منہ مانگے دام کا حصول یقینی بنانے کے لیے گھر کی فروخت سے قبل اس کی تزئین ناگزیر ہے

[ad_1]



Post Views:
5

کورونا وبا نے ہماری عادتوں کو تبدیل اور ہماری سرگرمیوں کو محدود کرکے رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر میں اربوں افراد کرونا پر قابو پانے کے لیے لگائی جانے والی عالمی پابندیوں کے باعث اپنے گھروں میں قید ہوکر رہے گئے ہیں۔ اس کے کچھ اثرات گھر سے باہر کھانا کھانے، سفرکرنے، جم جانے یا فلم دیکھنے کے لیے سنیما جانے پر پابندی کی صورت میں دیکھے گئے تاہم دفاتر اور کاروبار بند ہونے کے باعث کچھ لوگوں نے اپنے وقت اور پیسے کی بچت بھی کی۔

کورونا کی لہر کے دوران لاک ڈاؤن کا ایک مثبت پہلو یہ بھی تھا کہ بہت سے لوگوں کو اپنے خاندان کے ساتھ معیاری وقت گزارنے، نئے مشاغل اپنانے اور گھر کے وہ تمام کام جو مصروفیت کے باعث نہ ہوسکے تھے انہیں نمٹانے کا موقع ملا ۔ ایسے میں کئی لوگوں نے گھر کی تزئینِ نو (ری- ماڈلنگ) کے منصوبے بھی شروع کیے۔ گوگل کے تجزیے اور سروے کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران ہر دس میں سے نو افراد نے گھر کی ری-ماڈلنگ کے منصوبے پر کام کیا۔

یہاں آج ہم گھر کی تزئینِ نو کے حوالے سے کچھ اہم معلومات کا آپ کے ساتھ تبادلہ کریں گے جو بلاشبہ آپ کے گھر کی قدر و قیمت میں اضافے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

مسکن کے بیرونی حصے کی خوبصورتی خریدار کے اطمینان کی پہلی کنجی

اکثر لوگ صرف گھر کے اندرونی حصے کی سجاوٹ اور تزئین و آرائش پر اپنی توجہ پرکوز رکھتے ہیں جبکہ وہ گھر کی بیرونی خوبصورتی کو ہمیشہ نظرانداز کردیتے ہیں۔ یاد رکھیں! کسی بھی کام میں پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوتا ہے لہذا آپ کے گھر کا عقبی حصہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ گھر کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے خریدار کو اپنی طرف ہر ممکن طور پر متوجہ کر سکے۔ گھر کی عقبی بوسیدہ حال دیواریں، زنگ آلود دروازہ اور نکاسی آب کی ناقص لائنیں خریدار کو آپ کے گھر سے دور رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ اگر گھر کا بیرونی دروازہ دیکھ کر آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ اپنے اچھے دن گزار چکا ہے تو اسے تبدیل کرنے میں ہی بہتری ہے۔

سبزہ زار کسی بھی گھر کی خوبصورتی کا انتہائی اہم جزو ہوتا ہے

ایک خوبصورت اور صاف ستھرا صحن یا باغیچہ آپ کے گھر کی قدر و قیمت بڑھانے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے۔ صحن میں خوبصورت باغیچہ اور پودے اسے زندگی بخشتے ہیں۔ اگر آپ کو باغیچہ تیار کرنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا ہے تو آپ لینڈ اسکیپنگ کے کسی ماہر کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کے سبزہ زار یا باغیچے میں اگر درخت کی شاخوں کی کانٹ چھانٹ کی ضرورت ہے تواس کے لیے بھی کسی ماہر کی خدمات حاصل کرنا ہی مناسب ہے۔

گھر کے صحن میں نشست کا انتظام

وَبائی مرض کے باعث لوگ بڑے سماجی اجتماعات کا انتظام کرنے یا ان میں شرکت سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایسے میں کئی لوگوں نے گھر کے صحن میں آؤٹ ڈور ڈیک بنوا دیے ہیں جہاں محدود لوگوں کو مدعو کرکے سماجی فاصلہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یقیناً وَبا کے زمانے میں آؤٹ ڈور ڈیک پر سرمایہ کاری ناصرف آپ کے گھر کی قدر و قیمت بڑھا دے گی بلکہ اس طرح آپ اپنے خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ اچھا وقت بھی گزار سکتے ہیں۔

دیواروں اور فرش کی خوبصورتی گھر کی قدر میں اضافے کا باعث ہے

آپ کے گھر کی تعمیر چاہے پُرانی ہو لیکن جب فروخت کے لیے پیش کریں تو اسے صاف ستھرا اور دلکش نظر آنا چاہیے۔ سفید یا ہلکا نیا رنگ آپ کے کمروں کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے اور خریدار پر اچھا تاثر چھوڑے گا۔ اسی طرح اگر آپ نے دیواروں کو وال پیپر سے سجایا ہوا ہے تو دیکھ لیں کہ وہ پرانے اور پھٹے ہوئے نہ ہوں۔ آپ کی حتی الامکان یہ کوشش ہونی چاہیے کہ خریدار کو گھر میں ایسا کوئی نقص نظر نہ آئے جو اس کی گھر میں دلچسپی کو کم کرنے کا باعث بنے۔ اسی طرح اگر آپ نے گھر میں قالین بچھایا ہوا ہے اور وہ پُرانا ہوگیا ہے تو اسے بھی فوری طور پر بدل دیں۔ لکڑی کا فرش اس سے کہیں بہتر ہے۔

باورچی خانے کی صفائی یقینی بنائیں

باورچی خانہ میں آپ کو نئے اپلائنسز نصب کرنے اور دیگر مہنگی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پُرانی الماریوں کو تبدیل کرنے کے بجائے انہیں نیا پینٹ کردیا جائے یا صرف وارنش کرنے سے ہی وہ پھر سے چمک اٹھیں گی۔

قدرتی روشنی کے نکاس کا مناسب انتظام

ہر ممکن حد تک کوشش کریں کہ گھر کی تزئینِ نو میں کھڑکیوں، چھت اور دیواروں میں ایسے انتظامات کیے جائیں کہ ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ قدرتی روشنی آپ کے گھر کے اندر پہنچ رہی ہو۔ اس طرح آپ کا گھر کھلا کھلا اور کشادہ لگتا ہے۔ اگر کسی کمرے میں قدرتی روشنی کا انتظام نہ ہو تو وہاں چھت میں ڈھکی ہوئی لائٹنگ سسٹم نصب کرکے اسے روشن کیا جاسکتا ہے اور یہ روشنی آنکھوں پر بھی بوجھ نہیں بنتی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

بی ایس ریئل اسٹیٹ منیجمنٹ: یو سی پی طلباء کا گرانہ ڈاٹ کام کے لاہور دفتر کا دورہ

[ad_1]



Post Views:
5

یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب (یو سی پی) کے بی ایس ریئل اسٹیٹ منیجمنٹ کے طلباء کو گرانہ ڈاٹ کام کے لاہور دفتر کا دورہ کروایا گیا۔ 

تفصیلات کے مطابق طلباء کو گرانہ ڈاٹ کام کی منیجمنٹ کی جانب سے ملکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر تفصیلاً بریفنگ دی گئی۔ 

اس موقع پر طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے گروپ ڈائریکٹر گرانہ فرحان جاوید کا کہنا تھا اس پروگرام کا بنیادی مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی تعمیراتی سرگرمیوں اور ریئل اسٹیٹ بزنس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو پیشہ وارانہ مواقع فراہم کرنا ہے۔ 

یاد رہے کہ یو سی پی کی آفر کردہ بی ایس ریئل اسٹیٹ منیجمنٹ ڈگری کامیابی سے مکمل کرنے والے طلباء کے لیے گرانہ ڈاٹ کام نے نوکریوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ 

جو طلباء ریئل اسٹیٹ منیجمنٹ میں بی ایس کریں گے انہیں پاکستان کی پہلی آن لائن ریئل اسٹیٹ مارکیٹ پلیس گرانہ ڈاٹ کام میں نوکری دی جائیگی۔ 

گرانہ ڈاٹ کام اور یو سی پی نے مشترکہ تعاون سے حال ہی میں ریئل اسٹیٹ منیجمنٹ میں پاکستان کے پہلے بی ایس ڈگری پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ 

بی ایس ریئل اسٹیٹ مینجمنٹ ڈگری پروگرام تھیوری اور عملی مطالعات پر مبنی ہے جو کہ ریئل اسٹیٹ کے پروفیشن سے جُڑے تکنیکی، انتظامی اور قانونی امور کا مکمل احاطہ کریگا۔




[ad_2]

کے ایم سی کے زیرِ انتظام 1.1 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز

[ad_1]



Post Views:
1

کراچی: کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہرِ قائد میں 1.1 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کردیا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کے مطابق رواں مالی سال روڈ اور اسٹریٹ لائٹس کی بحالی پر 1.5 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگلے سال فروری میں کراچی میں 242 بسوں کی رونمائی کی جائیگی۔

مزید برآں اُن کا کہنا تھا کہ کراچی میں بڑے پیمانے پر شجرکاری اور اربن پارکس کا قیام کیا جارہا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

ایل ڈی اے افسران کو عوامی مسائل کا بروقت حل یقینی بنانے کی ہدایات جاری

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: لاہورڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل احمد عزیز تارڑ نے ایل ڈی اے افسران کو عوامی مسائل کا بروقت حل یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دیں۔

ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں ایل ڈی اے میں زیر التوا درخواستوں کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ایل ڈی اے افسران شہریوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئیں اور اپنی سکیموں اور فیلڈ وزٹ کو یقینی بنائیں تاکہ انہیں صورتحال سے مکمل آگاہی ہو۔

ڈی جی ایل ڈی اے کا کہنا تھا کہ درخواستوں پر بلاوجہ اعتراضات لگانے والے افسران کے ساتھ سختی سے نپٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ڈائریکٹر اپنے متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی کا جواب د ہ ہے لہذا افسران روزانہ کی بنیاد پر آپس میں میٹنگ کرکے کوآرڈی نینشن بہتر بنائیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

ایل ڈی اے کا شیرانوالہ فلائی اوور منصوبہ قبل از وقت مکمل کرنے کا اعلان

[ad_1]



Post Views:
0

لاہور: لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے شیرانوالہ گیٹ فلائی اوور منصوبہ مقرر کردہ ڈیڈلائن سے قبل مکمل کرنے کا اعلان کردیا۔

اس ضمن میں گزشتہ روز ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے نے چیف انجینئر کو خصوصی ہدایات جاری کیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ روزآنہ کی بنیاد پر سائٹ سے پراگریس رپورٹ لی جائیگی اور شفٹوں کی تعداد بڑھا کر کام کی رفتار میں تیزی یقینی بنائی جائیگی۔

علاوہ ازیں، گزشتہ روز ایل ڈی اے نے قبضہ مافیا سے 250 ملین لاگت کے 35 پلاٹ واگزار کرا لیے۔

ایل ڈی اے ترجمان کے مطابق یہ پلاٹ 16 کنال اراضی پر محیط تھے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

وفاقی دارالحکومت میں صنعتی علاقے کی توسیع کا منصوبہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسد عمر

[ad_1]



Post Views:
3

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر  نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صنعتی علاقے کی توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر سے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (آئی سی سی آئی) کے ایک وفد نے صدر محمد شکیل منیر کی قیادت میں ملاقات کی۔

آئی سی آئی سی آئی کے نمائندوں نے وفاقی وزیر کو نئے اسلام آباد انڈسٹریل زون کے قیام کے حوالے سے اپنے خیالات سے آگاہ کیا اور منصوبے کے اہم خدوخال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں موجودہ صنعتی علاقوں میں زمین ختم ہو چکی ہے، اور معاشی سرگرمیوں، روزگار اور محصولات پیدا کرنے اور ممکنہ طور پر قیمتی غیر ملکی ذخائر حاصل کرنے کے لیے مزید توسیع کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف اسلام آباد بلکہ اسلام آباد سے ملحقہ علاقوں کے شہریوں کے لیے بھی روزگار کا ذریعہ بنے گا اور صنعت کاری کے لیے بھی مددگار ثابت ہوگا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

مائیکرو اسمارٹ اپارٹمنٹس کا بڑھتا رجحان

[ad_1]



Post Views:
3

دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اور ایسے میں متعدد چیلنجز سر اُٹھا رہے ہیں۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ یہ دور بڑھتے ہوئے مسائل اور محدود ہوتے وسائل کے بیچ پنپ رہا ہے۔ مسائل میں ہی مگر مواقع پیدا ہوتے ہیں اور یہی انسانی ترقی کا راز ہے کہ انسان آج تک ہر طرح کے مسئلے سے نبرد آزما ہونے کا میکنزم بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔

چونکہ تحریر کا آغاز بڑھتی ہوئی آبادی کے ذکر سے شروع کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ آبادی بڑھ رہی ہے اور زمین پر جگہ کم پڑتی جارہی ہے۔ ایسے میں مائیکرو اپارٹمنٹس کے بڑھتے رجحان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مائیکرو اپارٹمنٹس آخر ہوتے کیا ہیں اور ان کی ضرورت کیوں بڑھ رہی ہے، کسی بھی لیونگ کمیونٹی میں مائیکرو اپارٹمنٹس کے فوائد کیا ہوتے ہیں، آج کی تحریر اس بارے میں ہے، ان تمام پوائنٹس پر مبنی ہے۔

مائیکرو اپارٹمنٹس، آئیڈیل ریزیڈینشل لیونگ کی ضمانت

مائیکرو اپارٹمنٹس آپ کو ایک آئیڈیل ریزیڈینشل لیونگ کے لیے ضروری تمام لوازمات ایک محدود جگہ پر مہیا کرتے ہیں۔ انہیں کمپیکٹ ہومز بھی کہا جاتا ہے۔ انگریزی جریدے فوربز کے مطابق ان اپارٹمنٹس میں مینيمل لیونگ پر فوکس ہوتا ہے۔ اب یہ منيمل لیونگ کیا بلا ہے؟ یہ بھی سمجھائے دیتے ہیں۔ دو الفاظ کے اس مجموعے مینیمل لیونگ کا استعمال غور طلب ہے۔ مشہور امریکی ویب سائٹ زیلو کے مطابق آج کا دور مینیمل لیونگ کا دور ہے یعنی اس طرزِ زندگی کا جہاں تمام رہائشی لوازمات بامعنی ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہوتی کہ جس پر پیسے تو خرچ کیے جائیں مگر اُس کی ویلیو کوئی نہ ہو۔ مزید یہ کہ مینیمل لیونگ میں ہر ایک ریسورس کا اپنا مخصوص مقصد ہوتا ہے۔ انگریزی کے مقولے ‘لیس از مور’ کے مصداق رہائشی تجربہ محدود اور بامعنی وسائل کے ساتھ بہترین ہوتا ہے۔ پُرانے لوگوں کی کہاوتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کوئی اگر اپنے سفر سے حقیقی طور پر لطف اندوز ہونا چاہتا ہے تو زادِ راہ مختصر ہونا چاہیے اور یہی مینیمل لیونگ ہے۔

مائیکرو اپارٹمنٹس کا آئیڈیل سائز

مائیکرو اپارٹمنٹس کا آئیڈیل سائز 500 مربع فٹ سے کم ہوتا ہے۔ چونکہ آج کا دور وسائل کے لحاظ سے ایک گومگو کی کیفیت کی گرفت میں ہے، نیوکلیئر فیملیز اور سنگل لیونگ کا ٹرینڈ بھی بڑھ رہا ہے۔ مائیکرو اپارٹمنٹس آپ کو بڑھتے ہوئے کرائے اور منیٹننس کی لاگت کا بھی حل فراہم کرتے ہیں۔ انہیں افورڈایبل لیونگ کیلئے آئیڈیل ترین کہا جاتا ہے۔ مائیکرو اپارٹمنٹس کا رجحان اس لیے بھی بڑھ رہا ہے کہ آج کل مہنگائی کا دور دورہ ہے۔ جس شخص کو دیکھیں وہ بڑھتے ہوئے کاسٹ آف لیونگ کا رونا روتے نظر آتا ہے۔ دن کے 24 گھنٹوں کا بیشتر حصہ اس سوچ میں گزرتا ہے کہ خرچے میں کٹوتی کہاں کی جائے اور سیونگ کو کیسے زندگی کا معمول بنایا جائے۔ ایسے میں اسمارٹ ہومز میں آپ کو ضرورت کی ہر چیز کی دستیابی ہوتی ہے اور اسپیس ضائع نہیں کی جاتی۔ ان کو انتہائی سوچ بچار کے بعد تعمیر کیا جاتا ہے اور ان میں جدید اربن لیونگ اسٹائل اور ڈیکور ٹرینڈز کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ بڑے ریزیڈینشل یونٹس کے برعکس یہاں یوٹیلیٹی بلز اور ان کی تزئین و آرائش کی لاگت بھی کافی کم ہوتی ہے اور سچ پوچھیے تو اس ضمن میں انسان کو اور کچھ نہیں چاہیے ہوتا۔

مائیکرو اپارٹمنٹس کا ری سیل اسکوپ

مائیکرو اپارٹمنٹس عموماً ایک ہی شخص کیلئے ہوتے ہیں مگر ان کو، کو لیونگ کیلئے یعنی ایک سے زائد لوگوں کی رہائش کیلئے بھی بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ آج کل کی نوجوان نسل اسمارٹ اور کریٹو انٹیریئر چاہتی ہے، مائیکرو اپارٹمنٹس میں اس ضرورت کا خوب خیال رکھا جاسکتا ہے۔ مائیکرو اپارٹمنٹس کے فوائد میں سے ایک کلیدی اہمیت کا حامل فائدہ یہ بھی ہے کہ ان کا ری سیل اسکوپ انتہائی زیادہ ہوتا ہے۔ چونکہ ان کا ٹرینڈ بڑھ رہا ہے اور خریدار اس جانب مائل ہورہے ہیں، یہ آسانی سے فروخت کیے جاسکتے ہیں جس پر بہترین منافع کا حصول ہوسکتا ہے۔ مشہور بین الاقوامی جریدlے ریئل اسٹیٹ لیونگ کے مطابق مائیکرو اپارٹمنٹس میں انویسٹمنٹ کا رجحان بھی ان کی بڑھتی ہوئی شہرت سے منسلک ہے۔

کچھ مزید فوائد

یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ بڑھتے ہوئے ریزیڈینشل مسائل کا حل مائیکرو اسمارٹ اپارٹمنٹس میں ہے۔ چونکہ یہ سائز میں کم ہوتے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات کے پیشِ نظر بھی یہ بہترین ہیں۔ وہ لوگ جو کہ بہتر طرزِ زندگی کے لیے بڑے میٹروپولیٹنز کا رخ کرتے ہیں اور ان کی ضروریات میں سے ایک بڑی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اُنہیں کم لاگت میں مگر شہر کے مرکزی لوکیشن پر ایک ریزیڈینشل یونٹ مل جائے۔ ایسے میں اُن کی نگاہ مائیکرو اپارٹمنٹس کی تاق میں ہوتی ہے جو کہ ہر طرح سے اُن کے لیے فائدے کا سامان ہوتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ

[ad_1]



Post Views:
15

لاہور: سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ اجلاس چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ عبداللہ خان سنبل کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں 1 ارب روپے سے زائد مالیت کی دو ترقیاتی اسکیموں کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان اسکیموں میں 36.57 کلومیٹر طویل قصور حجرہ سے منڈی بصیرپور تک کی سڑک کی بحالی نو کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

مذکورہ منصوبے پر 48 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ دوسری جانب اجلاس میں 63 کروڑ روپے کی لاگت سے شیخوپورہ میں 3.9 کلو میٹر طویل ایک سڑک کی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

شیرانوالہ گیٹ فلائی اوور منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے 4.9 ارب کی لاگت کے شیرانوالہ گیٹ فلائی اوور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

پنجاب حکومت کے مطابق یہ منصوبہ اندرون لاہور کے شہریوں کےلیے بڑا ریلیف لائے گا اور ریلوے سٹیشن، اندرون لاہور، شیرانوالہ گیٹ، مینار پاکستان، موریہ پل اور ڈینٹل ہسپتال کے علاقوں میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل کا حل ہوگا۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ کی شفاف ٹینڈرنگ سے 27 کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے، ناکارہ سیوریج لائن کی جگہ 2.5 کلومیٹر نئی لائن بھی ڈالی جا رہی ہے جس سے پرانے لاہور کا ایک اور بہت بڑا مسئلہ بھی حل ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ 360 ارب روپے کے خصوصی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکیج میں ہر ضلعے کے لیے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر سمیت اہم ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت شامل ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

شیرانوالہ گیٹ فلائی اوور منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا

[ad_1]



Post Views:
44

لاہور: وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے 4.9 ارب کی لاگت کے شیرانوالہ گیٹ فلائی اوور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

پنجاب حکومت کے مطابق یہ منصوبہ اندرون لاہور کے شہریوں کےلیے بڑا ریلیف لائے گا اور ریلوے سٹیشن، اندرون لاہور، شیرانوالہ گیٹ، مینار پاکستان، موریہ پل اور ڈینٹل ہسپتال کے علاقوں میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل کا حل ہوگا۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ کی شفاف ٹینڈرنگ سے 27 کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے، ناکارہ سیوریج لائن کی جگہ 2.5 کلومیٹر نئی لائن بھی ڈالی جا رہی ہے جس سے پرانے لاہور کا ایک اور بہت بڑا مسئلہ بھی حل ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ 360 ارب روپے کے خصوصی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکیج میں ہر ضلعے کے لیے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر سمیت اہم ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت شامل ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے پراجیکٹ رواں ماہ مکمل ہونے کا امکان

[ad_1]



Post Views:
0

گوادر: پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت زیرِ تعمیر گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے پراجیکٹ رواں ماہ مکمل ہونے کا امکان ہے۔

اس پراجیکٹ کو 168 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے جس کی تکمیل سے علاقے میں مواصلاتی نظام کی بہتری یقینی ہے۔

اس روڈ سے گوادر پورٹ کو گوادر فری ٹریڈ زون اور مکران کوسٹل ہائی وے کے ساتھ جوڑا گیا ہے اور اس پر 92 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس ایکسپریس وے کی تکمیل سے گوادر میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے پراجیکٹ رواں ماہ مکمل ہونے کا امکان

[ad_1]



Post Views:
25

گوادر: پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت زیرِ تعمیر گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے پراجیکٹ رواں ماہ مکمل ہونے کا امکان ہے۔

اس پراجیکٹ کو 168 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے جس کی تکمیل سے علاقے میں مواصلاتی نظام کی بہتری یقینی ہے۔

اس روڈ سے گوادر پورٹ کو گوادر فری ٹریڈ زون اور مکران کوسٹل ہائی وے کے ساتھ جوڑا گیا ہے اور اس پر 92 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس ایکسپریس وے کی تکمیل سے گوادر میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]