گھر پر سکیورٹی کیمروں کے استعمال کا دُرست طریقہء کار

[ad_1]



Post Views:
3

آجکل کا دور ہی کچھ ایسا ہے کہ انسان ہمہ وقت خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ میڈیا پر چلنے والی آئے روز کی خبریں، اخبارات میں چھپنے والا خصوصی کرائم سیکشن اور ہر دوسرے شخص کے ساتھ ہونے والے خطرناک نوعیت کے واقعات گویا ہمارے اذہان میں ایک مخصوص جگہ بنا چکے ہیں۔ یوں تو خود کو محفوظ کرنا گویا غیر محفوظ ہونے کی ہی علامت ہے مگر آج کے دور میں اپنی حفاظت کو اولین ترجیح بنانا ہی عقلمندی ہے۔

ٹیکنالوجی کا کردار

ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی آسان سے آسان تر بنا دی ہے۔ زندگی کا جو بھی حصہ، جو بھی معاملہ دیکھ لیں، ہمیں ٹیکنالوجی انسان کی سہولت کیلئے تیار کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ ٹیکنالوجی نہ ہو تو انسان اپنی حسیات کے بھروسے ہی تمام داؤ کھیلنے والے دور میں دوبارہ داخل ہوجائے جہاں سادگی کا دور دورہ ہو اور سیدھے سادھے معاملات ہوں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے نہ تو فاصلے فاصلے رہے اور نہ ہی انسان زمان و مکان کی قید میں رہا۔

سی سی ٹی وی کیمروں کا استعمال

سی سی ٹی وی کیمروں کو ہی دیکھ لیں۔ انسان کے ہاتھ میں آسانی سے چھپ جانے والی یہ ڈیوائس کسی حد تک اُس کی محفوظ زندگی کی ضمانت دیتی ہے۔ اِس سے ایک کمپیوٹر جڑا ہوتا ہے جس میں اس کے سامنے کا سارا منظر ریکارڈ کیا جارہا ہوتا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرے آنکھوں کا کردار ادا کرتے ہیں اور ان سے منسلک کمپیوٹر گویا انسانی ذہن کا۔ حیرانی کی بات مگر یہ ہے کہ انسانی آنکھ اور ذہن سے جو منظر اور اُس منظر میں آنے والے کردار پوشیدہ ہوں، وہ اس مصنوعی آلے سے پنہاں نہیں رہ سکتے۔

آج لوگ شاید اپنی مستی میں مگن چل پھر رہے ہوں، اپنی دھن میں رواں دواں ہوں، کیمرے دیکھ کر اچانک چوکنے ہوجاتے ہیں کہ گویا وہ کسی کی نظروں میں ہیں۔ شاید اسی لیے اکثر لوگ نہ چلنے والے کیمروں کی انسٹالیشن بھی ویسے ہی کردیا کرتے ہیں کہ اُن کے ہونے سے ہی معاملات سیدھے ہونے لگتے ہیں، لوگ گویا دیکھے جانے کے خوف میں آجایا کرتے ہیں۔

دُرست جگہ کا انتخاب

سی سی ٹی وی کیمروں کی ساری سائنس اُن کی پلیسمینٹ میں ہوتی ہے۔ کہ وہ کس جگہ لگے ہوئے ہیں اور کیسا منظر ریکارڈ یعنی کیپچر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سائنس سے واقف لوگ یہ کہتے ہیں کہ سی سی ٹی وی کیمروں کو ہمیشہ ہائی ٹریفک ایریاز میں لگانا چاہیے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کو ایسی جگہ نصب کرنا چاہئے کہ جہاں سے ان کی وائرنگ نظر نہ آئے اور اُن تک رسائی ممکن نہ ہو۔

اسی طرح سے ان کو وہاں انسٹال کرنا چاہیے جہاں سے یہ گھر کا اندرونی و بیرونی منظر باآسانی ریکارڈ کرسکیں اور کسی حادثے کی صورت میں کوئی ایسی جگہ نہ ہوں جہاں ان کی حدِ نگاہ محدود دکھائی دے۔ اسی طرح سے ان کو روشن جگہوں پر نصب کرنا بھی ایک بہتر پریکٹس ہے۔ ہمیشہ اُن سی سی ٹی وی کیمروں کا استعمال کرنا چاہیے جن میں نائٹ ویژن یعنی اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت ہو۔ علاوہ ازیں وقتِ خرید اس بات کا بھی اطمینان کرنا چاہیے کہ جس کیمرے کی آپ خریداری کررہے ہیں وہ وائڈ اینگل ویو ریکارڈ کرنے کے اہل ہیں۔

کچھ اعداد و شمار کی روشنی میں

برطانیہ میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق وہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ سی سی ٹی وی کیمروں کو پوشیدہ جگہوں پر انسٹال کرنے کا حامی تھا۔ تاہم بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ان کا صرف نظر آنا ہی بہت حد تک جرائم میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح سے جب لوگوں سے اُس سروے کے دوران یہ پوچھا گیا کہ وہ سی سی ٹی وی کیمروں کے لیے آئیڈیل جگہ کون سی سمجھتے ہیں تو بہت سوں کی رائے یہ تھی کہ گھر کے مرکزی دروازے پر ڈور بیل میں پوشیدہ کیمرہ اور گھر کے عقب میں واقع کسی بڑے سے درخت میں پوشیدہ کیمرہ انسٹالیشن کی بہترین آپشنز میں سے ہیں۔

کچھ حفاظتی اقدامات

کیمروں کی باقاعدہ چیکنگ ضروری ہے کہ ان کی ورکنگ ٹھیک ہے کہ نہیں۔ اس بات کا اطمینان کرلیں کہ ان کا فوکس اور وئیونگ اینگل دُرست ہے۔ اسی طرح سے ہر کیمرے کے ساتھ ایک موٹر ہوتا ہے جس کی بدولت وہ کیمرہ ادھر ادھر گھومنے کے قابل ہوتا ہے۔ اس بات کا بھی اطمینان کرلیں کہ وہ موٹر ٹھیک طرح سے کام کررہا ہے۔ یاد رکھیں کہ اگر ڈسپلے کرسٹل کلیئر نہ ہو تو آپ انتہائی کلیدی اہمیت کے حامل سرویلنس ڈیٹا کو کھو سکتے ہیں تاہم اس بات کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ گھر پر وائی فائی سگنلز کی کمزوری بھی ریکارڈ کردہ فوٹیج کی کوالٹی کو کم کرسکتی ہے تاہم کوشش یہ کرنی چاہیے کہ مکان کی مرکزی وائی فائی ڈیوائس کے قریب ہی کیمرہ نصب کیا جائے یا جہاں کیمرہ ہو اُس کے قریب ہی وائی فائی ڈیوائس نصب کی جائے۔ کیمروں کا لینز اگر صاف نہ ہو تو ریکارڈ کردہ مناظر دھندلکے میں لپٹے دکھائی دیتے ہیں لہٰذا اُن کی ہر چند دنوں کے بعد صفائی بھی ضروری ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

بارش کے پانی کا بہتر استعمال، مگر کیسے؟

[ad_1]


Post Views:
3

یہ تو آپ نے سُنا ہی ہوگا کہ پانی زندگی ہے۔ کوئی بھی ذی شعور شخص اِس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا۔ پانی وہ قدرتی ریسورس ہے کہ جس کے بغیر آپ زمین پر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ قدیم وقتوں سے آج تک، انسان وہیں بستا اور آباد ہوتا چلا آرہا ہے کہ جہاں پانی کی فراوانی ہو۔

دنیا میں جس رفتار، جس تناسب سے آبادی بڑھ رہی ہے، اگر پانی کا سوچ سمجھ کر یعنی دُرست استعمال نہ کیا گیا تو ہم بہت جلد ایک عالمی آبی قلت کے رو برو آسکتے ہیں۔ اُس کے آثار ابھی سے ہی بہت نمایاں ہیں لہٰذا پانی کے استعمال میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔

چند حقائق

عالمی جریدے فوربز کے مطابق پانی کرہ ارض کا 71 فیصد بنتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اس 71 فیصد کا صرف 3 فیصد فریش واٹر ہے یعنی وہ پانی ہے جو انسانوں کے پینے کے قابل ہے اور جس سے فصل اُگائی جاسکتی ہے۔ حیرت کی بات مگر یہ ہے کہ اُس 3 فیصد کا 2.5 فیصد دستیاب ہی نہیں ہے یعنی وہ آئس کیپس اور گلیشیرز میں بند ہے، کچھ زیرِ زمین ہے اور کچھ ہوا میں نمی کی صورت میں یعنی اپنے ایک مدار، اپنے سائیکل میں قید ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیں کہ ہم 7 ارب انسانوں کے لیے صرف 0.5 فیصد پانی بچتا ہے جسے ہم ضایع بھی کررہے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی اور گندگی کی وجہ سے اُس کی صحت کے بھی درپے ہیں۔ یوں رین واٹر ہارویسٹنگ ضروری ہی نہیں، انتہائی ضروری بن جاتی ہے۔

ہمارا ماڈرن لائف سٹائل، ایک المیہ

ہمارے ماڈرن لائف سٹائل میں جہاں پانی کے بچاؤ پر توجہ ہونی چاہیے تھی، بدقسمتی سے اُتنا ہی پانی ضایع ہورہا ہے۔ ہمارے واش رومز میں نصب نت نئے اقسام کے نلکوں سے پانی بہت تیز بہتا ہے اور ہم اپنی ضرورت سے بہت زیادہ پانی یونہی بہا دیتے ہیں۔ اسی طرح گھروں پر ٹینکیاں بھرنے کے لیے موٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے، وہ موٹر چند منٹوں میں ٹینک بھر دیتے ہیں اور ہمارے اُنہیں بند کرنے تک پہنچنے تک پانی بہتا چلا جاتا ہے، اور اکثر تو ہم اُسے بند کرنے میں اور بھی دیر کردیتے ہیں۔ یوں نت نئے اقسام کے شاورز کی بھی الگ ہی صورتحال ہے اور ہم اس بات کا احساس نہیں کر پارہے کہ فریش واٹر ایک انمول ریسورس ہے۔ آپ ماحولیاتی فوائد کو ہٹا بھی دیں، اس کے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا ہماری اپنی زندگیوں کے لیے اہم ہے۔

 

 

مون سون، پانی کے بچاؤ کا اہم سیزن

پاکستان میں آجکل مون سون سیزن چل رہا ہے۔ آئے روز بارشیں جہاں گرمی کے جانے کی نوید دے رہی ہیں، وہیں اس بات کا احساس بھی دلا رہی ہیں کہ قدرت کے اس انمول ترین تحفے کی قدر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مون سون سیزن میں بارش کا بہت سا پانی صرف اس لیے ضائع ہوجاتا ہے کہ ہمارے پاس اُس کے بچاؤ اور بہتر استعمال کا کوئی میکنزم نہیں ہوتا۔ آج کی تحریر میں مگر ایسے بہت سے طریقوں کا ذکر ہے کہ جس سے آپ ماحولیات پر اپنے منفی اثر کو کسی صورت کم کرسکتے ہیں۔

جب بھی بارش ہو تو وہ سامان کہ جس کا کھلے پانی میں دُھلنا ضروری ہے وہ باہر رکھیں اور اس پر بارش ہونے دیں تاکہ وہ سامان دُھل سکے۔ اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ بھلا اس سے پانی کا بچاؤ کیسے ممکن ہے۔ تو جناب وہ ایسے کہ آپ ویسے بھی یہ تمام اشیاء دھوئیں گے ہی اور اُس صورت میں پانی کے دیگر ذرائع استعمال ہونگے۔ تو کیوں نہ بارش کا ہی پانی استعمال کرلیا جائے۔ ایسے میں ایک بہتر امر یہ ہے کہ آپ اُس تمام سامان پر تھوڑا سا صابن یا سرف پہلے سے ہی لگا دیں تاکہ بارش کا پانی اُسے مکمل طور پر چمکا سکے۔

رین واٹر کلیکشن سسٹم

آپ اپنے گھر پر ایک رین واٹر کلیکشن سسٹم بھی انسٹال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک بڑا ٹینک ہوتا ہے جس میں پانی بھرا جاسکتا ہے مگر یہ زیرِ زمین ہوتا ہے۔ جب بھی بارش ہو، اور بارش کی صورت میں زیادہ پانی آئے، تو پانی رین واٹر کلیکشن ٹینک کی جانب ڈائریکٹ کردیا جاتا ہے۔

 

 

اس ٹینک میں ایک فلٹر بھی نصب ہوتا ہے جس سے پانی صاف کیا جاتا ہے اور قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ رین واٹر کلیکشن سسٹم کی لاگت تو زیادہ ہوتی ہے اور اسے نصب کرنا بھی ایک عام آدمی کے خود کے بس کی بات نہیں، یعنی یہ ایک پروفیشنل کی مدد سے ہی لگایا جاسکتا ہے مگر ایک بار اگر آپ یہ انویسٹمنٹ کر گزرے تو آپ پانی کو ضایع ہونے سے بھی بچا سکتے ہیں اور آپ کے گھر کو پانی کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا۔

پودوں تک پانی کی رسائی

اپنے مکان کی چھت کے ڈرین پائپ سے ایک ہوز کنیکٹ کرلیں اور اس کی ڈائریکشن نیچے دالان کی جانب کریں۔ یوں بارشوں کے موسم میں وہاں وہ گملے یا پلانٹ کنٹینرز رکھ لیں جن کو وقتاً فوقتاً آبیاری کی ضرورت رہا کرتی ہے۔

 

 

اسی طرح سے اپنے گھر میں بچوں کے سوئمنگ پول، بالٹیاں، واٹر کینز کو استعمال میں لاتے ہوئے بارش کا پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔ اس پانی سے گاڑی کا دھونا، فرش کی دھلائی یا پھر دیگر صفائی ستھرائی کا کام باآسانی کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ یہ پانی آپ کو چند دنوں کے اندر ہی استعمال کرنا ہے اور اسے زیادہ دیر تک ٹھہرانا اسے مچھروں کے افزائش کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے جو کہ آپ کی صحت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

وزیرِ اعظم نے تجاوزات کی جانچ کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت کردی

[ad_1]


Post Views:
3

اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں تجاوزات کی جانچ کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت کردی۔

اُنہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ شہر کی انتظامیہ کو بڑے پیمانے پر شجر کاری کی مہم چلانی چاہیے تاکہ شہر میں ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]