حکومت نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ ترقیاتی بجٹ میں شامل کر لیا

[ad_1]



Post Views:
5

اسلام آباد:  حکومتی اور نجی شعبے کے مابین عدم اشتراک کے باعث حکومت نے 23 ارب روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کو ترقیاتی بجٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لئی ایکسپریس وے اور راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی منظوری 22 نومبر کو ہونے والے سی ڈی ڈبلیو پی کے آئندہ اجلاس میں متوقع ہے۔ ایکسپریس وے منصوبے کے لیے زمین کے حصول کا عمل شروع ہو چکا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان 25 دسمبر کو اس منصوبے کا باقاعدہ سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

حکام کے مطابق 23 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی زمین کے حصول کے لیے پنجاب حکومت 6 ارب روپے کے فنڈز جاری کرے گی۔

لئی ایکسپریس وے منصوبہ 16.5 کلومیٹر طویل چار رویہ سڑک پر مشتمل ہے جس میں انٹرچینجز اور فلائی اوورز کی تعمیر بھی شامل ہے جبکہ نالہ لئی کے نئے ڈیزائن سے زمین کے حصول کی لاگت میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

علامہ اقبال ٹاؤن کی یونین کونسل 212 میں 8 کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: وزیر بلدیات پنجاب میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ یونین کونسل 212 علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں آٹھ کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

ان منصوبوں میں واٹر سپلائی، سیوریج اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے اسی لیے وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کے وڑن کے مطابق عوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اولمپیا سٹریٹ علامہ اقبال ٹاؤن میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

بعد ازاں میاں محمود الرشید نے علامہ اقبال ٹاؤن میں  ایک ننھی بچی کو قطرے پلا کر خسرہ سے بچاؤ کی مہم کا افتتاح بھی کیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

جدید طرزِ تعمیر کے باورچی خانے میں شعلہ گماں رنگوں کی اہمیت

[ad_1]



Post Views:
1

باورچی خانہ کسی بھی گھر کا مسلسل استعمال ہونے والا ایک ایسا حصہ ہے جہاں صبح سے لے کر رات تک ہر فرد کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ تاہم عمومی طور پر اس کی تزئین و آرائش کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر آپ نے بھی گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے باورچی خانے کی تزئین و آرائش کو نظرانداز کیا ہوا ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے باورچی خانے پر تھوڑی توجہ مرکوز کرتے ہوئے اسے گھر کا ایک مثالی حصہ بنا سکتے ہیں۔ باورچی خانے کی تزئین و آرائش کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اس میں ایسے رنگ بھریں جو نا صرف انکھوں کو بھلے محسوس ہوں بلکہ گھر کی شادابی میں بھی اضافے کا باعث بنیں۔

باورچی خانے کی دیواروں کے لیے رنگوں کا انتخاب

غالباً باورچی خانے میں رنگ بھرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کی دیواروں پر رنگ و روغن کے لیے دلفریب رنگوں کا انتخاب کیا جائے۔ اس کے لیے ایک یا دو گہرے شوخ رنگوں کا انتخاب کریں اور باورچی خانے کی دیواریں ان رنگوں سے سجا دیں۔ یقین کریں کہ باورچی خانے کی دیواروں پر رنگ و روغن پر آپ کا خرچہ صرف پینٹ کے دو چار ڈبوں سے زیادہ نہیں آئے گا۔ اکثر لوگ باورچی خانے صرف ایک رنگ کا استعمال بہتر تصور کرتے ہیں لیکن اگر آپ بھی ایسی سوچ کے حامل ہیں تو اس کیلئے ہماری تجویز ہے کہ اس مرتبہ آپ ایک سے زائد شوخ گہرے رنگوں کا انتخاب کریں اور اپنی بہترین تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے باورچی خانے کو نئی جلا بخشیں۔

باورچی خانے میں موجود الماریوں پر بکھرتے رنگ

دیواروں کے بعد آپ اپنی توجہ کچن کیبنٹس کی طرف دیں کیونکہ یہ آپ کے کچن کے سب سے نمایاں ضروریات میں سے ایک ہوتی ہیں۔ یہ کچن میں سب سے زیادہ جگہ لینے گھیرنے والی ایسی سہولیات ہوتی ہیں اور ان الماریوں میں رنگ بھکیرنا ایک دلفریب عمل ہو سکتا ہے۔ باورچی خانے میں موجود الماریوں اور کیبنٹس کے معاملے میں اکثر لوگ بنیادی رنگوں کے ساتھ جُڑے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جیسے سفید یا لکڑی کا عام رنگ۔ تاہم اگر آپ کے کچن کی گیلری یا کھڑکی ہریالی اور سبزے میں کھلتی ہے تو آپ کچن کیبنٹس کو ہرا رنگ اور اگر آپ کا گھر ساحل سمندر کے قریب ہے اور آپ کے کچن کی گیلری یا کھڑکی سمندر کی طرف کھلتی ہے تو آپ کیبنٹس کو ہلکا نیلا رنگ کرکے باہر کے فطری ماحول کو اپنے کچن میں لاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عام طور پر گہرے نیلے رنگ کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن یہ کچن کے کیبنٹس کے لیے ایک شوخ انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔

 

کسی ایک منفرد رنگ کی مدد سے ماحول کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے

اگر آپ اپنے باورچی خانے میں رنگوں کے انتخاب کو ایک ہی تھیم دینا چاہتے ہیں تو مونوکروم تھیم اپنائیے۔ ایک ایسا رنگ جو آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے اس کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے شیڈز کی مکمل رینج کو اپنے کچن میں لے آئیں۔ رنگوں کو خود پر حاوی کرنے کے بجائے خود کو ان رنگوں میں ڈبو دیں جیسے اگر آپ نیلے رنگ کا انتخاب کرتے ہیں تو فرش کے لیے اسکائی بلیو، اسٹول کے لیے ڈارک بلیو اور کیبنٹس کے لیے گرے بلیو رنگوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

باورچی خانے کے فرش کے لیے دیدہ زیب ڈیزائن کا انتخاب

باورچی خانے کے فرش کے لیے دو مختلف رنگوں کے ٹائل یا ماربل کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ سفید اور کالے رنگ کے ٹائلوں کا انتخاب کچن میں کمال خوبصورتی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ کاؤنٹر ٹاپ اور پچھلی دیوار کے لیے بھی شوخ پیٹرن والی ٹائلوں یا وال آرٹ کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

باورچی خانے کی منفرد اور تاریخی ورثہ کی حامل اشیاء سے تزئین و آرائش

اگر کہیں قدیم زمانے کی اشیاء رکھی نظر آئیں تو ان کی کشش ہمیں اپنی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کردیتی ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ قدیم اشیاء کا ایک اپنا منفرد رنگ ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے باورچی خانے میں اینٹیک رنگ لانا چاہتے ہیں تو بہت ساری قدیم اشیاء اپنے باورچی خانے میں لے آئیے۔ آپ خود محسوس کریں گے کہ آپ کا کچن انتہائی دلچسپ اور رنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور اگر کبھی آپ کے کچن میں کوئی تاریخی ورثہ کی حامل اشیاء کا قدردان آ گیا تو آپ کو باتیں کرنے کے لیے ایک دلچسپ موضوع میسر آ سکتا ہے۔

مناسب قیمت میں باورچی خانے کی اشیاء کی سجاوٹ

یقیناً، آج کے دور میں ہر شخص کی جیب اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے کچن کا مکمل طور پر میک اوور کرواسکے یا اگر آپ کرائے کے اپارٹمنٹ یا گھر میں رہتے ہیں تو آپ یہ سوچیں گے کہ آپ دوسرے کے گھر پر سرمایہ کیوں لگائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ رنگوں کے ساتھ تجربات کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ بولڈ رنگوں کے بارے میں اتنے پُریقین نہیں۔ ایسی تذبذب کی صورتحال اور محدود بجٹ کے مسائل سے بچنے کے لیے آپ کم قیمت اَپ گریڈز پر غور کرسکتے ہیں۔ مثلاً کیبنٹس کو تبدیل کرنے کے بجائے صرف ان کے ہینڈل تبدیل کردیں، آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ اس کے نتائج اس قدر شاندار ہوسکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

وفاقی دارالحکومت میں صنعتی علاقے کی توسیع کا منصوبہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسد عمر

[ad_1]



Post Views:
3

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر  نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صنعتی علاقے کی توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر سے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (آئی سی سی آئی) کے ایک وفد نے صدر محمد شکیل منیر کی قیادت میں ملاقات کی۔

آئی سی آئی سی آئی کے نمائندوں نے وفاقی وزیر کو نئے اسلام آباد انڈسٹریل زون کے قیام کے حوالے سے اپنے خیالات سے آگاہ کیا اور منصوبے کے اہم خدوخال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں موجودہ صنعتی علاقوں میں زمین ختم ہو چکی ہے، اور معاشی سرگرمیوں، روزگار اور محصولات پیدا کرنے اور ممکنہ طور پر قیمتی غیر ملکی ذخائر حاصل کرنے کے لیے مزید توسیع کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف اسلام آباد بلکہ اسلام آباد سے ملحقہ علاقوں کے شہریوں کے لیے بھی روزگار کا ذریعہ بنے گا اور صنعت کاری کے لیے بھی مددگار ثابت ہوگا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ

[ad_1]



Post Views:
15

لاہور: سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ اجلاس چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ عبداللہ خان سنبل کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں 1 ارب روپے سے زائد مالیت کی دو ترقیاتی اسکیموں کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان اسکیموں میں 36.57 کلومیٹر طویل قصور حجرہ سے منڈی بصیرپور تک کی سڑک کی بحالی نو کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

مذکورہ منصوبے پر 48 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ دوسری جانب اجلاس میں 63 کروڑ روپے کی لاگت سے شیخوپورہ میں 3.9 کلو میٹر طویل ایک سڑک کی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

کاروباری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تعمیراتی صنعت میں آمدن کے مواقع

[ad_1]



Post Views:
28

دنیا بھر میں ریئل اسٹیٹ کو ایک کامیاب شعبہ کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور سرمایہ کاری کی اہمیت سے واقف ہر شخص اپنی سرمایہ کاری کا ایک حصہ ریئل اسٹیٹ میں ضرور لگاتا ہے۔ اگر شعبہ تعمیرات کی بات کریں تو تعمیرات کی صنعت میں کام کرنا اور کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے آپ کے پاس علم اور تجربے کا ہونا ضروری ہے جس میں برسوں کی تربیت اور علمی تجربہ شامل ہے۔

تاہم اب تعمیراتی صنعت ایک تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور وہ لوگ جنھوں نے زندگی میں ایک ہتھوڑا تک نہیں اُٹھایا اور نا ہی کبھی ان کا کسی تعمیراتی سائٹ پرجانے کا اتفاق ہوا ہے اور وہ بھی اس صنعت میں اپنے لیے جگہ بنانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔

ہرچندکہ، یہ ممکن ہے تعمیرات کی صنعت میں کوئی تجربہ نہ رکھنے کے باوجود آپ ایک کامیاب ’کنسٹرکشن انٹرپرینیور‘ بن جائیں۔ تاہم اس کے لیے کم از کم آپ میں ایک خصوصیت کا ہونا ضروری ہے: ’’آپ ایک انٹرپرینیور کا دماغ رکھتے ہوں‘‘۔ جی ہاں! سادہ سی بات ہے۔

اگر آپ میں ’کنسٹرکشن انٹرپرینیور‘ بننے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں تو آپ تعمیراتی شعبے میں اپنا نام، پیسہ اور شہرت کما سکتے ہیں۔ تعمیرات کی صنعت ہر وقت ’’کام جاری ہے‘‘ کے مترادف ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ بطور انٹرپرینیور آپ بہتر سے بہتر ہوتے جاتے ہیں۔ تاہم ذیل میں بیان کردہ پانچ ایسی خصوصیات ہیں، جنھیں اپنا کر آپ تعمیراتی شعبے کے ایک کامیاب ’کنسٹرکشن انٹرپرینیور‘ بن سکتے ہیں۔

کنسٹرکشن انٹرپرینیورشپ میں مواقع

عملی اقدامات تعمیراتی صنعت میں کامیابی کی کنجی ہے

کئی لوگوں کے پاس کام کا ایک بہترین آئیڈیا موجود ہوتا ہے، تاہم وہ اس پر عمل درآمد کرنے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ ایک کامیاب نتیجہ، ایک زبردست آئیڈیا کا ہی اختتام ہوتا ہے، تاہم اس کامیابی کا 99فی صد دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ اس پر کس طرح عمل درآمد کرتے اور اسے کس طرح آگے لے کر چلتے ہیں۔ صرف کاغذ پر اپنے خیال کو بہتر سے بہتر کرنے میں ہی نہ پھنسے رہیں بلکہ عملی قدم اُٹھائیں۔

کامیاب انٹرپرینیور ایک زبردست آئیڈیا کو کبھی بھی مہینوں کاغذ تک محدودرکھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرتا۔ اپنے وقت کا مؤثر استعمال کریں اور وقت کے ساتھ سامنے آنے والے چیلنجز کے مطابق اپنے پلان میں ترمیم کریں۔ سب سے اہم قدم، پہلا عملی قدم اُٹھانا ہوتا ہے۔ یہ بات تعمیراتی صنعت کے انٹرپرینیورز پر اور بھی زیادہ لاگو ہوتی ہے، کیونکہ اس صنعت میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ہر صورت کام کو جاری رکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ اگر آپ کام کو مکمل نہیں کریں گے تو ایک جگہ آکر ساری چیزیں اَٹک جائیں گی اور آپ بُری طرح پھنس کر رہ جائیں گے۔

بلند حوصلہ، صبر اور ہمت بڑھائے رکھنا

اگر آپ کو ناکامی سے ڈر لگتا ہے تو اس سے بچنے کے لیے محنت کریں۔ اگر آپ میں ناکامی کا خوف موجود ہے تو اس سے پریشان ہوکر، کام کاج چھوڑ کر ایک طرف ہوجانے کے بجائے، اسے اپنی طاقت بنائیں اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔ کہتے ہیں کہ ہر انٹرپرینیور ز کے اندر عدم تحفظ کا احساس موجود رہتا ہے، تاہم وہ اپنے کام کے ذریعے اس پر حاوی رہتا ہے۔

عدم تحفظ کے احساس کو اپنی توانائی بنائیں، آگے بڑھیں اور کامیابی کے لیے اعتماد تلاش کریں۔ تعمیراتی صنعت میں انٹرپرینیورز کو کئی سطح پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی کسی انفرادی منصوبے میں ناکامی کی صورت میں تو کبھی کنٹریکٹرز اور سپلائرز کے ساتھ تعلقات میں خرابی کی صورت میں۔

دستیاب وسائل کا استعمال یقینی بنانا

کسی بھی عمومی انٹرپرینیور کے مقابلے میں، تعمیرات کی صنعت سے وابستہ انٹرپرینیورز کو باوسائل ہونا چاہیے۔ تعمیرات کی صنعت میں وقت کو پیسہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے یہ اہم ہے کہ آپ اپنے پاس دستیاب تمام وسائل کو ’کیش فلو‘ بڑھانے کے لیے استعمال کریں۔ لنکڈاِن کے شریک بانی رِیڈہوفمین کہتے ہیں، ’’کمپنی شروع کرنے کا مطلب اونچی پہاڑی کے کنارے پر پہنچ کر کود جانا اور پھر تیزی سے نیچے آنے کے اس محدود وقت میں پیراشوٹ تیار کرنا ہے‘‘۔

آپ نوجوان آرکیٹیکٹس، انجینئرز اور کنٹریکٹرز کو بلامعاوضہ یا انتہائی کم معاوضہ پر انٹرن شپ پروگرام کی پیشکش کرسکتے ہیں، جو نا صرف آپ کی کمپنی کے لیے کارگر ثابت ہوں گے بلکہ یہ ان کے کیریئر کو بھی مہمیز دے گی۔

اخراجات اور منافع کی براہ راست نگرانی

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے کاروبار کا حجم کروڑوں اور بتدریج اربوں تک پہنچ جائے تو ہر پروجیکٹ کی خالص شرحِ منافع پر نظر رکھیں۔ آپ کے پروجیکٹ اور کمپنی کی کامیابی اس سے جُڑی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی ’کیش فلو‘ پر بھی نظر رکھیں۔ یہ کام ایک اکاؤنٹنٹ آپ کے لیے بآسانی کردے گا۔ کیش فلو شیٹ سے آپ کو پتہ چلے گا کہ پروجیکٹ کی وصولیوں اور ادائیگیوں کی کیا صورتِ حال ہے اور اس پر آپ کا خالص منافع کتنا ہے۔

یہ آپ کی کمپنی کی مالی صحت جانچنے کا سب سے اہم اور آسان طریقہ ہے۔ اپنے بینک اکاؤنٹ میں رکھے زیادہ کیش سے خوش نہ ہوں، جب تک کہ آپ کو ادائیگیوں کی صورتِ حال کا علم نہ ہو، کیوں کہ وصول ہونے والا کیش جلد ہی ادائیگیوں کی نذر بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے اپنی کمپنی کے کیش فلو پر نظر رکھیں اور اسے ہرگز نظرانداز نہ کریں۔

ایک مثبت سوچ کے ساتھ زندگی بدلنے کی لگن

بہت سارے لوگ تبدیلی کو پسند نہیں کرتے۔ یہ ایک مثبت سوچ نہیں ہے۔ مثبت سوچ رکھنے والے افراد کے لیے تبدیلی کئی مواقع لے کر آتی ہے۔ کامیاب کنسٹرکشن انٹرپرینیور ہر وقت اپنی ٹیم سے یہ پوچھتے ہیں: ’’ہم چیزوں کو اپنے لیے زیادہ آسان اور زیادہ مؤثر کس طرح بنا سکتے ہیں؟‘‘ اس کلچر سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کی ٹیم ہر آئے دن نئے نئے آئیڈیاز لے کر آپ کے سامنے ہوتی ہے۔

ہمیشہ بہتری کے لیے کوشش کریں، چاہے اس کے لیے آپ کو نئی سرمایہ کاری کرنی پڑے۔ اپنے بزنس ماڈل، اپنے سسٹمز اور اپنی سوچ میں تبدیلی لانے سے مت گھبرائیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی کمپنی کی ترقی کا سفر جاری و ساری رہے تو صارفین کے بدلتے رجحانات کے ساتھ آپ کو تبدیلی کو گلے لگانا ہوگا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

کیڈیسٹرل میپنگ، اسلام آباد میں قبضہ مافیا سے 334 ایکڑ زمین واگزار

[ad_1]



Post Views:
36

اسلام آباد: اسلام آباد میں کیڈیسٹرل میپنگ کے استعمال سے قبضہ مافیا سے 334 ایکڑ زمین واگزار کرا لی گئی ہے۔

یہ بات قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ و تعمیرات کے گزشتہ روز منعقد ہونے والے اجلاس میں سامنے آئی۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر نے کی۔

اجلاس میں آپریشنز کی تیزی کیلئے ون ونڈو پورٹل کے قیام، بڑے شہروں کے ماسٹر پلانز کی تیاری اور پراجیکٹ منظوريوں سمیت متعدد اُمور زیرِ بحث آئے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

روشن اپنا گھر سکیم: گرانہ ڈاٹ کام، اسٹیٹ بینک کی دبئی میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خصوصی تقریب

[ad_1]



Post Views:
5

گرانہ ڈاٹ کام نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے ہمراہ متحدہ عرب امارات میں روشن اپنا گھر اسکیم کے لانچ ایونٹ کا انعقاد کیا۔ 

تقریب دبئی کے اٹلانٹس ہوٹل میں ہوئی جس میں صدرِ پاکستان عارف علوی اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے خصوصی شرکت کی۔ یاد رہے کہ صدر عارف علوی دو روزہ دورے پر یو اے ای میں موجود ہیں اور اُنہوں نے دبئی ایکسپو 2020 میں پاکستانی پویلین کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔ 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے مُلکی معیشت کا پہیہ چلانے اور رواں رکھنے کا ایک مصمم عزم کیے ہوئے ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے پاکستان میں ترسیلات زر پر ایک مثبت اثر پڑا اور روشن اپنا گھر اسکیم سے اب سمندر پار پاکستانی پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بغیر کسی خوف و خطر کے سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ 

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا تھا کہ روشن اپنا گھر پروگرام سے اوورسیز پاکستانیوں کے سرمائے کے تحفظ اور شفافیت کے فروغ پر خصوصی زور دیا جارہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت ریئل اسٹیٹ ہاؤسنگ میں انویسٹمنٹ میں آسانی کا رجحان ہے۔ 

اس حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ اور سی ای او گرانہ ڈاٹ کام شفیق اکبر نے کہا اوورسیز پاکستانی یقیناً پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، روشن اپنا گھر سکیم سے اوورسیز پاکستانی مُلکی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں براہِ راست حصہ لے سکتے ہیں اور روشن ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس سے سمندر پار پاکستانیوں کے انویسٹمنٹ پوٹینشل کا مکمل ادراک کیا جارہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ روشن اپنا گھر سکیم سے سمندر پار پاکستانیوں کو بغیر کسی خوف کے سرمایہ کاری کا موقع دیا جارہا ہے۔

گروپ ڈائریکٹر گرانہ ڈاٹ کام فرحان جاوید نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے سمندر پار پاکستانیوں کو یہ بہترین موقع فراہم کیا جارہا ہے کہ وہ پاکستان کی معیشت کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی ترقی میں پاکستان کی ترقی پنہاں ہے۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے روشن اپنا گھر پروگرام کا حال ہی میں آغاز کیا ہے۔ اس سکیم کے تحت دنیا بھر میں موجود پاکستانی اپنے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں کسی بھی جگہ اپنا گھر خرید سکیں گے۔ اس ضمن میں مختلف بینکوں کے ساتھ بات بھی کرلی گئی ہے جس کے نتیجے میں یہ طے پایا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو اپنے گھر کے لیے آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں گے۔




[ad_2]

تعمیراتی صنعت میں فلک بوس عمارتوں کو زلزلے سے محفوظ رکھنے کے سائنسی اطوار | Graana.com Blog

[ad_1]



Post Views:
0

زلزلہ قدرتی آفات کی مختلف اقسام میں سے ایک ایسی تباہ کُن قسم ہے جس کے رونما ہونے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ زلزلے بنیادی طور پر زمین کی تہہ میں موجود پلیٹوں کے سرکنے کے باعث وارد ہوتے ہیں ایک دوسرا نظریہ یہ بھی ہے کہ آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے سے جو آتشی مادہ زمین پر بہتہ ہے وہ بھی زمین کو ہلا کر رکھ دیتا ہے جس کی وجہ سے زلزے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور ان علاقوں میں موجود انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق جاپان میں سالانہ 1500 کے قریب زلزلوں کے واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں تاہم وہاں آنے والے زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ دیگر ممالک کی نسبت انتہائی کم رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جاپان میں بننے والی فلک بوس عمارتوں، سڑکوں، پُل اور دیگر انفراسٹکچر کو زلزلے سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بچاؤ کی تدابیر کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جاتا ہے۔

ترقی کی اس دوڑ کے تاریخی اوراق اگر پلٹ کر دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں میں بتریج اضافے کے باعث فلک بوس عمارتوں کی تعمیر میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عمومی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ تر عمارتوں کی اونچائی شاید ہی 50 منازل سے کم ہو بلکہ اب تو ترقی پذیر ممالک بھی بلند و بالا عمارتوں کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں جہاں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ٹیکنالوجی اور تحقیق کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

تعمیراتی صنعت میں گراں قدر ترقی کے باوجود انسان آج بھی زلزلہ سمیت دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کے مکمل حل کی تلاش میں بے بس نظر آتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے ترقی یافتہ ممالک نے تعمیراتی صنعت میں جدید سائنسی علوم پر استوار زلزے سے بچاؤ کی کچھ ایسی تدابیر اور ٹیکنالوجی متعارف کروا دی ہیں جنھیں اختیار کرتے ہوئے زلزلے کے دوران جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

زلزلے کی صورت میں عمارتی ڈھانچے کو بنیادوں سے الگ رکھنے کی حیرانگیز ٹیکنالوجی

ترقی یافتہ ممالک میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کے ابتدائی مرحلے میں ہی عمارت کی بنیادوں اور اس کے بالائی حصے کے درمیان ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے زلزلہ آنے کی صورت میں اس قدرتی آفت کی شدت مکمل طور پر عمارت کے بالائی حصے تک نہیں پہنچ پاتی یا پھر بالائی حصے میں زلزلے کے اثرات پہنچنے تک اس کی شدت انتہائی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس کے اوپر سائنسی طور پر زلزلہ برداشت کرنے کی بین الاقوامی اداروں سے تصدیق شدہ ’ربر بیئرنگ‘ کی ایک موٹی تہہ رکھی جاتی ہے۔ یہ تہہ ربر، بیئرنگ اور اسٹیل کی پلیٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسٹیل کی پلیٹیں اس تہہ کو عمارت کی بنیادوں اور بالائی حصے سے جوڑتی ہیں۔ زلزلے کی صورت میں اس کا اثر عمارت کی بنیاد سے ہوتا ہوا صرف ربر کی تہہ تک آتا ہے جس سے عمارت کا بالائی حصہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

جاپان کے تعمیراتی ماہرین اور انجینئرز اس ٹیکنالوجی کو ایک درجہ اور آگے لے جا چکے ہیں جس کے تحت عمارت عملی طور پر ہوا میں تیرتی ہے۔ جاپانی ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس پر ہوا سے بھرا کُشن رکھا جاتا ہے۔ یہ کُشن سینسرز کے نظام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ زلزلے کی صورت میں سینسرز کا نظام حرکت میں آتے ہوئے ایئرکمپریسر تک معلومات پہنچاتا ہے۔ ایئرکمپریسر عمارت کے بالائی حصے کو 3 سینٹی میٹر بلندی پر لے جاتا ہے اور زلزلہ ختم ہونے کے بعد عمارت واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے اوراس طرح وہ عمارت زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتی ہے۔

زلزلے کے جھٹکے کی شدت کو زائل بھی کیا جا سکتا ہے مگر کیسے؟

جس طرح کسی بھی گاڑی میں شاک ایبزاربرز اس کے اسپرنگ کی غیر ضروری حرکت کو کُشن فراہم کرتے ہیں ویسے ہی عمارتوں میں بھی ان سے یہی کام لیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عمارت کی ہر منزل پر ’شاک ایبزاربرز‘ نصب کیے جاتے ہیں جس کا ایک سرا ستون اور دوسرا سرا بیم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ہر شاک ایبزاربر ایک پِسٹن ہیڈ پر مشتمل ہوتا ہے جو سیلیکون آئل سے بھرے سلنڈر کے اندر حرکت کرتا ہے۔ جب زلزلہ عمارت کے ساتھ ٹکراتا ہے تو شاک ایبزاربر کا پسٹن سیلیکون آئل پر دباؤ ڈالتا ہے اور زلزلے کی توانائی مکینیکل توانائی میں تبدیل ہوکر گرمی پیدا کرتی ہے اور اس طرح عمارت کا ڈھانچہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

دھات سے بنی دیومت گیند عمارت کا توازن کیسے برقرار رکھ سکتی ہے

یہ ٹیکنالوجی بھی شاک ایبزاربر سے ملتی جلتی ہے۔ دھات سے بنی دیومت گیند جیسے پینڈولم بھی کہا جاتا ہے کے تحت عمارت کے تمام ڈھانچے کا وزن اس کی چوٹی پر مرتکز کردیا جاتا ہے۔ عمارت کی چوٹی پر اس ڈھانچے کو اسٹیل کیبل کے ذریعے توازن فراہم کیا جاتا ہے۔ عمارت کے ڈھانچے اور اسٹیل کیبل کے درمیان مائع نما گاڑھا مادہ بھرا جاتا ہے۔ جب اس عمارت سے زلزلہ ٹکراتا ہے تو پینڈولم اسی قوت کے ساتھ مخالف سمت میں زور لگاتا ہے اور عمارت کو توازن فراہم کرتا ہے۔

ری انفورسڈ کنکریٹ کا عمارت کو زلزلے کی شدت سے محفوظ رکھنے میں کردار

جدید عمارتوں میں زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیے یہ ایک نسبتاً کم لاگت جدید ٹیکنالوجی ہے۔ اس نظام کے تحت ری انفورسڈ کنکریٹ کا ایک ڈھانچہ عمارت کے مرکزی حصے میں ایلیویٹر یا لفٹ کے چاروں اطراف لگایا جاتا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی اس وقت بہترین نتائج دیتی ہے جب اس کی بنیاد کو عمارت سے جدا رکھا جائے۔ بنیاد کو علیحدہ رکھنے کے لیے اس میں ایلاسٹیو میٹرک بیئرنگز لگائے جاتے ہیں۔ کنکریٹ کا ڈھانچہ تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی ایک تہہ اسٹیل اور دوسری تہہ قدرتی ربر یا ایک مصنوعی کیمیاوی مرکب  نیوپرین پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس طرح کے تعمیراتی ڈھانچے کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ عمودی طور پر یہ انتہائی مضبوط ڈھانچہ ہوتا ہے جبکہ افقی طور پر یہ لچکدار رہتا ہے۔ یہ عمارتوں کوزلزلے سے محفوظ رکھنے کی ایک کم لاگت انتہائی مؤثر اور نسبتاً سادہ ٹیکنالوجی ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

تعمیراتی صنعت میں فلک بوس عمارتوں کو زلزلے سے محفوظ رکھنے کے سائنسی اطوار | Graana.com Blog

[ad_1]



Post Views:
10

زلزلہ قدرتی آفات کی مختلف اقسام میں سے ایک ایسی تباہ کُن قسم ہے جس کے رونما ہونے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ زلزلے بنیادی طور پر زمین کی تہہ میں موجود پلیٹوں کے سرکنے کے باعث وارد ہوتے ہیں ایک دوسرا نظریہ یہ بھی ہے کہ آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے سے جو آتشی مادہ زمین پر بہتہ ہے وہ بھی زمین کو ہلا کر رکھ دیتا ہے جس کی وجہ سے زلزے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور ان علاقوں میں موجود انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق جاپان میں سالانہ 1500 کے قریب زلزلوں کے واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں تاہم وہاں آنے والے زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ دیگر ممالک کی نسبت انتہائی کم رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جاپان میں بننے والی فلک بوس عمارتوں، سڑکوں، پُل اور دیگر انفراسٹکچر کو زلزلے سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بچاؤ کی تدابیر کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جاتا ہے۔

ترقی کی اس دوڑ کے تاریخی اوراق اگر پلٹ کر دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں میں بتریج اضافے کے باعث فلک بوس عمارتوں کی تعمیر میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عمومی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ تر عمارتوں کی اونچائی شاید ہی 50 منازل سے کم ہو بلکہ اب تو ترقی پذیر ممالک بھی بلند و بالا عمارتوں کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں جہاں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ٹیکنالوجی اور تحقیق کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

تعمیراتی صنعت میں گراں قدر ترقی کے باوجود انسان آج بھی زلزلہ سمیت دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کے مکمل حل کی تلاش میں بے بس نظر آتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے ترقی یافتہ ممالک نے تعمیراتی صنعت میں جدید سائنسی علوم پر استوار زلزے سے بچاؤ کی کچھ ایسی تدابیر اور ٹیکنالوجی متعارف کروا دی ہیں جنھیں اختیار کرتے ہوئے زلزلے کے دوران جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

زلزلے کی صورت میں عمارتی ڈھانچے کو بنیادوں سے الگ رکھنے کی حیرانگیز ٹیکنالوجی

ترقی یافتہ ممالک میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کے ابتدائی مرحلے میں ہی عمارت کی بنیادوں اور اس کے بالائی حصے کے درمیان ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے زلزلہ آنے کی صورت میں اس قدرتی آفت کی شدت مکمل طور پر عمارت کے بالائی حصے تک نہیں پہنچ پاتی یا پھر بالائی حصے میں زلزلے کے اثرات پہنچنے تک اس کی شدت انتہائی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس کے اوپر سائنسی طور پر زلزلہ برداشت کرنے کی بین الاقوامی اداروں سے تصدیق شدہ ’ربر بیئرنگ‘ کی ایک موٹی تہہ رکھی جاتی ہے۔ یہ تہہ ربر، بیئرنگ اور اسٹیل کی پلیٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسٹیل کی پلیٹیں اس تہہ کو عمارت کی بنیادوں اور بالائی حصے سے جوڑتی ہیں۔ زلزلے کی صورت میں اس کا اثر عمارت کی بنیاد سے ہوتا ہوا صرف ربر کی تہہ تک آتا ہے جس سے عمارت کا بالائی حصہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

جاپان کے تعمیراتی ماہرین اور انجینئرز اس ٹیکنالوجی کو ایک درجہ اور آگے لے جا چکے ہیں جس کے تحت عمارت عملی طور پر ہوا میں تیرتی ہے۔ جاپانی ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس پر ہوا سے بھرا کُشن رکھا جاتا ہے۔ یہ کُشن سینسرز کے نظام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ زلزلے کی صورت میں سینسرز کا نظام حرکت میں آتے ہوئے ایئرکمپریسر تک معلومات پہنچاتا ہے۔ ایئرکمپریسر عمارت کے بالائی حصے کو 3 سینٹی میٹر بلندی پر لے جاتا ہے اور زلزلہ ختم ہونے کے بعد عمارت واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے اوراس طرح وہ عمارت زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتی ہے۔

زلزلے کے جھٹکے کی شدت کو زائل بھی کیا جا سکتا ہے مگر کیسے؟

جس طرح کسی بھی گاڑی میں شاک ایبزاربرز اس کے اسپرنگ کی غیر ضروری حرکت کو کُشن فراہم کرتے ہیں ویسے ہی عمارتوں میں بھی ان سے یہی کام لیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عمارت کی ہر منزل پر ’شاک ایبزاربرز‘ نصب کیے جاتے ہیں جس کا ایک سرا ستون اور دوسرا سرا بیم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ہر شاک ایبزاربر ایک پِسٹن ہیڈ پر مشتمل ہوتا ہے جو سیلیکون آئل سے بھرے سلنڈر کے اندر حرکت کرتا ہے۔ جب زلزلہ عمارت کے ساتھ ٹکراتا ہے تو شاک ایبزاربر کا پسٹن سیلیکون آئل پر دباؤ ڈالتا ہے اور زلزلے کی توانائی مکینیکل توانائی میں تبدیل ہوکر گرمی پیدا کرتی ہے اور اس طرح عمارت کا ڈھانچہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

دھات سے بنی دیومت گیند عمارت کا توازن کیسے برقرار رکھ سکتی ہے

یہ ٹیکنالوجی بھی شاک ایبزاربر سے ملتی جلتی ہے۔ دھات سے بنی دیومت گیند جیسے پینڈولم بھی کہا جاتا ہے کے تحت عمارت کے تمام ڈھانچے کا وزن اس کی چوٹی پر مرتکز کردیا جاتا ہے۔ عمارت کی چوٹی پر اس ڈھانچے کو اسٹیل کیبل کے ذریعے توازن فراہم کیا جاتا ہے۔ عمارت کے ڈھانچے اور اسٹیل کیبل کے درمیان مائع نما گاڑھا مادہ بھرا جاتا ہے۔ جب اس عمارت سے زلزلہ ٹکراتا ہے تو پینڈولم اسی قوت کے ساتھ مخالف سمت میں زور لگاتا ہے اور عمارت کو توازن فراہم کرتا ہے۔

ری انفورسڈ کنکریٹ کا عمارت کو زلزلے کی شدت سے محفوظ رکھنے میں کردار

جدید عمارتوں میں زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیے یہ ایک نسبتاً کم لاگت جدید ٹیکنالوجی ہے۔ اس نظام کے تحت ری انفورسڈ کنکریٹ کا ایک ڈھانچہ عمارت کے مرکزی حصے میں ایلیویٹر یا لفٹ کے چاروں اطراف لگایا جاتا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی اس وقت بہترین نتائج دیتی ہے جب اس کی بنیاد کو عمارت سے جدا رکھا جائے۔ بنیاد کو علیحدہ رکھنے کے لیے اس میں ایلاسٹیو میٹرک بیئرنگز لگائے جاتے ہیں۔ کنکریٹ کا ڈھانچہ تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی ایک تہہ اسٹیل اور دوسری تہہ قدرتی ربر یا ایک مصنوعی کیمیاوی مرکب  نیوپرین پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس طرح کے تعمیراتی ڈھانچے کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ عمودی طور پر یہ انتہائی مضبوط ڈھانچہ ہوتا ہے جبکہ افقی طور پر یہ لچکدار رہتا ہے۔ یہ عمارتوں کوزلزلے سے محفوظ رکھنے کی ایک کم لاگت انتہائی مؤثر اور نسبتاً سادہ ٹیکنالوجی ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

پاکستان میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کا قیام اور وابستہ حقائق

[ad_1]



Post Views:
1

گزشتہ دنوں ادارہ برائے شماریات پاکستان کی ایک رپورٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ رپورٹ میں حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان میں پڑھے لکھے افراد میں سے 24 فیصد مرد اور 40 فیصد خواتین بیروزگار ہیں۔ اب اسے حُسنِ اتفاق کہیں یا کسی ایڈیٹر کا کمال لیکن اخبار کے جس صفحے پر یہ خبر درج تھی عین اسی کے ساتھ دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل کے سی ای او سندر پچائی کا ایک انٹرویو چھپا تھا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے اِس دور میں ہر شخص اپنے موبائل فون کے ذریعے روزگار کے بیش بہا مواقع اپنی ہی جیب میں لیے پھرتا ہے۔ سندر پچائی کے مطابق ٹیکنالوجی نے اس دور میں وہ آسانی پیدا کردی ہے کہ جس شخص کے پاس دنیا کیلئے جو کچھ ہے وہ اپنے موبائل فون کے ذریعے سب کے سامنے پیش کرسکتا ہے اور بدلے میں منہ مانگا معاوضہ وصول کرسکتا ہے۔

اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کا قیام

رواں ماہ ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلیکمیونیکیشن کے ایک اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی بل 2021 متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
عہدیداروں نے وضاحت کی کہ عالمی سطح پر مسابقتی اور برآمد پر منحصر ڈھانچے اور ماحولیاتی نظام کے ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے کیلئے ادارہ جاتی اور قانون سازی کی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔ ارکان نے مذکورہ قانون سازی کی حمایت کی اور بل کو ملکی آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کیلئے ایک بہت اہم اقدام قرار دیا۔

ایک ریگولیٹری اتھارٹی کی ضرورت

یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے خصوصی ٹیکنالوجی زونز کے قیام کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں اور پاکستان کی آبادی، جس کا بیشتر حصہ نوجوانوں پر محیط ہے، کے لیے معاشی و معاشرتی ترقی کا ایک بہترین اسٹرکچر قائم کیا جاسکے۔ دیکھا جائے تو یہ واقعی ایک انقلابی اقدام ہے۔ مانا کہ ٹیلنٹ، ریسورس اور پوٹینشل میں ہمارا کوئی ثانی نہیں اور ذرا نم ہونے پر یہ مٹی اپنی زرخیزی کے بیش بہا ثبوت دیتی ہے مگر ایک مرکزی ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام کسی بھی سیکٹر کو ایک ضابطے اور قائدے کے مطابق چلانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

 

ٹیکنالوجی زونز پر حکومتی موقف

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اُن کی حکومت نوجوانوں کو ٹیکنالوجی اور جدت کے اِس دور سے مستفید ہونے میں معاون بننا چاہتی ہے۔ بقول اُن کے ٹیکنالوجی ہی وہ گروتھ ڈرائیور ہے کہ جس سے صنعت، تجارت اور تعلیم کے میدان میں ترقی کا رجحان بڑھایا جاسکتا ہے۔ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کے قیام سے سرمایہ کاران، انٹرپرنیورز اور کاروباری طبقے کو سائنس و ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کا مکمل سامان مہیا کیا جائیگا اور اُنہیں اپنے کارہائے نمایاں کی انجام دہی میں حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہوگی۔ ایک موقع پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے رواں سال کے ابتدائی مہینے یعنی جنوری میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کا قیام کیا تاکہ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی میں روزگار کی شرح کو بڑھایا جاسکے اور آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دیا جاسکے۔

کچھ مثالوں کی روشنی میں

اس کی ایک مثال یہیں سے لے لیں کہ گزشتہ دنوں پاکستانی اسٹارٹ اپ ایئرلفٹ نے سیریز بی فنانسنگ میں 85 ملین ڈالر کی رقم حاصل کی۔ یہ پاکستانی اسٹارٹ اپ ہسٹری میں اب تک کی سب سے بڑی فنانسنگ ہے۔ اس فنڈنگ کے ذریعے اس نجی کمپنی نے سال 2021 میں پاکستان کی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں 5 فیصد تک کا اضافہ کیا۔ اسی طرح سے حال ہی میں ایک اور پاکستانی اسٹارٹ اپ پوسٹ ایکس نے 1.5 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی۔ اب سوچیے کہ اگر اسی کو نکتہ آغاز گردانتے ہوئے ہمارے پالیسی ساز اس امر کو سمجھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ملکی ترقی کیلئے ضروری اس سیکٹر کی گروتھ کیلئے انقلابی اقدامات کا آغاز کرلیتے ہیں تو یقیناً پاکستان محدود وسائل کے ساتھ بھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں کمالات دکھانے والے ممالک کی فہرست میں صف اول میں ہوگا۔

 

 

ٹیکنالوجی پر مبنی ایک روڈ میپ کی ضرورت

اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے چیئرمین عامر ہاشمی کے مطابق اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کا قیام پاکستان کو جدت کے اِس دور سے استفادہ کرنے کا مکمل موقع فراہم کریگا۔ اُنہوں نے کہا کہ دنیا بڑی تیزی سے ترقی کررہی ہے اور پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی ایک روڈ میپ کی ضرورت ہے جس میں معاشرے کے ہر شخص کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے قیام سے سرمایہ کاروں، بلڈرز اور ٹیکنالوجی کمپنیز کو حکومت کے ساتھ پارٹنرشپ کی صورت میں مراعات دی جائیں گی اور ون ونڈو فسیلیٹیشن کا بھی آغاز کیا جائیگا جہاں لوکل اور انٹرنیشنل کمپنیوں کی بھرپور معاونت کی جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹیک زونز کا مقصد ٹیکنالوجی ٹرانسفر، بیرونی سرمایہ کاری، ہیومن کیپٹل ڈویلپمنٹ، تحقیق و ترقی اور برآمدات بڑھانے کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

وزیر اعلیٰ پنجاب کا لاہور میں ایلیویٹڈ ایکسپریس وے بنانے کا اعلان

[ad_1]



Post Views:
1

لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ لاہور مین بلیووارڈ گلبرگ سے موٹر وے ایم ٹو تک ایلیویٹڈ ایکسپریس وے بنائی جائے گی۔

ایکسپریس وے کینال بینک روڈ، جیل روڈ، فیروز پور روڈ، ملتان روڈ، بند روڈ سے بابو صابو تک تعمیر کی جاءے گی۔ ایک بیان میں عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ایلیویٹڈ ایکسپریس وے سے لاہور کی تقریباً تمام بڑی سڑکیں منسلک ہوں گی جبکہ ایلیویٹڈ ایکسپریس وے کے ساتھ بس کے لئے گزرگاہ بھی بنائی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ گلبرگ ایلیویٹڈ ایکسپریس وے چار یا تین لین تعمیر کرنے پر غور کرنے کا عمل جاری ہے۔ ایلیویٹڈ ایکسپریس وے بننے سے ٹریفک کے دباؤ میں 65 فیصد تک کمی ہوگی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]