منہ مانگے دام کا حصول یقینی بنانے کے لیے گھر کی فروخت سے قبل اس کی تزئین ناگزیر ہے

[ad_1]



Post Views:
5

کورونا وبا نے ہماری عادتوں کو تبدیل اور ہماری سرگرمیوں کو محدود کرکے رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر میں اربوں افراد کرونا پر قابو پانے کے لیے لگائی جانے والی عالمی پابندیوں کے باعث اپنے گھروں میں قید ہوکر رہے گئے ہیں۔ اس کے کچھ اثرات گھر سے باہر کھانا کھانے، سفرکرنے، جم جانے یا فلم دیکھنے کے لیے سنیما جانے پر پابندی کی صورت میں دیکھے گئے تاہم دفاتر اور کاروبار بند ہونے کے باعث کچھ لوگوں نے اپنے وقت اور پیسے کی بچت بھی کی۔

کورونا کی لہر کے دوران لاک ڈاؤن کا ایک مثبت پہلو یہ بھی تھا کہ بہت سے لوگوں کو اپنے خاندان کے ساتھ معیاری وقت گزارنے، نئے مشاغل اپنانے اور گھر کے وہ تمام کام جو مصروفیت کے باعث نہ ہوسکے تھے انہیں نمٹانے کا موقع ملا ۔ ایسے میں کئی لوگوں نے گھر کی تزئینِ نو (ری- ماڈلنگ) کے منصوبے بھی شروع کیے۔ گوگل کے تجزیے اور سروے کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران ہر دس میں سے نو افراد نے گھر کی ری-ماڈلنگ کے منصوبے پر کام کیا۔

یہاں آج ہم گھر کی تزئینِ نو کے حوالے سے کچھ اہم معلومات کا آپ کے ساتھ تبادلہ کریں گے جو بلاشبہ آپ کے گھر کی قدر و قیمت میں اضافے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

مسکن کے بیرونی حصے کی خوبصورتی خریدار کے اطمینان کی پہلی کنجی

اکثر لوگ صرف گھر کے اندرونی حصے کی سجاوٹ اور تزئین و آرائش پر اپنی توجہ پرکوز رکھتے ہیں جبکہ وہ گھر کی بیرونی خوبصورتی کو ہمیشہ نظرانداز کردیتے ہیں۔ یاد رکھیں! کسی بھی کام میں پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوتا ہے لہذا آپ کے گھر کا عقبی حصہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ گھر کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے خریدار کو اپنی طرف ہر ممکن طور پر متوجہ کر سکے۔ گھر کی عقبی بوسیدہ حال دیواریں، زنگ آلود دروازہ اور نکاسی آب کی ناقص لائنیں خریدار کو آپ کے گھر سے دور رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ اگر گھر کا بیرونی دروازہ دیکھ کر آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ اپنے اچھے دن گزار چکا ہے تو اسے تبدیل کرنے میں ہی بہتری ہے۔

سبزہ زار کسی بھی گھر کی خوبصورتی کا انتہائی اہم جزو ہوتا ہے

ایک خوبصورت اور صاف ستھرا صحن یا باغیچہ آپ کے گھر کی قدر و قیمت بڑھانے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے۔ صحن میں خوبصورت باغیچہ اور پودے اسے زندگی بخشتے ہیں۔ اگر آپ کو باغیچہ تیار کرنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا ہے تو آپ لینڈ اسکیپنگ کے کسی ماہر کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کے سبزہ زار یا باغیچے میں اگر درخت کی شاخوں کی کانٹ چھانٹ کی ضرورت ہے تواس کے لیے بھی کسی ماہر کی خدمات حاصل کرنا ہی مناسب ہے۔

گھر کے صحن میں نشست کا انتظام

وَبائی مرض کے باعث لوگ بڑے سماجی اجتماعات کا انتظام کرنے یا ان میں شرکت سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایسے میں کئی لوگوں نے گھر کے صحن میں آؤٹ ڈور ڈیک بنوا دیے ہیں جہاں محدود لوگوں کو مدعو کرکے سماجی فاصلہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یقیناً وَبا کے زمانے میں آؤٹ ڈور ڈیک پر سرمایہ کاری ناصرف آپ کے گھر کی قدر و قیمت بڑھا دے گی بلکہ اس طرح آپ اپنے خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ اچھا وقت بھی گزار سکتے ہیں۔

دیواروں اور فرش کی خوبصورتی گھر کی قدر میں اضافے کا باعث ہے

آپ کے گھر کی تعمیر چاہے پُرانی ہو لیکن جب فروخت کے لیے پیش کریں تو اسے صاف ستھرا اور دلکش نظر آنا چاہیے۔ سفید یا ہلکا نیا رنگ آپ کے کمروں کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے اور خریدار پر اچھا تاثر چھوڑے گا۔ اسی طرح اگر آپ نے دیواروں کو وال پیپر سے سجایا ہوا ہے تو دیکھ لیں کہ وہ پرانے اور پھٹے ہوئے نہ ہوں۔ آپ کی حتی الامکان یہ کوشش ہونی چاہیے کہ خریدار کو گھر میں ایسا کوئی نقص نظر نہ آئے جو اس کی گھر میں دلچسپی کو کم کرنے کا باعث بنے۔ اسی طرح اگر آپ نے گھر میں قالین بچھایا ہوا ہے اور وہ پُرانا ہوگیا ہے تو اسے بھی فوری طور پر بدل دیں۔ لکڑی کا فرش اس سے کہیں بہتر ہے۔

باورچی خانے کی صفائی یقینی بنائیں

باورچی خانہ میں آپ کو نئے اپلائنسز نصب کرنے اور دیگر مہنگی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پُرانی الماریوں کو تبدیل کرنے کے بجائے انہیں نیا پینٹ کردیا جائے یا صرف وارنش کرنے سے ہی وہ پھر سے چمک اٹھیں گی۔

قدرتی روشنی کے نکاس کا مناسب انتظام

ہر ممکن حد تک کوشش کریں کہ گھر کی تزئینِ نو میں کھڑکیوں، چھت اور دیواروں میں ایسے انتظامات کیے جائیں کہ ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ قدرتی روشنی آپ کے گھر کے اندر پہنچ رہی ہو۔ اس طرح آپ کا گھر کھلا کھلا اور کشادہ لگتا ہے۔ اگر کسی کمرے میں قدرتی روشنی کا انتظام نہ ہو تو وہاں چھت میں ڈھکی ہوئی لائٹنگ سسٹم نصب کرکے اسے روشن کیا جاسکتا ہے اور یہ روشنی آنکھوں پر بھی بوجھ نہیں بنتی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

بی ایس ریئل اسٹیٹ منیجمنٹ: یو سی پی طلباء کا گرانہ ڈاٹ کام کے لاہور دفتر کا دورہ

[ad_1]



Post Views:
5

یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب (یو سی پی) کے بی ایس ریئل اسٹیٹ منیجمنٹ کے طلباء کو گرانہ ڈاٹ کام کے لاہور دفتر کا دورہ کروایا گیا۔ 

تفصیلات کے مطابق طلباء کو گرانہ ڈاٹ کام کی منیجمنٹ کی جانب سے ملکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر تفصیلاً بریفنگ دی گئی۔ 

اس موقع پر طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے گروپ ڈائریکٹر گرانہ فرحان جاوید کا کہنا تھا اس پروگرام کا بنیادی مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی تعمیراتی سرگرمیوں اور ریئل اسٹیٹ بزنس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو پیشہ وارانہ مواقع فراہم کرنا ہے۔ 

یاد رہے کہ یو سی پی کی آفر کردہ بی ایس ریئل اسٹیٹ منیجمنٹ ڈگری کامیابی سے مکمل کرنے والے طلباء کے لیے گرانہ ڈاٹ کام نے نوکریوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ 

جو طلباء ریئل اسٹیٹ منیجمنٹ میں بی ایس کریں گے انہیں پاکستان کی پہلی آن لائن ریئل اسٹیٹ مارکیٹ پلیس گرانہ ڈاٹ کام میں نوکری دی جائیگی۔ 

گرانہ ڈاٹ کام اور یو سی پی نے مشترکہ تعاون سے حال ہی میں ریئل اسٹیٹ منیجمنٹ میں پاکستان کے پہلے بی ایس ڈگری پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ 

بی ایس ریئل اسٹیٹ مینجمنٹ ڈگری پروگرام تھیوری اور عملی مطالعات پر مبنی ہے جو کہ ریئل اسٹیٹ کے پروفیشن سے جُڑے تکنیکی، انتظامی اور قانونی امور کا مکمل احاطہ کریگا۔




[ad_2]

کے ایم سی کے زیرِ انتظام 1.1 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز

[ad_1]



Post Views:
1

کراچی: کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہرِ قائد میں 1.1 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کردیا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کے مطابق رواں مالی سال روڈ اور اسٹریٹ لائٹس کی بحالی پر 1.5 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگلے سال فروری میں کراچی میں 242 بسوں کی رونمائی کی جائیگی۔

مزید برآں اُن کا کہنا تھا کہ کراچی میں بڑے پیمانے پر شجرکاری اور اربن پارکس کا قیام کیا جارہا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

علامہ اقبال ٹاؤن کی یونین کونسل 212 میں 8 کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: وزیر بلدیات پنجاب میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ یونین کونسل 212 علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں آٹھ کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

ان منصوبوں میں واٹر سپلائی، سیوریج اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے اسی لیے وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کے وڑن کے مطابق عوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اولمپیا سٹریٹ علامہ اقبال ٹاؤن میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

بعد ازاں میاں محمود الرشید نے علامہ اقبال ٹاؤن میں  ایک ننھی بچی کو قطرے پلا کر خسرہ سے بچاؤ کی مہم کا افتتاح بھی کیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

جدید طرزِ تعمیر کے باورچی خانے میں شعلہ گماں رنگوں کی اہمیت

[ad_1]



Post Views:
1

باورچی خانہ کسی بھی گھر کا مسلسل استعمال ہونے والا ایک ایسا حصہ ہے جہاں صبح سے لے کر رات تک ہر فرد کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ تاہم عمومی طور پر اس کی تزئین و آرائش کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر آپ نے بھی گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے باورچی خانے کی تزئین و آرائش کو نظرانداز کیا ہوا ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے باورچی خانے پر تھوڑی توجہ مرکوز کرتے ہوئے اسے گھر کا ایک مثالی حصہ بنا سکتے ہیں۔ باورچی خانے کی تزئین و آرائش کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اس میں ایسے رنگ بھریں جو نا صرف انکھوں کو بھلے محسوس ہوں بلکہ گھر کی شادابی میں بھی اضافے کا باعث بنیں۔

باورچی خانے کی دیواروں کے لیے رنگوں کا انتخاب

غالباً باورچی خانے میں رنگ بھرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کی دیواروں پر رنگ و روغن کے لیے دلفریب رنگوں کا انتخاب کیا جائے۔ اس کے لیے ایک یا دو گہرے شوخ رنگوں کا انتخاب کریں اور باورچی خانے کی دیواریں ان رنگوں سے سجا دیں۔ یقین کریں کہ باورچی خانے کی دیواروں پر رنگ و روغن پر آپ کا خرچہ صرف پینٹ کے دو چار ڈبوں سے زیادہ نہیں آئے گا۔ اکثر لوگ باورچی خانے صرف ایک رنگ کا استعمال بہتر تصور کرتے ہیں لیکن اگر آپ بھی ایسی سوچ کے حامل ہیں تو اس کیلئے ہماری تجویز ہے کہ اس مرتبہ آپ ایک سے زائد شوخ گہرے رنگوں کا انتخاب کریں اور اپنی بہترین تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے باورچی خانے کو نئی جلا بخشیں۔

باورچی خانے میں موجود الماریوں پر بکھرتے رنگ

دیواروں کے بعد آپ اپنی توجہ کچن کیبنٹس کی طرف دیں کیونکہ یہ آپ کے کچن کے سب سے نمایاں ضروریات میں سے ایک ہوتی ہیں۔ یہ کچن میں سب سے زیادہ جگہ لینے گھیرنے والی ایسی سہولیات ہوتی ہیں اور ان الماریوں میں رنگ بھکیرنا ایک دلفریب عمل ہو سکتا ہے۔ باورچی خانے میں موجود الماریوں اور کیبنٹس کے معاملے میں اکثر لوگ بنیادی رنگوں کے ساتھ جُڑے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جیسے سفید یا لکڑی کا عام رنگ۔ تاہم اگر آپ کے کچن کی گیلری یا کھڑکی ہریالی اور سبزے میں کھلتی ہے تو آپ کچن کیبنٹس کو ہرا رنگ اور اگر آپ کا گھر ساحل سمندر کے قریب ہے اور آپ کے کچن کی گیلری یا کھڑکی سمندر کی طرف کھلتی ہے تو آپ کیبنٹس کو ہلکا نیلا رنگ کرکے باہر کے فطری ماحول کو اپنے کچن میں لاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عام طور پر گہرے نیلے رنگ کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن یہ کچن کے کیبنٹس کے لیے ایک شوخ انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔

 

کسی ایک منفرد رنگ کی مدد سے ماحول کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے

اگر آپ اپنے باورچی خانے میں رنگوں کے انتخاب کو ایک ہی تھیم دینا چاہتے ہیں تو مونوکروم تھیم اپنائیے۔ ایک ایسا رنگ جو آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے اس کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے شیڈز کی مکمل رینج کو اپنے کچن میں لے آئیں۔ رنگوں کو خود پر حاوی کرنے کے بجائے خود کو ان رنگوں میں ڈبو دیں جیسے اگر آپ نیلے رنگ کا انتخاب کرتے ہیں تو فرش کے لیے اسکائی بلیو، اسٹول کے لیے ڈارک بلیو اور کیبنٹس کے لیے گرے بلیو رنگوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

باورچی خانے کے فرش کے لیے دیدہ زیب ڈیزائن کا انتخاب

باورچی خانے کے فرش کے لیے دو مختلف رنگوں کے ٹائل یا ماربل کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ سفید اور کالے رنگ کے ٹائلوں کا انتخاب کچن میں کمال خوبصورتی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ کاؤنٹر ٹاپ اور پچھلی دیوار کے لیے بھی شوخ پیٹرن والی ٹائلوں یا وال آرٹ کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

باورچی خانے کی منفرد اور تاریخی ورثہ کی حامل اشیاء سے تزئین و آرائش

اگر کہیں قدیم زمانے کی اشیاء رکھی نظر آئیں تو ان کی کشش ہمیں اپنی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کردیتی ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ قدیم اشیاء کا ایک اپنا منفرد رنگ ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے باورچی خانے میں اینٹیک رنگ لانا چاہتے ہیں تو بہت ساری قدیم اشیاء اپنے باورچی خانے میں لے آئیے۔ آپ خود محسوس کریں گے کہ آپ کا کچن انتہائی دلچسپ اور رنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور اگر کبھی آپ کے کچن میں کوئی تاریخی ورثہ کی حامل اشیاء کا قدردان آ گیا تو آپ کو باتیں کرنے کے لیے ایک دلچسپ موضوع میسر آ سکتا ہے۔

مناسب قیمت میں باورچی خانے کی اشیاء کی سجاوٹ

یقیناً، آج کے دور میں ہر شخص کی جیب اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے کچن کا مکمل طور پر میک اوور کرواسکے یا اگر آپ کرائے کے اپارٹمنٹ یا گھر میں رہتے ہیں تو آپ یہ سوچیں گے کہ آپ دوسرے کے گھر پر سرمایہ کیوں لگائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ رنگوں کے ساتھ تجربات کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ بولڈ رنگوں کے بارے میں اتنے پُریقین نہیں۔ ایسی تذبذب کی صورتحال اور محدود بجٹ کے مسائل سے بچنے کے لیے آپ کم قیمت اَپ گریڈز پر غور کرسکتے ہیں۔ مثلاً کیبنٹس کو تبدیل کرنے کے بجائے صرف ان کے ہینڈل تبدیل کردیں، آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ اس کے نتائج اس قدر شاندار ہوسکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ

[ad_1]



Post Views:
15

لاہور: سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ اجلاس چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ عبداللہ خان سنبل کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں 1 ارب روپے سے زائد مالیت کی دو ترقیاتی اسکیموں کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان اسکیموں میں 36.57 کلومیٹر طویل قصور حجرہ سے منڈی بصیرپور تک کی سڑک کی بحالی نو کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

مذکورہ منصوبے پر 48 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ دوسری جانب اجلاس میں 63 کروڑ روپے کی لاگت سے شیخوپورہ میں 3.9 کلو میٹر طویل ایک سڑک کی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

کاروباری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تعمیراتی صنعت میں آمدن کے مواقع

[ad_1]



Post Views:
28

دنیا بھر میں ریئل اسٹیٹ کو ایک کامیاب شعبہ کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور سرمایہ کاری کی اہمیت سے واقف ہر شخص اپنی سرمایہ کاری کا ایک حصہ ریئل اسٹیٹ میں ضرور لگاتا ہے۔ اگر شعبہ تعمیرات کی بات کریں تو تعمیرات کی صنعت میں کام کرنا اور کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے آپ کے پاس علم اور تجربے کا ہونا ضروری ہے جس میں برسوں کی تربیت اور علمی تجربہ شامل ہے۔

تاہم اب تعمیراتی صنعت ایک تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور وہ لوگ جنھوں نے زندگی میں ایک ہتھوڑا تک نہیں اُٹھایا اور نا ہی کبھی ان کا کسی تعمیراتی سائٹ پرجانے کا اتفاق ہوا ہے اور وہ بھی اس صنعت میں اپنے لیے جگہ بنانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔

ہرچندکہ، یہ ممکن ہے تعمیرات کی صنعت میں کوئی تجربہ نہ رکھنے کے باوجود آپ ایک کامیاب ’کنسٹرکشن انٹرپرینیور‘ بن جائیں۔ تاہم اس کے لیے کم از کم آپ میں ایک خصوصیت کا ہونا ضروری ہے: ’’آپ ایک انٹرپرینیور کا دماغ رکھتے ہوں‘‘۔ جی ہاں! سادہ سی بات ہے۔

اگر آپ میں ’کنسٹرکشن انٹرپرینیور‘ بننے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں تو آپ تعمیراتی شعبے میں اپنا نام، پیسہ اور شہرت کما سکتے ہیں۔ تعمیرات کی صنعت ہر وقت ’’کام جاری ہے‘‘ کے مترادف ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ بطور انٹرپرینیور آپ بہتر سے بہتر ہوتے جاتے ہیں۔ تاہم ذیل میں بیان کردہ پانچ ایسی خصوصیات ہیں، جنھیں اپنا کر آپ تعمیراتی شعبے کے ایک کامیاب ’کنسٹرکشن انٹرپرینیور‘ بن سکتے ہیں۔

کنسٹرکشن انٹرپرینیورشپ میں مواقع

عملی اقدامات تعمیراتی صنعت میں کامیابی کی کنجی ہے

کئی لوگوں کے پاس کام کا ایک بہترین آئیڈیا موجود ہوتا ہے، تاہم وہ اس پر عمل درآمد کرنے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ ایک کامیاب نتیجہ، ایک زبردست آئیڈیا کا ہی اختتام ہوتا ہے، تاہم اس کامیابی کا 99فی صد دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ اس پر کس طرح عمل درآمد کرتے اور اسے کس طرح آگے لے کر چلتے ہیں۔ صرف کاغذ پر اپنے خیال کو بہتر سے بہتر کرنے میں ہی نہ پھنسے رہیں بلکہ عملی قدم اُٹھائیں۔

کامیاب انٹرپرینیور ایک زبردست آئیڈیا کو کبھی بھی مہینوں کاغذ تک محدودرکھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرتا۔ اپنے وقت کا مؤثر استعمال کریں اور وقت کے ساتھ سامنے آنے والے چیلنجز کے مطابق اپنے پلان میں ترمیم کریں۔ سب سے اہم قدم، پہلا عملی قدم اُٹھانا ہوتا ہے۔ یہ بات تعمیراتی صنعت کے انٹرپرینیورز پر اور بھی زیادہ لاگو ہوتی ہے، کیونکہ اس صنعت میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ہر صورت کام کو جاری رکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ اگر آپ کام کو مکمل نہیں کریں گے تو ایک جگہ آکر ساری چیزیں اَٹک جائیں گی اور آپ بُری طرح پھنس کر رہ جائیں گے۔

بلند حوصلہ، صبر اور ہمت بڑھائے رکھنا

اگر آپ کو ناکامی سے ڈر لگتا ہے تو اس سے بچنے کے لیے محنت کریں۔ اگر آپ میں ناکامی کا خوف موجود ہے تو اس سے پریشان ہوکر، کام کاج چھوڑ کر ایک طرف ہوجانے کے بجائے، اسے اپنی طاقت بنائیں اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔ کہتے ہیں کہ ہر انٹرپرینیور ز کے اندر عدم تحفظ کا احساس موجود رہتا ہے، تاہم وہ اپنے کام کے ذریعے اس پر حاوی رہتا ہے۔

عدم تحفظ کے احساس کو اپنی توانائی بنائیں، آگے بڑھیں اور کامیابی کے لیے اعتماد تلاش کریں۔ تعمیراتی صنعت میں انٹرپرینیورز کو کئی سطح پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی کسی انفرادی منصوبے میں ناکامی کی صورت میں تو کبھی کنٹریکٹرز اور سپلائرز کے ساتھ تعلقات میں خرابی کی صورت میں۔

دستیاب وسائل کا استعمال یقینی بنانا

کسی بھی عمومی انٹرپرینیور کے مقابلے میں، تعمیرات کی صنعت سے وابستہ انٹرپرینیورز کو باوسائل ہونا چاہیے۔ تعمیرات کی صنعت میں وقت کو پیسہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے یہ اہم ہے کہ آپ اپنے پاس دستیاب تمام وسائل کو ’کیش فلو‘ بڑھانے کے لیے استعمال کریں۔ لنکڈاِن کے شریک بانی رِیڈہوفمین کہتے ہیں، ’’کمپنی شروع کرنے کا مطلب اونچی پہاڑی کے کنارے پر پہنچ کر کود جانا اور پھر تیزی سے نیچے آنے کے اس محدود وقت میں پیراشوٹ تیار کرنا ہے‘‘۔

آپ نوجوان آرکیٹیکٹس، انجینئرز اور کنٹریکٹرز کو بلامعاوضہ یا انتہائی کم معاوضہ پر انٹرن شپ پروگرام کی پیشکش کرسکتے ہیں، جو نا صرف آپ کی کمپنی کے لیے کارگر ثابت ہوں گے بلکہ یہ ان کے کیریئر کو بھی مہمیز دے گی۔

اخراجات اور منافع کی براہ راست نگرانی

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے کاروبار کا حجم کروڑوں اور بتدریج اربوں تک پہنچ جائے تو ہر پروجیکٹ کی خالص شرحِ منافع پر نظر رکھیں۔ آپ کے پروجیکٹ اور کمپنی کی کامیابی اس سے جُڑی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی ’کیش فلو‘ پر بھی نظر رکھیں۔ یہ کام ایک اکاؤنٹنٹ آپ کے لیے بآسانی کردے گا۔ کیش فلو شیٹ سے آپ کو پتہ چلے گا کہ پروجیکٹ کی وصولیوں اور ادائیگیوں کی کیا صورتِ حال ہے اور اس پر آپ کا خالص منافع کتنا ہے۔

یہ آپ کی کمپنی کی مالی صحت جانچنے کا سب سے اہم اور آسان طریقہ ہے۔ اپنے بینک اکاؤنٹ میں رکھے زیادہ کیش سے خوش نہ ہوں، جب تک کہ آپ کو ادائیگیوں کی صورتِ حال کا علم نہ ہو، کیوں کہ وصول ہونے والا کیش جلد ہی ادائیگیوں کی نذر بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے اپنی کمپنی کے کیش فلو پر نظر رکھیں اور اسے ہرگز نظرانداز نہ کریں۔

ایک مثبت سوچ کے ساتھ زندگی بدلنے کی لگن

بہت سارے لوگ تبدیلی کو پسند نہیں کرتے۔ یہ ایک مثبت سوچ نہیں ہے۔ مثبت سوچ رکھنے والے افراد کے لیے تبدیلی کئی مواقع لے کر آتی ہے۔ کامیاب کنسٹرکشن انٹرپرینیور ہر وقت اپنی ٹیم سے یہ پوچھتے ہیں: ’’ہم چیزوں کو اپنے لیے زیادہ آسان اور زیادہ مؤثر کس طرح بنا سکتے ہیں؟‘‘ اس کلچر سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کی ٹیم ہر آئے دن نئے نئے آئیڈیاز لے کر آپ کے سامنے ہوتی ہے۔

ہمیشہ بہتری کے لیے کوشش کریں، چاہے اس کے لیے آپ کو نئی سرمایہ کاری کرنی پڑے۔ اپنے بزنس ماڈل، اپنے سسٹمز اور اپنی سوچ میں تبدیلی لانے سے مت گھبرائیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی کمپنی کی ترقی کا سفر جاری و ساری رہے تو صارفین کے بدلتے رجحانات کے ساتھ آپ کو تبدیلی کو گلے لگانا ہوگا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

تعمیراتی صنعت میں فلک بوس عمارتوں کو زلزلے سے محفوظ رکھنے کے سائنسی اطوار | Graana.com Blog

[ad_1]



Post Views:
0

زلزلہ قدرتی آفات کی مختلف اقسام میں سے ایک ایسی تباہ کُن قسم ہے جس کے رونما ہونے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ زلزلے بنیادی طور پر زمین کی تہہ میں موجود پلیٹوں کے سرکنے کے باعث وارد ہوتے ہیں ایک دوسرا نظریہ یہ بھی ہے کہ آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے سے جو آتشی مادہ زمین پر بہتہ ہے وہ بھی زمین کو ہلا کر رکھ دیتا ہے جس کی وجہ سے زلزے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور ان علاقوں میں موجود انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق جاپان میں سالانہ 1500 کے قریب زلزلوں کے واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں تاہم وہاں آنے والے زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ دیگر ممالک کی نسبت انتہائی کم رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جاپان میں بننے والی فلک بوس عمارتوں، سڑکوں، پُل اور دیگر انفراسٹکچر کو زلزلے سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بچاؤ کی تدابیر کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جاتا ہے۔

ترقی کی اس دوڑ کے تاریخی اوراق اگر پلٹ کر دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں میں بتریج اضافے کے باعث فلک بوس عمارتوں کی تعمیر میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عمومی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ تر عمارتوں کی اونچائی شاید ہی 50 منازل سے کم ہو بلکہ اب تو ترقی پذیر ممالک بھی بلند و بالا عمارتوں کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں جہاں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ٹیکنالوجی اور تحقیق کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

تعمیراتی صنعت میں گراں قدر ترقی کے باوجود انسان آج بھی زلزلہ سمیت دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کے مکمل حل کی تلاش میں بے بس نظر آتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے ترقی یافتہ ممالک نے تعمیراتی صنعت میں جدید سائنسی علوم پر استوار زلزے سے بچاؤ کی کچھ ایسی تدابیر اور ٹیکنالوجی متعارف کروا دی ہیں جنھیں اختیار کرتے ہوئے زلزلے کے دوران جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

زلزلے کی صورت میں عمارتی ڈھانچے کو بنیادوں سے الگ رکھنے کی حیرانگیز ٹیکنالوجی

ترقی یافتہ ممالک میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کے ابتدائی مرحلے میں ہی عمارت کی بنیادوں اور اس کے بالائی حصے کے درمیان ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے زلزلہ آنے کی صورت میں اس قدرتی آفت کی شدت مکمل طور پر عمارت کے بالائی حصے تک نہیں پہنچ پاتی یا پھر بالائی حصے میں زلزلے کے اثرات پہنچنے تک اس کی شدت انتہائی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس کے اوپر سائنسی طور پر زلزلہ برداشت کرنے کی بین الاقوامی اداروں سے تصدیق شدہ ’ربر بیئرنگ‘ کی ایک موٹی تہہ رکھی جاتی ہے۔ یہ تہہ ربر، بیئرنگ اور اسٹیل کی پلیٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسٹیل کی پلیٹیں اس تہہ کو عمارت کی بنیادوں اور بالائی حصے سے جوڑتی ہیں۔ زلزلے کی صورت میں اس کا اثر عمارت کی بنیاد سے ہوتا ہوا صرف ربر کی تہہ تک آتا ہے جس سے عمارت کا بالائی حصہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

جاپان کے تعمیراتی ماہرین اور انجینئرز اس ٹیکنالوجی کو ایک درجہ اور آگے لے جا چکے ہیں جس کے تحت عمارت عملی طور پر ہوا میں تیرتی ہے۔ جاپانی ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس پر ہوا سے بھرا کُشن رکھا جاتا ہے۔ یہ کُشن سینسرز کے نظام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ زلزلے کی صورت میں سینسرز کا نظام حرکت میں آتے ہوئے ایئرکمپریسر تک معلومات پہنچاتا ہے۔ ایئرکمپریسر عمارت کے بالائی حصے کو 3 سینٹی میٹر بلندی پر لے جاتا ہے اور زلزلہ ختم ہونے کے بعد عمارت واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے اوراس طرح وہ عمارت زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتی ہے۔

زلزلے کے جھٹکے کی شدت کو زائل بھی کیا جا سکتا ہے مگر کیسے؟

جس طرح کسی بھی گاڑی میں شاک ایبزاربرز اس کے اسپرنگ کی غیر ضروری حرکت کو کُشن فراہم کرتے ہیں ویسے ہی عمارتوں میں بھی ان سے یہی کام لیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عمارت کی ہر منزل پر ’شاک ایبزاربرز‘ نصب کیے جاتے ہیں جس کا ایک سرا ستون اور دوسرا سرا بیم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ہر شاک ایبزاربر ایک پِسٹن ہیڈ پر مشتمل ہوتا ہے جو سیلیکون آئل سے بھرے سلنڈر کے اندر حرکت کرتا ہے۔ جب زلزلہ عمارت کے ساتھ ٹکراتا ہے تو شاک ایبزاربر کا پسٹن سیلیکون آئل پر دباؤ ڈالتا ہے اور زلزلے کی توانائی مکینیکل توانائی میں تبدیل ہوکر گرمی پیدا کرتی ہے اور اس طرح عمارت کا ڈھانچہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

دھات سے بنی دیومت گیند عمارت کا توازن کیسے برقرار رکھ سکتی ہے

یہ ٹیکنالوجی بھی شاک ایبزاربر سے ملتی جلتی ہے۔ دھات سے بنی دیومت گیند جیسے پینڈولم بھی کہا جاتا ہے کے تحت عمارت کے تمام ڈھانچے کا وزن اس کی چوٹی پر مرتکز کردیا جاتا ہے۔ عمارت کی چوٹی پر اس ڈھانچے کو اسٹیل کیبل کے ذریعے توازن فراہم کیا جاتا ہے۔ عمارت کے ڈھانچے اور اسٹیل کیبل کے درمیان مائع نما گاڑھا مادہ بھرا جاتا ہے۔ جب اس عمارت سے زلزلہ ٹکراتا ہے تو پینڈولم اسی قوت کے ساتھ مخالف سمت میں زور لگاتا ہے اور عمارت کو توازن فراہم کرتا ہے۔

ری انفورسڈ کنکریٹ کا عمارت کو زلزلے کی شدت سے محفوظ رکھنے میں کردار

جدید عمارتوں میں زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیے یہ ایک نسبتاً کم لاگت جدید ٹیکنالوجی ہے۔ اس نظام کے تحت ری انفورسڈ کنکریٹ کا ایک ڈھانچہ عمارت کے مرکزی حصے میں ایلیویٹر یا لفٹ کے چاروں اطراف لگایا جاتا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی اس وقت بہترین نتائج دیتی ہے جب اس کی بنیاد کو عمارت سے جدا رکھا جائے۔ بنیاد کو علیحدہ رکھنے کے لیے اس میں ایلاسٹیو میٹرک بیئرنگز لگائے جاتے ہیں۔ کنکریٹ کا ڈھانچہ تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی ایک تہہ اسٹیل اور دوسری تہہ قدرتی ربر یا ایک مصنوعی کیمیاوی مرکب  نیوپرین پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس طرح کے تعمیراتی ڈھانچے کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ عمودی طور پر یہ انتہائی مضبوط ڈھانچہ ہوتا ہے جبکہ افقی طور پر یہ لچکدار رہتا ہے۔ یہ عمارتوں کوزلزلے سے محفوظ رکھنے کی ایک کم لاگت انتہائی مؤثر اور نسبتاً سادہ ٹیکنالوجی ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

تعمیراتی صنعت میں فلک بوس عمارتوں کو زلزلے سے محفوظ رکھنے کے سائنسی اطوار | Graana.com Blog

[ad_1]



Post Views:
10

زلزلہ قدرتی آفات کی مختلف اقسام میں سے ایک ایسی تباہ کُن قسم ہے جس کے رونما ہونے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ زلزلے بنیادی طور پر زمین کی تہہ میں موجود پلیٹوں کے سرکنے کے باعث وارد ہوتے ہیں ایک دوسرا نظریہ یہ بھی ہے کہ آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے سے جو آتشی مادہ زمین پر بہتہ ہے وہ بھی زمین کو ہلا کر رکھ دیتا ہے جس کی وجہ سے زلزے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور ان علاقوں میں موجود انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق جاپان میں سالانہ 1500 کے قریب زلزلوں کے واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں تاہم وہاں آنے والے زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ دیگر ممالک کی نسبت انتہائی کم رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جاپان میں بننے والی فلک بوس عمارتوں، سڑکوں، پُل اور دیگر انفراسٹکچر کو زلزلے سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بچاؤ کی تدابیر کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جاتا ہے۔

ترقی کی اس دوڑ کے تاریخی اوراق اگر پلٹ کر دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں میں بتریج اضافے کے باعث فلک بوس عمارتوں کی تعمیر میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عمومی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ تر عمارتوں کی اونچائی شاید ہی 50 منازل سے کم ہو بلکہ اب تو ترقی پذیر ممالک بھی بلند و بالا عمارتوں کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں جہاں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ٹیکنالوجی اور تحقیق کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

تعمیراتی صنعت میں گراں قدر ترقی کے باوجود انسان آج بھی زلزلہ سمیت دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کے مکمل حل کی تلاش میں بے بس نظر آتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے ترقی یافتہ ممالک نے تعمیراتی صنعت میں جدید سائنسی علوم پر استوار زلزے سے بچاؤ کی کچھ ایسی تدابیر اور ٹیکنالوجی متعارف کروا دی ہیں جنھیں اختیار کرتے ہوئے زلزلے کے دوران جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

زلزلے کی صورت میں عمارتی ڈھانچے کو بنیادوں سے الگ رکھنے کی حیرانگیز ٹیکنالوجی

ترقی یافتہ ممالک میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کے ابتدائی مرحلے میں ہی عمارت کی بنیادوں اور اس کے بالائی حصے کے درمیان ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے زلزلہ آنے کی صورت میں اس قدرتی آفت کی شدت مکمل طور پر عمارت کے بالائی حصے تک نہیں پہنچ پاتی یا پھر بالائی حصے میں زلزلے کے اثرات پہنچنے تک اس کی شدت انتہائی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس کے اوپر سائنسی طور پر زلزلہ برداشت کرنے کی بین الاقوامی اداروں سے تصدیق شدہ ’ربر بیئرنگ‘ کی ایک موٹی تہہ رکھی جاتی ہے۔ یہ تہہ ربر، بیئرنگ اور اسٹیل کی پلیٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسٹیل کی پلیٹیں اس تہہ کو عمارت کی بنیادوں اور بالائی حصے سے جوڑتی ہیں۔ زلزلے کی صورت میں اس کا اثر عمارت کی بنیاد سے ہوتا ہوا صرف ربر کی تہہ تک آتا ہے جس سے عمارت کا بالائی حصہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

جاپان کے تعمیراتی ماہرین اور انجینئرز اس ٹیکنالوجی کو ایک درجہ اور آگے لے جا چکے ہیں جس کے تحت عمارت عملی طور پر ہوا میں تیرتی ہے۔ جاپانی ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس پر ہوا سے بھرا کُشن رکھا جاتا ہے۔ یہ کُشن سینسرز کے نظام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ زلزلے کی صورت میں سینسرز کا نظام حرکت میں آتے ہوئے ایئرکمپریسر تک معلومات پہنچاتا ہے۔ ایئرکمپریسر عمارت کے بالائی حصے کو 3 سینٹی میٹر بلندی پر لے جاتا ہے اور زلزلہ ختم ہونے کے بعد عمارت واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے اوراس طرح وہ عمارت زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتی ہے۔

زلزلے کے جھٹکے کی شدت کو زائل بھی کیا جا سکتا ہے مگر کیسے؟

جس طرح کسی بھی گاڑی میں شاک ایبزاربرز اس کے اسپرنگ کی غیر ضروری حرکت کو کُشن فراہم کرتے ہیں ویسے ہی عمارتوں میں بھی ان سے یہی کام لیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عمارت کی ہر منزل پر ’شاک ایبزاربرز‘ نصب کیے جاتے ہیں جس کا ایک سرا ستون اور دوسرا سرا بیم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ہر شاک ایبزاربر ایک پِسٹن ہیڈ پر مشتمل ہوتا ہے جو سیلیکون آئل سے بھرے سلنڈر کے اندر حرکت کرتا ہے۔ جب زلزلہ عمارت کے ساتھ ٹکراتا ہے تو شاک ایبزاربر کا پسٹن سیلیکون آئل پر دباؤ ڈالتا ہے اور زلزلے کی توانائی مکینیکل توانائی میں تبدیل ہوکر گرمی پیدا کرتی ہے اور اس طرح عمارت کا ڈھانچہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

دھات سے بنی دیومت گیند عمارت کا توازن کیسے برقرار رکھ سکتی ہے

یہ ٹیکنالوجی بھی شاک ایبزاربر سے ملتی جلتی ہے۔ دھات سے بنی دیومت گیند جیسے پینڈولم بھی کہا جاتا ہے کے تحت عمارت کے تمام ڈھانچے کا وزن اس کی چوٹی پر مرتکز کردیا جاتا ہے۔ عمارت کی چوٹی پر اس ڈھانچے کو اسٹیل کیبل کے ذریعے توازن فراہم کیا جاتا ہے۔ عمارت کے ڈھانچے اور اسٹیل کیبل کے درمیان مائع نما گاڑھا مادہ بھرا جاتا ہے۔ جب اس عمارت سے زلزلہ ٹکراتا ہے تو پینڈولم اسی قوت کے ساتھ مخالف سمت میں زور لگاتا ہے اور عمارت کو توازن فراہم کرتا ہے۔

ری انفورسڈ کنکریٹ کا عمارت کو زلزلے کی شدت سے محفوظ رکھنے میں کردار

جدید عمارتوں میں زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیے یہ ایک نسبتاً کم لاگت جدید ٹیکنالوجی ہے۔ اس نظام کے تحت ری انفورسڈ کنکریٹ کا ایک ڈھانچہ عمارت کے مرکزی حصے میں ایلیویٹر یا لفٹ کے چاروں اطراف لگایا جاتا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی اس وقت بہترین نتائج دیتی ہے جب اس کی بنیاد کو عمارت سے جدا رکھا جائے۔ بنیاد کو علیحدہ رکھنے کے لیے اس میں ایلاسٹیو میٹرک بیئرنگز لگائے جاتے ہیں۔ کنکریٹ کا ڈھانچہ تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی ایک تہہ اسٹیل اور دوسری تہہ قدرتی ربر یا ایک مصنوعی کیمیاوی مرکب  نیوپرین پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس طرح کے تعمیراتی ڈھانچے کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ عمودی طور پر یہ انتہائی مضبوط ڈھانچہ ہوتا ہے جبکہ افقی طور پر یہ لچکدار رہتا ہے۔ یہ عمارتوں کوزلزلے سے محفوظ رکھنے کی ایک کم لاگت انتہائی مؤثر اور نسبتاً سادہ ٹیکنالوجی ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
1

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]

امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
109

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

[ad_1]



Post Views:
0

بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے دنیا میں جہاں دیگر وسائل  اور بنیادی ضروریات میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے وہیں دنیا بھر میں رہائشی    سہولیات کا بحران بھی سر اٹھا چکا ہے۔ ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق دنیا بھی میں رہائشی  سہولیات کے بغیر رہنے والے افراد کی آباد میں سالانہ بنیادوں پر 2.7 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

رہائشی  سہولیات کے فقدان کی وجہ سے نہ صرف نئے تعمیر ہونے والے گھروں کے سائزمیں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے بلکہ دنیا فیبریکیٹڈ گھروں میں رہائش اختیار کرنے کے رحجان کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔

تھری ڈی پرنٹنگ سے لے کر بائیو مینوفیکچرڈ مٹیریل تک تعمیرات کی نئی ٹیکنالوجیز کو ہاؤسنگ کے عالمی بحران جس سے 2025ء تک دنیا کے 1.6 ارب افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے کا تیزاور سستا تر حل قرار دیا جارہا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجیز تعمیراتی ضیاع میں بڑے پیمانے پر کمی لاکر ناصرف ماحولیات پر کم بوجھ ڈالیں گی بلکہ یہ کاربن نیوٹرل یا کسی حد تک منفی بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

کاربن نیوٹرل سے مراد وہ عمارتیں ہیں جن سے کاربن کا اخراج صفر ہوتا ہے جب کہ کاربن نیگیٹو کا مطلب وہ عمارتیں ہیں جو نا صرف خود کاربن خارج نہیں کرتیں بلکہ اس کے برعکس ماحول سے کاربن کو جذب بھی کرتی ہیں۔ تعمیراتی صنعت میں ان نئی ٹیکنالوجیز کا پرجوش طریقے سے خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اب بھی موجود ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجیز توقعات پر پوری اُتر سکیں گی؟

تیارشدہ گھروں کی فراہمی کے لیے مارکیٹ سروے کے بعد جگہ کا انتخاب

ہاؤسنگ کی عالمی مارکیٹ اپنے پیشگی متعین کردہ معیارات کے گرد چل رہی ہے جس میں نئی تعمیرات اور ہوم اونرشپ پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ جو کہ کسی بھی صنعت میں معیارات کا ہونا پیداواری صلاحیت میں اضافے اور لاگت میں کمی کا باعث ہوتا ہے تاہم ساکن معیارات مختلف لوگوں، طبقات اور خطوں کی مختلف ضروریات میں نہیں ڈھل سکتے۔ مثال کے طور پر میکسیکو میں ریڈی میڈ ہوم کی ٹیکنالوجی کو جب کم مطلوب مقامات پر متعارف کرایا گیا تو وہاں ہاؤسنگ مارکیٹ کریش کرگئی۔ میکسیکو کے ان مقامات پر پیشگی تیار شدہ گھر اب بھی خالی پڑے ہیں۔

کووِڈ 19 بحران نے ہاؤسنگ میں تبدیلی کو اپنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کے مکینوں کے پاس آپشن ہونا چاہیے کہ وہ گھر میں بآسانی نئی دیواروں کا اضافہ کرسکیں یا کسی دیوار کو گرا سکیں تاکہ گھروں کے مکین دفتر سے دور گھر میں دفتری کام انجام دینے کے لیے گھر کے ڈیزائن میں ترامیم لاسکیں۔ لوگوں کو صرف نئی تعمیرات کی ضرورت ہی نہیں بلکہ کئی لوگوں کو گھر کی سادہ سی مرمت، بحالی یا اَپ گریڈ کرنے کی سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

اندازہ ہے کہ اس وقت جو عمارتیں موجود ہیں ان میں سے دو تہائی عمارتیں 2050ء میں بھی زیرِ استعمال ہوں گی جو اس وقت کئی ڈھانچہ جاتی اور ماحولیاتی مسائل کا باعث بنیں گی جبکہ معیارِ زندگی پر ان کے اثرات اس کے علاوہ ہوں گے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی دستیاب ہے۔ بے قاعدہ آبادیوں کی نقشہ سازی کے لیے ’تھری ڈی اسکین‘ اور گرنے کے خطرات سے دوچار عمارتوں کی کم خرچ میں نشاندہی کے لیے مشین لرننگ سوفٹ ویئر کا استعمال کرنا ہو گا۔

گھر کی خرید یا تعمیر کے لیے ہوم فنانسنگ کی سہولیات کی دستیابی یقینی بنانا

آج دنیا بھر میں کئی گھرانے بینک سے مارگیج حاصل نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ یا تو بے قاعدہ (اِن فارمل) معیشت کا حصہ ہیں یا ان کے پاس زمین کے ٹائٹل کے کاغذات نہیں ہیں۔ آمدنی کا ثبوت اور ڈاؤن پے منٹ کی شرائط بھی کئی لوگوں کو مارگیج تک رسائی حاصل کرنے سے روک دیتی ہیں۔ فِن ٹیک میں جدت لا کر بے قاعدہ معیشت کا حصہ سمجھے جانے والے خاندانوں کی بے قاعدہ آمدنی کی تصدیق اور اسے تسلیم کرتے ہوئے انھیں ہاؤسنگ مارگیج کے اہل بنایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی سستے حل فراہم کرسکتا ہے۔

گھروں کی تعمیر سے متعلق جدید تحقیق پر مبنی تصوراتی ہم آہنگی

گھر کی ملکیت کے بین الاقوامی تصور نے غیرمساویت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ گھر کو قابلِ دسترس بنانے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ جس طرح ایئر بی این بی نے ’ویکیشن رینٹل‘ مارکیٹ میں انقلاب برپا کیا ہے، اسی طرح متذکرہ بالا اسٹارٹ اَپس کم آمدنی والے خاندانوں، پناہ گزینوں اور معاشرے کے نچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے لیے بڑے پیمانے پر مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، جو مناسب کرایہ پر گھر کی تلاش میں مارے پھرتے ہیں۔

کئی شہروں میں مالک مکان کرایہ داروں سے ناصرف بھاری پیشگی رقوم لیتے ہیں بلکہ کئی جگہوں پر ان کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ اگر اس شعبہ میں کچھ عالمی اسٹارٹ اَپس آجائیں تو کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے کرایہ کے گھروں کی ایک نئی مارکیٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ اچھے کرایہ داروں کی بچتوں اور حقوق کو تحفظ حاصل ہوسکتا ہے اور رینٹل سبسڈی اسکیموں اور گارنٹی فنڈز کے ذریعے بھاری پیشگی رقوم کے مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]