علامہ اقبال ٹاؤن کی یونین کونسل 212 میں 8 کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: وزیر بلدیات پنجاب میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ یونین کونسل 212 علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں آٹھ کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

ان منصوبوں میں واٹر سپلائی، سیوریج اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے اسی لیے وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کے وڑن کے مطابق عوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اولمپیا سٹریٹ علامہ اقبال ٹاؤن میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

بعد ازاں میاں محمود الرشید نے علامہ اقبال ٹاؤن میں  ایک ننھی بچی کو قطرے پلا کر خسرہ سے بچاؤ کی مہم کا افتتاح بھی کیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ

[ad_1]



Post Views:
15

لاہور: سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ اجلاس چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ عبداللہ خان سنبل کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں 1 ارب روپے سے زائد مالیت کی دو ترقیاتی اسکیموں کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان اسکیموں میں 36.57 کلومیٹر طویل قصور حجرہ سے منڈی بصیرپور تک کی سڑک کی بحالی نو کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

مذکورہ منصوبے پر 48 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ دوسری جانب اجلاس میں 63 کروڑ روپے کی لاگت سے شیخوپورہ میں 3.9 کلو میٹر طویل ایک سڑک کی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

وزیرِ اعظم کی ہاؤسنگ پراجیکٹس پر کام تیز کرنے کی ہدایت

[ad_1]



Post Views:
1

اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان نے ملک بھر میں جاری ہاؤسنگ پراجیکٹس کی بروقت تکمیل کے احکامات جاری کردیئے۔

اُنہوں نے گزشتہ روز وزیرِ اعظم آفس میں چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر سے ملاقات کی۔

وزیرِ اعظم کو ملک بھر میں جاری ہاؤسنگ پراجیکٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بروقت تکمیل کی ہدایت کی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

گھر کی ویلیو پر اثر انداز ہونے والے فیکٹرز

[ad_1]



Post Views:
1

ریئل اسٹیٹ میں پراپرٹی ویلیو متعدد فیکٹرز پر منحصر ہوتی ہے۔ کافی لوگ اسے محض ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا کھیل سمجھتے ہیں۔ جیسے پاکستان کو فی الحال دس ملین ہاؤسنگ یونٹس کی ضرورت ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر آبادی کا حجم اسی تناسب سے بڑھتا رہا تو ہر سال اس تعداد میں 3 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کا مزید اضافہ ہوتا چلا جائیگا۔ یعنی سمجھنے میں آسانی کیلئے کہا جاسکتا ہے کہ ہاؤسنگ یونٹس تھوڑے ہیں اور رہائش اختیار کرنے کے خواہشمند زیادہ۔ لہٰذا ماہرین کے مطابق کوئی بھی پراپرٹی ہو، وقت کے ساتھ ساتھ اُس کی قیمت ہر حال میں بڑھے گی۔

اسی طرح سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پراپرٹی کی ویلیو میں صرف اُس کی لوکیشن ہی کا کردار ہوتا ہے۔ وہ لوگ بطور دلیل یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ایک ڈیویلپ شدہ یعنی پلانڈ ایریا میں کسی پراپرٹی کے مالک ہیں تو ایک نسبتاً کم ڈیویلپ علاقے کے مقابلے میں آپ کی پراپرٹی کی قیمت آٹھ گنا تک زیادہ ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی پلانڈ کمیونٹی میں ہونے کی وجہ سے آپ کا گھر بہت سے ایسے وسائل اور سہولیات کی قربت میں ہوتا ہے جس سے غیر آباد علاقوں یا گاؤں دیہاتوں کے لوگ بہت دور ہوتے ہیں۔

آج کی تحریر اُن تمام تر فیکٹرز پر مبنی ہے کہ جن کا مکان کی مجموعی مالی لاگت پر اثر ہوسکتا ہے۔

مکان کا سائز

ریزیڈینشل ریئل اسٹیٹ میں پلاٹ سائز شاید مکان کی ویلیو کے تعین میں سب سے اہم فیکٹر ہوتا ہے۔ پاکستان میں ہاؤسنگ ڈیمانڈ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اِس پانچویں بڑے مُلک میں زمین کی قیمتیں روز بہ روز بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ گزشتہ تین سال کے پراپرٹی ٹرینڈز کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو آپ پر یہ بات آشکار ہوگی کہ اب لوگ آہستہ آہستہ چھوٹے مکانات کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ نہ صرف چھوٹے مکانات کا خیال رکھنا یعنی اُن کی صفائی ستھرائی، تزئین و آرائش کا عمل نسبتاً آسان ہوتا ہے بلکہ ان کی ری سیل ویلیو بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ریزیڈینشل ریئل اسٹیٹ کی بیشتر ڈیمانڈ مڈل کلاس افراد سی ہی آیا کرتی ہے۔

آس پاس کی سہولیات

پلانڈ کمیونٹی میں رہائش کے فوائد سے تو سب ہی آگاہ ہیں۔ ایک ترتیب یعنی مربوط پلان سے بنائے گئے گھر، کشادہ سڑکیں، یکساں ڈیزائن، اور کمرشل اور ریزیڈینشل احاطوں میں نمایاں تفریق وہ نکات ہیں جو کہ وہاں کی پراپرٹی ویلیو میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک پلان کے تحت تعمیر کی گئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں دیکھنے میں ہی انتہائی بھلی اور خوبصورت لگتی ہیں۔ گھر چونکہ یکساں ڈیزائن کے ہوتے ہیں لہٰذا اُن میں لوگ من مرضی کی جمع تفریق نہیں کرسکتے۔ ایسے میں یقیناً وہ لوگ جو کہ جمالیاتی ذوق کے اظہار کو ترجیح دیتے ہیں، اُنہیں تھوڑی الجھن ضرور ہوگی کہ وہ اپنے مکان کو اپنی ہی طبیعت کے مطابق نہیں ڈھال سکتے۔ لیکن دیگر لوگ بہت سے سوچ بچار اور سرمائے کے زیاں سے بچ جاتے ہیں۔ یہاں پراپرٹی ویلیو دیگر جگہوں سے زیادہ اسی لیے ہوتی ہے کہ بنیادی ضروریات کا سامان آپ کو ایک ہی جگہ پر مل جاتا ہے، مثلاً گراسری اسٹورز، اسکول، شاپنگ سینٹرز، بینکس، ریٹیل پارکس وغیرہ ایک مخصوص احاطے میں ہی ہوتی ہیں۔ پلانڈ کمیونیٹی میں ایک امینٹی ایسی ضرور ہوتی ہے جو اُسے اسٹینڈ آؤٹ فیچر مہیا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی لیک ویو پوائنٹ، گالف کورس، منی سینما وغیرہ۔ اس وجہ سے پلانڈ کمیونٹی کے لوگ ایک بھرپور رہائشی لائف سٹائل کے تجربے سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

لوکیشن

پراپرٹی کی قیمت کا تعین کرنے میں، کچھ لوگوں کے مطابق، لوکیشن کا کردار سب سے اہم ہے۔ ویسے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ لوگ کہیں بھی سرمایہ کاری کرنے سے قبل اس پراپرٹی کی لوکیشن اور آس پاس کی سہولیات کا بغور جائزہ لیتے ہیں۔ یہ پراپرٹی کہاں پر ہے، آیا یہ شہر اور تمام ضروریاتِ زندگی کے مراکز کے قریب تر ہے یا اُن سے دور، آس پاس کے علاقے آباد ہیں کہ نہیں ہیں اور آنے والے دنوں میں یہاں پر ترقیاتی منصوبوں کے کتنے آثار ہیں، یعنی ترقیاتی اداروں کی یہاں کتنی توجہ ہوگی۔ یہ وہ تمام سوال ہیں جن کا جواب اگر مثبت ہو تو پراپرٹی کی قیمت زیادہ ہوگی۔ اسی طرح سے اگر کوئی پراپرٹی شہر کے مضافاتی علاقوں میں ہے اور مرکزی علاقے میں نہیں ہے، یعنی اُس سے اسکول، کالج، اہم شاہراہیں، ہسپتال اور شاپنگ سینٹرز دور ہیں تو وہ نسبتاً سستے نرخوں میں دستیاب ہوگی۔

پراپرٹی کی کنڈیشن

قیمتوں کے تعین کے لحاظ اُس پراپرٹی کی کنڈیشن کا کردار بھی اہم ہے۔ یہاں یوز ایبل اسپیس اور ہوم سائز بھی اہم پہلو ہیں۔ کسی بھی مکان کی کنڈیشن اگر ایسی ہے کہ آپ آج قیمت کی ادائیگی کر کے کل ہی اُس میں رہائش پذیر ہوسکتے ہیں تو اس کی قیمت نسبتاً زیادہ ہوگی۔ ایسی پراپرٹی عام اصطلاح میں لیوئبل پراپرٹی کہلاتی ہے یعنی اس میں رہائش فوری طور پر اختیار کی جاسکتی ہے۔ اِس کے برعکس اگر کوئی مکان ایسا ہے کہ اس کی حالت قابلِ رہائش نہیں ہے یعنی اس میں رنويشن اور تزئین و آرائش کا کافی کام ہونا ہے تو پھر اس کی قیمت اتنی نہیں ہوگی۔

اپ گریڈیشن کا پوٹینشل

یہ ذرا تکنیکی نوعیت کا پہلو ہے جس کیلیے آپ کی دیگر تمام پوائنٹس کی نسبت ذرا زیادہ توجہ درکار ہے۔ اگر آپ ایک گھر خرید رہے ہیں اور اس گھر میں من مرضی کی اپ گریڈیشن کا پوٹینشل ہے یعنی اُس مکان کو کسی حد تک مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے تو یہ بھی ایک اہم پہلو ہے جس کا قیمتوں کے تعین پر کافی اثر ہوتا ہے۔ اگر کسی پراپرٹی میں بہتری کی گنجائش ہی نہیں یعنی اُس میں مزید کسی تعمیر کا پوٹینشل نہیں تو خرید کنندگان اُس کی منہ مانگی قیمت ادا کرنے کو راضی نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس کسی پراپرٹی میں تبدیلی اور اُس پر تھوڑی بہت رقم خرچ کر کے اس کی حالت بہتر بنانے کی گنجائش ہے تو اس کی مالی ویلیو زیادہ ہوگی۔ کچھ لوگ اسی عمل کو ہاؤس فلپنگ بھی کہتے ہیں جس میں لوگ ایسی پراپرٹی خریدتے ہیں جو کہ بہترین حالت میں نہیں ہوتی۔ چونکہ ایسا گھر باقی گھروں سے کم قیمت ہوتا ہے لہٰذا سرمایہ کار یہ گھر خریدتے ہیں اور پھر اس کی نوک پلک سنوار کر اسے مارکیٹ ریٹ پر بیچ دیتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
109

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]

امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
1

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]

این ایل سی سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے پر ترقیاتی کاموں کے لیے پُرعزم

[ad_1]



Post Views:
0

لاہور: لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل سی بی ڈی ڈی اے) نے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (سی بی ڈی) منصوبے کے تعاون کے ساتھ سائٹ پر جاری ترقیاتی کاموں کے لیے ایک بریفنگ سیشن کی میزبانی کی۔

لاہور میں ایک کھلی نیلامی میں 5 پرائم پلاٹوں کی کامیاب گرینڈ نیلامی کے بعد  لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ عمران امین نے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کی ٹیم کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل این ایل سی میجر جنرل یوسف جمال سے سائٹ پر ترقیاتی کاموں پر تبادلہ خیال کے حوالے سے ملاقات کی۔

ڈائریکٹر جنرل این ایل سی اور سی ای او لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے منصوبے کی جگہ پر درخت بھی لگائے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایل سی بی ڈی ڈی اے کے سربراہ عمران امین نے کہا کہ لاہور پرائم تعمیرات کے میدان میں ایک نئی شروعات کی علامت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سی بی ڈی کی ٹیم اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور پوری امید ہے کہ اس سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے روشن مستقبل کو فائدہ پہنچے گا۔

نیشنل لاجسٹک سیل کے (این ایل سی)  ڈائریکٹر جنرل  میجر جنرل یوسف جمال  کا کہنا تھا کہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے پر ترقیاتی کاموں کے لیے این ایل سی پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایل سی تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مذکورہ منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




[ad_2]

گھر پر سکیورٹی کیمروں کے استعمال کا دُرست طریقہء کار

[ad_1]



Post Views:
3

آجکل کا دور ہی کچھ ایسا ہے کہ انسان ہمہ وقت خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ میڈیا پر چلنے والی آئے روز کی خبریں، اخبارات میں چھپنے والا خصوصی کرائم سیکشن اور ہر دوسرے شخص کے ساتھ ہونے والے خطرناک نوعیت کے واقعات گویا ہمارے اذہان میں ایک مخصوص جگہ بنا چکے ہیں۔ یوں تو خود کو محفوظ کرنا گویا غیر محفوظ ہونے کی ہی علامت ہے مگر آج کے دور میں اپنی حفاظت کو اولین ترجیح بنانا ہی عقلمندی ہے۔

ٹیکنالوجی کا کردار

ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی آسان سے آسان تر بنا دی ہے۔ زندگی کا جو بھی حصہ، جو بھی معاملہ دیکھ لیں، ہمیں ٹیکنالوجی انسان کی سہولت کیلئے تیار کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ ٹیکنالوجی نہ ہو تو انسان اپنی حسیات کے بھروسے ہی تمام داؤ کھیلنے والے دور میں دوبارہ داخل ہوجائے جہاں سادگی کا دور دورہ ہو اور سیدھے سادھے معاملات ہوں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے نہ تو فاصلے فاصلے رہے اور نہ ہی انسان زمان و مکان کی قید میں رہا۔

سی سی ٹی وی کیمروں کا استعمال

سی سی ٹی وی کیمروں کو ہی دیکھ لیں۔ انسان کے ہاتھ میں آسانی سے چھپ جانے والی یہ ڈیوائس کسی حد تک اُس کی محفوظ زندگی کی ضمانت دیتی ہے۔ اِس سے ایک کمپیوٹر جڑا ہوتا ہے جس میں اس کے سامنے کا سارا منظر ریکارڈ کیا جارہا ہوتا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرے آنکھوں کا کردار ادا کرتے ہیں اور ان سے منسلک کمپیوٹر گویا انسانی ذہن کا۔ حیرانی کی بات مگر یہ ہے کہ انسانی آنکھ اور ذہن سے جو منظر اور اُس منظر میں آنے والے کردار پوشیدہ ہوں، وہ اس مصنوعی آلے سے پنہاں نہیں رہ سکتے۔

آج لوگ شاید اپنی مستی میں مگن چل پھر رہے ہوں، اپنی دھن میں رواں دواں ہوں، کیمرے دیکھ کر اچانک چوکنے ہوجاتے ہیں کہ گویا وہ کسی کی نظروں میں ہیں۔ شاید اسی لیے اکثر لوگ نہ چلنے والے کیمروں کی انسٹالیشن بھی ویسے ہی کردیا کرتے ہیں کہ اُن کے ہونے سے ہی معاملات سیدھے ہونے لگتے ہیں، لوگ گویا دیکھے جانے کے خوف میں آجایا کرتے ہیں۔

دُرست جگہ کا انتخاب

سی سی ٹی وی کیمروں کی ساری سائنس اُن کی پلیسمینٹ میں ہوتی ہے۔ کہ وہ کس جگہ لگے ہوئے ہیں اور کیسا منظر ریکارڈ یعنی کیپچر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سائنس سے واقف لوگ یہ کہتے ہیں کہ سی سی ٹی وی کیمروں کو ہمیشہ ہائی ٹریفک ایریاز میں لگانا چاہیے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کو ایسی جگہ نصب کرنا چاہئے کہ جہاں سے ان کی وائرنگ نظر نہ آئے اور اُن تک رسائی ممکن نہ ہو۔

اسی طرح سے ان کو وہاں انسٹال کرنا چاہیے جہاں سے یہ گھر کا اندرونی و بیرونی منظر باآسانی ریکارڈ کرسکیں اور کسی حادثے کی صورت میں کوئی ایسی جگہ نہ ہوں جہاں ان کی حدِ نگاہ محدود دکھائی دے۔ اسی طرح سے ان کو روشن جگہوں پر نصب کرنا بھی ایک بہتر پریکٹس ہے۔ ہمیشہ اُن سی سی ٹی وی کیمروں کا استعمال کرنا چاہیے جن میں نائٹ ویژن یعنی اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت ہو۔ علاوہ ازیں وقتِ خرید اس بات کا بھی اطمینان کرنا چاہیے کہ جس کیمرے کی آپ خریداری کررہے ہیں وہ وائڈ اینگل ویو ریکارڈ کرنے کے اہل ہیں۔

کچھ اعداد و شمار کی روشنی میں

برطانیہ میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق وہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ سی سی ٹی وی کیمروں کو پوشیدہ جگہوں پر انسٹال کرنے کا حامی تھا۔ تاہم بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ان کا صرف نظر آنا ہی بہت حد تک جرائم میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح سے جب لوگوں سے اُس سروے کے دوران یہ پوچھا گیا کہ وہ سی سی ٹی وی کیمروں کے لیے آئیڈیل جگہ کون سی سمجھتے ہیں تو بہت سوں کی رائے یہ تھی کہ گھر کے مرکزی دروازے پر ڈور بیل میں پوشیدہ کیمرہ اور گھر کے عقب میں واقع کسی بڑے سے درخت میں پوشیدہ کیمرہ انسٹالیشن کی بہترین آپشنز میں سے ہیں۔

کچھ حفاظتی اقدامات

کیمروں کی باقاعدہ چیکنگ ضروری ہے کہ ان کی ورکنگ ٹھیک ہے کہ نہیں۔ اس بات کا اطمینان کرلیں کہ ان کا فوکس اور وئیونگ اینگل دُرست ہے۔ اسی طرح سے ہر کیمرے کے ساتھ ایک موٹر ہوتا ہے جس کی بدولت وہ کیمرہ ادھر ادھر گھومنے کے قابل ہوتا ہے۔ اس بات کا بھی اطمینان کرلیں کہ وہ موٹر ٹھیک طرح سے کام کررہا ہے۔ یاد رکھیں کہ اگر ڈسپلے کرسٹل کلیئر نہ ہو تو آپ انتہائی کلیدی اہمیت کے حامل سرویلنس ڈیٹا کو کھو سکتے ہیں تاہم اس بات کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ گھر پر وائی فائی سگنلز کی کمزوری بھی ریکارڈ کردہ فوٹیج کی کوالٹی کو کم کرسکتی ہے تاہم کوشش یہ کرنی چاہیے کہ مکان کی مرکزی وائی فائی ڈیوائس کے قریب ہی کیمرہ نصب کیا جائے یا جہاں کیمرہ ہو اُس کے قریب ہی وائی فائی ڈیوائس نصب کی جائے۔ کیمروں کا لینز اگر صاف نہ ہو تو ریکارڈ کردہ مناظر دھندلکے میں لپٹے دکھائی دیتے ہیں لہٰذا اُن کی ہر چند دنوں کے بعد صفائی بھی ضروری ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

گھر پر بجلی کی معیاری وائرنگ کی اہمیت

[ad_1]



Post Views:
0

وہ گھر ہی کیا جو محفوظ نہ ہو۔ ایک لمحے کو سوچیے، آپ گھر پر بیٹھے ہیں، پورے دن کی تھکن کے احساس کو مٹانے کے لیے آپ اپنی فیملی کے ہمراہ ٹی وی دیکھ رہے ہیں یا کھانا کھا رہے ہیں، اور اچانک آپ کے ذہن کو یہ خیال آ لے کہ یہاں کسی بھی لمحے آگ لگ سکتی ہے، کسی بھی سوئیچ سے اسپارکنگ یعنی چنگاریاں لپک سکتی ہیں اور کوئی بھی بیش قیمت اپلائنس جل سکتی ہے، اُس کا کوئی آلہ فیوز ہوکر منٹوں میں آپ کا ہزاروں کا خرچہ کروا سکتا ہے۔ صرف اس سوچ کے ساتھ ہی آپ تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں، یعنی یہ سوچ ہی آپ کا سکون ختم کرنے کو کافی ہے۔ یوں تو ہمارے بلاگ پر آپ کو طرح طرح کی معلوماتی تحاریر پڑھنے کو ملتی ہیں، لیکن آج کی تحریر کا مقصد آپ کو بجلی کی معیاری وائرنگ کی اہمیت کے حوالے سے آگاہ کرنا ہے۔

زندگی کی چند بڑی حقیقتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر چیز وقت پر اور وقت ہر چیز پر اپنا اثر دکھاتی ہے۔ آپ اس تحریر کو پڑھتے وقت ذہن پر تھوڑا سا زور دے کر یاد کریں کہ آپ کے گھر کی وائرنگ کب ہوئی تھی اور آخری بار آپ نے کب کسی ماہر الیکٹریشن کو بلا کر گھر کی وائرنگ چیک کروائی تھی۔ یہ اُن چند ایک کاموں میں سے ہیں جن کی طرف ہر کچھ عرصے کے بعد خود کی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ بجلی کی وائرنگ ایک ایسا موضوع ہے جس پر لکھتے ہوئے بھی احتیاط واجب ہے۔

اچانک بجلی کی سپلائی کم یا بند ہوجانا، کمروں میں روشنی کا خود سے کم ہوجانا، سوئچ بورڈ سے دھوئیں یا چنگاریوں کا نکلنا یا تاروں کے جلنے کی بو آنا اس بات کے آثار ہیں کہ آپ کی پراپرٹی کو فریش وائرنگ کی ضرورت ہے۔ ایسے میں بغیر کوئی لمحہ تاخیر کیے کسی ماہر الیکٹریشن کو فون لگائیے اور اس کارِ خیر کو کر ڈالیے۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے کہ وقت پر لیا گیا ایک دُرست قدم بعد کے لیے گئے دس دُرست اقدامات پر بھاری ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا اس ضمن میں دیر کرنا اپنی اور اپنے اہل و عیال کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

بجلی کی وائرنگ کروانا ایک ایسا مرحلہ ہے جس میں پیسوں کی بچت وائرنگ کے معیار پر سمجھوتہ کرنے میں ہوتی ہے۔ یہ کسی صورت نہ کیجئے۔ چند معاملات میں پیسے بچانے کی سوچ بالائے طاق رکھ کر چلنا پڑتا ہے۔ الیکٹرکل وائرنگ اُن کاموں میں سے ایک ہے۔ غیر معیاری وائرنگ آپ کر تو لیں گے لیکن ہر گزرتے پل کے ساتھ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کریں گے۔ پاور سپلائی میں ذرا سی کمی بیشی فوراً سے ذہن میں ہزاروں وسوسوں کو جنم دیگی، ذرا سی بارش سے آپ کو ذہنی کوفت میں مبتلا کریگی، لائٹ جانے کی صورت میں فوری طور پر پڑوس میں چیک کرنا پڑیگا کہ صرف آپ کی لائٹ گئی ہے یا پورے سیکٹر کی، چند روز کیلئے گھر چھوڑ کر کہیں اور جاتے وقت ذہن میں رہ رہ کر ساز و سامان کی خیریت کا خیال آئیگا، ایسی ٹینشن سے بہتر ہے کہ وقت پر معیاری وائرنگ کی چوائس کرلی جائے تاکہ آنے والے وقتوں میں آپ ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

ہم عموماً بجلی کی ہلکی پھلکی خرابی کو ازخود ٹھیک کرنے لگ جاتے ہیں جو کہ کسی صورت ایک دُرست عمل نہیں۔ انسانی جان کیلئے تو یہ خطرناک ہے ہی، مگر آپ کا یہ اقدام گھر کی مجموعی وائرنگ اور اُن سے چلنے والے دیگر آلات کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ لہٰذا کوشش کرنی چاہیے کہ چند سو روپے خرچ کر کے کسی ماہر الیکٹریشن کی معاونت حاصل کی جائے اور جس کا کام اُسی کو ساجھے کے مصداق اُن کی سے یہ کام کروایا جائے۔

ایک مشہور کہاوت ہے جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے کہ بجلی کو اپنے مقابل کوئی اچھا نہیں لگتا۔ انگریزی میں تو یہ مقولہ اُن لوگوں کیلئے استعمال ہوتا ہے جن میں ہر حال میں سب سے آگے بڑھنے کی لگن ہوتی ہے تاہم یہ بات کسی نے یونہی نہیں کہہ دی۔ اس کے پیچھے پوری تحقیق کار فرما ہے۔ تحقیق کچھ یوں ہے کہ بجلی کے ساتھ کسی چیز کی مکسنگ خطرناک ہوسکتی ہے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ننگے پاؤں اور گیلے ہاتھوں کے ساتھ بجلی کے سوئچ کے قریب نہیں جانا چاہیے۔ پانی بجلی کی ترسیل بہت تیزی سے کرتا ہے جس کی وجہ سے بجلی اور پانی كو ایک دوسرے سے انتہائی دور رکھنا چاہیے۔ اس صورت میں کوشش کریں کہ دیواروں پر لیکیج کے مسائل فوری حل کریں اور ہر طرح کی نمی کو بجلی کی وائرنگ سے دور رکھیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی ایل سی بی ڈی منصوبے پر نظرثانی

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بدھ کے روز لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (ایل سی بی ڈی) منصوبے کی ریویو میٹنگ کی صدارت کی۔

پراجیکٹ کے سی ای او عمران امین نے جاری تعمیراتی منصوبوں پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو تفصیلی بریفنگ دی۔

اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا قیام اُن کی حکومت کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جسے لاہور میں 125 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جارہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے صوبے بھر میں کاروباری سرگرمیوں کا فروغ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع جنم لیں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

وزیر اعلیٰ پنجاب کی راوی اربن ڈویلپمنٹ پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

[ad_1]



Post Views:
86

لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب نے راوی اربن ڈویلپمنٹ پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شجرکاری مہم کے تحت شہر میں 60 لاکھ  مزید پودے لگائے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرِ صدارت راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا اجلاس ہوا جس میں راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلے مرحلے میں راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کیلئے 44 ہزار ایکڑ اراضی کا انتخاب کیا گیا ہے جس میں سے 6 ہزار ایکڑ اراضی پر انڈسٹریل زون بنایا جائے گا جبکہ وہاں 3 بیراج بھی تعمیر ہوں گے جن کی مدد سے تقریباً 6 لاکھ کیوسک پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا۔

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ دریا کے کنارے بننے والا دنیا کا ایک منفرد اورلاثانی منصوبہ ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

این ایچ اے نے جنوبی بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر تعمیراتی کام شروع کر دیا

[ad_1]



Post Views:
0

اسلام آباد: وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کو بتایا گیا ہے کہ این ایچ اے نے جنوبی بلوچستان کے ترقیاتی منصوبے میں شامل ہوشاب   آواران – خضدار سیکشن M-8 آواران – نال 168 کلومیٹر سڑک کی تعمیر شروع کی دیا ہے جبکہ اس منصوبے پر کُل 32 ارب روپے لاگت آئے گی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے اسلام آباد میں جنوبی بلوچستان کے ترقیاتی منصوبے پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ جنوبی بلوچستان ڈویلپمنٹ پیکیج کے فیز I کو کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ میں منظور شدہ منصوبوں کی فہرست سازی، فنڈز کی تقسیم اور منظور شدہ منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جنوبی بلوچستان کے ترقیاتی کاموں میں سے 90 فیصد منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ہے اور وفاقی ترقیاتی بجٹ 2021-22 میں 234.315 ارب روپے شامل کیے گئے ہیں۔

وزیر منصوبہ بندی کو بتایا گیا کہ سی ڈی ڈبلیو پی نے چینی گرانٹ کے ذریعے گوادر پورٹ پر 1.2 ایم جی ڈی پلانٹ کی تنصیب کی منظوری دے دی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]