وزیراعظم کی ہدایت پر سٹیزن کلب کو عوامی مقاصد کے لیے فعال بنانے سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم


Post Views:
0

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایف نائن پارک میں سٹیزن کلب کی عمارت کو عوامی مقاصد کے لیے بروئے کار لانے سے متعلق امور یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایف نائن پارک میں سٹیزن کلب کا دورہ کیا اس موقع پر چئیرمین سی ڈی اے عامر احمد علی بھی وزیر اعظم کے ہمراہ موجود تھے۔

کابینہ کے حالیہ اجلاس میں سٹیزن کلب کی عمارت کو عوامی مقاصد کے لئے استعمال میں لانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور وزیراعظم کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

وزیرِ اعظم کی ہدایت پر معروف آرکیٹیک نیر علی دادا اور چئیرمین سی ڈی اے پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گءی ہے جو اپنی سفارشات وزیر اعظم کوجلد پیش کرے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




وزیراعظم کی ہدایت پر سٹیزن کلب کو عوامی مقاصد کے لیے فعال بنانے سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم


Post Views:
6

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایف نائن پارک میں سٹیزن کلب کی عمارت کو عوامی مقاصد کے لیے بروئے کار لانے سے متعلق امور یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایف نائن پارک میں سٹیزن کلب کا دورہ کیا اس موقع پر چئیرمین سی ڈی اے عامر احمد علی بھی وزیر اعظم کے ہمراہ موجود تھے۔

کابینہ کے حالیہ اجلاس میں سٹیزن کلب کی عمارت کو عوامی مقاصد کے لئے استعمال میں لانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور وزیراعظم کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

وزیرِ اعظم کی ہدایت پر معروف آرکیٹیک نیر علی دادا اور چئیرمین سی ڈی اے پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گءی ہے جو اپنی سفارشات وزیر اعظم کوجلد پیش کرے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




پراپرٹی ویلیو پر کون کون سے فیکٹرز اثر انداز ہوسکتے ہیں؟


Post Views:
2

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ ایک ایسا انویسٹمنٹ ایونیو ہے جہاں آپ لانگ ٹرم یعنی طویل مدت کے لیے اور شارٹ ٹرم یعنی قلیل مدتی بنیادوں پر منافع بخش سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ملکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے پوٹینشل کا یہ عالم ہے کہ ہر شخص اپنا مستقبل معاشی طور پر محفوظ بنانے کے لیے اس کی جانب رجوع یا تو کر چُکا ہے يا کرنے کی سوچ رہا ہے۔

ایسے میں گرانہ ڈاٹ کام جیسے پلیٹ فارم نے بھی آسانیوں کا ایک ایسا باب کھول دیا ہے جو کہ مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں نا ممکنات کو ممکن کر دکھانے کے مترادف ہے۔ ٹیکنالوجی اور پراپرٹی کا امتزاج ہو یا پراجیکٹس کی بروقت ڈیلیوری کی بات ہو، گرانہ ڈاٹ کام کا نام ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں سہولیات کے لحاظ سے ایک لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

انسان جب بھی ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ کا سوچتا ہے، سب سے پہلے اُس کا خیال جگہ کی جانب جاتا ہے۔ دوسرا خیال قیمت کا آتا ہے کہ کس جگہ پر پراپرٹی ہونی چاہیے اور اُس کی قیمت کیا ہونی چاہیے۔ جب اُسے اپنی پسند کی لوکیشن پر پراپرٹی دستیاب ہو اور اس کی قیمت بھی اُس کے بینک بیلنس سے میل کھائے تو وہ سرمایہ کاری کرنے کے فیصلے میں کسی دوسری سوچ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔

کبھی سوچا کہ پراپرٹی کی قیمت کیسے طے کی جاتی ہے؟ یعنی آپ جہاں سرمایہ کاری کرنا چاہیں، وہاں کی جو قیمت ہوتی ہے، اُس کے پیچھے کون کون سے عناصر کار فرما ہوتے ہیں؟ یوں تو کسی سے بھی پوچھا جائے کہ کسی پراپرٹی کی ویلیو کیا ہے تو وہ کہے گا کہ اس کی ویلیو وہی ہے جو کہ کوئی خریدار اس کے عوض دینے کو تیار ہے۔ یہ سچ ہے مگر کسی بھی پراپرٹی ویلیو پر مختلف فیکٹرز اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ سمجھنا اتنا آسان تو نہیں مگر کسی بھی پراپرٹی کی کیا قیمت ہے، اگر زیادہ ہے تو کیوں ہے اور اگر کم ہے تو کیوں ہے، اس کے پیچھے کار فرما فیکٹر ز پر نگاہ دوڑا لی جائے تو معاملات سمجھنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔

آج کی تحریر سرمایہ کاری کے لحاظ سے پراپرٹی ویلیو کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگی۔

لوکیشن

پراپرٹی کی قیمت کو طے کرنے میں لوکیشن کا پہلو سب سے اہم ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کہیں بھی سرمایہ کاری کرنے سے پہلے آپ کو اس پراپرٹی کی لوکیشن دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ پراپرٹی کہاں واقع ہے، آیا یہ شہر اور ضروریاتِ زندگی کے تمام تر مراکز کے قریب تر ہے یا نہیں۔ اس کے آس پاس کے علاقے کتنے آباد ہیں اور آنے والے ایام میں یہاں پر ترقیاتی اداروں کی کتنی توجہ ہوگی۔یہ وہ تمام تر عناصر ہیں جن کا جواب اگر مثبت ہے تو پراپرٹی کی قیمت زیادہ ہوگی۔ اسی طرح سے اگر کوئی پراپرٹی شہر کے مرکزی علاقے میں نہیں اور مضافاتی علاقوں میں ہے جس سے اسکول، کالج، ہسپتال، شاپنگ سینٹرز اور اہم شاہراہیں دور ہیں تو سمجھ جائیں کہ وہ نسبتاً سستے نرخوں میں دستیاب ہوگی۔

پراپرٹی کی کنڈیشن

قیمتوں کے تعین کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر اُس پراپرٹی کی کنڈیشن آتی ہے۔ یہاں ہوم سائز اور یوز ایبل اسپیس بھی اہم پہلو ہیں۔ کسی بھی پراپرٹی کی اگر کنڈیشن ایسی ہے کہ آپ آج دام ادا کر کے کل کو اُس میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں تو اس کی قیمت زیادہ ہوگی۔ ایسی پراپرٹی کو لیوئبل پراپرٹی کہتے ہیں جس میں فوری طور پر رہائش اختیار کی جا سکے۔ اِس کے برعکس اگر کوئی پراپرٹی ایسی ہے کہ اس کی حالت قابلِ رہائش نہیں ہے تو پھر اس کی قیمت اتنی نہیں ہوگی۔ یوں اسی معاملے کو پلاٹ کے پیرائے میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پلاٹ اگر ایسا ہے کہ اس کی متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی کو تمام تر قانونی اداروں سے این او سیز مل چکے ہیں اور ڈیولپمنٹ شروع ہوچکی ہے تو پلاٹ کی قیمت زیادہ ہوگی۔ اس کے برعکس اگر آپ اس جگہ پلاٹ خریدیں جہاں متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی کو ابھی بہت سے قانونی معاملات طے کرنے ہیں تو اس کی قیمت نسبتاً کم ہوگی۔

اپ گریڈیشن کا پوٹینشل

اب یہ ذرا ٹیکنیکل پہلو ہے جس کے لیے آپ کی دیگر پوائنٹس کی نسبت ذرا زیادہ توجہ درکار ہے۔ آپ دیکھیں کہ اگر آپ ایک گھر خرید رہے ہیں تو اس میں من مرضی کی اپ گریڈیشن کا کتنا پوٹینشل ہے۔ یعنی اُس پراپرٹی کو کس حد تک بہتر بنایا جا سکتا ہے، یہ بھی ایک اہم پہلو ہے جو کہ قیمتوں کے تعین پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر کسی پراپرٹی کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا یعنی اُس میں تعمیر کا اتنا پوٹینشل نہیں تو لوگ اُس کے لیے منہ مانگی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر کسی پراپرٹی میں تبدیلی کرنے، اُس پر تھوڑی سی رقم خرچ کر کے اس کی حالت بہتر بنا سکتے ہیں تو اس کی ورتھ زیادہ ہوگی۔ کچھ لوگ اسی طرح ہاؤس فلپنگ بھی کرتے ہیں۔ یہ ریئل اسٹیٹ سے آمدن کے حصول کا ایک دلچسپ طریقہ ہے۔ اس طریقے سے لوگ ایک ایسا گھر خریدتے ہیں جو کہ اپنی بہترین حالت میں نہیں ہوتا۔ یعنی مکان میں کافی ایسا تعمیراتی کام کرنا ہوتا ہے جس سے گھر کی حالت دُرست ہو۔ یہ گھر عموماً قیمت میں باقی گھروں سے کم ہوتا ہے۔ سرمایہ کار کیا کرتے ہیں کہ وہ یہ گھر خریدتے ہیں اور پھر اس کی حالت دُرست کر کے اسے مارکیٹ کے مطابق ریٹ پر بیچ دیتے ہیں۔

لوکل مارکیٹ کی صورتحال

جب آپ مارکیٹ اسٹڈی کریں گے تو آپ کو آئیڈیا ہوگا کہ آیا مارکیٹ خرید کنندگان کے حق میں ہے یا فروخت کرنے والوں کے۔ لیکن اس بات کا اندازہ کیسے لگایا جائے؟ یہ بھی کوئی مشکل نہیں جناب۔ آپ نے دیکھنا صرف یہ ہے کہ مارکیٹ میں گھروں کی قلت ہے یا بہتات۔ یعنی آپ نے غور کرنا ہے کہ کسی ایک خاص احاطے میں فروخت کرنے والے تعداد میں زیادہ ہیں یا خریدنے والے۔ اگر فروخت کرنے والے زیادہ ہیں تو اس پراپرٹی کی قیمت اُس حساب سے لگائی جائے گی یعنی کم لگائی جائے گی۔ اسی طرح اگر خریدار زیادہ ہیں اور مکانات تھوڑے تو اس کا مطلب ہے کہ شہر کی ہوا آپ کو اپنی پراپرٹی ایک بہتر یعنی زیادہ قیمت میں فروخت کرنے کی مکمل اجازت دیتی ہے۔ یہ سب باتیں آپ پر آشکار ہوں گی مگر مارکیٹ اسٹڈی کے بعد۔




ریئل اسٹیٹ میں ابتدائی طور پر سرمایہ کار کیا غلطیاں کرتے ہیں؟


Post Views:
31

یہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ یہ غلط فیصلے ہی ہوتے ہیں جو کہ تجربات کا باعث بنتے ہیں اور انسان اُن سے اپنے درست فیصلوں کی بنیاد ڈالتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جو انسان غلطیاں کرنے سے گھبراتا ہے وہ دراصل سیکھنے سے گھبراتا ہے اور جو سیکھنے سے گھبراتا ہے وہ کبھی بھی آگے نہیں بڑھتا۔

اسی بات کو ذرا ریئل اسٹیٹ کے تناظر میں لے کر آئیں اور سمجھیں۔ ریئل اسٹیٹ دراصل سرمائے کا کھیل ہے یعنی اس میں انسان کے خون پسینے کی کمائی کا کافی سروکار ہوتا ہے۔ آپ کو یہاں غلطیاں کرنے سے گھبرانا تو نہیں چاہیے مگر جتنا ہوسکے اُس حد تک اُن سے خود کو اور دوسروں کو بچانا چاہیے۔

آج کی تحریر اسی حوالے سے ہے کہ ابتدائی طور پر لوگ ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری میں وہ کون کون سی غلطیاں کرتے ہیں جن سے آسانی سے بچا بھی جا سکتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ یہ تحریر اُن کے لیے ان غلطیوں سے بچنے میں معاون اور کارگر ثابت ہوگی۔

پلاننگ نہ کرنے کی غلطی

سیانے یہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے بار بار سوچنا چاہیے۔ ہر پہلو اور ہر پیرائے سے اُسے پرکھنا چاہیے اور پھر جا کر اُس پر کھڑا اور قائم ہونا چاہیے۔ انگریزی کا مقولہ ہے کہ اگر آپ پلان کرنے میں ناکام ہوجائیں تو دراصل آپ ناکام ہونے کا پلان بنا چکے ہوتے ہیں۔ ریئل اسٹیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر پلاننگ کر کے ہی اس دشت کی سیاحت کو نکلیں۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر ہے ہی پلاننگ کا کھیل۔ ریٹ کس طرف جا رہے ہیں، کس جگہ ریٹ بڑھ رہے ہیں، کون سی زمین کی قیمت کو پر لگ رہے ہیں جبکہ کس جگہ قیمتیں کمی کا شکار ہیں، کہاں سرمایہ لگانا چاہیے جبکہ کہاں سرمایہ لگانا گھاٹے کا سودا ہوسکتا ہے، ان تمام باتوں کی طرف توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔

دولت جلدی کمانے کی سوچ

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں لوگ امیر ہونے کی سوچ سے آتے ہیں۔ یہ سوچ غلط نہیں ہے۔ خوشحالی ہر شخص چاہتا ہے اور آج کی اس دنیا میں جو کہ زر اور مال کے گرد گھوم رہی ہے، پیسوں کے لحاظ سے اپنے آپ کو محفوظ بنانا ہر شخص کا حق ہے۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں زمین کی قیمت ہمیشہ بڑھتی ہی ہے، کیونکہ دنیا آباد ہورہی ہے۔ دنیا کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اس ضمن میں لوگ ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ شہر آباد ہورہے ہیں، لوگ نوکریوں کی تلاش میں نکل رہے ہیں اور یوں پراپرٹی کی قیمتوں کو پر لگے ہوئے ہیں۔ لوگ چونکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں جلد امیر ہونے کی سوچ لے کر آتے ہیں تو یہ سوچ عموماً اُن سے جلد بازی میں کئی غلط فیصلے کروا دیتی ہے۔ لوگ بغیر سوچے سمجھے فیصلے لے لیا کرتے ہیں اور یوں وہ سرمایہ جو اُن کے لیے آگے چل کر بہت سے فائدے کا سامان ہوسکتا تھا، نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔

دُرست وقت پر دُرست اقدام کی اہمیت کو نہ سمجھنا

یوں سمجھیے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کامیابی کی کنجی اسی پوائنٹ میں ہے۔ ریئل اسٹیٹ دراصل کھیل ہی درست وقت پر درست قدم اٹھانے کا ہے۔ آپ درست وقت پر درست قدم اٹھا لیجیے اور دیکھیے کہ کیسے آپ دن دوگنی رات چوگنی ترقی حاصل کرتے ہیں۔ اس ضمن میں کافی حد تک سوچ بچار اور ماہرین کی رائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم، یعنی وہ لوگ جو کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں نئی نئی سرمایہ کاری کرنے داخل ہوتے ہیں، کافی حد تک یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں سب کچھ آتا ہے اور کسی قسم کی کوئی رائے روابط کی ضرورت نہیں۔ اس سیکٹر میں مگر اسرار و رموز کا کافی سامان ہے یعنی سیکھنے کو اتنا ہے کہ انسان ابتدائی ایام میں صرف اپنے آپ پر ہی انحصار کر کے کافی کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ وقت ہی سکھاتا ہے کہ درست وقت پر درست قدم اٹھانا کیا ہوتا ہے۔

ہوم ورک سے کترانا

یوں سمجھیے کہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی ہے جس کو این او سی جاری نہیں ہوا۔ اُس کی قیمت مگر بڑھ رہی ہے اور آس پاس کے لوگ اس میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے گویا ایک مقابلے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ سب اس سیکٹر میں نووارد ہیں اور اُنہیں یہی جھانسہ دیا گیا ہے کہ جلد ہی اس ہاؤسنگ سوسائٹی کو این او سی جاری کردیا جائے گا اور بس پھر آپ پلک جھپکتے ہی اربوں کے مالک بن جائیں گے۔ یوں آپ پر بھی پریشر آتا ہے اور آپ کے پاس بھی بجائے اُس میں سرمایہ لگانے کے، کوئی اور آپشن نہیں رہتا۔ ماہرین مگر یہ کہتے ہیں کہ کبھی بھی اپرول یعنی منظوری کے بغیر کسی صورت کہیں اپنا سرمایہ نہ لگائیں۔ ریئل اسٹیٹ ماہرین اونرشپ، اپروول، ڈیمانڈ اینڈ ڈیلیوری کے کرایٹریا پر جو پراجیکٹ پورا نہیں اترتا وہاں اپنا سرمایہ لگانا خود کو نقصان پہنچانے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ عقلمندی کا لیا غلط فیصلہ بھی بیوقوفی کے لیے گئے درست فیصلے سے اچھا ہے۔ ریئل اسٹیٹ میں نئے سرمایہ کار اکثر اس فارمولے کو نہیں سمجھ پاتے اور ایک عظیم غلطی سرزد کر بیٹھتے ہیں۔

ماہرین پر انحصار نہ کرنا

اسی طرح سے ایک پراپر ٹیم کا نہ ہونا بھی آپ کے غلطیاں کرنے کے چانسز کو بڑھا دیتا ہے۔ خود کو مکمل طور پر آئیسولیٹ یعنی بلکل الگ تھلگ کرلینا آپ کے لیے اچھا نہیں۔ اس کے لیے تجربہ کار سرمایہ کاروں سے بات چیت کریں اور اُن سے مشورے لیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ کسی عالم سے ایک گھنٹے کی گفتگو ایک ہزار برس کے مطالعے سے بہتر ہے، بلکل ویسے ہی تجربہ کار ریئل اسٹیٹ ماہرین کی رائے آپ کو اس لمبے سفر میں بہت سی اذیتوں سے بچا سکتی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ملتان ایک میگا سٹی کے طور پر اُبھریگا، اے سی ایس ساؤتھ پنجاب


Post Views:
2

ملتان: ایڈیشنل چیف سیکریٹری ساؤتھ پنجاب ثاقب ظفر کا کہنا ہے کہ پنجاب کو ایک میگا سٹی بنانے پر کام زور و شور سے جاری ہے۔

وہ جنوبی پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے جہاں اُن کا کہنا تھا کہ شہر کا انفراسٹرکچر ماسٹر پلان کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ شہر کے ماسٹر پلان میں بھی جدت لائی جا رہی ہے تاکہ جدید طور کے تقاضوں سے ہم آہنگی قائم ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ڈی اے اور دیگر ادارے شہر ملتان کی ترقی کے لیے ایک ساتھ کام کریں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں


Post Views:
2

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اعلان کیا ہے کہ جون کے مہینے میں ترسیلات 2 ارب ڈالر سے زائد رہیں اور یہ تیرہواں مہینہ تھا جس میں ترسیلات مسلسل 2 ارب ڈالر سے زائد رہیں۔

جون 2021 میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے 2.7 ارب ڈالر سے زائد کو ترسیلات بھیجی گئیں۔

مالیاتی سال 21 میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات میں 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک نے امکان ظاہر کیا ہے کہ عید الاضحٰی کے موقع پر ترسیلات میں مزید اضافہ ریکارڈ ہوگا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




وزیرِ اعظم نے پنجاب میں ترقیاتی سکیموں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کردی


Post Views:
2

اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب میں ترقیاتی سکیموں پر کام تیز کرنے کی خصوصی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق اُنہوں نے لاہور کا ایک روزہ دورہ کرنا تھا تاہم موسم کی خرابی کے باعث اُن کا دورہ منسوخ کردیا گیا۔

انہوں نے پنجاب کی سیاسی قیادت کے ساتھ ایک ورچول اجلاس میں شرکت کی جہاں اُن کا کہنا تھا کہ پنجاب کے ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ پیکج کے تحت تمام منصوبوں کی بروقت تکیمل کی جائے۔

اُنہیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی جانب سے بتایا گیا کہ پنجاب کے بجٹ کا 66 فیصد حصہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

اُنہیں یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب میں تعمیرات کے لیے مختص کردہ 560 ارب روپے میں سے 530 ارب روپے رواں مالی سال میں خرچ کیے جائیں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




گذشتہ مالی سال کے دوران عوامی ترقیاتی منصوبوں پر 300 ارب سے زائد رقم خرچ کی گئی: وزیرا علیٰ پنجاب


Post Views:
3

لاہور: گزشتہ مالی سال کے دوران پنجاب نے 308 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے 300 ارب سے زائد رقم ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ  پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پیغام ارسال کیا گیا جس میں  ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مختص کردہ ترقیاتی بجٹ کا 97 فیصد ترقیاتی کاموں پر خر چ کرنا حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

وزیر اعلیٰ  پنجاب نے کہا کہ رواں مالی سال کیلئے مختص 560 ارب روپےکےترقیاتی بجٹ کوسو فیصد خرچ کرنے کیلئے حکمت عملی وضع کر رہے ہیں تاکہ وسائل کو استعمال کرکے ترقیاتی  منصوبوں  کو بروقت مکمل کیا جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




اسٹیٹ بینک کا ‘ہوم لون’ کے اہداف پورے نہ کرنے والے مالیاتی اداروں پر جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ


Post Views:
9

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ‘ہوم لون’ کے اہداف مکمل نہ کرنے والے مالیاتی اداروں اور بینکوں کے خلاف جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری مراسلہ میں تمام بینکوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ گھروں کے لیے قرضوں کی اسکیم سے متعلق اپنے اہداف مکمل کریں۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مالیاتی اہداف کے عدم حصول کی صورت میں بینکوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




پاکستانی برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں: مشیر تجارت


Post Views:
2

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر تجارت وسرمایہ کاری رزاق داؤد نے کہا ہےکہ گذشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی برآمدات 25 ارب 30 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو تاریخ کی اب تک کی سب سے بلند ترین سطح ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں مشیر تجارت نے بتایا کہ سازوسامان اور خدمات کی مجموعی برآمدات آئندہ چند ماہ میں 31 ارب ڈالرکا ہندسہ عبور کر جائیں گی۔ کورونا میں درپیش مشکلات اور بڑی منڈیوں تک رسائی کے فقدان کے کے باوجود یہ ایک قابل ذکر کامیابی ہے۔

مختلف اشیاء کی برآمدات 18 فیصد اضافہ کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ آئندہ دو برس میں برآمدات میں پانچ فیصد اضافہ متوقع ہے۔

جون 2021 کو ہونے والی برآمدات بھی ماضی کے مقابلے میں ایک ماہ کے دوران ہونے والی سب سے بلند ترین شرح ہے اور 2ارب 70کروڑ ڈالر کی مصنوعات برآمد کی گئیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




گرانہ ڈاٹ کام نے یو این او ڈی سی کی شراکت سے انسدادِ منشیات کے عالمی دن پر سائکلنگ ریلی کا انعقاد کیا


Post Views:
0

اسلام آباد: نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے خلاف آگاہی کے لیے انسدادِ منشیات کے عالمی دن موقع پر دفتر اقوامِ متحدہ برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) اور گرانہ ڈاٹ کام نے اسلام آباد میں سائکلنگ ریلی کا انعقاد کیا۔

ایونٹ میں وفاقی وزیر برائے نارکوٹکس کنٹرول بریگیڈئر (ر) اعجاز شاہ، نمائندہ یو این او ڈی سی کنٹری آفس برائے پاکستان جیریمی میلسم، سی ای او گرانہ ڈاٹ کام شفیق اکبر، گروپ ڈائریکٹر گرانہ فرحان جاوید، آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمٰن، فورس کمانڈر اینٹی نارکوٹکس فورس (ریجنل ڈائریکٹوریٹ نارتھ) بریگیڈئر سید مبشر حسن، گلوکار شہزاد رائے، اداکار فیصل قریشی، ایس پی اسلام آباد رانا وہاب اور اے ایس پی آمنہ بیگ نے شرکت کی۔

سائکلنگ ریلی کا انعقاد ڈی چوک میں کیا گیا جس میں شہر بھر سے سائکلنگ کے شوقین افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی تاکہ منشیات کے استعمال کے خلاف مہم میں اپنا حصہ ڈالا جائے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ منشیات کے خلاف جنگ میں ہر شخص کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو اس سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے پاکستان کو منشیات سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

یو این او ڈی سی پاکستان کے نمائندے جیریمی میلسم کا کہنا تھا کہ منشیات کے استعمال سے جُڑے درست حقائق کے فروغ سے ہی ایک مبہم آگاہی پھیلائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تمام ممالک کے سربراہان سے یہ اپیل کی کہ وہ معاشرے میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔

سی ای او گرانہ ڈاٹ کام شفیق اکبر نے کہا کہ منشیات كا استعمال کورونا وبا کے اثرات کو مزید خطرناک کردیتا ہے لہٰذا لوگوں کو ہر صورت نہ صرف منشیات سے خود بچنا چاہیے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی تلقین کرنی چاہیے۔

آئی جی اسلام آباد نے اس ضمن میں گرانہ ڈاٹ کام کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ منشیات کے استعمال کے خلاف ایک مربوط پلان بنانے کی ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں سوشل میڈیا پر مستند حقائق پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں میں بھرپور آگاہی کا سامان کیا جا سکے۔

فورس کمانڈر اینٹی نارکوٹکس فورس (ریجنل ڈائریکٹوریٹ نارتھ) بریگیڈئر سید مبشر حسن نے کہا کہ اے این ایف منشیات کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس ضمن میں تمام تر اقدامات لے رہی ہے تاہم معاشرے کے ہر فرد کو اس کوشش میں اے این ایف کا ساتھ دینا ہوگا۔

انسدادِ منشیات کا عالمی دن ہر سال 26 جون کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا کو منشیات سے پاک کرنا ہے۔ رواں سال اس دن کا موضوع منشیات کے استعمال سے جُڑے مستند حقائق کا فروغ تھا تاکہ لوگوں میں منشیات کے استعمال کے اصل نقصانات کا شعور بیدار کیا جا سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




یوٹیوب پر گرانہ ڈاٹ کام کے ٹی وی کمرشل کے 50 لاکھ ویوز مکمل


Post Views:
3

گرانہ ڈاٹ کام کے ٹیلی ویژن کمرشل کو اب تک یوٹیوب 5 ملین سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔

اس کمرشل میں معروف پاکستانی اداکار شان شاہد کو دیکھا جا سکتا ہے جو کہ عوام کو صاف اور شفاف ریئل اسٹیٹ ٹرانزیکشنز کے لیے گرانہ ڈاٹ کام کی سروسز سے استفادہ کرنے کی تلقین کررہے ہیں۔

اس اشتہار کو دیکھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ محض ایک ٹیلی ویژن کمرشل نہیں بلکہ ایک عزم کا اعادہ ہے کہ اب صارفین کو پاکستان کی نامکمل تصویر نہیں بلکہ ایک مکمل تصویر پیش کی جائے گی۔ یہ ایک اظہار ہے کہ پراپرٹی کی خرید و فروخت اور سرمایہ کاری کی صورت میں ہر طرح کی دھوکہ دہی اور فراڈ سے بچنے کے لیے گرانہ ڈاٹ کام ہی وہ واحد مارکیٹ پلیس ہے جہاں کا استعمال بہت ضروری ہے۔ اس کمرشل پر 5 ملین ویوز کا ہونا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ لوگوں نے اب یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ انہیں اب اپنے لیے صرف معیاری سہولیات کا ہی انتخاب کرنا ہے۔

اس ٹی وی کمرشل میں گرانہ ڈاٹ کام نے ہمارا یقین دل سے کے پرچم کو بلند کر کے اس امر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے کہ شفافیت، پائیداری اور باہمی اعتماد ہی سے پاکستان کی منزلیں بدل سکتی ہیں۔ یہ وہ مُلک بن سکتا ہے جس کا خواب ہمارے آباؤ اجداد نے اس وطنِ عظیم کی خاطر قربانیاں دیتے ہوئے دیکھا تھا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔