وزیرِ اعلیٰ سندھ کی تعمیراتی منصوبوں پر نظرِثانی


Post Views: 0

کراچی: وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کے روز کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر نظرِثانی کی گئی۔

اُنہوں نے شہر میں صفائی ستھرائی اور کورونا ایس او پیز کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔

اس موقع پر اُن کے ہمراہ مرتضیٰ وہاب، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ محمد وسیم، سیکریٹری فنانس حسن نقوی اور کراچی پراجیکٹ ڈائریکٹر خالد مسرور تھے۔

اُنہوں نے وائی جنکشن تا گُلبائی سڑک کی تعمیر کا بھی جائزہ لیا جس پر ایک ارب کی لاگت آئے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہاں نہ صرف سڑک کی تعمیر ہورہی ہے بلکہ سڑک کی کشادگی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے سائٹ ایریا کا بھی جائزہ لیا جہاں 17 سڑکوں کی تعمیر کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

بعد ازاں وزیرِ اعلیٰ بنارس اور معمار کے علاقے بھی گئے جہاں کورونا ایس او پیز اور دیگر تعمیراتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




کے پی میں معتدد سپورٹس پراجیکٹس پر کام تیزی سے جاری


Post Views: 3

پشاور: خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت اب تک صوبے کے لیے 150 پلے گراؤنڈز کی منظوری دے چُکی ہے جس پر 173.85 ملین روپے کی لاگت آئے گی۔

صوبائی حکومت کے یہ اقدامات وزیرِ اعظم کے 1000 پلے گراؤنڈز کے ویژن کے تحت لیے گئے ہیں۔

اس حوالے سی پراجیکٹ ڈائریکٹر مُراد علی محمد کا کہنا تھا کہ ان 150 گراؤنڈز میں 52 پر کام مکمل کیا جا چُکا ہے جبکہ دیگر پر تیزی سے جاری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ پراجیکٹس کی بروقت تکمیل ہو ان میں کسی صورت غیر معیاری مٹیریل کا استعمال نہ کیا جائے۔

پلے گراؤنڈز میں پشاور سپورٹس کمپلیکس میں سدپارہ وال، اسکواش کورٹس، واکنگ ٹریکس، اوپن ایئر جمز شامل ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




نقشہ سازی سے پہلے کن باتوں پر غور کرنا چاہیے؟


Post Views: 3

تعمیرات میں نقشہ سازی کی اہمیت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے؟ یہ ایک سکیچ ڈیزائن ہے جس سے آپ اپنے خوابوں کا محل اپنی نظروں کے سامنے دیکھ سکتے ہیں۔

اپنا گھر کون نہیں چاہتا؟ ان دو الفاظ یعنی اپنا گھر میں ایک جانب تو گھر کی اہمیت ہے مگر دوسری جانب لفظ اپنا بھی غور طلب ہے۔ یعنی ایک طرف تو چھت کی اہمیت ہے مگر دوسری طرف اگر وہ اپنی ہو تو کیا ہی بات ہے۔ یعنی جب وہ اپنی ہو تو آپ اپنی مرضی کے مطابق اُسے سجا سکتے ہیں، سنوار سکتے ہیں، اُس کی تزئین و آرائش کر سکتے ہیں اور آپ سے اُس صورت میں کوئی اور پوچھنے والا نہیں ہوتا۔

اسکیچ ڈیزائن کی اہمیت کو جانیے

سکیچ ڈیزائن سے آپ کو یہ آزادی ملتی ہے کہ آپ اپنا گھر اپنی مرضی سے تعمیر کر سکیں۔ اپنی مرضی کا مطلب یہ نہیں کہ قوانین اور بائی لاز کا خیال نہ رکھا جائے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کچن کہاں ہو اور دالان کیسا ہو، یہ آپ پر منحصر ہے۔

نقشوں سے آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ گھر کیسا نظر آئے گا، ایک کمرے کا دوسرے کمرے سے کتنا فاصلہ ہوگا اور گھر کے نمایاں حصے کون کون سے ہوں گے۔
یہ دور فلور پلانز کے لحاظ سے اس لیے بھی آسان ہے کہ اب معتدد ایسی ویب سائٹس اور ایپس آ گئی ہیں جن سے آپ آسانی سے اپنے گھر کو خود ہی بنا سکتے ہیں۔ ٹھیک فلور پلان بنانے کے لئے مشاورتی عمل بہت ضروری ہے تاکہ ایک بہترین نقشہ عمل میں آ سکے۔ اس کے لیے کچھ باتوں كا خیال رکھنا ضروری ہے۔ یہ چند باتیں کون سی ہیں، آئیں جانتے ہیں۔

موجودہ گھر سے کیا شکایات ہیں؟

سب سے پہلا کام جو آپ نے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے دیکھنا ہے کہ آپ کو اپنے حالیہ گھر سے کیا کیا شکایات ہیں۔ یہ جو شکایات ہوں، یہی اپنے اگلے گھر کی سہولیات بنا لیں۔ موجودہ گھر میں لیونگ روم چھوٹا ہے يا پھر باتھ روم اتنے نہیں ہیں، پارکنگ اسپیس نہیں ہے یا پھر اس طرح کا مہمان خانہ نہیں ہے تو پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔

اپنے اگلے فلور پلان میں اپنے مکان کے تعمیراتی کنٹریکٹر کے ساتھ باہم مشورہ کر کے آپ اپنے بجٹ اور پلاٹ کے حساب سے ان تمام سہولیات کو ایڈجسٹ کروا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، نقشہ ہی وہ ڈاکومنٹ ہے جو آگے چل کر حقیقت بنے گا لہٰذا سب سے پہلے خود کو نقشے کے لحاظ سے مطمئین کریں۔ اس کے بعد ہی آپ مکمل تعمیر سے مطمئن ہوں گے۔

اپنی ضرورت دیکھیں

خود سے ایک سوال کریں کہ آپ آئندہ کے چند سالوں میں خود کو کہاں دیکھ رہے ہیں۔ اپنی جو جو حقیقی تصاویر آپ کے ذہن میں آئیں، اُس حساب سے اپنے گھر کے فلور پلان میں تبدیلی کیجئے۔ آپ دیکھیں کہ آپ کی فیملی کتنی بڑھ سکتی ہے، مستقبل میں آپ کے گھر میں کتنے لوگ ہوں گے اور کیا کیا سہولیات ایسی ہوں گی جس کے آپ خواہشمند ہوں گے۔

خواہشات تو یقیناً بڑھتی رہیں گی مگر دیکھیں حقائق کے مطابق آپ کیا کیا آسائشیں چاہیں گے، اُس لحاظ سے اپنا فلور پلان سجائیں۔ گھر واقعی روز روز نہیں بنتے اور نہ ہی انسان پھر اتنی آسانی سے اُس میں تبدیلیاں کر سکتا ہے۔ بعد ازاں انسان یہ سوچتا ہے کہ کاش اس بات پر پہلے سوچ لیتا اور اپنی اس ضرورت کا پہلے اندازہ کرلیتا۔ تو آپ نے کرنا یہ ہے کہ خود کو یہ یاد دلانا ہے کہ بعد کے پچھتاوے سے اچھا ہے پہلے سوچ بچار کرلیا جائے۔

آپ کے پلاٹ کی جگہ کتنی ہے؟

ہاں جیسا کہ چند سطور اُوپر بتایا کہ واقعی خواہشات پر کسی کا زور نہیں ہوتا اور انسان کو اپنی ضرویات کے مطابق فیصلے لینے چاہئیں بلکل اسی سے ملا جلا پوائنٹ اس پیراگراف میں ملے گا۔ اپنے پلاٹ کی جگہ دیکھ لیجئے۔ دیکھیں کہ پلاٹ کتنی اراضی پر محیط ہے اور آپ اُس اراضی کا بہترین استعمال کیسے کر سکتے ہیں۔ دیکھیں ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ گھر بڑا ہو، حسین ترین دالان ہو اور وسیع و عریض کمرے ہوں۔

لیکن حقائق اس سے تھوڑا سا برعکس ہوتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اپنی خواہش کے مطابق کوئی تعمیر نہیں کر سکتے مگر اس کے لیے میانہ روش اختیار کرنی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو چند چیزوں پر قناعت اور کمپرومائز کرنا ہوگا تاکہ آپ چند خواہشات کا پیچھا کر سکیں۔ پلاٹ کی جگہ اس ضمن میں دیکھنا بہت ضروری ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ اسی احاطے کے آس پاس لوگوں نے کس طرح کی تعمیرات کی ہیں۔

تعمیر پر کتنی لاگت آ سکتی ہے؟

یہ پوائنٹ سب سے کلیدی ہے۔ آپ کو اپنی جیب کا بھی اندازہ ہونا چاہیے کہ آیا جو نقشہ سازی میں کر رہا ہوں کیا میری جمع پونجی مجھے اس کی اجازت دیتی ہے کہ نہیں۔ آپ کو سوچنا ہوگا کہ آپ کیسے اپنے بجٹ اور اپنی خواہشات کے مابین ایک میل بنا سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر آپ کو ایک لمبی پارکنگ اسپیس چاہیے مگر جب آپ وہ اسپیس بناتے ہیں تو بجٹ آئوٹ ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ دیکھیں کہ آپ کو واش رومز کی اتنی ضرورت نہیں اور دالان بھی اگر تھوڑا سا چھوٹا کر دیا جائے تو ٹھیک رہے گا۔ یوں آپ ایک فلور پلان کی مدد سے یعنی نقشہ سازی کی ہیلپ سے تمام تر فیصلے آسانی سے اور سوچ سمجھ کر سکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر نظرثانی


Post Views: 0

کویٹہ: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے پیر کے روز کویٹہ ڈویژن اور جنوبی بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر نظرثانی کی۔

وہ ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے کہ جس میں اُن کا کہنا تھا کہ کویٹہ ڈویژن میں 5 بڑے سپورٹس کمپلیکس اور علاقے میں تفریح گاہوں کا قیام اُن کی ترجیح ہے جن کو پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں شامل کیا جائے گا۔

اُنہوں نے ماتحت افسران کو ہدایت کی کہ کویٹہ کی ترقی کے لیے ڈیویلپمنٹ پلان ترتیب دیا جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔