ایل ڈی اے افسران کو عوامی مسائل کا بروقت حل یقینی بنانے کی ہدایات جاری

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: لاہورڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل احمد عزیز تارڑ نے ایل ڈی اے افسران کو عوامی مسائل کا بروقت حل یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دیں۔

ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں ایل ڈی اے میں زیر التوا درخواستوں کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ایل ڈی اے افسران شہریوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئیں اور اپنی سکیموں اور فیلڈ وزٹ کو یقینی بنائیں تاکہ انہیں صورتحال سے مکمل آگاہی ہو۔

ڈی جی ایل ڈی اے کا کہنا تھا کہ درخواستوں پر بلاوجہ اعتراضات لگانے والے افسران کے ساتھ سختی سے نپٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ڈائریکٹر اپنے متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی کا جواب د ہ ہے لہذا افسران روزانہ کی بنیاد پر آپس میں میٹنگ کرکے کوآرڈی نینشن بہتر بنائیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

کاروباری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تعمیراتی صنعت میں آمدن کے مواقع

[ad_1]



Post Views:
28

دنیا بھر میں ریئل اسٹیٹ کو ایک کامیاب شعبہ کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور سرمایہ کاری کی اہمیت سے واقف ہر شخص اپنی سرمایہ کاری کا ایک حصہ ریئل اسٹیٹ میں ضرور لگاتا ہے۔ اگر شعبہ تعمیرات کی بات کریں تو تعمیرات کی صنعت میں کام کرنا اور کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے آپ کے پاس علم اور تجربے کا ہونا ضروری ہے جس میں برسوں کی تربیت اور علمی تجربہ شامل ہے۔

تاہم اب تعمیراتی صنعت ایک تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور وہ لوگ جنھوں نے زندگی میں ایک ہتھوڑا تک نہیں اُٹھایا اور نا ہی کبھی ان کا کسی تعمیراتی سائٹ پرجانے کا اتفاق ہوا ہے اور وہ بھی اس صنعت میں اپنے لیے جگہ بنانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔

ہرچندکہ، یہ ممکن ہے تعمیرات کی صنعت میں کوئی تجربہ نہ رکھنے کے باوجود آپ ایک کامیاب ’کنسٹرکشن انٹرپرینیور‘ بن جائیں۔ تاہم اس کے لیے کم از کم آپ میں ایک خصوصیت کا ہونا ضروری ہے: ’’آپ ایک انٹرپرینیور کا دماغ رکھتے ہوں‘‘۔ جی ہاں! سادہ سی بات ہے۔

اگر آپ میں ’کنسٹرکشن انٹرپرینیور‘ بننے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں تو آپ تعمیراتی شعبے میں اپنا نام، پیسہ اور شہرت کما سکتے ہیں۔ تعمیرات کی صنعت ہر وقت ’’کام جاری ہے‘‘ کے مترادف ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ بطور انٹرپرینیور آپ بہتر سے بہتر ہوتے جاتے ہیں۔ تاہم ذیل میں بیان کردہ پانچ ایسی خصوصیات ہیں، جنھیں اپنا کر آپ تعمیراتی شعبے کے ایک کامیاب ’کنسٹرکشن انٹرپرینیور‘ بن سکتے ہیں۔

کنسٹرکشن انٹرپرینیورشپ میں مواقع

عملی اقدامات تعمیراتی صنعت میں کامیابی کی کنجی ہے

کئی لوگوں کے پاس کام کا ایک بہترین آئیڈیا موجود ہوتا ہے، تاہم وہ اس پر عمل درآمد کرنے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ ایک کامیاب نتیجہ، ایک زبردست آئیڈیا کا ہی اختتام ہوتا ہے، تاہم اس کامیابی کا 99فی صد دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ اس پر کس طرح عمل درآمد کرتے اور اسے کس طرح آگے لے کر چلتے ہیں۔ صرف کاغذ پر اپنے خیال کو بہتر سے بہتر کرنے میں ہی نہ پھنسے رہیں بلکہ عملی قدم اُٹھائیں۔

کامیاب انٹرپرینیور ایک زبردست آئیڈیا کو کبھی بھی مہینوں کاغذ تک محدودرکھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرتا۔ اپنے وقت کا مؤثر استعمال کریں اور وقت کے ساتھ سامنے آنے والے چیلنجز کے مطابق اپنے پلان میں ترمیم کریں۔ سب سے اہم قدم، پہلا عملی قدم اُٹھانا ہوتا ہے۔ یہ بات تعمیراتی صنعت کے انٹرپرینیورز پر اور بھی زیادہ لاگو ہوتی ہے، کیونکہ اس صنعت میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ہر صورت کام کو جاری رکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ اگر آپ کام کو مکمل نہیں کریں گے تو ایک جگہ آکر ساری چیزیں اَٹک جائیں گی اور آپ بُری طرح پھنس کر رہ جائیں گے۔

بلند حوصلہ، صبر اور ہمت بڑھائے رکھنا

اگر آپ کو ناکامی سے ڈر لگتا ہے تو اس سے بچنے کے لیے محنت کریں۔ اگر آپ میں ناکامی کا خوف موجود ہے تو اس سے پریشان ہوکر، کام کاج چھوڑ کر ایک طرف ہوجانے کے بجائے، اسے اپنی طاقت بنائیں اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔ کہتے ہیں کہ ہر انٹرپرینیور ز کے اندر عدم تحفظ کا احساس موجود رہتا ہے، تاہم وہ اپنے کام کے ذریعے اس پر حاوی رہتا ہے۔

عدم تحفظ کے احساس کو اپنی توانائی بنائیں، آگے بڑھیں اور کامیابی کے لیے اعتماد تلاش کریں۔ تعمیراتی صنعت میں انٹرپرینیورز کو کئی سطح پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی کسی انفرادی منصوبے میں ناکامی کی صورت میں تو کبھی کنٹریکٹرز اور سپلائرز کے ساتھ تعلقات میں خرابی کی صورت میں۔

دستیاب وسائل کا استعمال یقینی بنانا

کسی بھی عمومی انٹرپرینیور کے مقابلے میں، تعمیرات کی صنعت سے وابستہ انٹرپرینیورز کو باوسائل ہونا چاہیے۔ تعمیرات کی صنعت میں وقت کو پیسہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے یہ اہم ہے کہ آپ اپنے پاس دستیاب تمام وسائل کو ’کیش فلو‘ بڑھانے کے لیے استعمال کریں۔ لنکڈاِن کے شریک بانی رِیڈہوفمین کہتے ہیں، ’’کمپنی شروع کرنے کا مطلب اونچی پہاڑی کے کنارے پر پہنچ کر کود جانا اور پھر تیزی سے نیچے آنے کے اس محدود وقت میں پیراشوٹ تیار کرنا ہے‘‘۔

آپ نوجوان آرکیٹیکٹس، انجینئرز اور کنٹریکٹرز کو بلامعاوضہ یا انتہائی کم معاوضہ پر انٹرن شپ پروگرام کی پیشکش کرسکتے ہیں، جو نا صرف آپ کی کمپنی کے لیے کارگر ثابت ہوں گے بلکہ یہ ان کے کیریئر کو بھی مہمیز دے گی۔

اخراجات اور منافع کی براہ راست نگرانی

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے کاروبار کا حجم کروڑوں اور بتدریج اربوں تک پہنچ جائے تو ہر پروجیکٹ کی خالص شرحِ منافع پر نظر رکھیں۔ آپ کے پروجیکٹ اور کمپنی کی کامیابی اس سے جُڑی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی ’کیش فلو‘ پر بھی نظر رکھیں۔ یہ کام ایک اکاؤنٹنٹ آپ کے لیے بآسانی کردے گا۔ کیش فلو شیٹ سے آپ کو پتہ چلے گا کہ پروجیکٹ کی وصولیوں اور ادائیگیوں کی کیا صورتِ حال ہے اور اس پر آپ کا خالص منافع کتنا ہے۔

یہ آپ کی کمپنی کی مالی صحت جانچنے کا سب سے اہم اور آسان طریقہ ہے۔ اپنے بینک اکاؤنٹ میں رکھے زیادہ کیش سے خوش نہ ہوں، جب تک کہ آپ کو ادائیگیوں کی صورتِ حال کا علم نہ ہو، کیوں کہ وصول ہونے والا کیش جلد ہی ادائیگیوں کی نذر بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے اپنی کمپنی کے کیش فلو پر نظر رکھیں اور اسے ہرگز نظرانداز نہ کریں۔

ایک مثبت سوچ کے ساتھ زندگی بدلنے کی لگن

بہت سارے لوگ تبدیلی کو پسند نہیں کرتے۔ یہ ایک مثبت سوچ نہیں ہے۔ مثبت سوچ رکھنے والے افراد کے لیے تبدیلی کئی مواقع لے کر آتی ہے۔ کامیاب کنسٹرکشن انٹرپرینیور ہر وقت اپنی ٹیم سے یہ پوچھتے ہیں: ’’ہم چیزوں کو اپنے لیے زیادہ آسان اور زیادہ مؤثر کس طرح بنا سکتے ہیں؟‘‘ اس کلچر سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کی ٹیم ہر آئے دن نئے نئے آئیڈیاز لے کر آپ کے سامنے ہوتی ہے۔

ہمیشہ بہتری کے لیے کوشش کریں، چاہے اس کے لیے آپ کو نئی سرمایہ کاری کرنی پڑے۔ اپنے بزنس ماڈل، اپنے سسٹمز اور اپنی سوچ میں تبدیلی لانے سے مت گھبرائیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی کمپنی کی ترقی کا سفر جاری و ساری رہے تو صارفین کے بدلتے رجحانات کے ساتھ آپ کو تبدیلی کو گلے لگانا ہوگا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

تعمیراتی صنعت میں فلک بوس عمارتوں کو زلزلے سے محفوظ رکھنے کے سائنسی اطوار | Graana.com Blog

[ad_1]



Post Views:
0

زلزلہ قدرتی آفات کی مختلف اقسام میں سے ایک ایسی تباہ کُن قسم ہے جس کے رونما ہونے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ زلزلے بنیادی طور پر زمین کی تہہ میں موجود پلیٹوں کے سرکنے کے باعث وارد ہوتے ہیں ایک دوسرا نظریہ یہ بھی ہے کہ آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے سے جو آتشی مادہ زمین پر بہتہ ہے وہ بھی زمین کو ہلا کر رکھ دیتا ہے جس کی وجہ سے زلزے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور ان علاقوں میں موجود انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق جاپان میں سالانہ 1500 کے قریب زلزلوں کے واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں تاہم وہاں آنے والے زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ دیگر ممالک کی نسبت انتہائی کم رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جاپان میں بننے والی فلک بوس عمارتوں، سڑکوں، پُل اور دیگر انفراسٹکچر کو زلزلے سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بچاؤ کی تدابیر کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جاتا ہے۔

ترقی کی اس دوڑ کے تاریخی اوراق اگر پلٹ کر دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں میں بتریج اضافے کے باعث فلک بوس عمارتوں کی تعمیر میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عمومی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ تر عمارتوں کی اونچائی شاید ہی 50 منازل سے کم ہو بلکہ اب تو ترقی پذیر ممالک بھی بلند و بالا عمارتوں کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں جہاں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ٹیکنالوجی اور تحقیق کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

تعمیراتی صنعت میں گراں قدر ترقی کے باوجود انسان آج بھی زلزلہ سمیت دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کے مکمل حل کی تلاش میں بے بس نظر آتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے ترقی یافتہ ممالک نے تعمیراتی صنعت میں جدید سائنسی علوم پر استوار زلزے سے بچاؤ کی کچھ ایسی تدابیر اور ٹیکنالوجی متعارف کروا دی ہیں جنھیں اختیار کرتے ہوئے زلزلے کے دوران جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

زلزلے کی صورت میں عمارتی ڈھانچے کو بنیادوں سے الگ رکھنے کی حیرانگیز ٹیکنالوجی

ترقی یافتہ ممالک میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کے ابتدائی مرحلے میں ہی عمارت کی بنیادوں اور اس کے بالائی حصے کے درمیان ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے زلزلہ آنے کی صورت میں اس قدرتی آفت کی شدت مکمل طور پر عمارت کے بالائی حصے تک نہیں پہنچ پاتی یا پھر بالائی حصے میں زلزلے کے اثرات پہنچنے تک اس کی شدت انتہائی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس کے اوپر سائنسی طور پر زلزلہ برداشت کرنے کی بین الاقوامی اداروں سے تصدیق شدہ ’ربر بیئرنگ‘ کی ایک موٹی تہہ رکھی جاتی ہے۔ یہ تہہ ربر، بیئرنگ اور اسٹیل کی پلیٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسٹیل کی پلیٹیں اس تہہ کو عمارت کی بنیادوں اور بالائی حصے سے جوڑتی ہیں۔ زلزلے کی صورت میں اس کا اثر عمارت کی بنیاد سے ہوتا ہوا صرف ربر کی تہہ تک آتا ہے جس سے عمارت کا بالائی حصہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

جاپان کے تعمیراتی ماہرین اور انجینئرز اس ٹیکنالوجی کو ایک درجہ اور آگے لے جا چکے ہیں جس کے تحت عمارت عملی طور پر ہوا میں تیرتی ہے۔ جاپانی ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس پر ہوا سے بھرا کُشن رکھا جاتا ہے۔ یہ کُشن سینسرز کے نظام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ زلزلے کی صورت میں سینسرز کا نظام حرکت میں آتے ہوئے ایئرکمپریسر تک معلومات پہنچاتا ہے۔ ایئرکمپریسر عمارت کے بالائی حصے کو 3 سینٹی میٹر بلندی پر لے جاتا ہے اور زلزلہ ختم ہونے کے بعد عمارت واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے اوراس طرح وہ عمارت زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتی ہے۔

زلزلے کے جھٹکے کی شدت کو زائل بھی کیا جا سکتا ہے مگر کیسے؟

جس طرح کسی بھی گاڑی میں شاک ایبزاربرز اس کے اسپرنگ کی غیر ضروری حرکت کو کُشن فراہم کرتے ہیں ویسے ہی عمارتوں میں بھی ان سے یہی کام لیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عمارت کی ہر منزل پر ’شاک ایبزاربرز‘ نصب کیے جاتے ہیں جس کا ایک سرا ستون اور دوسرا سرا بیم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ہر شاک ایبزاربر ایک پِسٹن ہیڈ پر مشتمل ہوتا ہے جو سیلیکون آئل سے بھرے سلنڈر کے اندر حرکت کرتا ہے۔ جب زلزلہ عمارت کے ساتھ ٹکراتا ہے تو شاک ایبزاربر کا پسٹن سیلیکون آئل پر دباؤ ڈالتا ہے اور زلزلے کی توانائی مکینیکل توانائی میں تبدیل ہوکر گرمی پیدا کرتی ہے اور اس طرح عمارت کا ڈھانچہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

دھات سے بنی دیومت گیند عمارت کا توازن کیسے برقرار رکھ سکتی ہے

یہ ٹیکنالوجی بھی شاک ایبزاربر سے ملتی جلتی ہے۔ دھات سے بنی دیومت گیند جیسے پینڈولم بھی کہا جاتا ہے کے تحت عمارت کے تمام ڈھانچے کا وزن اس کی چوٹی پر مرتکز کردیا جاتا ہے۔ عمارت کی چوٹی پر اس ڈھانچے کو اسٹیل کیبل کے ذریعے توازن فراہم کیا جاتا ہے۔ عمارت کے ڈھانچے اور اسٹیل کیبل کے درمیان مائع نما گاڑھا مادہ بھرا جاتا ہے۔ جب اس عمارت سے زلزلہ ٹکراتا ہے تو پینڈولم اسی قوت کے ساتھ مخالف سمت میں زور لگاتا ہے اور عمارت کو توازن فراہم کرتا ہے۔

ری انفورسڈ کنکریٹ کا عمارت کو زلزلے کی شدت سے محفوظ رکھنے میں کردار

جدید عمارتوں میں زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیے یہ ایک نسبتاً کم لاگت جدید ٹیکنالوجی ہے۔ اس نظام کے تحت ری انفورسڈ کنکریٹ کا ایک ڈھانچہ عمارت کے مرکزی حصے میں ایلیویٹر یا لفٹ کے چاروں اطراف لگایا جاتا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی اس وقت بہترین نتائج دیتی ہے جب اس کی بنیاد کو عمارت سے جدا رکھا جائے۔ بنیاد کو علیحدہ رکھنے کے لیے اس میں ایلاسٹیو میٹرک بیئرنگز لگائے جاتے ہیں۔ کنکریٹ کا ڈھانچہ تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی ایک تہہ اسٹیل اور دوسری تہہ قدرتی ربر یا ایک مصنوعی کیمیاوی مرکب  نیوپرین پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس طرح کے تعمیراتی ڈھانچے کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ عمودی طور پر یہ انتہائی مضبوط ڈھانچہ ہوتا ہے جبکہ افقی طور پر یہ لچکدار رہتا ہے۔ یہ عمارتوں کوزلزلے سے محفوظ رکھنے کی ایک کم لاگت انتہائی مؤثر اور نسبتاً سادہ ٹیکنالوجی ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

تعمیراتی صنعت میں فلک بوس عمارتوں کو زلزلے سے محفوظ رکھنے کے سائنسی اطوار | Graana.com Blog

[ad_1]



Post Views:
10

زلزلہ قدرتی آفات کی مختلف اقسام میں سے ایک ایسی تباہ کُن قسم ہے جس کے رونما ہونے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ زلزلے بنیادی طور پر زمین کی تہہ میں موجود پلیٹوں کے سرکنے کے باعث وارد ہوتے ہیں ایک دوسرا نظریہ یہ بھی ہے کہ آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے سے جو آتشی مادہ زمین پر بہتہ ہے وہ بھی زمین کو ہلا کر رکھ دیتا ہے جس کی وجہ سے زلزے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور ان علاقوں میں موجود انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق جاپان میں سالانہ 1500 کے قریب زلزلوں کے واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں تاہم وہاں آنے والے زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ دیگر ممالک کی نسبت انتہائی کم رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جاپان میں بننے والی فلک بوس عمارتوں، سڑکوں، پُل اور دیگر انفراسٹکچر کو زلزلے سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بچاؤ کی تدابیر کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جاتا ہے۔

ترقی کی اس دوڑ کے تاریخی اوراق اگر پلٹ کر دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں میں بتریج اضافے کے باعث فلک بوس عمارتوں کی تعمیر میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عمومی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ تر عمارتوں کی اونچائی شاید ہی 50 منازل سے کم ہو بلکہ اب تو ترقی پذیر ممالک بھی بلند و بالا عمارتوں کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں جہاں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ٹیکنالوجی اور تحقیق کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

تعمیراتی صنعت میں گراں قدر ترقی کے باوجود انسان آج بھی زلزلہ سمیت دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کے مکمل حل کی تلاش میں بے بس نظر آتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے ترقی یافتہ ممالک نے تعمیراتی صنعت میں جدید سائنسی علوم پر استوار زلزے سے بچاؤ کی کچھ ایسی تدابیر اور ٹیکنالوجی متعارف کروا دی ہیں جنھیں اختیار کرتے ہوئے زلزلے کے دوران جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

زلزلے کی صورت میں عمارتی ڈھانچے کو بنیادوں سے الگ رکھنے کی حیرانگیز ٹیکنالوجی

ترقی یافتہ ممالک میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کے ابتدائی مرحلے میں ہی عمارت کی بنیادوں اور اس کے بالائی حصے کے درمیان ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے زلزلہ آنے کی صورت میں اس قدرتی آفت کی شدت مکمل طور پر عمارت کے بالائی حصے تک نہیں پہنچ پاتی یا پھر بالائی حصے میں زلزلے کے اثرات پہنچنے تک اس کی شدت انتہائی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس کے اوپر سائنسی طور پر زلزلہ برداشت کرنے کی بین الاقوامی اداروں سے تصدیق شدہ ’ربر بیئرنگ‘ کی ایک موٹی تہہ رکھی جاتی ہے۔ یہ تہہ ربر، بیئرنگ اور اسٹیل کی پلیٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسٹیل کی پلیٹیں اس تہہ کو عمارت کی بنیادوں اور بالائی حصے سے جوڑتی ہیں۔ زلزلے کی صورت میں اس کا اثر عمارت کی بنیاد سے ہوتا ہوا صرف ربر کی تہہ تک آتا ہے جس سے عمارت کا بالائی حصہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

جاپان کے تعمیراتی ماہرین اور انجینئرز اس ٹیکنالوجی کو ایک درجہ اور آگے لے جا چکے ہیں جس کے تحت عمارت عملی طور پر ہوا میں تیرتی ہے۔ جاپانی ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس پر ہوا سے بھرا کُشن رکھا جاتا ہے۔ یہ کُشن سینسرز کے نظام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ زلزلے کی صورت میں سینسرز کا نظام حرکت میں آتے ہوئے ایئرکمپریسر تک معلومات پہنچاتا ہے۔ ایئرکمپریسر عمارت کے بالائی حصے کو 3 سینٹی میٹر بلندی پر لے جاتا ہے اور زلزلہ ختم ہونے کے بعد عمارت واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے اوراس طرح وہ عمارت زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتی ہے۔

زلزلے کے جھٹکے کی شدت کو زائل بھی کیا جا سکتا ہے مگر کیسے؟

جس طرح کسی بھی گاڑی میں شاک ایبزاربرز اس کے اسپرنگ کی غیر ضروری حرکت کو کُشن فراہم کرتے ہیں ویسے ہی عمارتوں میں بھی ان سے یہی کام لیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عمارت کی ہر منزل پر ’شاک ایبزاربرز‘ نصب کیے جاتے ہیں جس کا ایک سرا ستون اور دوسرا سرا بیم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ہر شاک ایبزاربر ایک پِسٹن ہیڈ پر مشتمل ہوتا ہے جو سیلیکون آئل سے بھرے سلنڈر کے اندر حرکت کرتا ہے۔ جب زلزلہ عمارت کے ساتھ ٹکراتا ہے تو شاک ایبزاربر کا پسٹن سیلیکون آئل پر دباؤ ڈالتا ہے اور زلزلے کی توانائی مکینیکل توانائی میں تبدیل ہوکر گرمی پیدا کرتی ہے اور اس طرح عمارت کا ڈھانچہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

دھات سے بنی دیومت گیند عمارت کا توازن کیسے برقرار رکھ سکتی ہے

یہ ٹیکنالوجی بھی شاک ایبزاربر سے ملتی جلتی ہے۔ دھات سے بنی دیومت گیند جیسے پینڈولم بھی کہا جاتا ہے کے تحت عمارت کے تمام ڈھانچے کا وزن اس کی چوٹی پر مرتکز کردیا جاتا ہے۔ عمارت کی چوٹی پر اس ڈھانچے کو اسٹیل کیبل کے ذریعے توازن فراہم کیا جاتا ہے۔ عمارت کے ڈھانچے اور اسٹیل کیبل کے درمیان مائع نما گاڑھا مادہ بھرا جاتا ہے۔ جب اس عمارت سے زلزلہ ٹکراتا ہے تو پینڈولم اسی قوت کے ساتھ مخالف سمت میں زور لگاتا ہے اور عمارت کو توازن فراہم کرتا ہے۔

ری انفورسڈ کنکریٹ کا عمارت کو زلزلے کی شدت سے محفوظ رکھنے میں کردار

جدید عمارتوں میں زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیے یہ ایک نسبتاً کم لاگت جدید ٹیکنالوجی ہے۔ اس نظام کے تحت ری انفورسڈ کنکریٹ کا ایک ڈھانچہ عمارت کے مرکزی حصے میں ایلیویٹر یا لفٹ کے چاروں اطراف لگایا جاتا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی اس وقت بہترین نتائج دیتی ہے جب اس کی بنیاد کو عمارت سے جدا رکھا جائے۔ بنیاد کو علیحدہ رکھنے کے لیے اس میں ایلاسٹیو میٹرک بیئرنگز لگائے جاتے ہیں۔ کنکریٹ کا ڈھانچہ تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی ایک تہہ اسٹیل اور دوسری تہہ قدرتی ربر یا ایک مصنوعی کیمیاوی مرکب  نیوپرین پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس طرح کے تعمیراتی ڈھانچے کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ عمودی طور پر یہ انتہائی مضبوط ڈھانچہ ہوتا ہے جبکہ افقی طور پر یہ لچکدار رہتا ہے۔ یہ عمارتوں کوزلزلے سے محفوظ رکھنے کی ایک کم لاگت انتہائی مؤثر اور نسبتاً سادہ ٹیکنالوجی ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

سندھ حکومت کا غیر قانونی صنعتوں کو رہائشی علاقوں سے منتقل کرنے کا فیصلہ

[ad_1]



Post Views:
18

کراچی:  سندھ کے صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ غیر قانونی صنعتوں کو رہائشی علاقوں سے باہر منتقل کرانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔

سندھ حکومت نے رہائشی علاقوں میں صنعتوں کا دوبارہ سروے کرنے اور ماحولیاتی امور کا جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

صوبائی وزیر نے اس ضمن میں حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ صوبے میں تمام ریسٹورانٹس کی صفائی اور اندرونی ماحول کی بھی چیکنگ کی جائے۔

انہوں نے افسران کو احکامات دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی صنعتوں کا ڈیٹا جمع کیا جائے اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

اپنے گھر کو ایکو فرینڈلی کیسے بنائیں؟

[ad_1]



Post Views:
1

ماحولیاتی تبدیلی جس تیزی سے ہم پر اثر انداز ہورہی ہے ہم سب جانتے ہیں، یعنی اُن اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق زمین اگلی تین دہائیوں میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ گرم ہوجائیگی۔ حیرت کی بات مگر یہ ہے کہ چند ماہ پہلے اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہی عرصہ لگ بھگ 50 سال کا تھا۔ یہ رپورٹ یہ سمجھنے اور سمجھانے کو کافی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کیلئے کس قدر سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

کہتے ہیں کہ تبدیلی کے سفر کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات سے کرنا چاہیے۔ آج کے دن اپنے آپ سے پوچھنے والے چند ایک اہم ترین سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ زمینی آب و ہوا کی بہتری کیلئے اپنی ذات کی حد تک کیا کررہے ہیں؟ کیا آپ گندگی پھیلانے والوں میں سے ہیں یا پھر اُسے صاف کرنے والوں میں سے؟ کیا آپ اُن لوگوں میں سے ہیں جو صرف صفائی نصف ایمان ہے کو کہنے اور سننے کی حد تک لیتے ہیں یا پھر اُس کا عملی مظاہرہ بھی کرتے ہیں؟ کیا آپ کا گھر، جہاں آپ رہائش پذیر ہیں، اگر کوئی باہر سے آکر دیکھے تو وہ آپ کی شخصیت کے بارے میں یہ تاثر لے کر جائیگا کہ آپ ایک ستھری اور سلجھی شخصیت کے حامل ہیں یا پھر آپ نکھار اور صفائی سے دور دور رہتے ہیں؟ کیا آپ کا گھر ایکو فرینڈلی یعنی ماحول دوست ہے یا آپ بھی ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع کو کسی دور کے ڈھول کی طرح محض پرائی ذات کا دکھ سمجھتے ہیں کہ جس کا آپ کی ذات سے کوئی لینا دینا نہیں؟

اگر آپ کا گھر ماحول دوست ہے تو آپ اس ضمن میں شاباش کے مستحق ہیں کہ آپ ماحولیات پر اپنے غلط اثر کو کسی نہ کسی صورت کم کرنے کی کوشش ضرور کررہے ہیں۔ اگر آپ کا گھر ایکو فرینڈلی نہیں ہے تو آپ کو کوشش یہ کرنی ہے کہ اس تحریر میں درج چند مشوروں پر عمل ضرور کریں تاکہ آپ کی صحت پر بھی ایک اچھا اثر پڑے اور آپ اگلی نسلوں کو صحت مند بریڈنگ گراؤنڈ دینے والوں میں شامل ہوں۔ یہ بات مگر ذہن نشین کرلیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کے پیشِ نظر ایکو فرینڈلی گھروں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

انرجی ایفیشنٹ لائٹ بلب کا استعمال

کوشش یہ کرنی ہے کہ جتنا کم ہوسکے اُتنا بجلی و دیگر وسائل کا استعمال کرنا ہے۔ اس ضمن میں کم توانائی خرچ کرنے والے آلات کا استعمال ضروری ہے۔ انرجی ایفیشنٹ یعنی کم توانائی خرچ کرنے والے لائٹ بلب کا استعمال آپ کے گھر کی کُل توانائی کے خرچ کو آدھا کردیگا۔ اس سے نہ صرف آپ کے بجلی کے بل پر ایک خوشگوار فرق پڑےگا بلکہ آپ بھی کم توانائی استعمال کرنے والوں یعنی زمینی وسائل کا کم استعمال کرنے والوں میں شامل ہوجائینگے۔ انسانی آبادی جس تیزی اور تناسب سے بڑھ رہی ہے، زمین پر اتنے وسائل پیدا کرنے کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ہمیں چاہیے کہ کم توانائی کے خرچ کو طریقِ زندگی بنائیں تاکہ زمین اور قدرتی ریسورسز پر ہماری زندگی کے رفتار سے قدم ملانے میں زیادہ بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

گھروں پر سولر پینلز کا استعمال

گھروں پر سولر پینلز کا استعمال اس ضمن میں بہت ضروری ہے۔ آجکل پاور جنریشن کا یہ طریقہ انتہائی مقبول ہے۔ سولر پینلز دن بھر میسر شمسی توانائی کو اپنے اندر جمع کرتے ہیں اور اسی توانائی سے آپ کے گھر کے برقی آلات کو پاور ملا کرتی ہے۔ اگر آپ مکمل طور پر سولر پینلز پر منتقل ہوجائیں تو بجلی کے یونٹس کے استعمال اور بجلی کی قیمتوں کے بڑھنے کی فکر سے آپ کی جان مکمل طور پر چھوٹ جائیگی۔ اور تو اور آپ کو یہ فکر بھی نہیں ہوگی کہ آیا آپ کے علاقے میں بجلی ہے یا نہیں۔ مانا کہ سولر پینلز ایک ہی وقت میں ایک بڑی انویسٹمنٹ ہے یعنی انکی لاگت زیادہ ہے مگر طویل مدتی بنیادوں پر یہ آپ کے لیے سکون اور راحت کا سامان ثابت ہونگے۔

صفائی کے دوران خاص خیال رکھیں

صفائی کے دوران خصوصی خیال اس بات کا رکھیں کہ آپ استعمال شدہ پلاسٹک کوڑے دان میں نہ پھینکیں۔ آجکل جگہ جگہ ری سائکلنگ فیکٹریز اور آؤٹ لیٹس ہیں جہاں ہم استعمال شدہ پلاسٹ جمع کروا کر اُسے ری سائیکل کرسکتے ہیں۔ جب ری سائیکل پراڈکٹس کا استعمال بڑھے گا تو فیکٹریوں پر اُسی تعداد میں وہی پراڈکٹ بنانے کا پریشر کم ہوگا۔ اس کا مطلب یہ کہ زمینی وسائل، توانائی کا استعمال کم ہوگا اور ماحولیات پر منفی اثر بھی۔ پلاسٹک ویسٹ ماحولیاتی تبدیلی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ صفائی کے دوران کوشش کریں کہ وہ کیمیکلز ڈرین میں نہ بہائیں جن کو آگے چل کر نہروں اور دریاؤں میں بہہ جانا ہے جہاں وہ آبی حیات کے نقصان کا باعث بنیں۔ اپنے گھر میں یہ اصول بنا لیں کہ پلاسٹک کا استعمال ترک کرنا ہے۔ کپڑے کے بیگ بنا کر اُسی میں روز مرہ کی اشیاء کی پیکنگ کیا کریں۔ اسی طرح سے فالتو بلب، پنکھے اور غیر ضروری ایئر کنڈیشن جہاں نظر آئے بند کردیں۔

پانی کا کم استعمال

عالمی جریدے فوربز کا کہنا ہے کہ پانی کرہ ارض کا 71 فیصد بنتا ہے۔ اس 71 فیصد کا محض 3 فیصد وہ پانی ہے جو انسان کے استعمال کے قابل ہے۔ اُس 3 فیصد کا ایک بڑا حصہ یعنی 2.5 فیصد ہمیں دستیاب ہی نہیں ہے یعنی وہ گلیشیرز اور آئس کیپس میں بند ہے اور کچھ زیرِ زمین ہے۔ کچھ ہوا میں نمی کی شکل میں اپنے سائیکل میں قید ہے۔ یوں سمجھیں کہ دنیا میں ہم 7 ارب انسانوں کے لیے محض 0.5 فیصد پانی بچتا ہے اور اُسے بھی ہم ضایع کررہے ہیں اور ماحولیاتی گندگی کے باعث اُس کی صحت کے درپے ہیں۔ ہماری ماڈرن طرزِ زندگی میں پانی کے بچاؤ پر خصوصی توجہ ہونی چاہیے تھی۔ بدقسمتی کی بات مگر یہ ہے کہ اُتنا ہی پانی ضایع ہورہا ہے۔ واش رومز میں نصب نئے اقسام کے نلکے، ہمارے شاورز سے پانی تیز بہتا ہے اور ہم ضرورت سے زیادہ پانی یونہی بہا دیتے ہیں۔ گھروں پر ٹینکیاں بھرنے کی ضرورت کیلئے موٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ چند لمحوں میں ٹینک بھر دیتے ہیں، پھر پانی بہتا چلا جاتا ہے، اور ہم موٹر کا سوئچ آف کرنے میں دیر کردیتے ہیں۔ یاد رہے کہ فریش واٹر ایک انتہائی انمول ریسورس ہے۔ اس کے بچاؤ کی راہ اختیار کرنا ہماری اپنی زندگیوں کے لیے اہم ہے۔

گھروں میں شجر کاری کا رجحان

گھر میں سبزے کی اہمیت سے انکار نہیں۔ گھر کے دالان میں دو سے تین درخت ضرور لگائیں۔ یہ ہوا سے کاربن ایمیشن یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے اُسے آکسیجن سے سرشار کرتے ہیں اور انسانی زندگی کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ سورج کی حرارت کو بھی جذب کر کے اپنے پتوں اور سائے سے ارد گرد کی ہوا کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ درخت آب و ہوا کی صفائی کا باعث بھی بنتے ہیں، چرند پرند کا مستقل مسکن بھی ہوتے ہیں اور ان سے دواؤں کی 25 فیصد تک اقسام کا بندوبست بھی ہوتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

وفاقی کابینہ نے لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹائزیشن کی ذمہ داری وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو منتقل کر دی

[ad_1]



Post Views:
1

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹائزیشن کی ذمہ داری وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو منتقل کر دی ہے۔ اس سے قبل یہ خدمات وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فراہم کر رہی تھی۔

وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ زمین کے ریکارڈ تک ڈیجیٹل رسائی کی ذمہ داریوں کے لیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزارت تحفظِ خوراک بہترین خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔

لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن عوامی خدمت کا بہت بڑا منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے زمین کی فرد کے حصول اور انتقال اراضی کا فرسودہ اور استحصالی نظام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن ہو جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ لینڈ ریکارڈ کے ڈیجیٹائز نظام کے ذریعے قبضہ مافیا، مقدمہ بازی اور زمین کے حوالے سے لڑائی جھگڑوں کا خاتمہ ہوگا اور کسی بھی شخص کو کسی دوسرے کی زمین پر قبضہ کی ہمت نہیں ہوگی۔

اس نظام کے تحت زمین کی فرد کا حصول صرف 30 منٹ جبکہ اراضی کا انتقال اب 50 منٹ میں ممکن ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

امارات گروپ آف کمپنیز اور گرانہ ڈاٹ کام کو آئی سی سی آئی اچیومینٹ ایوارڈ 2021 سے نواز دیا گیا

[ad_1]



Post Views:
0

امارات گروپ آف کمپنیز اور گرانہ ڈاٹ کام کو چوتھے آئی سی سی آئی اچیومینٹ ایوارڈز کی تقریب میں ایوارڈ فار ایکسی لینس سے نواز دیا گیا۔

ایوارڈ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے چیئرمین امارات گروپ آف کمپنیز اور سی ای او گرانہ ڈاٹ کام جناب شفیق اکبر کو دیا گیا۔

ایوارڈز کی تقریب یکم ستمبر 2021 کو ایوانِ صدر میں منعقد کی گئی۔

اس موقع پر جناب شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ یہ اُن کے لیے ایک پُر مسرت لمحہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈ اُن کے گروپ کی پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو تبدیل کرنے کی مسلسل کاوشوں کا ثمر ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ امارات گروپ حکومت کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے ذریعے معاشی ترقی کے ویژن کے ساتھ ہے جس سے نہ صرف پاکستان میں ہاؤسنگ کے مسائل کا حل ہوگا بلکہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی ہوگی۔

یاد رہے کہ یہ دوسرا اچیومینٹ ایوارڈ ہے جس سے امارات گروپ آف کمپنیز کو نوازا گیا ہے۔ اس سے قبل، گزشتہ سال، امارات گروپ کو لیڈنگ کنسٹرکشن اینڈ ریئل اسٹیٹ گروپ کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔

امارات گروپ آف کمپنیز مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا سب سے منفرد نام ہے جس نے یہاں گالف فلوراز، ایمیزون آؤٹ لیٹ مال، فلورنس گیلریا، عمارت بلڈرز مال اور مال آف عریبیہ جیسے نامی گرامی ریئل اسٹیٹ پراجیکٹس کی بنیاد رکھی ہے۔




[ad_2]

وفاقی کابینہ کی سے ڈی اے کو سیکٹر ای الیون میں بائی لاز کے اطلاق کی ہدایت

[ad_1]



Post Views:
3

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں بائی لاز کے اطلاق کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق یہ ہدایت غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے لیے کی گئی ہے۔

سی ڈی اے نے وفاقی کابینہ کو بائی لاز کے نفاذ کی اجازت کے لیے ایک خط تحریر کیا تھا تاہم اب سی ڈی اے کو قوانین کے نفاذ کی مکمل اجازت دیدی گئی ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق سیکٹر ای الیون میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا حل نا گزیر ہے۔

سیکٹر ای الیون میں حالیہ بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث یہ فیصلہ جلدی کیا گیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

جائیداد کی خریدوفروخت کی تفصیلات ایف بی آر کو جمع کروانے کا فیصلہ

[ad_1]



Post Views:
8

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایف اے ٹی ایف (فیٹف) کی 27 ویں شرط پوری کرنے کے لیے جائیداد کی خریدوفروخت سے متعلق قواعد و ضوابط مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب تمام اسٹیٹ ایجنٹس اور پراپرٹی ڈیلرز جائیداد کی خریدوفروخت کی تمام تفصیلات ایف بی آر کو جمع کروایا کریں گے۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جائیداد کی خریدوفروخت صرف ایف بی آر میں رجسٹرڈ پراپرٹی ڈیلرز کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گی۔ علاوہ ازیں جائیداد کی خریدوفروخت کے لیے ادائیگی نقد کے بجائے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے لازمی قرار دی جا رہی ہے۔

پراپرٹی ڈیلر ایف بی آر کی متعارف کردہ ایپلی کیشن کے ذریعے جائیداد کی خریدوفروخت کے لیے آنے والے افراد کی اقوام متحدہ کی جاری کردہ فہرست سے چیکنگ کیا کریں گے تاکہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی نشاندہی ہو سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

ایل ڈی اے سٹی کی تیسری کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی 4 ستمبر کو منعقد ہو گی

[ad_1]



Post Views:
4

لاہور: لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اربن پلاننگ رانا ٹکا خان نے کہا ہے کہ ا یل ڈی اے سٹی کی تیسری کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی 4 ستمبر 2021ء کو ہو گی اور اس حوالے سے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔

قرعہ اندازی میں صرف وہ فائلیں شامل کی جائیں گی جن کے ایگزیمپشن لیٹر ایل ڈی اے سے جاری کئے جا چکے ہیں۔

ایل ڈی اے سٹی کی سپر وائزری کمیٹی کے  ایک اہم اجلاس میں مذکورہ ہاؤسنگ اسکیم کی تیسری قرعہ اندازی، ترقیاتی کاموں اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اربن پلاننگ رانا ٹکا خان کا کہنا تھا کہ ایل ڈی اے سٹی کے اقبال سیکٹر اور جناح سیکٹر میں جاری ترقیاتی کاموں اور مختلف بلاکوں میں واقع دو کنال، ایک کنال، پانچ مرلے اوردس مرلے کے پلاٹوں کی تعداد  سے متعلق امور بھی زیر بحث لائے گئے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

گذشتہ مالی سال کے دوران آئی ٹی سروسز کی برآمد سے پاکستان کو 2.12 ارب ڈالر کی آمدن

[ad_1]


Post Views:
3

اسلام آباد: مالی سال 2020-21 کے دوران مختلف ممالک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی خدمات فراہم کرکے پاکستان نے 2.12 ارب ڈالر کی آمدن حاصل کی۔

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 2019-20 کے دوران خدمات کی فراہمی کے ذریعے حاصل کردہ آمدن 1.439 ارب ڈالر رہی جو کہ گذشتہ ماہ کے مقابلے میں 47.44 فیصد کمی  کے ساتھ زیر مشاہدہ رہی۔

مذکورہ مدت کے دوران کمپیوٹر سروسز میں 50.32 فیصد اضافہ ہوا یہ گزشتہ مالی سال 1.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2020-21 کے دوران 1.66 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

کمپیوٹر سروسز میں سافٹ وئیر کنسلٹنسی سروسز کی برآمدات میں 35.50 فیصد اضافہ دیکھا گیا جو کہ 408.974 ملین ڈالر سے بڑھ کر 554.180 ملین ڈالر ہو گیا ہے جبکہ کمپیوٹر سافٹ ویئر سے متعلقہ خدمات کی برآمد اور درآمد بھی 30.88 اضافے کے ساتھ 318.937 ملین ڈالر سے بڑھ کر 417.415 ملین ڈالر ہو گئی ہے۔

ہارڈ ویئر کنسلٹنسی سروسز کی برآمدات 71.84 فیصد کم ہو کر 1.957 ملین ڈالر سے 0.551 ملین ڈالر رہ گئی ہیں جبکہ مرمت اور دیکھ بھال کی خدمات کی برآمدات بھی 56.19 فیصد کم ہو کر 1.511 ملین ڈالر سے 0.662 ملین ڈالر رہ گئی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی برآمدات میں بھی 37.63 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا جو کہ مذکورہ مالی سال کے دوران 328.730 ملین ڈالر سے بڑھ کر 452.430 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]