کوئٹہ ڈیویلپمنٹ پروگرام کے لیے 24.5 ارب روپے مختص



Post Views:
1

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے کوئٹہ میں متعدد تعمیراتی منصوبوں کے لیے 24.5 ارب روپے مختص کردیئے ہیں۔

بلوچستان حکومت کے مطابق کوئٹہ ڈیویلپمنٹ پروگرام میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع، اسٹریٹ لائٹس کی انسٹالیشن اور ماحولیاتی تحفظ کے منصوبے شامل ہیں۔

اس ضمن میں تمام متعلقہ افسران کو یہ احکامات جاری کردیئے گئے ہیں کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




سی ڈی اے کا ماسٹر پلان کی تیاری کے لیے شہریوں کی رائے لینے کا فیصلہ



Post Views:
2

اسلام آباد: کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان کی تیاری میں شہریوں کی رائے شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس ضمن میں ماسٹر پلان کمیشن کے تحت آٹھ ذیلی کمیٹیوں کا قیام کردیا گیا ہے تاکہ شہری مسائل کا بہتر انداز میں احاطہ کیا جاسکے۔

یہ فیصلہ سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر میں ماسٹر پلان کمیشن کے اجلاس میں ہوا جس کی صدارت چیئرمین عامر احمد علی نے کی۔

تفصیلات کے مطابق یہ آٹھ ذیلی کمیٹیاں اربن ری جنریشن، ٹرانسپورٹ، صحت، ماس ٹرانزٹ، تعلیم اور ماحولیاتی تبدیلی پر شہریوں سے رائے لے کر سفارشات مرتب کرے گی۔

علاوہ ازیں، اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ سی ڈی اے کی ویب سائٹ پر سیٹیزن پورٹل کا لنک دیا جائے گا جہاں شہری براہِ راست اپنی رائے دیں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




پنجاب: سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام کے لیے 22 این او سی جاری



Post Views:
0

لاہور: حکومتِ پنجاب نے نئی سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام کے لیے 22 نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹس (این او سیز) جاری کردیئے ہیں۔

تاہم حکومت کی جانب سے یہ احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ کسی بھی اُس جگہ جسے نیگیٹیو ڈیکلیئر کیا گیا ہو وہاں سیمنٹ فیکٹری کا قیام نہیں کیا جائیگا۔

اس ضمن میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ نئی سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام سے نہ صرف تعمیراتی صنعت میں تیزی آئیگی بلکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ایل ڈی اے کا تجاوزات کی شکایات کے لیے ہیلپ لائن لانچ کرنے کا فیصلہ



Post Views:
60

لاہور: تجاوزات کے خلاف آپریشن میں مزید تیزی لانے کے لیے لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے خصوصی ہیلپ لائن لانچ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

وائس چیئرمین ایل ڈی اے شیخ امتیاز محمود نے کہا کہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے اس ضمن میں سافٹ ویئر کی تیاری مکمل کرلی ہے تاہم آج کل کال ایجنٹس کی ہائرنگ کی جارہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ پراجیکٹ ایل ڈی اے کی ڈیجیٹآئزیشن کمیٹی نے شروع کیا تاکہ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں تیزی لائی جائے۔

تفصیلات کے مطابق شکایت آنے کی صورت میں وہ متعلقہ افسر کے حوالے کی جائیگی۔ وہ افسر انتظامی مشینری کو بروئے کار لاتے ہوئے اُس شکایت کی تحقیق کریگا اور یوں اُس کا ازالہ کیا جائیگا۔

امتیاز محمود کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ سارا پراسیس ڈیجیٹل ہوگا لہٰذا متعلقہ افسر کا کسی بھی شکایت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




راولپنڈی: ٹریفک پولیس کا کرکٹ میچز کے لیے ٹریفک ڈائیورشن پلان جاری



Post Views:
32

راولپنڈی: راولپنڈی میں ہونے والے کرکٹ میچز کے لیے ٹریفک پولیس نے ڈبل روڈ کرکٹ اسٹیڈیم کا ٹریفک ڈائیورشن پلان جاری کردیا ہے۔

راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین کرکٹ سیریز کا 10 ستمبر سے آغاز ہو چکا ہے اور یہ میچز 21 ستمبر تک  کھیلے جائیں گے۔

کرکٹ میچز کے دوران مجموعی طور پر ٹریفک پولیس کے 327 اہلکار و افسران خصوصی ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

ٹریفک پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیموں کی روانگی اور واپسی کے وقت مری روڈ کو فیض آباد سے ڈبل روڈ تک مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

اسلام آباد سے آنے والی ٹریفک کو فیض آباد سے ایکسپریس وے کی جانب ڈائیورٹ کیا جائے گا اور راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی ٹریفک کو سکتھ روڈ چوک سے سید پور روڈ کی طرف ڈائیورٹ کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ 9 ایونیو سے آنے والا ٹریفک آئی جی پی روڈ کی طرف موڑ دیا جائے گا جبکہ میچ کے دوران اسٹیڈیم روڈ کو 9 ایونیو چوک تک دونوں اطراف سے مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ہاؤسنگ فنانس کے لیے ریگولیٹری باڈی کا قیام متوقع


Post Views:
2

کراچی: وفاقی حکومت نے ہاؤسنگ فنانس کے فروغ کے لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔

وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے گزشتہ ہفتے سسٹنیبل گروتھ کے لیے جو معاشی پلان سامنے رکھا اُس میں اُن کا کہنا تھا کہ منظم ہاؤسنگ فنانس کے لیے قائم ہونے والی ریگولیٹری اتھارٹی کا نام پاکستان ہاؤسنگ بینک رکھا جائیگا۔

یاد رہے کہ آجکل اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ہاؤسنگ فنانس مارکیٹ کو ریگولیٹ کرتی ہے۔

اقتصادی ایڈوائزری کونسل (ای اے سی) کے ایک رکن عارف حبیب کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ فنانس کمپنیوں کا تعلق نجی سیکٹر سے ہوگا اور حکومت کے اس اقدام کا مقصد نجی سیکٹر کیلئے ایک ایسا ماحول بنانا ہے جس سے وہ ہاؤسنگ فنانس کو ایک باقاعدہ کاروبار کی طرح دیکھ سکے۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں ماضی قریب تک کوئی ہاؤسنگ فنانس کمپنی نہیں تھی تاہم سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے حال ہی میں تین کمپنیوں کو لائسنسوں کا اجراء کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ فنڈ مینیجمنٹ کمپنیز، مائیکرو فنانس بینکس اور انویسٹمنٹ بینکس متعدد ہاؤسنگ فنانس کمپنیوں کا قیام کریں گے تاکہ ہاؤسنگ سیکٹر سے بہتر انداز میں فائدہ اُٹھایا جاسکے۔

جولائی کے آخر تک کنزیومر فنانسنگ کا حجم 106.8 ارب روپے رہا جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 32.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

علاوہ ازیں حکومت نے ہاؤسنگ لون مارک اپ سبسڈی سکیم کیلئے 36 ارب روپے مختص کر رکھے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




آئی ٹی پارک کے لیے پاکستان اور کوریا کے مابین 158 ملین ڈالر کی مالی معاونت کا معاہدہ


Post Views:
4

اسلام آباد: ایگزم بینک کوریا کراچی میں آئی ٹی پارک بنانے کے لیے پاکستان کو 15 کروڑ 80 لاکھ روپے کا قرضہ دے گا۔

ایگزم بینک کوریا کی جانب سے نئے فریم ورک معاہدے کے تحت آءندہ پانچ سال میں پاکستان کے لیے مالی معاونت کی حد 50 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 1 ارب ڈالر تک کی جائے گی۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کوریا کے اعلی سطع کے وفد نے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور عمر ایوب سے ملاقات کی اور مذکورہ معاہدے پر دستخط کیے۔

پارک کے قیام سے مقامی اوربین الاقوامی آئی ٹی فرمز کوجدیدترین بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جائیگا اوران اداروں کوکراچی میں اپنے دفاتر کے قیام میں مددملے گی۔

وفاقی وزیرعمرایوب نے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں معاونت فراہم کرنے اورکوویڈ 19 کی وبا اورقدرتی آفات سے نمٹنے میں کوریا کی معاونت کی تعریف کی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




سی ڈی اے کے مطابق ریئل اسٹیٹ پراجیکٹ کی منظوری کے لیے کونسی دستاویزات درکار ہیں؟


Post Views:
2

کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے دائرہ کار میں واقع غیر سرکاری اراضی پر ریئل اسٹیٹ پراجیکٹ کی منظوری کے لیے درج ذیل دستاویزات درکار ہیں

ملکیتی دستاویزات
فرد – پٹواری یا تحصیل دار سے تصدیق شدہ
عکس شجرا – پٹواری یا تحصیل دار سے تصدیق شدہ
صداقت نامہ عدم زیر باری

سی ڈی اے کے پلاننگ ونگ سے ابتدائی منصوبہ بندی کا اجازت نامہ

منظور شدہ لے آؤٹ پلان

ڈیزائن کی جانچ کرنے والی کمیٹی (ڈی وی سی) سے اپروول لیٹر

منظور شدہ بلڈنگ پلانز لیٹر

سٹرکچرل ڈیزائن ویٹنگ سرٹیفکیٹ

ایم ای پی سرٹیفکیٹ – میکینکل، الیکٹرکل، پلمبنگ

فائر فائٹنگ سرٹیفکیٹ

ایکسیس روڈ اپروول – اُس صورت میں جب پراجیکٹ کسی مرکزی شاہراہ یا سڑک کے پاس ہو

نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے اجازت نامہ – اُس صورت میں کہ جب پراجیکٹ جی ٹی روڈ) کے ہمراہ ہو

سول ایویشن اتھارٹی (سی اے اے) سے ہائیٹ کلیئرنس سرٹیفکیٹ – اُس صورت میں کہ جب پراجیکٹ ایئرپورٹ کے ہمراہ ہو یا وہ کثیر المنزلہ ہو

بلڈنگ کمپلیشن سرٹیفکیٹ

پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے انوائرمنٹل اپروول

سوئی ناردرن گیس پائپ لائن (ایس این جی پی ایل) سے اپروول لیٹر
اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی سے اپروول لیٹر
واٹر سپلائی سسٹم سے اجازت نامہ

منظور شدہ ہاؤسنگ سکیم میں تعمیراتی پراجیکٹ کے لیے درکار دستاویزات

ملکیتی دستاویزات
الاٹمنٹ سرٹیفکیٹ
اجازت نامہ برائے حوالگی
ڈیمارکیشن سرٹیفکیٹ

این او سی اور ہاؤسنگ سکیم کا منظور شدہ پلان

اتھارٹی کی جانب سے این او سی

منظور شدہ لے آؤٹ پلان

ڈیزائن کی جانچ کرنے والی کمیٹی (ڈی وی سی) سے اپروول لیٹر

متعلقہ ادارے سے منظور شدہ بلڈنگ پلان

منظور شدہ لے آؤٹ پلان

ڈیزائن کی جانچ کرنے والی کمیٹی (ڈی وی سی) سے اپروول لیٹر

منظور شدہ بلڈنگ پلانز لیٹر

سٹرکچرل ڈیزائن ویٹنگ سرٹیفکیٹ

ایم ای پی سرٹیفکیٹ – میکینکل، الیکٹرکل، پلمبنگ

فائر فائٹنگ سرٹیفکیٹ

ایکسیس روڈ اپروول – اُس صورت میں جب پراجیکٹ کسی مرکزی شاہراہ یا سڑک کے پاس ہو

نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے اجازت نامہ – اُس صورت میں کہ جب پراجیکٹ جی ٹی روڈ) کے ہمراہ ہو

سول ایویشن اتھارٹی (سی اے اے) سے ہائیٹ کلیئرنس سرٹیفکیٹ – اُس صورت میں کہ جب پراجیکٹ ایئرپورٹ کے ہمراہ ہو یا وہ کثیر المنزلہ ہو

بلڈنگ کمپلیشن سرٹیفکیٹ

پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے انوائرمنٹل اپروول

سوئی ناردرن گیس پائپ لائن (ایس این جی پی ایل) سے اپروول لیٹر
اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی سے اپروول لیٹر
واٹر سپلائی سسٹم سے اجازت نامہ




چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے پہلی بار بلا ضمانت قرض اسکیم کا اجراء


Post Views:
4

بلا ضمانت قرض اسکیم دراصل مالی معاونت کی ایک ایسی سہولت ہے جس کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اب بغیر کسی ضمانت یا سکیورٹی کے کمرشل بینکوں سے قرض حاصل کر سکیں گے۔ مذرکورہ سہولت سے متعلق پاکستان کا مرکزی بینک گذشتہ ایک عرصہ سے وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اس اسکیم کو حتمی شکل دینے میں مصروف رہا اور اب بالآخر مرکزی بینک کی جانب سے باقاعدہ اس سہولت کو متعارف کروا دیا گیا ہے۔

بلا ضمانت قرض اسکیم دراصل ہے کیا؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چھوٹے اور درمیانے کاروبار (ایس ایم ایز) کی مالی معاونت تک رسائی بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی شراکت سے ایک اختراعی اقدام متعارف کرایا ہے جس کا واضح مقصد ان کاروباری اداروں کو مالی سہولت باہم پہنچانا ہے جو بینک قرضوں تک رسائی کے لیے ضمانت یا رہن پیش نہیں کرسکتے۔ اس اقدام کو ایس ایم ای آسان فنانس (صاف) کا نام دیا گیا ہے۔

صاف ری فنانس اور کریڈٹ گارنٹی ایک ایسی سہولت ہے جو ایک وسیع مشاورتی عمل سے تیار کی گئی ہے اوراس کا مقصد ان ایس ایم ایز کی معاونت کرنا ہے جو قرض کے حصول کے قابل ہیں لیکن ان کی فنانس تک رسائی نہیں کیونکہ وہ سیکورٹی پیش نہیں کرسکتیں جو بینک ضمانت کے طور پر مانگتے ہیں۔

اب اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کو نومالکاری (ری فنانس) فراہم کرے گا جبکہ وفاقی حکومت شریک کمرشل بینکوں کو جزوی کریڈٹ گارنٹی کے ذریعے معاونت مہیا کرے گی۔ یہ معاونت ابتدائی طور پر تین سال کے لیے فراہم کی جارہی ہے تاکہ بینک ایس ایم ای قرضہ جات سے متعلق ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کی تشکیل میں سرمایہ کاری کرسکیں جس کے بعد بینکوں کی جانب سے ایس ایم ای فنانسنگ متوقع طور پر اسٹیٹ بینک اور حکومت کی مدد کے بغیر مستحکم ہو گی۔

ایس ایم ای فنانسنگ 31 مارچ 2021ء کو نجی شعبے کے مجموعی قرض کا صرف 6.6 فیصد رہی

ایس ایم ای شعبہ پاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اسمیڈا کے تخمینے مطابق ایس ایم ای شعبہ ملکی جی ڈی پی میں 40 فیصد اور برآمدی آمدن میں 25 فیصد کا حصہ دار ہے۔ تاہم ایس ایم ایز کے لیے عام طور پر باضابطہ بینک سے مالی سہولت تک رسائی مشکل ہوتی ہے۔ 31 مارچ 2021 کو ایس ایم ای فنانسنگ 444 ارب روپے تھی جو مجموعی نجی شعبے کے قرض کا صرف 6.6 فیصد ہے۔

اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں نسبتا بلند قرضے کے نقصانات، بینکوں کے بلند لاگتی فنانس ماڈلز، ایس ایم ای فنانس کے لیے درکار مناسب ٹیکنالوجی کا کم استعمال اور قابل قبول سیکورٹی کا فقدان شامل ہیں۔ چنانچہ ایس ایم ایز اکثر بےحد مہنگے غیر رسمی قرضوں سے رجوع کرتی ہیں اور انہیں ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غیررسمی شعبے میں ایس ایم ایز کی اکثریت جن کے پاس ضمانت نہیں اس وقت کم از کم 25 فیصد کی شرح سے نقد یا بشکل جنس قرضے لے رہی ہیں۔

ان چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے مرکزی بینک نے ایس ایم ای اور بینک دونوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک نیا اور اختراعی طریقہ اختیار کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک صرف ان بینکوں کو ری فنانسنگ فراہم کرے گا جو ایس ایم ای شعبے کو قرض دینے میں تخصیص کے خواہشمند ہوں۔ دلچسپی رکھنے والے کمرشل بینکوں کو رعایتی ری فنانس سہولتیں جو حکومت پاکستان سے جزوی رسک کوریج بھی فراہم کریں گی پیش کرنے کے لیے بولی کے شفاف عمل کے ذریعے منتخب کیا جائے گا ۔

کمرشل بینکوں کو رعایتی ری فنانس سہولت کے لیے بولی کا طریقہ کار

بولی کے اس عمل کے ذریعے جیتنے والے بینکوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے افرادی وسائل ، ٹیکنالوجی اور طریقہ کار میں سرمایہ کاری کریں تاکہ ایس ایم ای فنانس مارکیٹ کی توجہ مبذول کروانے کے لیے مطلوبہ مہارت اور صلاحیت حاصل کرسکیں۔ صاف میں شرکت کے خواہشمند بینک اسٹیٹ بینک کو اظہاردلچسپی کی دستاویزجمع کرائیں گے تاکہ اسکیم کی تین سالہ میعاد کے دوران اپنا ایس ایم ای قرضوں کا پورٹ فولیو تیار کرسکیں۔ سب سے بڑے پورٹ فولیو اور زیادہ سے زیادہ قرض گیروں کے حامل بینکوں کو شرکت کے لیے منتخب کیا جائے گا۔

اسٹیٹ بینک فِن ٹیک کے ساتھ شراکت کرنے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کرے گا تاکہ فنانسنگ کے جدید سرمایہ کاری طریقوں کا باکفایت طور پر موقع فراہم کیا جاسکے۔اسکیم کے تحت اسٹیٹ بینک منتخب کردہ بینکوں کو تین سال کے لیے ری فنانس فراہم کرے گا۔ تین سال بعد یہ بینک ری فنانس کی رقم سالانہ دس مساوی اقساط میں واپس کریں گے۔

ایس ایم ای ادارے 10 ملین روپے تک قرضہ لینے کے اہل ہوں گے

منتخب بینکوں کو اسٹیٹ بینک سے ری فنانس سالانہ ایک فیصد کی شرح پر ملے گی اور وہ اس رقم سے ایس ایم ای اداروں کو مستفید کریں گے جس کے لیے آخری صارف پر شرح منافع 9فیصد سالانہ تک ہوگی جو غیر رسمی قرضوں کی لاگت کے مقابلے میں بہت پرکشش شرح ہے۔ صاف کے تحت وہ تمام ایس ایم ای ادارے جو کسی بینک کے نئے قرض گیر ہوں گے، 10 ملین روپے تک قرضہ لینے کے اہل ہوں گے۔

رہن کے بغیر (کلین یا صاف)قرضہ ایس ایم ای اداروں کو طویل مدتی معینہ سرمایہ جاتی انویسٹمنٹ اور اخراجاتِ جاریہ کی ضروریات پورے کرنے کے لیے قرضے کے طور پر دستیاب ہوگا۔ روایتی قرضے کے ساتھ شریعت سے ہم آہنگ اسلامی طرز کے قرضے بھی پیش کیے جائیں گے۔ یہ اسکیم ستمبر 2021 کے اواخر میں ایس ایم ای قرض گیروں کو دستیاب ہوگی۔ اسکیم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان خسارے کی صورت میں منتخب بینکوں کو 40 سے 60 فیصد کا رسک کوریج دے گی جس کا انحصار قرضوں کے حجم پر ہوگا۔

یہ رسک کوریج 4 ملین روپے تک کے چھوٹے قرضوں کے لیے 60 فیصد تک ہوگا۔ 4 ملین سے زائد سے 7 ملین روپے تک کے درمیانے حجم کے قرضوں کے لیے 50 فیصد تک اور 7 ملین سے 10 ملین روپے تک کے نسبتاً بڑے قرضوں کے لیے 40 فیصد تک رسک کوریج دیا جائے گا۔ توقع ہے کہ یہ اقدام ایس ایم ای قرضے میں مستحکم نمو کو ممکن بنائے گا کیونکہ اس کا مقصد اس اہم شعبے کو درپیش بنیادی مسئلے کو حل کرنا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ




وزیرِ اعظم نے تجاوزات کی جانچ کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت کردی


Post Views:
3

اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں تجاوزات کی جانچ کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت کردی۔

اُنہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ شہر کی انتظامیہ کو بڑے پیمانے پر شجر کاری کی مہم چلانی چاہیے تاکہ شہر میں ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




راولپنڈی کے لیے 2 میگا منصوبوں کی تیاری


Post Views:
1

راولپنڈی: راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے راولپنڈی کے لیے 2 میگا منصوبوں کی تیاری مکمل کرلی۔

تفصیلات کے مطابق کچہری چوک پر ایک سگنل فری انڈر پاس بنایا جائیگا اور فوجی فاؤنڈیشن چوک پر ایک انڈر پاس کی تعمیر ہوگی۔

آر ڈی اے کا کہنا ہے کہ دونوں منصوبے مکمل طور پر سگنل فری اور ماحول دوست ہوں گے۔

آر ڈی اے کے مطابق یہ دونوں منصوبے سگنل فری ہوں گے جن سے شہر کے دیرینہ ٹریفک مسائل حل ہوں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




اسلام آباد ایئرپورٹ میٹرو بس منصوبے کی تکمیل کے لیے کنسلٹنٹ کی منظوری دے دی گئی


Post Views:
3

اسلام آباد: وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے)  نے پشاور موڑ سے اسلام آباد یئرپورٹ تک زیر تعمیر میٹروبس منصوبے کی تکمیل کے لیے کنسلٹنٹ کی منظوری دے دی ہے۔

سی ڈی اے کے  گذشتہ بورڈ اجلاس میں اسلام آباد میٹرو بس منصوبے کے مذکورہ حصے کی تکمیل سے متعلق بین الاقوامی اور مقامی کنسلٹنسی فرمز کی شراکتی خدمات  کی حتمی منظوری دی گئی.

کنسلٹنسی فرم کی خدمات کے لیے مجموعی طور پر 3 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئےتھےجبکہ معاہدے کے تحت کنسلٹنسی فرمز  منصوبے کے ڈیزائن اور 30 نئی بسوں کی خریداری سے متعلق بڈنگ دستاویزات کی تیاری میں اپنی خدمات فراہم کریں گی۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی   نےرواں سال میٹرو بس کے اسٹیشنز  کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی کام  کی ابتدائی تکمیل کے بعد منصوبہ سی ڈی اے کے حوالے کر دیا تھا ۔ این ایچ اے نے پشاور موڑ سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک 25 کلومیٹر کے ٹریک پر 2017 میں کام شروع کیا تھا جبکہ  مذکورہ منصوبے کی کُل لاگت کا تخمینہ  16 ارب روپے لگایا گیا تھا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔