وزیرِ اعظم کے کنسٹرکشن پیکج کے تحت ایف بی آر کے ساتھ 1059 پراجیکٹس کا اندراج



Post Views:
2

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق وزیرِ اعظم کے کنسٹرکشن سیکٹر کے لیے جاری کردہ مراعاتی پیکج کے تحت اب تک متعدد بلڈرز اور ڈویلپرز کے 1059 پراجیکٹس کو رجسٹر کیا جا چکا ہے۔

ان کنسٹرکشن پراجیکٹس کی کُل لاگت 383 ارب روپے بنتی ہے۔

مارچ 30 کو ایف بی آر نے 998 پراجیکٹس کی لسٹ جاری کی تھی تاہم اب اس میں 71 پراجیکٹس کا اضافہ ہوچکا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ایس بی پی کی اسکیم کے تحت 521 سولر پراجیکٹس کا آغاز



Post Views:
15

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر باقر رضا کا کہنا ہے رنیوایبل انرجی فنانسنگ سکیم کے تحت بینکوں نے 521 سولر پراجیکٹس کو 36 ارب روپے جاری کردیئے ہیں۔

وہ ایک ويبینار سے خطاب کررہے تھے جہاں اُن کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے 850 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے چیلنجوں کا مقابلہ کررہا ہے جن کے لیے ماحول دوست منصوبوں کی اشد ضرورت ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ایسے ماحول دوست منصوبوں کے لیے بینکوں کی جانب سے رقوم کا اجراء پاکستان کو اس قابل بنائے گا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کر سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




دسمبر 2022 تک 1604 میگاواٹ کے دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تکمیل کا اعلان


Post Views: 1

اسلام آباد: پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے وزیرِ توانائی محمد حماد اظہر کو آگاہ کیا کہ دسمبر 2022 تک 1604 میگاواٹ کے دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تکمیل کردی جائے گی۔

منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آئی بی شاہ جہان مرزا کا کہنا تھا کہ ان دو منصوبوں سے سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا ہوگی۔

اُن کا کہنا تھا کہ کروٹ آئی پی پی سے 720 میگاواٹ جبکہ سوکی کناری سے 884 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




کے پی میں معتدد سپورٹس پراجیکٹس پر کام تیزی سے جاری


Post Views: 3

پشاور: خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت اب تک صوبے کے لیے 150 پلے گراؤنڈز کی منظوری دے چُکی ہے جس پر 173.85 ملین روپے کی لاگت آئے گی۔

صوبائی حکومت کے یہ اقدامات وزیرِ اعظم کے 1000 پلے گراؤنڈز کے ویژن کے تحت لیے گئے ہیں۔

اس حوالے سی پراجیکٹ ڈائریکٹر مُراد علی محمد کا کہنا تھا کہ ان 150 گراؤنڈز میں 52 پر کام مکمل کیا جا چُکا ہے جبکہ دیگر پر تیزی سے جاری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ پراجیکٹس کی بروقت تکمیل ہو ان میں کسی صورت غیر معیاری مٹیریل کا استعمال نہ کیا جائے۔

پلے گراؤنڈز میں پشاور سپورٹس کمپلیکس میں سدپارہ وال، اسکواش کورٹس، واکنگ ٹریکس، اوپن ایئر جمز شامل ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔