پاکستان کی پہلی ماحول دوست سڑک جلد مکمل کر لی جائے گی۔ سی ڈی اے

[ad_1]



Post Views:
8

اسلام آباد: ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا پلاسٹک روڈ منصوبہ جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے اور ایک نجی ادارے کے تعاون سے ایف – نائن پارک میں تجرباتی بنیادوں پر 1 کلومیٹر طویل پلاسٹک روڈ کی تعمیر کا عمل جاری ہے۔

کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ترجمان رانا شکیل اصغر کے مطابق پلاسٹک روڈ کی تعمیر میں ضائع شدہ 10 لاکھ پلاسٹک کپ کو قابلِ استعمال بناتے ہوئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیادوں پر اسلام آباد میں 500 سے 600 ٹن کوڑا کرکٹ اکھٹا کیا جاتا ہے جس میں 150 سے 200 ٹن صرف پلاسٹک کی ضائع شدہ اشیاء شامل ہوتی ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

منہ مانگے دام کا حصول یقینی بنانے کے لیے گھر کی فروخت سے قبل اس کی تزئین ناگزیر ہے

[ad_1]



Post Views:
5

کورونا وبا نے ہماری عادتوں کو تبدیل اور ہماری سرگرمیوں کو محدود کرکے رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر میں اربوں افراد کرونا پر قابو پانے کے لیے لگائی جانے والی عالمی پابندیوں کے باعث اپنے گھروں میں قید ہوکر رہے گئے ہیں۔ اس کے کچھ اثرات گھر سے باہر کھانا کھانے، سفرکرنے، جم جانے یا فلم دیکھنے کے لیے سنیما جانے پر پابندی کی صورت میں دیکھے گئے تاہم دفاتر اور کاروبار بند ہونے کے باعث کچھ لوگوں نے اپنے وقت اور پیسے کی بچت بھی کی۔

کورونا کی لہر کے دوران لاک ڈاؤن کا ایک مثبت پہلو یہ بھی تھا کہ بہت سے لوگوں کو اپنے خاندان کے ساتھ معیاری وقت گزارنے، نئے مشاغل اپنانے اور گھر کے وہ تمام کام جو مصروفیت کے باعث نہ ہوسکے تھے انہیں نمٹانے کا موقع ملا ۔ ایسے میں کئی لوگوں نے گھر کی تزئینِ نو (ری- ماڈلنگ) کے منصوبے بھی شروع کیے۔ گوگل کے تجزیے اور سروے کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران ہر دس میں سے نو افراد نے گھر کی ری-ماڈلنگ کے منصوبے پر کام کیا۔

یہاں آج ہم گھر کی تزئینِ نو کے حوالے سے کچھ اہم معلومات کا آپ کے ساتھ تبادلہ کریں گے جو بلاشبہ آپ کے گھر کی قدر و قیمت میں اضافے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

مسکن کے بیرونی حصے کی خوبصورتی خریدار کے اطمینان کی پہلی کنجی

اکثر لوگ صرف گھر کے اندرونی حصے کی سجاوٹ اور تزئین و آرائش پر اپنی توجہ پرکوز رکھتے ہیں جبکہ وہ گھر کی بیرونی خوبصورتی کو ہمیشہ نظرانداز کردیتے ہیں۔ یاد رکھیں! کسی بھی کام میں پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوتا ہے لہذا آپ کے گھر کا عقبی حصہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ گھر کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے خریدار کو اپنی طرف ہر ممکن طور پر متوجہ کر سکے۔ گھر کی عقبی بوسیدہ حال دیواریں، زنگ آلود دروازہ اور نکاسی آب کی ناقص لائنیں خریدار کو آپ کے گھر سے دور رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ اگر گھر کا بیرونی دروازہ دیکھ کر آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ اپنے اچھے دن گزار چکا ہے تو اسے تبدیل کرنے میں ہی بہتری ہے۔

سبزہ زار کسی بھی گھر کی خوبصورتی کا انتہائی اہم جزو ہوتا ہے

ایک خوبصورت اور صاف ستھرا صحن یا باغیچہ آپ کے گھر کی قدر و قیمت بڑھانے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے۔ صحن میں خوبصورت باغیچہ اور پودے اسے زندگی بخشتے ہیں۔ اگر آپ کو باغیچہ تیار کرنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا ہے تو آپ لینڈ اسکیپنگ کے کسی ماہر کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کے سبزہ زار یا باغیچے میں اگر درخت کی شاخوں کی کانٹ چھانٹ کی ضرورت ہے تواس کے لیے بھی کسی ماہر کی خدمات حاصل کرنا ہی مناسب ہے۔

گھر کے صحن میں نشست کا انتظام

وَبائی مرض کے باعث لوگ بڑے سماجی اجتماعات کا انتظام کرنے یا ان میں شرکت سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایسے میں کئی لوگوں نے گھر کے صحن میں آؤٹ ڈور ڈیک بنوا دیے ہیں جہاں محدود لوگوں کو مدعو کرکے سماجی فاصلہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یقیناً وَبا کے زمانے میں آؤٹ ڈور ڈیک پر سرمایہ کاری ناصرف آپ کے گھر کی قدر و قیمت بڑھا دے گی بلکہ اس طرح آپ اپنے خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ اچھا وقت بھی گزار سکتے ہیں۔

دیواروں اور فرش کی خوبصورتی گھر کی قدر میں اضافے کا باعث ہے

آپ کے گھر کی تعمیر چاہے پُرانی ہو لیکن جب فروخت کے لیے پیش کریں تو اسے صاف ستھرا اور دلکش نظر آنا چاہیے۔ سفید یا ہلکا نیا رنگ آپ کے کمروں کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے اور خریدار پر اچھا تاثر چھوڑے گا۔ اسی طرح اگر آپ نے دیواروں کو وال پیپر سے سجایا ہوا ہے تو دیکھ لیں کہ وہ پرانے اور پھٹے ہوئے نہ ہوں۔ آپ کی حتی الامکان یہ کوشش ہونی چاہیے کہ خریدار کو گھر میں ایسا کوئی نقص نظر نہ آئے جو اس کی گھر میں دلچسپی کو کم کرنے کا باعث بنے۔ اسی طرح اگر آپ نے گھر میں قالین بچھایا ہوا ہے اور وہ پُرانا ہوگیا ہے تو اسے بھی فوری طور پر بدل دیں۔ لکڑی کا فرش اس سے کہیں بہتر ہے۔

باورچی خانے کی صفائی یقینی بنائیں

باورچی خانہ میں آپ کو نئے اپلائنسز نصب کرنے اور دیگر مہنگی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پُرانی الماریوں کو تبدیل کرنے کے بجائے انہیں نیا پینٹ کردیا جائے یا صرف وارنش کرنے سے ہی وہ پھر سے چمک اٹھیں گی۔

قدرتی روشنی کے نکاس کا مناسب انتظام

ہر ممکن حد تک کوشش کریں کہ گھر کی تزئینِ نو میں کھڑکیوں، چھت اور دیواروں میں ایسے انتظامات کیے جائیں کہ ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ قدرتی روشنی آپ کے گھر کے اندر پہنچ رہی ہو۔ اس طرح آپ کا گھر کھلا کھلا اور کشادہ لگتا ہے۔ اگر کسی کمرے میں قدرتی روشنی کا انتظام نہ ہو تو وہاں چھت میں ڈھکی ہوئی لائٹنگ سسٹم نصب کرکے اسے روشن کیا جاسکتا ہے اور یہ روشنی آنکھوں پر بھی بوجھ نہیں بنتی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

ایل ڈی اے افسران کو عوامی مسائل کا بروقت حل یقینی بنانے کی ہدایات جاری

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: لاہورڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل احمد عزیز تارڑ نے ایل ڈی اے افسران کو عوامی مسائل کا بروقت حل یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دیں۔

ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں ایل ڈی اے میں زیر التوا درخواستوں کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ایل ڈی اے افسران شہریوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئیں اور اپنی سکیموں اور فیلڈ وزٹ کو یقینی بنائیں تاکہ انہیں صورتحال سے مکمل آگاہی ہو۔

ڈی جی ایل ڈی اے کا کہنا تھا کہ درخواستوں پر بلاوجہ اعتراضات لگانے والے افسران کے ساتھ سختی سے نپٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ڈائریکٹر اپنے متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی کا جواب د ہ ہے لہذا افسران روزانہ کی بنیاد پر آپس میں میٹنگ کرکے کوآرڈی نینشن بہتر بنائیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

علامہ اقبال ٹاؤن کی یونین کونسل 212 میں 8 کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: وزیر بلدیات پنجاب میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ یونین کونسل 212 علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں آٹھ کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

ان منصوبوں میں واٹر سپلائی، سیوریج اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے اسی لیے وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کے وڑن کے مطابق عوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اولمپیا سٹریٹ علامہ اقبال ٹاؤن میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

بعد ازاں میاں محمود الرشید نے علامہ اقبال ٹاؤن میں  ایک ننھی بچی کو قطرے پلا کر خسرہ سے بچاؤ کی مہم کا افتتاح بھی کیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

جدید طرزِ تعمیر کے باورچی خانے میں شعلہ گماں رنگوں کی اہمیت

[ad_1]



Post Views:
1

باورچی خانہ کسی بھی گھر کا مسلسل استعمال ہونے والا ایک ایسا حصہ ہے جہاں صبح سے لے کر رات تک ہر فرد کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ تاہم عمومی طور پر اس کی تزئین و آرائش کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر آپ نے بھی گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے باورچی خانے کی تزئین و آرائش کو نظرانداز کیا ہوا ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے باورچی خانے پر تھوڑی توجہ مرکوز کرتے ہوئے اسے گھر کا ایک مثالی حصہ بنا سکتے ہیں۔ باورچی خانے کی تزئین و آرائش کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اس میں ایسے رنگ بھریں جو نا صرف انکھوں کو بھلے محسوس ہوں بلکہ گھر کی شادابی میں بھی اضافے کا باعث بنیں۔

باورچی خانے کی دیواروں کے لیے رنگوں کا انتخاب

غالباً باورچی خانے میں رنگ بھرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کی دیواروں پر رنگ و روغن کے لیے دلفریب رنگوں کا انتخاب کیا جائے۔ اس کے لیے ایک یا دو گہرے شوخ رنگوں کا انتخاب کریں اور باورچی خانے کی دیواریں ان رنگوں سے سجا دیں۔ یقین کریں کہ باورچی خانے کی دیواروں پر رنگ و روغن پر آپ کا خرچہ صرف پینٹ کے دو چار ڈبوں سے زیادہ نہیں آئے گا۔ اکثر لوگ باورچی خانے صرف ایک رنگ کا استعمال بہتر تصور کرتے ہیں لیکن اگر آپ بھی ایسی سوچ کے حامل ہیں تو اس کیلئے ہماری تجویز ہے کہ اس مرتبہ آپ ایک سے زائد شوخ گہرے رنگوں کا انتخاب کریں اور اپنی بہترین تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے باورچی خانے کو نئی جلا بخشیں۔

باورچی خانے میں موجود الماریوں پر بکھرتے رنگ

دیواروں کے بعد آپ اپنی توجہ کچن کیبنٹس کی طرف دیں کیونکہ یہ آپ کے کچن کے سب سے نمایاں ضروریات میں سے ایک ہوتی ہیں۔ یہ کچن میں سب سے زیادہ جگہ لینے گھیرنے والی ایسی سہولیات ہوتی ہیں اور ان الماریوں میں رنگ بھکیرنا ایک دلفریب عمل ہو سکتا ہے۔ باورچی خانے میں موجود الماریوں اور کیبنٹس کے معاملے میں اکثر لوگ بنیادی رنگوں کے ساتھ جُڑے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جیسے سفید یا لکڑی کا عام رنگ۔ تاہم اگر آپ کے کچن کی گیلری یا کھڑکی ہریالی اور سبزے میں کھلتی ہے تو آپ کچن کیبنٹس کو ہرا رنگ اور اگر آپ کا گھر ساحل سمندر کے قریب ہے اور آپ کے کچن کی گیلری یا کھڑکی سمندر کی طرف کھلتی ہے تو آپ کیبنٹس کو ہلکا نیلا رنگ کرکے باہر کے فطری ماحول کو اپنے کچن میں لاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عام طور پر گہرے نیلے رنگ کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن یہ کچن کے کیبنٹس کے لیے ایک شوخ انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔

 

کسی ایک منفرد رنگ کی مدد سے ماحول کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے

اگر آپ اپنے باورچی خانے میں رنگوں کے انتخاب کو ایک ہی تھیم دینا چاہتے ہیں تو مونوکروم تھیم اپنائیے۔ ایک ایسا رنگ جو آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے اس کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے شیڈز کی مکمل رینج کو اپنے کچن میں لے آئیں۔ رنگوں کو خود پر حاوی کرنے کے بجائے خود کو ان رنگوں میں ڈبو دیں جیسے اگر آپ نیلے رنگ کا انتخاب کرتے ہیں تو فرش کے لیے اسکائی بلیو، اسٹول کے لیے ڈارک بلیو اور کیبنٹس کے لیے گرے بلیو رنگوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

باورچی خانے کے فرش کے لیے دیدہ زیب ڈیزائن کا انتخاب

باورچی خانے کے فرش کے لیے دو مختلف رنگوں کے ٹائل یا ماربل کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ سفید اور کالے رنگ کے ٹائلوں کا انتخاب کچن میں کمال خوبصورتی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ کاؤنٹر ٹاپ اور پچھلی دیوار کے لیے بھی شوخ پیٹرن والی ٹائلوں یا وال آرٹ کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

باورچی خانے کی منفرد اور تاریخی ورثہ کی حامل اشیاء سے تزئین و آرائش

اگر کہیں قدیم زمانے کی اشیاء رکھی نظر آئیں تو ان کی کشش ہمیں اپنی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کردیتی ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ قدیم اشیاء کا ایک اپنا منفرد رنگ ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے باورچی خانے میں اینٹیک رنگ لانا چاہتے ہیں تو بہت ساری قدیم اشیاء اپنے باورچی خانے میں لے آئیے۔ آپ خود محسوس کریں گے کہ آپ کا کچن انتہائی دلچسپ اور رنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور اگر کبھی آپ کے کچن میں کوئی تاریخی ورثہ کی حامل اشیاء کا قدردان آ گیا تو آپ کو باتیں کرنے کے لیے ایک دلچسپ موضوع میسر آ سکتا ہے۔

مناسب قیمت میں باورچی خانے کی اشیاء کی سجاوٹ

یقیناً، آج کے دور میں ہر شخص کی جیب اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے کچن کا مکمل طور پر میک اوور کرواسکے یا اگر آپ کرائے کے اپارٹمنٹ یا گھر میں رہتے ہیں تو آپ یہ سوچیں گے کہ آپ دوسرے کے گھر پر سرمایہ کیوں لگائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ رنگوں کے ساتھ تجربات کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ بولڈ رنگوں کے بارے میں اتنے پُریقین نہیں۔ ایسی تذبذب کی صورتحال اور محدود بجٹ کے مسائل سے بچنے کے لیے آپ کم قیمت اَپ گریڈز پر غور کرسکتے ہیں۔ مثلاً کیبنٹس کو تبدیل کرنے کے بجائے صرف ان کے ہینڈل تبدیل کردیں، آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ اس کے نتائج اس قدر شاندار ہوسکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

وفاقی دارالحکومت میں صنعتی علاقے کی توسیع کا منصوبہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسد عمر

[ad_1]



Post Views:
3

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر  نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صنعتی علاقے کی توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر سے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (آئی سی سی آئی) کے ایک وفد نے صدر محمد شکیل منیر کی قیادت میں ملاقات کی۔

آئی سی آئی سی آئی کے نمائندوں نے وفاقی وزیر کو نئے اسلام آباد انڈسٹریل زون کے قیام کے حوالے سے اپنے خیالات سے آگاہ کیا اور منصوبے کے اہم خدوخال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں موجودہ صنعتی علاقوں میں زمین ختم ہو چکی ہے، اور معاشی سرگرمیوں، روزگار اور محصولات پیدا کرنے اور ممکنہ طور پر قیمتی غیر ملکی ذخائر حاصل کرنے کے لیے مزید توسیع کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف اسلام آباد بلکہ اسلام آباد سے ملحقہ علاقوں کے شہریوں کے لیے بھی روزگار کا ذریعہ بنے گا اور صنعت کاری کے لیے بھی مددگار ثابت ہوگا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ

[ad_1]



Post Views:
15

لاہور: سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ اجلاس چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ عبداللہ خان سنبل کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں 1 ارب روپے سے زائد مالیت کی دو ترقیاتی اسکیموں کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان اسکیموں میں 36.57 کلومیٹر طویل قصور حجرہ سے منڈی بصیرپور تک کی سڑک کی بحالی نو کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

مذکورہ منصوبے پر 48 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ دوسری جانب اجلاس میں 63 کروڑ روپے کی لاگت سے شیخوپورہ میں 3.9 کلو میٹر طویل ایک سڑک کی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

وزیرِ اعظم کی ہاؤسنگ پراجیکٹس پر کام تیز کرنے کی ہدایت

[ad_1]



Post Views:
1

اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان نے ملک بھر میں جاری ہاؤسنگ پراجیکٹس کی بروقت تکمیل کے احکامات جاری کردیئے۔

اُنہوں نے گزشتہ روز وزیرِ اعظم آفس میں چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر سے ملاقات کی۔

وزیرِ اعظم کو ملک بھر میں جاری ہاؤسنگ پراجیکٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بروقت تکمیل کی ہدایت کی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

روشن اپنا گھر سکیم: گرانہ ڈاٹ کام، اسٹیٹ بینک کی دبئی میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خصوصی تقریب

[ad_1]



Post Views:
5

گرانہ ڈاٹ کام نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے ہمراہ متحدہ عرب امارات میں روشن اپنا گھر اسکیم کے لانچ ایونٹ کا انعقاد کیا۔ 

تقریب دبئی کے اٹلانٹس ہوٹل میں ہوئی جس میں صدرِ پاکستان عارف علوی اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے خصوصی شرکت کی۔ یاد رہے کہ صدر عارف علوی دو روزہ دورے پر یو اے ای میں موجود ہیں اور اُنہوں نے دبئی ایکسپو 2020 میں پاکستانی پویلین کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔ 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے مُلکی معیشت کا پہیہ چلانے اور رواں رکھنے کا ایک مصمم عزم کیے ہوئے ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے پاکستان میں ترسیلات زر پر ایک مثبت اثر پڑا اور روشن اپنا گھر اسکیم سے اب سمندر پار پاکستانی پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بغیر کسی خوف و خطر کے سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ 

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا تھا کہ روشن اپنا گھر پروگرام سے اوورسیز پاکستانیوں کے سرمائے کے تحفظ اور شفافیت کے فروغ پر خصوصی زور دیا جارہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت ریئل اسٹیٹ ہاؤسنگ میں انویسٹمنٹ میں آسانی کا رجحان ہے۔ 

اس حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ اور سی ای او گرانہ ڈاٹ کام شفیق اکبر نے کہا اوورسیز پاکستانی یقیناً پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، روشن اپنا گھر سکیم سے اوورسیز پاکستانی مُلکی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں براہِ راست حصہ لے سکتے ہیں اور روشن ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس سے سمندر پار پاکستانیوں کے انویسٹمنٹ پوٹینشل کا مکمل ادراک کیا جارہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ روشن اپنا گھر سکیم سے سمندر پار پاکستانیوں کو بغیر کسی خوف کے سرمایہ کاری کا موقع دیا جارہا ہے۔

گروپ ڈائریکٹر گرانہ ڈاٹ کام فرحان جاوید نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے سمندر پار پاکستانیوں کو یہ بہترین موقع فراہم کیا جارہا ہے کہ وہ پاکستان کی معیشت کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی ترقی میں پاکستان کی ترقی پنہاں ہے۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے روشن اپنا گھر پروگرام کا حال ہی میں آغاز کیا ہے۔ اس سکیم کے تحت دنیا بھر میں موجود پاکستانی اپنے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں کسی بھی جگہ اپنا گھر خرید سکیں گے۔ اس ضمن میں مختلف بینکوں کے ساتھ بات بھی کرلی گئی ہے جس کے نتیجے میں یہ طے پایا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو اپنے گھر کے لیے آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں گے۔




[ad_2]

گھر کی ویلیو پر اثر انداز ہونے والے فیکٹرز

[ad_1]



Post Views:
1

ریئل اسٹیٹ میں پراپرٹی ویلیو متعدد فیکٹرز پر منحصر ہوتی ہے۔ کافی لوگ اسے محض ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا کھیل سمجھتے ہیں۔ جیسے پاکستان کو فی الحال دس ملین ہاؤسنگ یونٹس کی ضرورت ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر آبادی کا حجم اسی تناسب سے بڑھتا رہا تو ہر سال اس تعداد میں 3 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کا مزید اضافہ ہوتا چلا جائیگا۔ یعنی سمجھنے میں آسانی کیلئے کہا جاسکتا ہے کہ ہاؤسنگ یونٹس تھوڑے ہیں اور رہائش اختیار کرنے کے خواہشمند زیادہ۔ لہٰذا ماہرین کے مطابق کوئی بھی پراپرٹی ہو، وقت کے ساتھ ساتھ اُس کی قیمت ہر حال میں بڑھے گی۔

اسی طرح سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پراپرٹی کی ویلیو میں صرف اُس کی لوکیشن ہی کا کردار ہوتا ہے۔ وہ لوگ بطور دلیل یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ایک ڈیویلپ شدہ یعنی پلانڈ ایریا میں کسی پراپرٹی کے مالک ہیں تو ایک نسبتاً کم ڈیویلپ علاقے کے مقابلے میں آپ کی پراپرٹی کی قیمت آٹھ گنا تک زیادہ ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی پلانڈ کمیونٹی میں ہونے کی وجہ سے آپ کا گھر بہت سے ایسے وسائل اور سہولیات کی قربت میں ہوتا ہے جس سے غیر آباد علاقوں یا گاؤں دیہاتوں کے لوگ بہت دور ہوتے ہیں۔

آج کی تحریر اُن تمام تر فیکٹرز پر مبنی ہے کہ جن کا مکان کی مجموعی مالی لاگت پر اثر ہوسکتا ہے۔

مکان کا سائز

ریزیڈینشل ریئل اسٹیٹ میں پلاٹ سائز شاید مکان کی ویلیو کے تعین میں سب سے اہم فیکٹر ہوتا ہے۔ پاکستان میں ہاؤسنگ ڈیمانڈ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اِس پانچویں بڑے مُلک میں زمین کی قیمتیں روز بہ روز بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ گزشتہ تین سال کے پراپرٹی ٹرینڈز کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو آپ پر یہ بات آشکار ہوگی کہ اب لوگ آہستہ آہستہ چھوٹے مکانات کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ نہ صرف چھوٹے مکانات کا خیال رکھنا یعنی اُن کی صفائی ستھرائی، تزئین و آرائش کا عمل نسبتاً آسان ہوتا ہے بلکہ ان کی ری سیل ویلیو بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ریزیڈینشل ریئل اسٹیٹ کی بیشتر ڈیمانڈ مڈل کلاس افراد سی ہی آیا کرتی ہے۔

آس پاس کی سہولیات

پلانڈ کمیونٹی میں رہائش کے فوائد سے تو سب ہی آگاہ ہیں۔ ایک ترتیب یعنی مربوط پلان سے بنائے گئے گھر، کشادہ سڑکیں، یکساں ڈیزائن، اور کمرشل اور ریزیڈینشل احاطوں میں نمایاں تفریق وہ نکات ہیں جو کہ وہاں کی پراپرٹی ویلیو میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک پلان کے تحت تعمیر کی گئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں دیکھنے میں ہی انتہائی بھلی اور خوبصورت لگتی ہیں۔ گھر چونکہ یکساں ڈیزائن کے ہوتے ہیں لہٰذا اُن میں لوگ من مرضی کی جمع تفریق نہیں کرسکتے۔ ایسے میں یقیناً وہ لوگ جو کہ جمالیاتی ذوق کے اظہار کو ترجیح دیتے ہیں، اُنہیں تھوڑی الجھن ضرور ہوگی کہ وہ اپنے مکان کو اپنی ہی طبیعت کے مطابق نہیں ڈھال سکتے۔ لیکن دیگر لوگ بہت سے سوچ بچار اور سرمائے کے زیاں سے بچ جاتے ہیں۔ یہاں پراپرٹی ویلیو دیگر جگہوں سے زیادہ اسی لیے ہوتی ہے کہ بنیادی ضروریات کا سامان آپ کو ایک ہی جگہ پر مل جاتا ہے، مثلاً گراسری اسٹورز، اسکول، شاپنگ سینٹرز، بینکس، ریٹیل پارکس وغیرہ ایک مخصوص احاطے میں ہی ہوتی ہیں۔ پلانڈ کمیونیٹی میں ایک امینٹی ایسی ضرور ہوتی ہے جو اُسے اسٹینڈ آؤٹ فیچر مہیا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی لیک ویو پوائنٹ، گالف کورس، منی سینما وغیرہ۔ اس وجہ سے پلانڈ کمیونٹی کے لوگ ایک بھرپور رہائشی لائف سٹائل کے تجربے سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

لوکیشن

پراپرٹی کی قیمت کا تعین کرنے میں، کچھ لوگوں کے مطابق، لوکیشن کا کردار سب سے اہم ہے۔ ویسے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ لوگ کہیں بھی سرمایہ کاری کرنے سے قبل اس پراپرٹی کی لوکیشن اور آس پاس کی سہولیات کا بغور جائزہ لیتے ہیں۔ یہ پراپرٹی کہاں پر ہے، آیا یہ شہر اور تمام ضروریاتِ زندگی کے مراکز کے قریب تر ہے یا اُن سے دور، آس پاس کے علاقے آباد ہیں کہ نہیں ہیں اور آنے والے دنوں میں یہاں پر ترقیاتی منصوبوں کے کتنے آثار ہیں، یعنی ترقیاتی اداروں کی یہاں کتنی توجہ ہوگی۔ یہ وہ تمام سوال ہیں جن کا جواب اگر مثبت ہو تو پراپرٹی کی قیمت زیادہ ہوگی۔ اسی طرح سے اگر کوئی پراپرٹی شہر کے مضافاتی علاقوں میں ہے اور مرکزی علاقے میں نہیں ہے، یعنی اُس سے اسکول، کالج، اہم شاہراہیں، ہسپتال اور شاپنگ سینٹرز دور ہیں تو وہ نسبتاً سستے نرخوں میں دستیاب ہوگی۔

پراپرٹی کی کنڈیشن

قیمتوں کے تعین کے لحاظ اُس پراپرٹی کی کنڈیشن کا کردار بھی اہم ہے۔ یہاں یوز ایبل اسپیس اور ہوم سائز بھی اہم پہلو ہیں۔ کسی بھی مکان کی کنڈیشن اگر ایسی ہے کہ آپ آج قیمت کی ادائیگی کر کے کل ہی اُس میں رہائش پذیر ہوسکتے ہیں تو اس کی قیمت نسبتاً زیادہ ہوگی۔ ایسی پراپرٹی عام اصطلاح میں لیوئبل پراپرٹی کہلاتی ہے یعنی اس میں رہائش فوری طور پر اختیار کی جاسکتی ہے۔ اِس کے برعکس اگر کوئی مکان ایسا ہے کہ اس کی حالت قابلِ رہائش نہیں ہے یعنی اس میں رنويشن اور تزئین و آرائش کا کافی کام ہونا ہے تو پھر اس کی قیمت اتنی نہیں ہوگی۔

اپ گریڈیشن کا پوٹینشل

یہ ذرا تکنیکی نوعیت کا پہلو ہے جس کیلیے آپ کی دیگر تمام پوائنٹس کی نسبت ذرا زیادہ توجہ درکار ہے۔ اگر آپ ایک گھر خرید رہے ہیں اور اس گھر میں من مرضی کی اپ گریڈیشن کا پوٹینشل ہے یعنی اُس مکان کو کسی حد تک مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے تو یہ بھی ایک اہم پہلو ہے جس کا قیمتوں کے تعین پر کافی اثر ہوتا ہے۔ اگر کسی پراپرٹی میں بہتری کی گنجائش ہی نہیں یعنی اُس میں مزید کسی تعمیر کا پوٹینشل نہیں تو خرید کنندگان اُس کی منہ مانگی قیمت ادا کرنے کو راضی نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس کسی پراپرٹی میں تبدیلی اور اُس پر تھوڑی بہت رقم خرچ کر کے اس کی حالت بہتر بنانے کی گنجائش ہے تو اس کی مالی ویلیو زیادہ ہوگی۔ کچھ لوگ اسی عمل کو ہاؤس فلپنگ بھی کہتے ہیں جس میں لوگ ایسی پراپرٹی خریدتے ہیں جو کہ بہترین حالت میں نہیں ہوتی۔ چونکہ ایسا گھر باقی گھروں سے کم قیمت ہوتا ہے لہٰذا سرمایہ کار یہ گھر خریدتے ہیں اور پھر اس کی نوک پلک سنوار کر اسے مارکیٹ ریٹ پر بیچ دیتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
1

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]

امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
109

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]