گھر کی تزئین و آرائش کی اہمیت

[ad_1]



Post Views:
2

انسان کی زندگی میں سکون کا مرکز و محور اُس کا گھر ہوتا ہے۔ گھر انسان کی شخصیت کی مکمل تصویر پیش کرنے کو کافی ہوتا ہے۔ بارہا تحاریر میں ذکر ہوچکا ہے کہ لوگ انسان کے گھر پر ایک نظر ڈالتے ہی اپنے اذہان میں اُس کی شخصیت کا مکمل خاکہ تیار کرلیتے ہیں۔

اگر انسان کی ذات میں ترتیب پسندی کا رجحان ہو، اُس کی رہائشگاہ بھی ایک ترتیب کے تحت ہوتی ہے۔ اس کیلئے گھر کا بیش قیمت ہونا، کسی پوش علاقے میں ہونا ضروری نہیں۔ سب سامان اپنی جگہ پر، ہر خاص و عام چیز ایک سٹائل، سوچ کے مخصوص زاویے کے ساتھ رکھی گئی ہو تو یہ دیکھنے والوں پر ایک اچھا تاثر قائم کرتی ہے۔ ویسے بھی انگریزی کا ایک مقولہ ہے جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے کہ پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوا کرتا ہے، تو اس ضمن میں خیال ضرور رکھنا چاہیے۔

اگر ایک شخص کی اپنی ذات میں ترتیب کا عنصر نہ پایا جائے تو اس کا گھر بھی ہر طرح سے ویسا ہی منظر پیش کرتا ہے۔ چادریں پرانی اور بکھری ہوئی ہوں، دیواروں سے رنگ اُترا ہوا ہو، میزوں اور کرسیوں پر گندگی کے ڈھیر ہوں اور کچن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو تو بھلا کون وہاں کے مکینوں کے بارے میں اچھا تاثر قائم کرے؟ گھر چاہے بڑا ہو یا چھوٹا، چاہے پُرانا ہو یا نیا، بیش قیمت ہو یا کم قیمت، وہاں داخل ہونے والے افراد چند لمحات میں ہی وہاں رہنے والوں کے ذہنی رجحانات کا اندازہ لگا لیا کرتے ہیں۔

ہاؤس ری ماڈلنگ کی اہمیت

گھر کو تزئین اور آرائش کی ضرورت ہمہ وقت رہتی ہے۔ مگر اکثر گھر کی تزئین کے خیال پر رقم بچانے کا خیال سبقت لے جاتا ہے اور گھر کی آرائش کا معاملہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ آج کی تحریر مگر اس حوالے سے ہے کہ آپ کو ہاؤس ری ماڈلنگ کی اہمیت و افادیت کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

یوں تو اپنا گھر جیسا بھی ہو، انسان کو عزیز بہت ہوتا ہے۔ یہ بات تب زیادہ اچھے سے سمجھ آتی ہے کہ جب ہم ایک آدھ دن کیلئے کہیں سفر پر جائیں اور وہاں آپ کو رات گزارنی پڑ جائے تو رہ رہ کر اپنا گھر اور اُس کی دیواروں پر پھیلا اپنے پن کا احساس انسان کو واپسی کے راستے پر چلنے کیلئے مجبور کرتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز پُرانی اور آؤٹ ڈیٹ ہوجایا کرتی ہے اور یوں چند بروقت اقدامات ناگزیر ہوجایا کرتے ہیں۔

ہاؤس ری ماڈلنگ سے آپ اپنے گھر کو اپنی شخصیت کے مطابق، اپنی ذاتی پسند نا پسند کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ ہمیں اپنی ترجیحات میں بھی بدلاؤ آتا محسوس ہوتا ہے۔ انسان کا بیشتر وقت چونکہ مشاہدات میں گزرتا ہے، وہ بہت سی چیزوں کو اپنی ذات کے لیے پسند کرلیتا ہے۔ گھر کی تزئین و آرائش آپ کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ آپ ایسی تمام تر خواہشات کی تسکین کرسکیں۔ کیونکہ آخر کو وہاں اُسی انسان نے رہنا ہوتا ہے لہٰذا گھر میں ڈیزائن کے بدلاؤ، رنگ و روغن، تعمیر و توسیع میں اُس کی پسند کو ہی ملحوظ ہونا چاہیے۔

مکان کی تزئین نو سے اُس کی مجموعی قدر میں اضافہ

مکان کی تزئین نو سے اُس کی اوور آل ویلیو یعنی اُس کی مجموعی قدر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے لوگ مکان فروخت کرنے سے قبل اُس کی رینویشن پر اچھی خاصی رقم خرچ کر بیٹھتے ہیں جسے وہ انویسٹمنٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کانسیپٹ کو ہوم اسٹیجنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے بعد وہ وقتِ فروخت خریدار کے اُوپر ایک اپر ہینڈ رکھتے ہیں اور ایک بہتر ریٹرن آن انویسٹمنٹ کی اُمید کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں اور گھر فروخت ہونے کی صورت میں ملنے والی رقم اُن کی امنگوں سے اکثر زیادہ ہی ہوتی ہے۔

مکان کو ماحول دوست بنانے کا موقع

کوشش یہ کرنی چاہیے کہ ہوم رینويشن کی صورت میں گھر پر ایسے آلات کی انسٹالیشن کی جائے کہ گھر جتنا کم ہوسکے اُتنا بجلی و دیگر وسائل کا استعمال کرے۔ سادہ الفاظ میں گھر کو انرجی ایفیشنٹ یعنی کم توانائی خرچ کرنے والا بنانے پر زور دینا چاہیے۔ یوں نہ صرف آپ کے بجلی کے بل پر ایک انتہائی خوشگوار فرق پڑے گا بلکہ آپ بھی کم توانائی استعمال کرنے والوں میں یعنی زمینی وسائل پر کم بوجھ ڈالنے والوں میں شامل ہوجائینگے۔ جس تیزی اور تناسب سے انسانی آبادی بڑھ رہی ہے، زمین پر اتنے ہی وسائل پیدا کرنے کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ کم توانائی کے خرچ کو طریقِ زندگی بنایا جائے۔

رنگ و روغن میں تبدیلی کا موقع

اسی طرح سے رنگ و روغن گھر کی رینیویشن میں کرنے والے اہم ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ عمل ہے کہ جس سے لوگ آپ کے جمالیاتی ذوق کا اندازہ لگاتے ہیں۔ وہ دن گئے جب گھر کی چار دیواری پر ہر سال سفیدی کی ایک لہر دوڑا دی جاتی۔ جدت کے اِس دور میں ایسے ہوم پینٹ ٹرینڈز آ گئے ہیں کہ آنکھیں ششدر رہ جاتی ہیں۔ رنگ و روغن کروانا ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے کہ مشرقی ہاؤس ہولڈز میں لوگ اس سے ہمہ وقت بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر لوگ تو سالہا سال گھر کی دیواریں نہیں رنگتے۔ کبھی کبھار ہمت کر کے اس کام کا آغاز کرتے ہیں تو اُکھاڑ پچھاڑ اتنی ہوجایا کرتی ہے کہ سو مزید کام نکل آتے ہیں۔ یہاں دیواریں رنگنے کا عمل ہی مکمل گھر کی رینویشن کا عمل بن جاتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

باغِ گلشن کی آرائش میں روشنیوں کی اہمیت

[ad_1]


Post Views:
2

دور جدید میں آؤٹ ڈور کچن، عقبی حصہ ، پورچ اور باغیچہ ہر گھر کی ضرورت بنتے جارہے ہیں۔ اور جب بات ہو گھر کے بیرونی حصے کی تو اس میں لائٹنگ خاص اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے۔ گھر کے بیرونی حصوں میں سورج کی روشنی یا 14 ویں کے چاند کی چاندنی بہترین ’’روشنی‘‘ ثابت ہوتی ہے۔ تاہم دن کے اوقات میں تو بیرونی حصے قدرتی روشنی سے روشن رہتے ہیں لیکن رات کے وقت ان حصوں کو روشن رکھنے کے لیے مصنوعی روشنی درکار ہوتی ہے۔

غروب آفتاب کے بعد گھر کے اس حصے کی چکا چوند میں اضافہ لائٹنگ کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نہ صرف آؤٹ ڈور ایریا کی تعمیر وسجاوٹ پر بھرپور دھیان دیا جائے بلکہ یہاں روشنی کے منظم انتظام پر بھی توجہ مرکوز کی جائے تاکہ سردی ہو یا گرمی، دن ہو یا رات آپ گھر کے بیرونی حصے میں تمام کام بہتر طور پر سر انجام دے سکیں۔

گھر کے لان کی سجاوٹ ہو یا تعمیر لوگوں نے گھر کو سرسبز رکھنے پر کافی توجہ دی ہے۔ جیسے گھر کی سجاوٹ پر دھیان دیا جاتا ہے اسی طرح لان کو بھی خوبصورت بنانے پر توجہ دی جاتی ہے اوراس میں روشنی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ کچھ عرصہ قبل گھر کی تعمیر کے دوران اندرونی حصوں کے لیے تو روشنی کا خاص انتظام کیا جاتا تھا لیکن جب لان کی بات آتی تھی تو اس حصے میں لائٹنگ کا رجحان عام نہیں تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ اس رجحان میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ لان میں قدرتی روشنی تو آتی ہی ہے مگر اس حصے کو رات کے وقت کچھ مصنوعی روشنی کی بھی ضرورت ہوتی ہےکیونکہ غروب آفتاب کے بعد اس حصے کی چکا چوند میں اضافہ لائٹنگ ارینجمنٹ کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔

شمسی توانائی سے روشن قمقمے

گھرکے بیرونی حصے کی لائٹنگ کے حوالے سے سب سے پہلے سولر لائٹس کی تنصیب پر غور کریں۔ پاکستان میں سورج کی تپش بہت زیادہ ہوتی ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں سورج کی ریڈی ایشن اور درجہ حرارت کا موازنہ جرمنی سے کیا جائے تو پاکستان میں سولر پینلز سے33 فیصد زیادہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ سولر لائٹس کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے بجلی کے لوڈ کو ایل ای ڈی لائٹس لگا کر کم کیا جائے یہ لائٹس بہت کم بجلی استعمال کرتی ہیں جبکہ یہ چلتی بھی طویل عرصے تک ہیں۔ یہ قدرے مہنگی تو ہوتی ہیں مگر طویل المیعاد عرصے کے حوالے سے دیکھا جائے تو کفایتی ہوتی ہیں۔

دیواروں پر چراغاں کی بجائے فرشہ روشنیاں

دیواروں میں لائٹس تو سب ہی لگواتے ہیں لیکن آپ اپنے لان کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے فرشی روشنیوں کا انتخاب کریں۔ ان روشنیوں کا استعمال عام طور پر عمودی باغ والی دیوار سے منسلک فرش پر کیا جاتا ہے، جس کا مقصد اس دیوار کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرنا ہوتاہے۔ یہ لائٹس فرش پر اوپری رُخ نصب کی جاتی ہیں، جو روشنی کو ہر طرف بکھیرتی ہیں۔ ان روشنیوں کی موجودگی رات کو پراسرار بنا دیتی ہیں۔ رات کے وقت یہاں چہل قدمی کرنا بڑا رومانوی لگتا ہے۔

خفیہ ایل ای ڈی لائٹس

اگر آپ کے لان میں کوئی سیڑھی موجود ہے تو ہمارے خیال میں اس سیڑھی کو بھی روشنی کے بغیر بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ سیڑھیوں کو روشن بنانے کے لئے اس کے زینے پر لائٹس کے دلکش اور جدید اسٹائل اپنائے جا سکتے ہیں مثلاً ہر زینے کے زیریں حصے پر خفیہ ایل ای ڈی لائٹس کی تنصیب کروائی جاسکتی ہے جو بظاہر معلوم نہیں ہوتیں لیکن رات کے وقت آپ کے باغ کو جگمگا کر وہاں کا منظر دلکش بناسکتی ہیں ۔

درختوں پر روشنی

آپ نے درختوں کو پھل پھول سے سجا تو اکثر سنا اور دیکھا ہوگا لیکن روشنی فراہم کرتے درخت شاید نہ دیکھے ہوں۔ گھر کے اندرونی حصے میں داخلے سے قبل پورچ ایریا کو روشن کرنے کے لیے درختوں پر لائٹس لگانے سے بڑھ کر بہتر آئیڈیا نہیں ہوسکتا۔ شام کے وقت صحن اور باغ میں بیٹھ کر قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لئے باغ کے آغازیا اختتامی حصے میں درختوں پر لائٹس کی تنصیب کروائیں۔ اس کے لیے زمین پر لوہے کا اسٹینڈ بھی لگایا جاتا ہے، جس پر عام بلب سے بڑا بلب لگا کر باغ کو روشن کیا جاسکتا ہے۔

منفرد انداز کے قمقمے

گھر کے لان کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے ڈیکوریشن لائٹس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ لائٹس شیڈ کے ساتھ ہوتی ہیں تاکہ دھوپ اور پانی سے محفوظ رہیں۔ اس حصے کےلیے ہینگنگ لائٹس کا انتخاب بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے بلب اور روشنیوں کے ہار لٹکا کر باغیچے میں خوشگوار ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی راستہ سیڑھیوں کی جانب جاتا ہے تویہاں روشنی کاانتظام بیرونی حصے کی خوبصورتی کاباعث بنے گا۔

باطنی دیوار کی آرائش

مرکزی دروازے کے بعد گھر میں داخلے کے لیے جو دیوار سب سے پہلے آتی ہے اسے لائٹس کے بغیر ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔ دیوار کے دونوں حصوں میں ڈیکوریشن لائٹس کا استعمال خوبصورتی کے ساتھ کیا جائے تو گھر میں داخلے سے قبل ایک خوبصورت احساس پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے داخلی دیوار پر خوبصورت لائٹنگ پر ضرور غور کیجیے یہ لائٹس ابھری ہوئی ہونے کے بجائے دیوار میں نصب ہوں تو زیادہ اچھا تاثر قائم کریں گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]