوگی کہ آیا آپ کے علاقے میں بجلی ہے یا نہیں۔ مانا کہ سولر پینلز ایک ہی وقت میں ایک بڑی انویسٹمنٹ ہے یعنی انکی لاگت زیادہ ہے مگر طویل مدتی بنیادوں پر یہ آپ کے لیے سکون اور راحت کا سامان ثابت ہونگے۔

صفائی کے دوران خاص خیال رکھیں

صفائی کے دوران خصوصی خیال اس بات کا رکھیں کہ آپ استعمال شدہ پلاسٹک کوڑے دان میں نہ پھینکیں۔ آجکل جگہ جگہ ری سائکلنگ فیکٹریز اور آؤٹ لیٹس ہیں جہاں ہم استعمال شدہ پلاسٹ جمع کروا کر اُسے ری سائیکل کرسکتے ہیں۔ جب ری سائیکل پراڈکٹس کا استعمال بڑھے گا تو فیکٹریوں پر اُسی تعداد میں وہی پراڈکٹ بنانے کا پریشر کم ہوگا۔ اس کا مطلب یہ کہ زمینی وسائل، توانائی کا استعمال کم ہوگا اور ماحولیات پر منفی اثر بھی۔ پلاسٹک ویسٹ ماحولیاتی تبدیلی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ صفائی کے دوران کوشش کریں کہ وہ کیمیکلز ڈرین میں نہ بہائیں جن کو آگے چل کر نہروں اور دریاؤں میں بہہ جانا ہے جہاں وہ آبی حیات کے نقصان کا باعث بنیں۔ اپنے گھر میں یہ اصول بنا لیں کہ پلاسٹک کا استعمال ترک کرنا ہے۔ کپڑے کے بیگ بنا کر اُسی میں روز مرہ کی اشیاء کی پیکنگ کیا کریں۔ اسی طرح سے فالتو بلب، پنکھے اور غیر ضروری ایئر کنڈیشن جہاں نظر آئے بند کردیں۔

پانی کا کم استعمال

عالمی جریدے فوربز کا کہنا ہے کہ پانی کرہ ارض کا 71 فیصد بنتا ہے۔ اس 71 فیصد کا محض 3 فیصد وہ پانی ہے جو انسان کے استعمال کے قابل ہے۔ اُس 3 فیصد کا ایک بڑا حصہ یعنی 2.5 فیصد ہمیں دستیاب ہی نہیں ہے یعنی وہ گلیشیرز اور آئس کیپس میں بند ہے اور کچھ زیرِ زمین ہے۔ کچھ ہوا میں نمی کی شکل میں اپنے سائیکل میں قید ہے۔ یوں سمجھیں کہ دنیا میں ہم 7 ارب انسانوں کے لیے محض 0.5 فیصد پانی بچتا ہے اور اُسے بھی ہم ضایع کررہے ہیں اور ماحولیاتی گندگی کے باعث اُس کی صحت کے درپے ہیں۔ ہماری ماڈرن طرزِ زندگی میں پانی کے بچاؤ پر خصوصی توجہ ہونی چاہیے تھی۔ بدقسمتی کی بات مگر یہ ہے کہ اُتنا ہی پانی ضایع ہورہا ہے۔ واش رومز میں نصب نئے اقسام کے نلکے، ہمارے شاورز سے پانی تیز بہتا ہے اور ہم ضرورت سے زیادہ پانی یونہی بہا دیتے ہیں۔ گھروں پر ٹینکیاں بھرنے کی ضرورت کیلئے موٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ چند لمحوں میں ٹینک بھر دیتے ہیں، پھر پانی بہتا چلا جاتا ہے، اور ہم موٹر کا سوئچ آف کرنے میں دیر کردیتے ہیں۔ یاد رہے کہ فریش واٹر ایک انتہائی انمول ریسورس ہے۔ اس کے بچاؤ کی راہ اختیار کرنا ہماری اپنی زندگیوں کے لیے اہم ہے۔

گھروں میں شجر کاری کا رجحان

گھر میں سبزے کی اہمیت سے انکار نہیں۔ گھر کے دالان میں دو سے تین درخت ضرور لگائیں۔ یہ ہوا سے کاربن ایمیشن یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے اُسے آکسیجن سے سرشار کرتے ہیں اور انسانی زندگی کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ سورج کی حرارت کو بھی جذب کر کے اپنے پتوں اور سائے سے ارد گرد کی ہوا کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ درخت آب و ہوا کی صفائی کا باعث بھی بنتے ہیں، چرند پرند کا مستقل مسکن بھی ہوتے ہیں اور ان سے دواؤں کی 25 فیصد تک اقسام کا بندوبست بھی ہوتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




وفاقی کابینہ نے لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹائزیشن کی ذمہ داری وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو منتقل کر دی



Post Views:
1

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹائزیشن کی ذمہ داری وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو منتقل کر دی ہے۔ اس سے قبل یہ خدمات وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فراہم کر رہی تھی۔

وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ زمین کے ریکارڈ تک ڈیجیٹل رسائی کی ذمہ داریوں کے لیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزارت تحفظِ خوراک بہترین خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔

لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن عوامی خدمت کا بہت بڑا منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے زمین کی فرد کے حصول اور انتقال اراضی کا فرسودہ اور استحصالی نظام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن ہو جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ لینڈ ریکارڈ کے ڈیجیٹائز نظام کے ذریعے قبضہ مافیا، مقدمہ بازی اور زمین کے حوالے سے لڑائی جھگڑوں کا خاتمہ ہوگا اور کسی بھی شخص کو کسی دوسرے کی زمین پر قبضہ کی ہمت نہیں ہوگی۔

اس نظام کے تحت زمین کی فرد کا حصول صرف 30 منٹ جبکہ اراضی کا انتقال اب 50 منٹ میں ممکن ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




امارات گروپ آف کمپنیز اور گرانہ ڈاٹ کام کو آئی سی سی آئی اچیومینٹ ایوارڈ 2021 سے نواز دیا گیا



Post Views:
0

امارات گروپ آف کمپنیز اور گرانہ ڈاٹ کام کو چوتھے آئی سی سی آئی اچیومینٹ ایوارڈز کی تقریب میں ایوارڈ فار ایکسی لینس سے نواز دیا گیا۔

ایوارڈ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے چیئرمین امارات گروپ آف کمپنیز اور سی ای او گرانہ ڈاٹ کام جناب شفیق اکبر کو دیا گیا۔

ایوارڈز کی تقریب یکم ستمبر 2021 کو ایوانِ صدر میں منعقد کی گئی۔

اس موقع پر جناب شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ یہ اُن کے لیے ایک پُر مسرت لمحہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈ اُن کے گروپ کی پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو تبدیل کرنے کی مسلسل کاوشوں کا ثمر ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ امارات گروپ حکومت کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے ذریعے معاشی ترقی کے ویژن کے ساتھ ہے جس سے نہ صرف پاکستان میں ہاؤسنگ کے مسائل کا حل ہوگا بلکہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی ہوگی۔

یاد رہے کہ یہ دوسرا اچیومینٹ ایوارڈ ہے جس سے امارات گروپ آف کمپنیز کو نوازا گیا ہے۔ اس سے قبل، گزشتہ سال، امارات گروپ کو لیڈنگ کنسٹرکشن اینڈ ریئل اسٹیٹ گروپ کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔

امارات گروپ آف کمپنیز مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا سب سے منفرد نام ہے جس نے یہاں گالف فلوراز، ایمیزون آؤٹ لیٹ مال، فلورنس گیلریا، عمارت بلڈرز مال اور مال آف عریبیہ جیسے نامی گرامی ریئل اسٹیٹ پراجیکٹس کی بنیاد رکھی ہے۔




وفاقی کابینہ کی سے ڈی اے کو سیکٹر ای الیون میں بائی لاز کے اطلاق کی ہدایت



Post Views:
3

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں بائی لاز کے اطلاق کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق یہ ہدایت غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے لیے کی گئی ہے۔

سی ڈی اے نے وفاقی کابینہ کو بائی لاز کے نفاذ کی اجازت کے لیے ایک خط تحریر کیا تھا تاہم اب سی ڈی اے کو قوانین کے نفاذ کی مکمل اجازت دیدی گئی ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق سیکٹر ای الیون میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا حل نا گزیر ہے۔

سیکٹر ای الیون میں حالیہ بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث یہ فیصلہ جلدی کیا گیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




جائیداد کی خریدوفروخت کی تفصیلات ایف بی آر کو جمع کروانے کا فیصلہ



Post Views:
8

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایف اے ٹی ایف (فیٹف) کی 27 ویں شرط پوری کرنے کے لیے جائیداد کی خریدوفروخت سے متعلق قواعد و ضوابط مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب تمام اسٹیٹ ایجنٹس اور پراپرٹی ڈیلرز جائیداد کی خریدوفروخت کی تمام تفصیلات ایف بی آر کو جمع کروایا کریں گے۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جائیداد کی خریدوفروخت صرف ایف بی آر میں رجسٹرڈ پراپرٹی ڈیلرز کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گی۔ علاوہ ازیں جائیداد کی خریدوفروخت کے لیے ادائیگی نقد کے بجائے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے لازمی قرار دی جا رہی ہے۔

پراپرٹی ڈیلر ایف بی آر کی متعارف کردہ ایپلی کیشن کے ذریعے جائیداد کی خریدوفروخت کے لیے آنے والے افراد کی اقوام متحدہ کی جاری کردہ فہرست سے چیکنگ کیا کریں گے تاکہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی نشاندہی ہو سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ایل ڈی اے سٹی کی تیسری کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی 4 ستمبر کو منعقد ہو گی



Post Views:
4

لاہور: لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اربن پلاننگ رانا ٹکا خان نے کہا ہے کہ ا یل ڈی اے سٹی کی تیسری کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی 4 ستمبر 2021ء کو ہو گی اور اس حوالے سے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔

قرعہ اندازی میں صرف وہ فائلیں شامل کی جائیں گی جن کے ایگزیمپشن لیٹر ایل ڈی اے سے جاری کئے جا چکے ہیں۔

ایل ڈی اے سٹی کی سپر وائزری کمیٹی کے  ایک اہم اجلاس میں مذکورہ ہاؤسنگ اسکیم کی تیسری قرعہ اندازی، ترقیاتی کاموں اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اربن پلاننگ رانا ٹکا خان کا کہنا تھا کہ ایل ڈی اے سٹی کے اقبال سیکٹر اور جناح سیکٹر میں جاری ترقیاتی کاموں اور مختلف بلاکوں میں واقع دو کنال، ایک کنال، پانچ مرلے اوردس مرلے کے پلاٹوں کی تعداد  سے متعلق امور بھی زیر بحث لائے گئے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




گذشتہ مالی سال کے دوران آئی ٹی سروسز کی برآمد سے پاکستان کو 2.12 ارب ڈالر کی آمدن


Post Views:
3

اسلام آباد: مالی سال 2020-21 کے دوران مختلف ممالک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی خدمات فراہم کرکے پاکستان نے 2.12 ارب ڈالر کی آمدن حاصل کی۔

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 2019-20 کے دوران خدمات کی فراہمی کے ذریعے حاصل کردہ آمدن 1.439 ارب ڈالر رہی جو کہ گذشتہ ماہ کے مقابلے میں 47.44 فیصد کمی  کے ساتھ زیر مشاہدہ رہی۔

مذکورہ مدت کے دوران کمپیوٹر سروسز میں 50.32 فیصد اضافہ ہوا یہ گزشتہ مالی سال 1.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2020-21 کے دوران 1.66 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

کمپیوٹر سروسز میں سافٹ وئیر کنسلٹنسی سروسز کی برآمدات میں 35.50 فیصد اضافہ دیکھا گیا جو کہ 408.974 ملین ڈالر سے بڑھ کر 554.180 ملین ڈالر ہو گیا ہے جبکہ کمپیوٹر سافٹ ویئر سے متعلقہ خدمات کی برآمد اور درآمد بھی 30.88 اضافے کے ساتھ 318.937 ملین ڈالر سے بڑھ کر 417.415 ملین ڈالر ہو گئی ہے۔

ہارڈ ویئر کنسلٹنسی سروسز کی برآمدات 71.84 فیصد کم ہو کر 1.957 ملین ڈالر سے 0.551 ملین ڈالر رہ گئی ہیں جبکہ مرمت اور دیکھ بھال کی خدمات کی برآمدات بھی 56.19 فیصد کم ہو کر 1.511 ملین ڈالر سے 0.662 ملین ڈالر رہ گئی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی برآمدات میں بھی 37.63 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا جو کہ مذکورہ مالی سال کے دوران 328.730 ملین ڈالر سے بڑھ کر 452.430 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو 487 ملین کی آمدن


Post Views:
4

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے بلڈنگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے مطابق جون 2021 سے اب تک 487 ملین کی آمدن ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے غیر قانونی تعمیرات کو 156 سے زائد نوٹسز دیے۔

ڈیپارٹمنٹ نے 253 ریزیڈینشل اور 18 کمرشل تعمیرات کے نقشوں کی منظوری دی اور پبلک شکایات کا 80 فیصد سے زائد تک ازالہ کیا گیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




زمینوں پر غیر قانونی قبضے کو کیسے روکا جائے؟


Post Views:
3

پاکستان میں زمینوں پر غیر قانونی قبضہ یعنی لینڈ گریبنگ ایک برسوں پُرانا مسئلہ ہے۔ ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات، قبضہ گروہ اور قبضہ مافیا جیسے الفاظ ہم آئے روز سنتے ہیں۔ اس اصطلاح کا مطلب ہے کہ کوئی فرد یا گروہ غیر قانونی طور پر کسی کی زمین پر قابض ہوتا ہے اور اُسے اپنی ملکیت ظاہر کرتا ہے۔

بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ قابض لوگ جعلی سیلز اور رینٹ ایگریمنٹ بھی بنوا لاتے ہیں تاکہ اُن سے کسی قسم کا بھی سوال ہو تو وہ ثبوت کے طور پر اُن فرضی ڈاکومنٹس کو اصلی ظاہر کریں۔ لوگوں کی حق حلال کی کمائی سے خریدی ہوئی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ ملکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کسی دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ آج پاکستان میں ایک آگ کی طرح پھیلتے ہوئے اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس سے بچنے کے لیے ہمارے پاس کون کون سے قوانین ہیں جو کہ عمل میں لائے جاسکتے ہیں۔

لینڈ گریبنگ، قانون کی نظر میں

جب بھی لینڈ گریبنگ کی بات ہوتی ہے، ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اصل شکار کون ہے۔ یعنی وہ شخص کہ جس کی اراضی پر قبضہ ہوا ہوتا ہے۔ ہاں مگر قانون کی نظر میں یہ معاملہ تھوڑا پیچیدہ تب ہوتا ہے جب زمین خریدنے سے قبل اُسے اس کے متعلقہ آفیشل ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ چیک یا ویریفائی نہیں کیا گیا ہوتا۔ قانون کی نظر میں کسی مغالطے کا شکار خریدار کسی طرح کی رعایت کا مستحق نہیں ہوتا۔

گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس ضمن میں کافی کام کیا ہے۔ سال 2016 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ فیصلہ جاری کیا تھا کہ لینڈ گريبنگ کے کیس میں 10 سال قید کی سزا ہوگی اور اس معاملے کو شکایت کنندہ کی نظر یعنی ریفرنس سے ہی دیکھا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ کہ کسی بھی شخص کو صرف یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی زمین پر کوئی غیر قانونی طور پر قابض ہے۔ اسی فیصلے کی روشنی میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی زمین کی قانونی حیثیت اُس کے متعلقہ ادارے سے چیک نہیں کرواتا اور اس کے خلاف کوئی قبضے کا کیس دائر کردے تو وہ بھی کسی قانونی عتاب کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل کسی بھی شکایت کنندہ کو یہ بھی ثابت کرنا ہوتا تھا کہ قابض شخص کا تعلق واقعتاً قبضہ مافیا سے ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے اس بات کی سمجھ اب کافی آسان ہے کہ کسی بھی قبضے کے کیس میں اب ایک قانونی طور پر زمین خریدنے والے کے حق میں فیصلہ ہونا کافی آسان ہے۔

شکایات کا طریقہء کار

حکومتِ وقت نے لینڈ گریبنگ کو پاکستان کے چند بڑے مسئلوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ اسی سخت پوزیشن کی وجہ سے پاکستان سٹیزن پورٹل میں لینڈ گریبنگ کو ایک الگ کیٹیگری دی گئی ہے۔ اس سیٹیزن پورٹل کے ذریعے یعنی ایک ایپ کو استعمال کرتے ہوئے لوگ اراضی پر قبضے کی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔ یوں لوگ نہ صرف اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں بلکہ اگر وہ دیکھیں کہ کسی اور کی زمین پر قبضہ ہورہاہے تو وہ اس کی شکایت بھی کر سکتے ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے صوبائی سیکریٹریوں کو یہ احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ متعلقہ افسران، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، کمشنرز، آر پی اوز اور ڈپٹی کمشنرز سے ملاقاتیں کریں اور معلوم کروائیں کہ اُن کے علاقوں میں کہاں کہاں زمینوں پر غیر قانونی قبضے ہیں اور کہاں کہاں تجاوزات کے خلاف آپریشن درکار ہے۔ سٹیزن پورٹل کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ حکومت کے پاس ایک مکمل ڈیٹا بیس آجائیگا کہ کہاں کہاں کون کون سا قبضہ مافیا کار فرما ہے اور اس ضمن میں کون کون سے قوانین ضروری ہیں۔

اس ضمن میں آپ کیا کرسکتے ہیں

پراپرٹی خریدنے سے قبل مارکیٹ ریسرچ کریں۔ آپ دیکھیں کہ تمام تر قانونی ریکارڈ میں وہ شخص کون ہے جس کی پراپرٹی آپ خریدنے لگیں ہیں۔ پراپرٹی کے تمام تر ڈاکومنٹس دیکھ لیں کہ آیا وہ ہر طرح سے کلیئر ہے کہ نہیں ہے۔ اگر آپ خود کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ آپ تمام تر قانونی عمل کو اپنے طور پر خود ہی دیکھ سکیں تو ایسا کریں کہ کسی وکیل کی خدمات حاصل کریں۔ وہ آپ کے پراپرٹی پیپرز کی مکمل جانچ کرے گا اور پراپرٹی ٹرانسفر کے عمل سے آپ کو ایک ضابطے کے تحت گزارے گا۔

جب آپ پراپرٹی خرید لیں تو اس بات کا تعین کرنا بھی آپ کی زمہ داری ہے کہ آپ پراپرٹی کی مکمل مارکنگ خود کریں۔ اپنی زمین کے گرد ایک مکمل باؤنڈری وال کا قیام کریں۔ اسی طرح سے ایک دالان کا بھی انتظام ہوسکتا ہے جس کے اطراف میں چار دیواری ہو۔ ایک ایسے سیکورٹی گارڈ کا بندوبست ہو جو کہ آپ کے گھر کی ہمہ وقت حفاظت کرے۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کے سپانسر یا مالک سے بات کرنا اور اس سے کانٹیکٹ میں رہنا بھی ایک اچھا مشورہ ہے۔ اس سے یہ بات یقینی ہوگی کہ آپ کے آفیشل اسٹیک ہولڈرز آپ کو جانتے ہیں اور آپ کی پراپرٹی کی سیفٹی کو اپنی زمہ داری سمجھیں۔

بہت سارے لوگ اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ اپنے اصل ڈاکومنٹس کا مناسب خیال نہیں رکھتے یا اکثر اُن کی فوٹو کاپیاں نہیں کرواتے۔ جب آپ مکان بیچنے کے عمل میں ہوں، کوشش کریں کہ اصل الاٹمنٹ لیٹر ہر کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ اور اگر آپ ایسا کریں تو اس پر یہ درج ہونا چاہیے کہ آپ ایسا بیچنے کے مقصد سے کررہے ہیں۔ اپنے اصل ڈاکومنٹس کی ہارڈ اور سافٹ کاپیاں ہمیشہ اپنے ہمراہ رکھیں تاکہ اُن کی نقالی نہ ہوسکے۔

یاد رکھیں کہ زمین پر قبضہ ہر طرح سے غیر قانونی اور قابلِ سزا عمل ہے۔ اگر آپ کسی کو ایسا کرتے ہوئے دیکھیں یا آپ کی اپنی زمین پر قبضہ ہو تو متعلقہ حکام کو پاکستان سیٹیزن پورٹل کے ذریعے آگاہ کریں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ایجنسی 21 نے وسیم اکرم کو بطور برانڈ ایمبیسیڈر سائن کرلیا


Post Views:
2

صفِ اول کی ریئل اسٹیٹ کمپنی، ایجنسی 21 انٹرنیشنل نے پاکستان کے مشہور کرکٹر وسیم اکرم کو بطور برانڈ ایمبیسیڈر نامزد کردیا۔

اس ضمن میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ ایجنسی 21 کا برانڈ ایمبیسیڈر بننا اُن کے لیے باعثِ فخر و اطمینان ہے۔

اس موقع پر ڈائریکٹر ایجنسی 21 شرجیل اے احمر کا کہنا تھا کہ وہ مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی تبدیلی کے اس سفر میں وسیم اکرم کو ایجنسی 21 میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

اس سائننگ کا مقصد ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ایجنسی 21 کی خدمات کو عوام کے سامنے بہتر انداز میں لانا ہے۔ بطور برانڈ ایمبیسیڈر وسیم اکرم پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو درپیش مسائل منظرِ عام پر لائیں گے اور عوام کو آگاہ کریں گے کہ کیسے ایجنسی 21 مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو درپیش تمام تر مسائل کا مکمل حل ہے۔

ایجنسی 21 انٹرنیشنل کا قیام پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں رائج فرسودہ روایات کو ختم کرنے اور اس سیکٹر کے اصل پوٹینشل کا ادراک کرنے کے لیے کیا گیا۔ پراپرٹی اور ٹیکنالوجی کے اس امتزاج، ایجنسی 21 کا مقصد پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو تبدیل کرنا، اعلیٰ خدمات اور بہترین طرزِ کاروبار کے ساتھ ایک نئی روایت رکھنا ہے۔

اپنے 5 سالہ سفر میں ایجنسی 21 انٹرنیشنل نے مُلکی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو نہ صرف منظم کیا بلکہ اپنی خدمات میں پروفیشنلزم کو ملحوظ رکھا۔

ایجنسی 21 اس عزم کا اعادہ کیے ہوئے ہے کہ مُلکی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں صاف، شفاف اور آسان سروسز کا فروغ کیا جا سکے اور ریئل اسٹیٹ ٹرانزیکشنز پر صارفین کا یقین بحال کیا جاسکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




وفاقی کابینہ نے سی ڈی اے کو تجاوزات مسمار کرنے کے احکامات جاری کردیئے


Post Views:
1

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو اسلام آباد میں تمام تر تجاوزات مسمار کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد علی نے گزشتہ روز وفاقی کابینہ کو اسلام آباد کے سیکٹر ای ایٹ اور ای نائن میں تجاوزات کے خلاف آپریشن پر بریفنگ دی۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فرد یا ادارے کو طاقت کی بنیاد پر سرکاری اراضی پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ تمام تر اسلام آباد بالخصوص مارگلہ ہلز نیشنل پارک سے تجاوزات ہٹائی جائیں اور اسلام آباد کے ماسٹر پلان کو اُس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔