منہ مانگے دام کا حصول یقینی بنانے کے لیے گھر کی فروخت سے قبل اس کی تزئین ناگزیر ہے

[ad_1]



Post Views:
5

کورونا وبا نے ہماری عادتوں کو تبدیل اور ہماری سرگرمیوں کو محدود کرکے رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر میں اربوں افراد کرونا پر قابو پانے کے لیے لگائی جانے والی عالمی پابندیوں کے باعث اپنے گھروں میں قید ہوکر رہے گئے ہیں۔ اس کے کچھ اثرات گھر سے باہر کھانا کھانے، سفرکرنے، جم جانے یا فلم دیکھنے کے لیے سنیما جانے پر پابندی کی صورت میں دیکھے گئے تاہم دفاتر اور کاروبار بند ہونے کے باعث کچھ لوگوں نے اپنے وقت اور پیسے کی بچت بھی کی۔

کورونا کی لہر کے دوران لاک ڈاؤن کا ایک مثبت پہلو یہ بھی تھا کہ بہت سے لوگوں کو اپنے خاندان کے ساتھ معیاری وقت گزارنے، نئے مشاغل اپنانے اور گھر کے وہ تمام کام جو مصروفیت کے باعث نہ ہوسکے تھے انہیں نمٹانے کا موقع ملا ۔ ایسے میں کئی لوگوں نے گھر کی تزئینِ نو (ری- ماڈلنگ) کے منصوبے بھی شروع کیے۔ گوگل کے تجزیے اور سروے کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران ہر دس میں سے نو افراد نے گھر کی ری-ماڈلنگ کے منصوبے پر کام کیا۔

یہاں آج ہم گھر کی تزئینِ نو کے حوالے سے کچھ اہم معلومات کا آپ کے ساتھ تبادلہ کریں گے جو بلاشبہ آپ کے گھر کی قدر و قیمت میں اضافے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

مسکن کے بیرونی حصے کی خوبصورتی خریدار کے اطمینان کی پہلی کنجی

اکثر لوگ صرف گھر کے اندرونی حصے کی سجاوٹ اور تزئین و آرائش پر اپنی توجہ پرکوز رکھتے ہیں جبکہ وہ گھر کی بیرونی خوبصورتی کو ہمیشہ نظرانداز کردیتے ہیں۔ یاد رکھیں! کسی بھی کام میں پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوتا ہے لہذا آپ کے گھر کا عقبی حصہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ گھر کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے خریدار کو اپنی طرف ہر ممکن طور پر متوجہ کر سکے۔ گھر کی عقبی بوسیدہ حال دیواریں، زنگ آلود دروازہ اور نکاسی آب کی ناقص لائنیں خریدار کو آپ کے گھر سے دور رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ اگر گھر کا بیرونی دروازہ دیکھ کر آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ اپنے اچھے دن گزار چکا ہے تو اسے تبدیل کرنے میں ہی بہتری ہے۔

سبزہ زار کسی بھی گھر کی خوبصورتی کا انتہائی اہم جزو ہوتا ہے

ایک خوبصورت اور صاف ستھرا صحن یا باغیچہ آپ کے گھر کی قدر و قیمت بڑھانے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے۔ صحن میں خوبصورت باغیچہ اور پودے اسے زندگی بخشتے ہیں۔ اگر آپ کو باغیچہ تیار کرنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا ہے تو آپ لینڈ اسکیپنگ کے کسی ماہر کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کے سبزہ زار یا باغیچے میں اگر درخت کی شاخوں کی کانٹ چھانٹ کی ضرورت ہے تواس کے لیے بھی کسی ماہر کی خدمات حاصل کرنا ہی مناسب ہے۔

گھر کے صحن میں نشست کا انتظام

وَبائی مرض کے باعث لوگ بڑے سماجی اجتماعات کا انتظام کرنے یا ان میں شرکت سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایسے میں کئی لوگوں نے گھر کے صحن میں آؤٹ ڈور ڈیک بنوا دیے ہیں جہاں محدود لوگوں کو مدعو کرکے سماجی فاصلہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یقیناً وَبا کے زمانے میں آؤٹ ڈور ڈیک پر سرمایہ کاری ناصرف آپ کے گھر کی قدر و قیمت بڑھا دے گی بلکہ اس طرح آپ اپنے خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ اچھا وقت بھی گزار سکتے ہیں۔

دیواروں اور فرش کی خوبصورتی گھر کی قدر میں اضافے کا باعث ہے

آپ کے گھر کی تعمیر چاہے پُرانی ہو لیکن جب فروخت کے لیے پیش کریں تو اسے صاف ستھرا اور دلکش نظر آنا چاہیے۔ سفید یا ہلکا نیا رنگ آپ کے کمروں کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے اور خریدار پر اچھا تاثر چھوڑے گا۔ اسی طرح اگر آپ نے دیواروں کو وال پیپر سے سجایا ہوا ہے تو دیکھ لیں کہ وہ پرانے اور پھٹے ہوئے نہ ہوں۔ آپ کی حتی الامکان یہ کوشش ہونی چاہیے کہ خریدار کو گھر میں ایسا کوئی نقص نظر نہ آئے جو اس کی گھر میں دلچسپی کو کم کرنے کا باعث بنے۔ اسی طرح اگر آپ نے گھر میں قالین بچھایا ہوا ہے اور وہ پُرانا ہوگیا ہے تو اسے بھی فوری طور پر بدل دیں۔ لکڑی کا فرش اس سے کہیں بہتر ہے۔

باورچی خانے کی صفائی یقینی بنائیں

باورچی خانہ میں آپ کو نئے اپلائنسز نصب کرنے اور دیگر مہنگی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پُرانی الماریوں کو تبدیل کرنے کے بجائے انہیں نیا پینٹ کردیا جائے یا صرف وارنش کرنے سے ہی وہ پھر سے چمک اٹھیں گی۔

قدرتی روشنی کے نکاس کا مناسب انتظام

ہر ممکن حد تک کوشش کریں کہ گھر کی تزئینِ نو میں کھڑکیوں، چھت اور دیواروں میں ایسے انتظامات کیے جائیں کہ ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ قدرتی روشنی آپ کے گھر کے اندر پہنچ رہی ہو۔ اس طرح آپ کا گھر کھلا کھلا اور کشادہ لگتا ہے۔ اگر کسی کمرے میں قدرتی روشنی کا انتظام نہ ہو تو وہاں چھت میں ڈھکی ہوئی لائٹنگ سسٹم نصب کرکے اسے روشن کیا جاسکتا ہے اور یہ روشنی آنکھوں پر بھی بوجھ نہیں بنتی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
1

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]

امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
109

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

[ad_1]



Post Views:
0

بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے دنیا میں جہاں دیگر وسائل  اور بنیادی ضروریات میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے وہیں دنیا بھر میں رہائشی    سہولیات کا بحران بھی سر اٹھا چکا ہے۔ ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق دنیا بھی میں رہائشی  سہولیات کے بغیر رہنے والے افراد کی آباد میں سالانہ بنیادوں پر 2.7 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

رہائشی  سہولیات کے فقدان کی وجہ سے نہ صرف نئے تعمیر ہونے والے گھروں کے سائزمیں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے بلکہ دنیا فیبریکیٹڈ گھروں میں رہائش اختیار کرنے کے رحجان کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔

تھری ڈی پرنٹنگ سے لے کر بائیو مینوفیکچرڈ مٹیریل تک تعمیرات کی نئی ٹیکنالوجیز کو ہاؤسنگ کے عالمی بحران جس سے 2025ء تک دنیا کے 1.6 ارب افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے کا تیزاور سستا تر حل قرار دیا جارہا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجیز تعمیراتی ضیاع میں بڑے پیمانے پر کمی لاکر ناصرف ماحولیات پر کم بوجھ ڈالیں گی بلکہ یہ کاربن نیوٹرل یا کسی حد تک منفی بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

کاربن نیوٹرل سے مراد وہ عمارتیں ہیں جن سے کاربن کا اخراج صفر ہوتا ہے جب کہ کاربن نیگیٹو کا مطلب وہ عمارتیں ہیں جو نا صرف خود کاربن خارج نہیں کرتیں بلکہ اس کے برعکس ماحول سے کاربن کو جذب بھی کرتی ہیں۔ تعمیراتی صنعت میں ان نئی ٹیکنالوجیز کا پرجوش طریقے سے خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اب بھی موجود ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجیز توقعات پر پوری اُتر سکیں گی؟

تیارشدہ گھروں کی فراہمی کے لیے مارکیٹ سروے کے بعد جگہ کا انتخاب

ہاؤسنگ کی عالمی مارکیٹ اپنے پیشگی متعین کردہ معیارات کے گرد چل رہی ہے جس میں نئی تعمیرات اور ہوم اونرشپ پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ جو کہ کسی بھی صنعت میں معیارات کا ہونا پیداواری صلاحیت میں اضافے اور لاگت میں کمی کا باعث ہوتا ہے تاہم ساکن معیارات مختلف لوگوں، طبقات اور خطوں کی مختلف ضروریات میں نہیں ڈھل سکتے۔ مثال کے طور پر میکسیکو میں ریڈی میڈ ہوم کی ٹیکنالوجی کو جب کم مطلوب مقامات پر متعارف کرایا گیا تو وہاں ہاؤسنگ مارکیٹ کریش کرگئی۔ میکسیکو کے ان مقامات پر پیشگی تیار شدہ گھر اب بھی خالی پڑے ہیں۔

کووِڈ 19 بحران نے ہاؤسنگ میں تبدیلی کو اپنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کے مکینوں کے پاس آپشن ہونا چاہیے کہ وہ گھر میں بآسانی نئی دیواروں کا اضافہ کرسکیں یا کسی دیوار کو گرا سکیں تاکہ گھروں کے مکین دفتر سے دور گھر میں دفتری کام انجام دینے کے لیے گھر کے ڈیزائن میں ترامیم لاسکیں۔ لوگوں کو صرف نئی تعمیرات کی ضرورت ہی نہیں بلکہ کئی لوگوں کو گھر کی سادہ سی مرمت، بحالی یا اَپ گریڈ کرنے کی سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

اندازہ ہے کہ اس وقت جو عمارتیں موجود ہیں ان میں سے دو تہائی عمارتیں 2050ء میں بھی زیرِ استعمال ہوں گی جو اس وقت کئی ڈھانچہ جاتی اور ماحولیاتی مسائل کا باعث بنیں گی جبکہ معیارِ زندگی پر ان کے اثرات اس کے علاوہ ہوں گے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی دستیاب ہے۔ بے قاعدہ آبادیوں کی نقشہ سازی کے لیے ’تھری ڈی اسکین‘ اور گرنے کے خطرات سے دوچار عمارتوں کی کم خرچ میں نشاندہی کے لیے مشین لرننگ سوفٹ ویئر کا استعمال کرنا ہو گا۔

گھر کی خرید یا تعمیر کے لیے ہوم فنانسنگ کی سہولیات کی دستیابی یقینی بنانا

آج دنیا بھر میں کئی گھرانے بینک سے مارگیج حاصل نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ یا تو بے قاعدہ (اِن فارمل) معیشت کا حصہ ہیں یا ان کے پاس زمین کے ٹائٹل کے کاغذات نہیں ہیں۔ آمدنی کا ثبوت اور ڈاؤن پے منٹ کی شرائط بھی کئی لوگوں کو مارگیج تک رسائی حاصل کرنے سے روک دیتی ہیں۔ فِن ٹیک میں جدت لا کر بے قاعدہ معیشت کا حصہ سمجھے جانے والے خاندانوں کی بے قاعدہ آمدنی کی تصدیق اور اسے تسلیم کرتے ہوئے انھیں ہاؤسنگ مارگیج کے اہل بنایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی سستے حل فراہم کرسکتا ہے۔

گھروں کی تعمیر سے متعلق جدید تحقیق پر مبنی تصوراتی ہم آہنگی

گھر کی ملکیت کے بین الاقوامی تصور نے غیرمساویت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ گھر کو قابلِ دسترس بنانے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ جس طرح ایئر بی این بی نے ’ویکیشن رینٹل‘ مارکیٹ میں انقلاب برپا کیا ہے، اسی طرح متذکرہ بالا اسٹارٹ اَپس کم آمدنی والے خاندانوں، پناہ گزینوں اور معاشرے کے نچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے لیے بڑے پیمانے پر مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، جو مناسب کرایہ پر گھر کی تلاش میں مارے پھرتے ہیں۔

کئی شہروں میں مالک مکان کرایہ داروں سے ناصرف بھاری پیشگی رقوم لیتے ہیں بلکہ کئی جگہوں پر ان کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ اگر اس شعبہ میں کچھ عالمی اسٹارٹ اَپس آجائیں تو کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے کرایہ کے گھروں کی ایک نئی مارکیٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ اچھے کرایہ داروں کی بچتوں اور حقوق کو تحفظ حاصل ہوسکتا ہے اور رینٹل سبسڈی اسکیموں اور گارنٹی فنڈز کے ذریعے بھاری پیشگی رقوم کے مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا آئندہ دو سالوں کے لیے آمدن کا ہدف 2.5 ارب روپے مقرر

[ad_1]



Post Views:
7

اسلام آباد:  گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل رضا علی حبیب کا کہنا ہے کہ سیاحت کے فروغ سے اتھارٹی نے آئندہ دو سالوں کے لیے آمدن کا ہدف 2.5 ارب روپے مقرر کیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ جی ڈی اے ایک خود مختار ادارہ ہے جو کہ ادارہ جاتی اخراجات پر سالانہ 35 کروڑ روپے خرچ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کے دوران گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے 50 کروڑ روپے کی اضافی آمدن حاصل کی۔ رضا علی کا مزید کہنا تھا کہ سال 2019 کے دوران اتھارٹی کی سالانہ آمدن 36 کروڑ روپے تھی جو کہ گذشتہ سال 2020 میں 90 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

لئی ایکسپریس وے کے لیے اراضی خریدنے کا کام جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری

[ad_1]



Post Views:
2

راولپنڈی:  کمشنر راولپنڈی ڈویژن سید گلزار حسین شاہ نے لئی ایکسپریس وے کے لیے اراضی خریدنے کا کام جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

کمشنر راولپنڈی ڈویژن سید گلزار حسین شاہ کی زیر صدارت لئی ایکسپریس وے پر ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں نا لہ لئی ایکسپریس وے کی تیز رفتار تکمیل کے مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کمشنر راولپنڈی ڈویژن نے آر ڈی اے اور تمام متعلقہ محکموں کو تمام امور 3 ماہ میں سرانجام دینے کی ہدایات جاری کی۔ انہوں نے آرڈی اے کو ہدایت کی کہ 10 اکتوبر تک نیسپاک سے کوآرڈنیشن پلان حاصل کر لیں تاکہ 23 اکتوبر تک پی سی ون منظوری کیلئے متعلقہ حکام کو بھیجا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ لینڈ ریکوزیشن کا کام بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے تا کہ اس پراجیکٹ کا سنگ بنیاد 25 دسمبر کو قائد ڈے کے موقع پر رکھا جاسکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

این ایل سی سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے پر ترقیاتی کاموں کے لیے پُرعزم

[ad_1]



Post Views:
0

لاہور: لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل سی بی ڈی ڈی اے) نے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (سی بی ڈی) منصوبے کے تعاون کے ساتھ سائٹ پر جاری ترقیاتی کاموں کے لیے ایک بریفنگ سیشن کی میزبانی کی۔

لاہور میں ایک کھلی نیلامی میں 5 پرائم پلاٹوں کی کامیاب گرینڈ نیلامی کے بعد  لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ عمران امین نے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کی ٹیم کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل این ایل سی میجر جنرل یوسف جمال سے سائٹ پر ترقیاتی کاموں پر تبادلہ خیال کے حوالے سے ملاقات کی۔

ڈائریکٹر جنرل این ایل سی اور سی ای او لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے منصوبے کی جگہ پر درخت بھی لگائے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایل سی بی ڈی ڈی اے کے سربراہ عمران امین نے کہا کہ لاہور پرائم تعمیرات کے میدان میں ایک نئی شروعات کی علامت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سی بی ڈی کی ٹیم اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور پوری امید ہے کہ اس سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے روشن مستقبل کو فائدہ پہنچے گا۔

نیشنل لاجسٹک سیل کے (این ایل سی)  ڈائریکٹر جنرل  میجر جنرل یوسف جمال  کا کہنا تھا کہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے پر ترقیاتی کاموں کے لیے این ایل سی پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایل سی تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مذکورہ منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




[ad_2]

خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

[ad_1]



Post Views:
3

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کم آمدن والے افراد کے لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کے تحت سنگجانی کے علاقے میں 2,392 گھروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

وزارت ہاؤسنگ حکام کے مطابق مذکورہ ہاؤسنگ اسکیم کی تعمیر کے ابتدائی تخمینہ سے متعلق تمام امور سرانجام دیے جا چکے ہیں جبکہ وزارت نے منصوبے کی تعمیر سے متعلق تفصیلی دستاویز کی منظوری بھی دے دی ہے۔

حکام کے مطابق وفاقی حکومت کے نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کے تحت ملک بھر میں 45000 کے قریب گھروں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




[ad_2]

بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کے اجراء کے احکامات جاری

[ad_1]



Post Views:
3

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال الیانی نے صوبے میں نئے اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اربوں روپے کے فنڈز جاری کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے 7 ارب روپے کی لاگت سے 135 سڑکوں کی تعمیراتی بحالی اور لائیو سٹاک کی 114 اسکیموں کے لیے 1 ارب 70 کروڑ روپے جبکہ صوبے کے پانچ اضلاع میں کم لاگت گھروں کی تعمیر کے حوالے سے منصوبے کی بھی منظوری دے دی۔

وزیر اعلیٰ نے قلعہ عبداللہ میں کھیلوں سے متعلق 114 اسکیموں کے لیے 1 ارب روپے، صوبے میں پہلی قرآن اکیڈمی کے قیام کے لیے 10 کروڑ جبکہ سیلاب سے بچاؤ کے دیہی منصوبوں کے لیے 1 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

کوئٹہ ڈیویلپمنٹ پروگرام کے لیے 24.5 ارب روپے مختص

[ad_1]



Post Views:
1

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے کوئٹہ میں متعدد تعمیراتی منصوبوں کے لیے 24.5 ارب روپے مختص کردیئے ہیں۔

بلوچستان حکومت کے مطابق کوئٹہ ڈیویلپمنٹ پروگرام میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع، اسٹریٹ لائٹس کی انسٹالیشن اور ماحولیاتی تحفظ کے منصوبے شامل ہیں۔

اس ضمن میں تمام متعلقہ افسران کو یہ احکامات جاری کردیئے گئے ہیں کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

سی ڈی اے کا ماسٹر پلان کی تیاری کے لیے شہریوں کی رائے لینے کا فیصلہ

[ad_1]



Post Views:
2

اسلام آباد: کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان کی تیاری میں شہریوں کی رائے شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس ضمن میں ماسٹر پلان کمیشن کے تحت آٹھ ذیلی کمیٹیوں کا قیام کردیا گیا ہے تاکہ شہری مسائل کا بہتر انداز میں احاطہ کیا جاسکے۔

یہ فیصلہ سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر میں ماسٹر پلان کمیشن کے اجلاس میں ہوا جس کی صدارت چیئرمین عامر احمد علی نے کی۔

تفصیلات کے مطابق یہ آٹھ ذیلی کمیٹیاں اربن ری جنریشن، ٹرانسپورٹ، صحت، ماس ٹرانزٹ، تعلیم اور ماحولیاتی تبدیلی پر شہریوں سے رائے لے کر سفارشات مرتب کرے گی۔

علاوہ ازیں، اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ سی ڈی اے کی ویب سائٹ پر سیٹیزن پورٹل کا لنک دیا جائے گا جہاں شہری براہِ راست اپنی رائے دیں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

پنجاب: سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام کے لیے 22 این او سی جاری

[ad_1]



Post Views:
0

لاہور: حکومتِ پنجاب نے نئی سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام کے لیے 22 نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹس (این او سیز) جاری کردیئے ہیں۔

تاہم حکومت کی جانب سے یہ احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ کسی بھی اُس جگہ جسے نیگیٹیو ڈیکلیئر کیا گیا ہو وہاں سیمنٹ فیکٹری کا قیام نہیں کیا جائیگا۔

اس ضمن میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ نئی سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام سے نہ صرف تعمیراتی صنعت میں تیزی آئیگی بلکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]