زیرِ آب تعمیرات کیسے کی جاتی ہیں؟



Post Views:
2

دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ شہر ایسے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں کہ انسانوں کے پاس اب زمین میں جگہ واقعی کم پڑتی جا رہی ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ دنیا میں جہاں فلک بوس عمارتیں تعمیر ہورہی ہیں، وہیں کیوں نہ سمندر کی تہہ میں بھی تعمیرات کا تذکرہ کرلیا جائے۔

آخر کو یہ تعمیرات کیسے ہوتی ہیں، ان میں کونسی تکنیک اور کیسا طریقہء کار استعمال ہوتا ہے، یہ پائیدار کیسے ہوتی ہیں اور انسان یہ سب کب سے کرنے کے اہل ہے، آج کی تحریر پڑھ کر آپ کو ان تمام سوالات کے مدلل جوابات مل جائیں گے۔

یوں تو کہتے ہیں کہ پانی زندگی ہے۔ مگر بہت سا مٹیریل اور بہت سا مادہ ایسا ہوتا ہے کہ جن کی پانی سے بلکل نہیں بنتی۔ پانی جب اپنے قہر میں آئے تو اس کے سامنے بڑے بڑے شہر، بڑی بڑی تخلیقات ڈھیر ہوجایا کرتی ہیں۔ آج کی تحریر میں اُن حفاظتی انتظامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا جو کہ زیرِ آب تعمیرات میں لی جاتی ہیں تاکہ پانی کا خود کے ساتھ برتاؤ نرم رکھا جائے۔

دنیا میں کچھ تعمیرات تو ایسی ہیں جو کہ وقت کے ساتھ زیرِ اب آگئیں، کچھ تعمیرات ایسی ہیں جو بنائی ہی پانی میں گئی ہیں۔ مگر یہ سب ابھی خود میں انسان کو ششدر کرنے کا سامان رکھے ہوے ہیں۔ دنیا کے ان مراکز میں جہاں آنے والے دور کے لیے فیصلے ہوا کرتے ہیں اور اُن فیصلوں کی پلاننگ ہوا کرتی ہے، وہاں زیرِ آب شہر بنانے کی بھی سوچ جاری ہے اور اُمید یہی ہے کہ جلد ہم کسی ایسی خبر کو ضرور سنیں گے کہ دنیا کی پہلی انڈر واٹر سٹی آباد ہوگئی ہے۔

انڈر واٹر کنسرٹرکشن میں آنے والی مشکلات

سب سے پہلے ہم انڈر واٹر کنسرٹرکشن میں آنے والی مشکلات کا تذکرہ کرلیتے ہیں۔ مشکلات ان میں تین طرح سے آیا کرتی ہیں۔ ایک مشکل مٹیریل کے انتخاب کی صورت میں آتی ہے۔

ایک مشکل واٹر پریشر کو کنٹرول کرنے کی صورت میں آتی ہے اور ایک کوروژن کو یعنی کھارے پانی کو برداشت کرنے کی سکت پیدا کرنے کی اور زنگ آلود نہ ہونے کی صورت میں آیا کرتی ہے۔ زمین پر استعمال کیا جانے والا بہت سا ساز و سامان پانی میں استعمال کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اسی طرح سے واٹر پریشر یعنی پانی کے بہاؤ کی شدت سے بھی تعمیرات کو ایسے محفوظ رکھنا ہوتا ہے کہ پانی کے بہاؤ کا تیز یا آہستہ ہونا اُسے خراب نہ کر سکے۔ اسی طرح پانی میں نمک کا تناسب غیر معیاری مٹیریل کو اندر سے کھوکھلا کر سکتا ہے اور یوں تعمیرات دیرپا نہیں رہتیں۔

زیرِ آب تعمیرات میں کیسے مٹیریل کا استعمال کیا جائے؟

دیکھا گیا ہے کہ زیرِ آب تعمیرات میں زیادہ تر کنکریٹ کا استعمال ہوتا ہے۔ کنکریٹ میں کھارے پانی کو برداشت کرنے کی کافی سکت ہوتی ہے اور یہ بدلتے پانی کے بہاؤ کو بھی بآسانی جھیل سکتا ہے۔ اسی طرح سے کنکریٹ سے ڈھکے ہوئے اسٹیل کی بھی زیرِ آب تعمیرات میں کافی حد تک افادیت ہے۔ ایکریلک گلاس بھی اپنے آپ کے اندر ایک کافی مضبوط تعمیراتی مٹیریل ہے۔ یہ ڈیوربل یعنی پائیدار ہوتا ہے، لمبے وقت تک چلتا ہے۔ صحیح مٹیریل کی مدد سے تعمیراتی کمپنیاں طرح طرح کے طریقوں کو استعمال کر کے پانی کے اندر متاثر کن ڈھانچوں کی تشکیل ممکن بناتی ہیں۔

انڈر واٹر کنسٹرکشن کے چند طریقہء کار

تمام طور طریقوں میں ایک چیز یکساں ہے اور وہ ہے کہ آپ زیرِ آب تعمیرات زیرِ آب نہ کریں۔ یعنی مختلف طریقوں سے پانی سے خود کو بچانا یا پھر پانی کی سمت تبدیل کرنا مقصود ہوتا ہے تاکہ وقت بچایا جا سکے اور انڈر واٹر بلڈنگ کے خطرات سے دور ہوا جا سکے۔ بلڈنگ انڈر واٹر کی اصطلاح کا مطلب ہی یہ ہے کہ دورانِ تعمیر مختلف طریقوں سے پانی کو دور کیا جائے اور بعد ازاں ایسی عمارت کو تیار کیا جائے جس کو پانی سے کوئی خطرہ نہ ہو۔

کیسن

اسی میں کہیں نہ کہیں كيسن کا ذکر آتا ہے۔ كيسن وہ واٹر ٹائیٹ اسٹرکچرز ہوتے ہیں جن کو پانی میں نیچے کیا جاتا ہے مگر اُن کے اندر کا خشک ماحول برقرار رہتا ہے۔

ڈرائی انٹیریئر کے حامل کیسن اکثر کسی بھی اسٹرکچر کا فاؤنڈیشن بنتے ہیں۔ بروکلن برج جیسی بڑی بڑی تعمیرات کیسن کے بغیر کچھ نہیں ہیں۔ اگرچہ ہم اکثر پلوں اور ڈیموں کو زیر زمین ڈھانچوں کے طور پر نہیں سوچتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کے بہت سے اہم عنصر، اہم حصے پانی کے اندر موجود ہوتے ہیں۔

کوفر ڈیم

کوفرڈیم عارضی ڈھانچوں کو کہتے ہیں جو پانی کو باہر نکالنے کی سہولت دیتے ہیں جس سے تعمیرات کے لیے خشک اور سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ نام سے پتہ چلتا ہے، کوفیرڈیمز ڈیموں کی طرح ہی کام کرتے ہیں جن سے کسی خاص علاقے کی جانب پانی کے بہاو کو روکنا مقصود ہوتا ہے۔

ایک مکمل تعمیر شدہ کوفرڈیم ایک بڑے، دیواروں والے گڑھے کی طرح لگتا ہے جس کے آس پاس پانی موجود ہوتا ہے۔ کوفرڈیم متعدد مواد سے تیار کیا جاسکتا ہے، جس میں اسٹیل اور پتھر شامل ہیں۔ سب سے بنیادی قسم کا کوفرڈیم گندگی کے ڈھیر لگا کر بنایا جاتا ہے۔

آف سائٹ بلڈنگ

آف سائٹ بلڈنگ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تعمیرات باہر کی جائیں، اُن کی اشیاء باہر اسمبل کی جائے، باہر جوڑی جائے اور پھر اُنھیں کنسٹرکشن سائٹ پر لایا جائے اور لگایا جائے۔ اس طرح کے ڈھانچوں کو پانی میں وزنی اشیاء کے ذریعے نیچے کیا جاتا ہے۔ ان کو اسٹیل پایلز کے ذریعے سمندری زمین کے ساتھ اٹیچ کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی تعمیر میں رسک کم ہوتا ہے یعنی خرابی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ کہیں کوئی چیز خلافِ معمول اور توقع ہو بھی جائے تو اس کی درستگی آسانی سے کی جا سکتی ہے کیونکہ اس طریقے میں تعمیرات پانی سے دور کی جاتی ہیں اور اُنھیں صرف پانی میں لگایا جاتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ملتان کے لیے 14 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری



Post Views:
0

ملتان: ملتان کی ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ کمیٹی (ڈی ڈی سی) نے 275 ملین روپے کے 14 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

یہ اپروول ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی زیرِ صدارت ایک اجلاس میں دی گئی۔

اِن منصوبوں میں 5 روڈ پراجیکٹس، 7 سکولوں کا قیام اور ایک ایک اسٹریٹ لائٹ اور سیوریج سسٹم کا قیام شامل ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




آر ڈی اے نے لینڈ سب ڈویژن رولز 2020 کے اطلاق کی منظوری دے دی



Post Views:
1

راولپنڈی: راولپنڈی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم اور لینڈ سب ڈویژن رولز 2020 کے اطلاق کی منظوری دے دی ہے۔

یہ منظوری آر ڈی اے گورننگ باڈی کے اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت چیئرمین آر ڈی اے طارق محمود مرتضیٰ نے کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ کاروبار میں آسانی اور منظوریوں کے عمل کو آسان رکھنا اُن کی اولین ترجیح ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




حکومت مُلک کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے کوشاں، وزیرِ خزانہ



Post Views:
39

اسلام آباد: وزیرِ خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے حکومت مُلک کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے کوشاں ہے اور اِس ضمن میں ہر طرح کے اقدامات لے رہی ہے۔

وہ منگل کے روز وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور عُمر ایوب سے ملاقات کررہے تھے جہاں اُن کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے لوگوں کو ریلیف دینے کے لیے اپنے بیرونی ڈیویلپمنٹ پارٹنرز کو بھی انگیج کررہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا بیشتر حصہ زراعت پر مبنی ہے اور اس سیکٹر کی تبدیلی کے لیے سنجیدہ اقدامات لیے جا رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو بہتر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اور خود مختار بنانے کے لیے مائیکرو کریڈٹ لون کا اجراء بھی جلد کیا جائے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ایس بی پی کی اسکیم کے تحت 521 سولر پراجیکٹس کا آغاز



Post Views:
15

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر باقر رضا کا کہنا ہے رنیوایبل انرجی فنانسنگ سکیم کے تحت بینکوں نے 521 سولر پراجیکٹس کو 36 ارب روپے جاری کردیئے ہیں۔

وہ ایک ويبینار سے خطاب کررہے تھے جہاں اُن کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے 850 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے چیلنجوں کا مقابلہ کررہا ہے جن کے لیے ماحول دوست منصوبوں کی اشد ضرورت ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ایسے ماحول دوست منصوبوں کے لیے بینکوں کی جانب سے رقوم کا اجراء پاکستان کو اس قابل بنائے گا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کر سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




اپریل میں سیمنٹ کی فروخت میں 40.4 فیصد اضافہ



Post Views:
26

لاہور: آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے مہینے میں سیمنٹ کی مقامی اور بیرونی فروخت میں 40.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ اضافہ اپریل 2020 کے مقابلے میں ریکارڈ کیا گیا اور ماہرین کے مطابق کورونا وبا کے معاشی اثرات کے باوجود یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

رواں سال اپریل میں 4.9 ملین ٹن سیمنٹ کی فروخت ریکارڈ ہوئی جو کہ گزشتہ سال اپریل میں 3.5 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی تھی۔

ترجمان آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسیشن کے مطابق اس سال ماہِ رمضان میں بھی سیمنٹ کی فروخت میں اضافہ دیکھا گیا جو کہ عمومی طور پر کنسٹرکشن کے لحاظ سے ایک جمود کا مہینہ ہوتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




فیصل آباد میں رہائشی پلاٹ خریدنے کی 5 بہترین جگہیں



Post Views:
108

فیصل آباد بغیر کسی شک و شبے کے پاکستان کے اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک انڈسٹریل حب یعنی اس سے ملک کے بیشتر صنعتی تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ مُلکی ٹیکسٹائل سیکٹر کا ایک بڑا حصہ یہاں موجود ہے۔ یہاں کی زراعت سے ملک کی اندورنی ضرویات اور برآمدات کا انتظام ہوتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس سے ویلیو ایڈیڈ پراڈکٹس کا ہونا ممکن ہوتا ہے اور اس سے قومی خزانے کا پھلنا پھولنا یقینی بنتا ہے۔

2016 میں ملکی جی ڈی پی میں فیصل آباد کی شراکت 18 ارب ڈالر رہی تھی۔ فیصل آباد میں کاروبار اور کاروباری مواقع کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ یہاں کا گھنٹہ گھر چوک 8 بازاروں کا ملاپ ہے۔ یہاں کی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ایف ڈی اے ہے یعنی فیصل آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ہے۔

یہ دلیر اور خوبصورت لوگوں کا شہر ہے جن کا تعلق ملکی اصل یعنی اپنی ثقافت سے بہت گہرا ہے۔ کہیں بھی کوئی ثقافتی میلہ ہو، کہیں بھی کسی نہ کسی طور سے مُلکی مٹی اور مٹی سے محبت کا ذکر ہو، فیصل آباد کا اور یہاں کی اشیاء کا نام ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے۔

جہاں اتنے فوائد کی بات ہوگئی، وہیں یہ بات بھی ہوجائے کہ یہ جگہ رہائش کے لیے بھی بہترین ہے۔ آج کی تحریر یہاں کے بہترین رہائشی علاقوں کے بارے میں ہے۔ آپ کو اس تحریر میں یہاں کے بہترین علاقوں اور وہاں مختلف پلاٹ سائز کے عوض دستیاب ریٹس کا پتہ چلے گا۔

پیپلز کالونی

یہ کالونی فیصل آباد ریلوے اسٹیشن اور ہاکی اسٹیڈیم کے بلکل پاس ہے۔ یہ فیصل آباد کے مختلف مراکز سے جڑانوالہ روڈ، حبیب جالب روڈ اور خواجہ اسلام روڈ کے ذریعے مکمل طور پر ملی ہوئی ہے۔ یہاں بھی مکمل طور پر ایک فعال کمرشل علاقہ ہے، بہترین تعلیمی مراکز ہیں اور اعلیٰ ہیلتھ کیئر کی سہولیات موجود ہیں۔ یہاں بیکن ہاؤس سکول، سٹی سکول، فروبلز انٹرنیشل سکول جیسے معیاری تعلیمی نام موجود ہیں جو کہ آپ کو اس علاقے کی اہمیت اور مانگ کی صورتحال بتانے کے لیے کافی ہیں۔ یہاں 5 مرلہ پلاٹ کی قیمت 95 لاکھ سے 1 کروڑ کے مابین ہے۔ اسی طرح 10 مرلہ پلاٹ کی قیمت 2.5 کروڑ تک ہے اور 1 کنال پلاٹ کی قیمت 3.5 کروڑ سے 4 کروڑ تک کے مابین ہے۔

جناح کالونی

یہ کالونی گلبرگ کے بلکل پاس ہے۔ یہ بھی شہر کے اہم مراکز سے جُڑی ہوئی ہے۔ یہاں پر بھی چہل پہل سے بھرپور کمرشل ایریا ہے جو کہ یہاں رہائشی پلاٹ ڈھونڈنے والوں کو ایک ایڈیشنل فائدہ پہنچاتا ہے۔ اسی کے پاس فیصل آباد کی مشہور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی بھی ہے جس تک یہاں سے آسانی سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہاں نیشنل بینک آف پاکستان، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ اور مسلم کمرشل بینک جیسے نام ہیں۔ یہیں انڈیپنڈنٹ میڈیکل کالج بھی ہے۔ یہاں 5 مرلہ پلاٹ کی قیمت 1.25 کروڑ سے 1.40 کروڑ تک کے مابین ہے۔ اسی طرح 10 مرلہ پلاٹ کی قیمت 2.20 کروڑ سے 3 کروڑ تک کے مابین ہے اور 1 کنال پلاٹ کی قیمت 3.5 کروڑ سے لے کر 4 کروڑ کے مابین ہے۔

واپڈا سٹی

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، واپڈا سٹی کو ایمپلائیز کوپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے بنایا ہے اور یہاں بہترین طرزِ زندگی کا تمام انتظام موجود ہے۔ یہ کنال روڈ کے بلکل ہمراہ ہے اور 650 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں بہترین انفراسٹرکچر کا انتظام بھی موجود ہے، روڈوں پر کارپیٹنگ بھی مکمل ہے جبکہ بجلی کی سپلائی بھی بلا تعطل جاری رہتی ہے۔ واپڈا سٹی بہت سی کمرشل سرگرمیوں کا مرکز رہتا ہے جس سے شہر کی مختلف ضروریات کے پورا ہونے کا انتظام ہوتا ہے۔ یہاں 5 مرلہ پلاٹ کی قیمت 50 لاکھ سے 60 لاکھ کے مابین ہے۔ اسی طرح 10 مرلہ پلاٹ کی قیمت 80 لاکھ اور 1.2 کروڑ کے مابین ہے اور 1 کنال پلاٹ کی قیمت 1.8 کروڑ سے لے کر 2.20 کروڑ تک ہے۔

ماڈل سٹی ون

یہ جگہ بھی رہائشی پلاٹ کے لیے ایک اچھا آپشن ہے۔ یہ ایڈن ویلی کے بلکل ساتھ ہے جو کہ کنال ایکسپریس وے کے بلکل قریب ہے۔ ماڈل سٹی ون ابھی ڈیویلپمنٹ کے مرحلے میں ہے اور یہ بات مکمل وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہاں رہائشی پلاٹ ہر لحاظ سے بے فکری کی ضمانت ہے۔

ماڈل سٹی ون ایک محفوظ احاطہ ہے، اس کے گرد ایک حفاظتی پٹی ہے جس سے یہاں کے باسیوں کی حفاظت یقینی بنائی جاتی ہے۔ اسی طرح یہاں بہت سے پبلک پارکس، مساجد، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور گراسری اسٹورز موجود ہیں۔
یہاں 5 مرلہ پلاٹ کی قیمت 50 سے 60 لاکھ کے مابین ہے۔ اسی طرح 10 مرلہ پلاٹ کی قیمت 95 لاکھ اور 1.10 کروڑ کے مابین ہے۔

عبداللہ گارڈن

اس فہرست میں آخری جگہ عبداللہ گارڈن ہے جو کنال ایکسپریس وے فیصل آباد کے ساتھ واقع ہے۔ ہاؤسنگ سوسائٹی تعلیمی اور صحت کی سہولیات سے بھرپور ہے۔ مزید یہ کہ اس سوسائٹی میں بنیادی سہولیات جیسے پارکس، مساجد اور تفریحی مراکز موجود ہیں۔ عبداللہ گارڈن کی توسیع کی جارہی ہے جو کہ اس بات کا عکاس ہے کہ کہاں رہائشی پلاٹوں کی کس قدر مانگ ہے اور یہی توسیع ممکنہ خریداروں کو نئے مواقع فراہم کرتی ہے۔
یہاں 5 مرلہ پلاٹ کی قیمت 65 لاکھ سے 75 لاکھ کے مابین ہے۔ اسی طرح 10 مرلہ پلاٹ کی قیمت 1.3 کروڑ سے 1.5 کروڑ تک کے بیچ میں ہے اور 1 کنال پلاٹ کی قیمت 2.5 کروڑ سے 3 کروڑ کے درمیان ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




وزیرِ اعلیٰ سندھ کی تعمیراتی منصوبوں پر نظرِثانی


Post Views: 0

کراچی: وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کے روز کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر نظرِثانی کی گئی۔

اُنہوں نے شہر میں صفائی ستھرائی اور کورونا ایس او پیز کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔

اس موقع پر اُن کے ہمراہ مرتضیٰ وہاب، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ محمد وسیم، سیکریٹری فنانس حسن نقوی اور کراچی پراجیکٹ ڈائریکٹر خالد مسرور تھے۔

اُنہوں نے وائی جنکشن تا گُلبائی سڑک کی تعمیر کا بھی جائزہ لیا جس پر ایک ارب کی لاگت آئے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہاں نہ صرف سڑک کی تعمیر ہورہی ہے بلکہ سڑک کی کشادگی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے سائٹ ایریا کا بھی جائزہ لیا جہاں 17 سڑکوں کی تعمیر کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

بعد ازاں وزیرِ اعلیٰ بنارس اور معمار کے علاقے بھی گئے جہاں کورونا ایس او پیز اور دیگر تعمیراتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




دسمبر 2022 تک 1604 میگاواٹ کے دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تکمیل کا اعلان


Post Views: 1

اسلام آباد: پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے وزیرِ توانائی محمد حماد اظہر کو آگاہ کیا کہ دسمبر 2022 تک 1604 میگاواٹ کے دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تکمیل کردی جائے گی۔

منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آئی بی شاہ جہان مرزا کا کہنا تھا کہ ان دو منصوبوں سے سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا ہوگی۔

اُن کا کہنا تھا کہ کروٹ آئی پی پی سے 720 میگاواٹ جبکہ سوکی کناری سے 884 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ہوشاب تا آواران سڑک کی تعمیر کا آغاز


Post Views: 0

اسلام آباد: چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت ہوشاب تا آواران سڑک کی تعمیر کا آغاز کردیا گیا ہے۔

یہ سڑک 146 کلومیٹر طویل ہے جس کے ذریعے گوادر بندرگاہ کو سندھ سے جوڑا جا سکے گا۔

وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اظہارِ خیال کررہے تھے جہاں اُن کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر اُن کی اولین ترجیح ہے تاکہ گوادر بندرگاہ تک آسانی سے رسائی ہوسکے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سی پیک آگے بڑھ رہا ہے جس کے ساتھ ہی پاکستان بھی آگے بڑھ رہا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




گورنر پنجاب نے پوٹھوہار کے لیے صاف پانی کے منصوبوں کی منظوری دے دی


Post Views: 4

لاہور: گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے خطہ پوٹھوہار کے لیے صاف پانی کے معتدد منصوبوں کی منظوری دے دی۔

اُنہوں نے چیئرمین پنجاب آبِ پاک اتھارٹی راولپنڈی ڈویژن ڈاکٹر شکیل احمد سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔

چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ نئے منصوبوں پر 4 ارب کی لاگت آئے گی اور منصوبوں کا سنگِ بنیاد اگلے ماہ رکھا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ صوبے کے سبھی اضلاع میں یکساں طور پر منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




اسلام آباد کے ٹیکنالوجی زون میں 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع


Post Views: 0

اسلام آباد: اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اٹھارٹی کے چیئرمین عامر ہاشمی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اسپیشل ٹیکنالوجی زون میں مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے کافی پوٹینشل ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اسپیشل ٹیکنالوجی زون میں اگلے 5 سالوں میں 100 ملین ڈالر تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ شہر کے پہلے ٹیکنالوجی پارک کا جلد 150 کنال اراضی پر افتتاح کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں اسپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی نے ایک نجی کمپنی کے ساتھ ٹیکنالوجی پارک کا ایم او یو بھی سائن کیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔