ایس ای سی پی نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے ضوابط میں ترامیم کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا | Graana.com Blog


Post Views:
3

اسلام آباد: سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آر ای آئی ٹی) کے ریگولیٹری فریم ورک کو مزید فعال بنانے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ ریگولیشنز 2015 میں اہم ترامیم کر دی ہیں۔

ان ترامیم کے حوالے سے ایس ای سی پی کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔  ایس ای سی پی نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے تحت سرمایہ کاری کا ایک نیا ماڈل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ متعارف کروایا ہے۔

ضوابط میں کی گئی ترامیم میں ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اہلیت میں تبدیلی، لازمی لسٹنگ کی مدت میں مزید مہلت، ریئل انویسٹمنٹ منصوبے کے ٹرانسفر کے وقت دو مختلف ویلوئرز، رائٹ شیئرز کے اجراء اور قرض کے حصول کے لیے ریئل اسٹیٹ مینجمنٹ کمپنی کی حد میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔

ریئل اسٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹ ریگولیشنز میں نئی ترامیم کے تحت روایتی اور جدید تعمیراتی شعبے کو دو واضح حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ایک بزنس ماڈل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ جبکہ دوسرا ماڈل سرکاری یا پھر نجی انفرادی حیثیت میں کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لے سکے گا۔

ایس ای سی پی کے مطابق ضوابط میں ترامیم کا مقصد ملک میں ایک باقاعدہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا قیام اور اس شعبے میں ڈاکومنٹیشن کو فروغ دینا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔۔




ایس ای سی پی نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے ضوابط میں ترامیم کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا | Graana.com Blog


Post Views:
7

اسلام آباد: سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آر ای آئی ٹی) کے ریگولیٹری فریم ورک کو مزید فعال بنانے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ ریگولیشنز 2015 میں اہم ترامیم کر دی ہیں۔

ان ترامیم کے حوالے سے ایس ای سی پی کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔  ایس ای سی پی نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے تحت سرمایہ کاری کا ایک نیا ماڈل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ متعارف کروایا ہے۔

ضوابط میں کی گئی ترامیم میں ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اہلیت میں تبدیلی، لازمی لسٹنگ کی مدت میں مزید مہلت، ریئل انویسٹمنٹ منصوبے کے ٹرانسفر کے وقت دو مختلف ویلوئرز، رائٹ شیئرز کے اجراء اور قرض کے حصول کے لیے ریئل اسٹیٹ مینجمنٹ کمپنی کی حد میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔

ریئل اسٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹ ریگولیشنز میں نئی ترامیم کے تحت روایتی اور جدید تعمیراتی شعبے کو دو واضح حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ایک بزنس ماڈل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ جبکہ دوسرا ماڈل سرکاری یا پھر نجی انفرادی حیثیت میں کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لے سکے گا۔

ایس ای سی پی کے مطابق ضوابط میں ترامیم کا مقصد ملک میں ایک باقاعدہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا قیام اور اس شعبے میں ڈاکومنٹیشن کو فروغ دینا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔۔




گرانہ ڈاٹ کام کے متعارف کردہ ریئل اسٹیٹ سرٹیفیکیشن کورس کے دوسرے مرحلے کا رواں ماہ 11 جون سے آغاز


Post Views:
2

گرانہ ڈاٹ کام کے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کی شراکت سے متعارف کردہ سرٹیفیکیشن اِن ریئل اسٹیٹ لیول ون کورس کی کامیاب تکمیل کے بعد اب اِس کورس کا دوسرا مرحلہ رواں ماہ 11 جون سے شروع ہوگا۔

اس سرٹیفیکیشن میں اسائنمنٹس، پریزنٹیشنز، گروپ سرگرمیاں، کیس اسٹڈیز اور امتحانات شامل ہیں۔ یہ کورس نسٹ پروفیشنل ڈیویلپمنٹ سینٹر میں 11 جون 2021 سے شروع ہوگا اور چار ہفتوں تک جاری رہنے کے بعد 2 جولائی 2021 کو اختتام پذیر ہوگا۔

یہ کورس تھیوری اور عملی مطالعات پر مبنی ہے جو کہ ریئل اسٹیٹ کے پروفیشن سے جُڑے تکنیکی، انتظامی اور قانونی امور کا مکمل احاطہ کرے گا۔

اس سرٹیفیکیشن کے اساتذہ میں سی ای او گرانہ جناب شفیق اکبر شامل ہیں جو کہ کیمبرج یونیورسٹی سے پالیسی انیلیسز میں ماسٹرز اور پبلک پالیسی میں ایم ایس سی کے ڈگری ہولڈر ہیں۔ علاوہ ازیں کورس پڑھانے والوں میں گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید، تیمور عباسی، عاصم افتخار، اقراء مصدق اور صائمہ لطیف شامل ہیں۔

ملکی ترقی کے لیے سب سے اہم سیکٹر، ریئل اسٹیٹ میں قدم رکھے گرانہ ڈاٹ کام کو 5 سال ہوچکے ہیں تاہم اس عرصے میں ٹیکنالوجی سے اس سیکٹر کو ہم آہنگ کر کے گرانہ ڈاٹ کام نے ایک ایسے انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے جو کہ ریئل اسٹیٹ کی تقدیر بدلنے کی سکت رکھتا ہے۔ یوں روایتی طور طریقوں کو تبدیل کرنے کے عزم کو جاری رکھتے ہوئے گرانہ ڈاٹ کام نے اس سیکٹر میں باقاعدہ تعلیم کا بیڑا بھی اُٹھا لیا ہے جس سے یہاں روزِ روشن یقینی ہوگا۔

اس کورس میں حصہ لینے والے لوگ ریئل اسٹیٹ کی سائنس، ریئل اسٹیٹ کے قانونی، ٹرانزیکشنز ، کاروباری اخلاق اور ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کی روز مرہ زندگی پر ایک زبردست گرفت حاصل کریں گے۔

اس کورس کے اگلے بیچ میں شرکت کے خواہاں حضرات کو 24 ہزار 500 روپیہ ریجسٹریشن فیس ادا کرنی ہوگی جو کہ حبیب بینک لمیٹڈ کی ایچ 12 برانچ میں جمع کرائی جا سکتی ہے۔ اگلے بیچ کے لیے انٹرویوز کا سلسلہ پی ڈی سی نسٹ میں 27 اور 28 جولائی کو دن 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک منعقد کیا جائے گا۔

اکاؤنٹ ٹائٹل: PDC NUST Courses Account
اکاؤنٹ نمبر: 22927000487301

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟


Post Views:
3

پوری دنیا کورونا وبا کے مہلک معاشی اثرات کی لپیٹ میں ہے۔ دنیا بھر کی معیشتوں کے سکڑنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ نمو کی شرح ہو یا روزگار کے مواقع، دنیا بھر کا منظر کچھ اچھا نہیں ہے۔ پاکستان میں مگر صورتحال کچھ مختلف ہے۔ معاشی ترقی کی شرح ہو، ٹیکس کلیکشن ہو، برامدات کی سطح ہو یا تعمیراتی صنعت میں رجحانات کی بات ہو، پاکستان کا منظر نسبتاً بہتر ہے۔ لیکن چونکہ ہم ایک گلوبل ویلیج میں رہتے ہیں تو یقیناً عالمی مارکیٹ کے اثرات ہر مُلک تک پہنچتے ہیں اور یہاں بھی ایسا ہی ہے۔

دنیا بھر میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے منسلک افراد اس سوچ میں ہیں کہ آنے والا کل اُن کے لیے کیسا منظر پیش کرے گا۔ مانا کہ یہ وقت مشکل ہے مگر یہ پہلی بار نہیں کہ عالمی طور پر ریئل اسٹیٹ سیکٹر چیلنجز کے گرداب میں ہے۔ کورونا وبا میں تمام ممالک یکساں طور پر گھرے ہوے ہیں۔ اس وائرس کے اثرات کا سبھی کو یکساں طور پر سامنا ہے اور اسی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس ضمن میں یہ تحریر آپ کے لیے وہ نکات لے کر آرہی ہے کہ ایسے وقت میں ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے اذہان میں کون کون سی باتیں ہونی چاہئیں۔

کووڈ 19 اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر

یہ تو واضح ہے کہ جو بھی افراد ریئل سیکٹر میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اُن کو نہ صرف اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ کرنا ہوتا ہے بلکہ اُسے بڑھنے کا موقع بھی دینا ہوتا ہے۔ یہ بات بھی بغیر کسی شبے کے کی جا سکتی ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر ہی سرمایہ کاری کے لیے بہترین آپشنز میں سے ایک ہے۔

 

اس سیکٹر میں ہی ممالک کی ترقی کا راز پنہاں ہے اور اسی سیکٹر سے زیادہ تر ممالک اپنی معیشتوں پر کورونا وبا کے اثرات کا مقابلہ کررہے ہیں۔ یہ سیکٹر مگر کسی ایک فارمولے کے تحت نہیں چلتا یعنی یہاں کامیاب ہونے کی کوئی ایک اسٹریٹجی نہیں ہے اور لوگ چیلنجز میں مواقع پیدا کرنے کے آرٹ سے ہی یہاں کامیاب ہوتے ہیں۔

مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاری

مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اکثر قیمتوں میں اُتار کا رجحان ہوتا ہے۔ عالمی جریدے فوربز کے مطابق یہ ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا بہترین وقت ہے۔ ایسے وقت میں اکثر لوگوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔

یوں اکثر وہ اپنی پراپرٹی کو کم قیمت پر بیچنے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ فوربز کے مطابق جب امریکہ میں سن 2008 میں ہاؤسنگ سیکٹر کو مشکل وقت کا سامنا تھا تو اس وقت بہت سے لوگ اس چیلنج میں بہترین سرمایہ کاری کا موقع ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ عالمی جریدہ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر آپ کو بہترین انویسٹمنٹ کا موقع مل رہا ہے، جس میں بلکل آپ کی منشاء کے مطابق ریٹرن آن انویسٹمنٹ مل رہی ہو تو عالمی صورتحال اور ارد گرد کی باتوں سے بے نیاز ہوکر اُس موقع کا مکمل فائدہ اٹھا لیجئے۔ اگر آپ مارکیٹ کی صورتحال کا اندازہ لگانے میں غیر ضروری وقت لگائیں گے تو عین ممکن ہے کہ اچھی ڈیل ہاتھوں سے نکل جائے۔

اپنا معاشی پلان ترتیب دیں

ایسے وقتوں میں اگلے قدم کی پلاننگ ہونا بہت ضروری ہے۔ رقم کہاں سے آرہی ہے، کہاں جا رہی ہے، خرچ اور بچت میں کتنا فرق ہے، سرمایہ کاری کیسے کی جائے، کہاں کی جائے، رقم جہاں خرچ ہورہی ہے وہاں کے فوائد کیا ہیں اور نقصانات کیا ہیں نیز تمام پوائنٹس پر نظر ہونی چاہیے۔ کہتے ہیں کہ اگر آپ پلان بنانے میں ناکام ہوجائیں تو دراصل آپ ناکام ہونے کا پلان بنا چکے ہوتے ہیں۔

 

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن کا ہاتھ مارکیٹ کی نبض پر ہوتا ہے۔ اس سے وہ آنے والی صورتحال کو پہلے سے بھانپ لیتے ہیں اور اپنے فیصلے وقت سے پہلے کرلیا کرتے ہیں۔ یوں مشکل سے مشکل وقت میں بھی اُنھیں مارکیٹ کی حرکات و سکنات کا مکمل علم ہوتا ہے اور اُنھیں ہر طرح کے اندھیرے میں روشن سویرے کے اُبھرنے کا یقین ہوتا ہے۔ وہ اپنے ہر فیصلے کو سمجھ بوجھ اور مکمل اعتماد کے ساتھ لیا کرتے ہیں اور اُن کے فیصلوں کے پیچھے عقل اور تجربات کا نچوڑ کر فرما ہوتا ہے۔

قوانین کی جانکاری ضرور ہونی چاہیے

یہ چند سطور مکان مالکان کے لیے ہیں۔ کورونا وبا کے پیشِ نظر دنیا بھر میں قوانین تبدیل ہورہے ہیں۔ جہاں انسان کو اپنی پراپرٹی اور اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے، وہیں اُسے اپنے کرایہ دار کی خوشی اور طمانیت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اس ضمن میں ضرورت اِس امر کی ہے کہ لوگ خود کو قوانین سے آگاہ رکھیں اور اُن کی پاسداری یقینی بنائیں۔

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ قوانین سے لاعلمی کے باعث لوگ کئی فوائد سے محروم ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھار نقصانات کا شکار ہوجایا کرتے ہیں۔ دنیا کی کئی ریاستوں میں رینٹل فیس کی ادائیگی، مکانات سے انخلاء کے قوانین وغیرہ آئے روز تبدیل ہورہے ہیں۔ حکومتیں اپنے لوگوں سے یہ کہہ رہی ہیں کہ جب تک معاشی صورتحال اپنی بہتری کی راہ پر مکمل طور پر گامزن نہ ہوجائے، تب تک ہر طرح کی معاونت یقینی بنائی جائے۔

جلدبازی نہیں، صبر و تحمل سے کام لیں

وہ لوگ جو کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں نئے ہیں، مارکیٹ کی غیر یقینی اُن کے لیے گھبراہٹ کا باعث ہوسکتی ہے۔ اس ضمن میں صبر کا دامن ہاتھ سے جانے دینا ٹھیک نہیں۔ کسی بھی صورت میں جلدبازی میں لیا گیا فیصلہ دُرست نہیں۔ جلدی میں، بغیر سوچے سمجھے اگر کوئی فیصلہ وقتی طور پر ٹھیک ثابت بھی ہوجائے تو وسیع تناظر میں یہ ریت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ لوگوں کو ذہن میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ جلد یا بدیر، اگر دُرست انداز سے اور تمام تر قوانین کی پاسداری کے ساتھ کاروبار کیا جائے تو وہ ثمر آور ضرور ثابت ہوتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




اسٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ اورتعمیرات کی ترقی کے لیے ضوابط میں ترامیم کر دیں


Post Views:
5

کراچی: اسٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ اور تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (آرای آئی ٹیز) میں بینکوں اور ڈی ایف آئیز کی سرمایہ کاری بڑھانے  کے لیے کفایتِ سرمایہ ضوابط میں ترمیم کر دی۔

مرکزی بینک نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی ترقی میں مدد دینے کی غرض سے کفایتِ سرمایہ کے ضوابط میں ترمیم کردی ہے جس کے تحت ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (آرای آئی ٹیز) کے یونٹس میں بینکوں اور ڈی ایف آئیز کی سرمایہ کاری پر رسک کی شرح نمایاں طور پر کم کرتے ہوئے 200 فیصد سے 100 فیصد کر دی گئی ہے ۔

بینک دولت پاکستان  کا یہ اقدام ان بہت سے اقدامات کا حصہ ہے جو مرکزی بینک کی جانب سے ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے کی ترقی کے لیے کیے گئے ہیں۔

آر ای آئی ٹیز ایسی کمپنیاں ہیں جو عام لوگوں اور اداروں سے اکٹھی کی گئی رقوم کو ریئل اسٹیٹ میں بطور سرمایہ کاری لگاتی ہیں۔ کفایتِ سرمایہ کے ضوابط میں مذکورہ بالا تبدیلی سے بینک اور ڈی ایف آئیز اب اس قابل ہو جائیں گے کہ آر ای آئی ٹیز میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا سکیں اور انہیں نسبتا بڑی رقم کا سرمایہ مختص کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




اسٹیٹ بینک نے شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا


Post Views:
5

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مُلکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور شرح نمو میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

جاری کردہ بیان کے مطابق بروقت فیصلوں سے ملکی معیشت کورونا وبا کے مہلک اثرات کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 168 ملین ڈالر کا اضافہ


Post Views:
3

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اعلان کیا ہے کہ 7 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک کے بیرونی ذخائر میں 168 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔

جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ابھی مرکزی بینک کے ذخائر 15.774 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔