لگژری کنڈومینیم پراجیکٹ گالف فلوراز کا مردان اور ملتان میں اوپن ہاؤس، ریکارڈ تعداد میں لوگوں کی شرکت | Graana.com Blog


Post Views:
4

پاکستان کے پہلے لگژری کنڈومینیم پراجیکٹ گالف فلوراز کا مردان اور ملتان میں شاندار انعقاد کیا گیا جس میں ریکارڈ تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

ملتان اوپن ہاؤس کا انعقاد رماڈا ہوٹل ملتان سٹی میں کیا گیا جبکہ مردان اوپن ہاؤس کا انعقاد شیلٹنز میموریز میں کیا گیا۔ دونوں اوپن ہاؤسز میں تمام کورونا ایس او پيز کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا۔

اس ضمن میں ڈائریکٹر گرانہ ڈاٹ کام فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ قدرتی نظاروں اور جدید آسائشوں کے اس امتزاج، جِسے گالفرز پیراڈائز اور قدرتی نروانہ بھی کہا جاتا ہے، میں 523 ہائی اینڈ کنڈومینیمز ہیں جو کہ اسے جڑواں شہروں کی سب سے بہترین ریزورٹ لیونگ کمیونیٹی بناتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کی تعمیر زور و شور سے جاری ہے جبکہ اس کی تکمیل 2025 تک کی جائے گی۔

گالف فلوراز پاکستان کا پہلا لگژری کنڈومنیم کمپلیکس ہے جس کا شمار ابھی سے ہی دنیا کے 20 بہترین لگژری ریزورٹ لیونگ کمیونیٹیز میں ہورہا ہے۔ اس کے ماسٹر پلان میں اسٹیٹ آف دی آرٹ فٹنس فیسلٹی، بچوں کے تفریحی پارکس، چہل قدمی اور جاگنگ کے ٹریکس، اسکائی گارڈن، ہیلی پیڈ اور ایک انفینٹی پول شامل ہیں۔

یہ کمپلیکس بحریہ گارڈن سٹی گالف کورس اور فلورا ہلز کے درمیان بنایا جا رہا ہے جس کا مقصد لوگوں کو پُر افزا اور پُر آسائش طرزِ زندگی سے روشناس کرانا ہے۔

یہ سسٹنیبل ریزیڈینشل ریئل اسٹیٹ پراجیکٹ ہے جس میں سٹوڈیو، 2 اور 3 بیڈروم اپارٹمنٹس ہیں اور یہ گارڈن سٹی بحریہ ٹاؤن کی شاندار لوکیشن پر واقع ہے۔ اس تک ڈی ايچ اے، بحریہ ٹاؤن فیز فائیو، سیون اور ایٹ سے باآسانی پُہنچا جا سکتا ہے۔ یہ پراجیکٹ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے منظور شدہ ہے۔

اس شاندار پراجیکٹ کے علاوہ امارات گروپ کے دیگر پراجیکٹس میں ایمیزون آؤٹ لیٹ مال، فلورنس گیلریا، امارات بلڈرز مال اور مال آف عریبیہ شامل ہیں، جو اسے مُلکی ریئل اسٹیٹ میں ایک نمایاں مقام دیتا ہے۔




راولپنڈی ڈویژن میں 86.9 ارب کے 500 ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ


Post Views:
1

اسلام آباد: حکومت نے راولپنڈی ڈویژن میں 500 ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن پر 86.9 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔

تفصیلات کے مطابق ان 500 منصوبوں میں سے 430 منصوبے ایسے ہیں جو کہ مکمل طور پر منظور شدہ ہیں جبکہ باقی منظوری کے عمل میں ہیں۔

منصوبوں میں 33 کا تعلق ہائی وے ڈویژن سے ہے، 12 کا آر سی ڈویژن، 72 کا بلڈنگ ڈویژن، 50 کا لوکل گورنمنٹ، جبکہ 29 کا تعلق پبلک ہیلتھ سے ہے۔

مزید برآں ایک ڈیم کا منصوبہ بھی پائپ لائن میں شامل کیا گیا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




سی ڈی اے کا جی الیون اور ای الیون میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا فیصلہ


Post Views:
3

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے سیکٹرز جی الیون اور ای الیون میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اُن تمام تر عمارات کے خلاف کاروائیاں کی جائیں گی جو کہ سی ڈی اے بائی لاز کی خلاف ورزی کررہی ہیں۔

اس ضمن میں سی ڈی اے انتظامیہ نے گزشتہ روز متعدد غیر قانونی تعمیرات اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان کے شو کاز نوٹسز جاری کیے۔

سی ڈی اے نے صرف ای الیون میں 18 غیر قانونی عمارات کے مالکان کو اظہارِ وجوہ نوٹسز جاری کیے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




سی ڈی اے کے کمرشل پلاٹس کی نیلامی، انعقاد 4 اور 5 اگست کو جناح کنوینشن سینٹر میں ہوگا


Post Views:
14

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں مختلف کمرشل پلاٹس کی نیلامی کا انعقاد 4 اور 5 اگست کو جناح کنوینشن سینٹر میں کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیلام عام کا آغاز 4 اگست کی صبح 10 بجے ہوگا۔

سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ نیلامی میں فسیلیٹیشن ٹیم کا بھی بندوبست کیا گیا ہے جو کہ سرمایہ کاروں کو مختلف امور پر گائیڈنس فراہم کرے گی۔

اسی طرح بولی کی منظوری کی صورت میں 25 فیصد بڈ اماؤنٹ 30 دنوں کے اندر جمع کروائی جائے گی اور ایڈوانس ٹیکس پرو ریٹا بنیادوں پر لیا جائے گا۔

سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ پوری پیمنٹ کی صورت میں تعمیر کا فوری آغاز ہوسکے گا اور منظوری کی دستاویز کے 30 دنوں کے اندر مکمل رقم کی ادائیگی پر 10 فیصد رعایت دی جائے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ایل ڈی اے کا شہر میں میاواکی جنگلات کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ


Post Views:
0

لاہور: لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے شہر لاہور میں میاواکی جنگلات کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس ضمن میں 96 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ پی ایچ اے کو جاری کیے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ایل ڈی اے کی 3 سکیموں یعنی ایونیو ون، جوبلی ٹاؤن اور محلہ وال میں ابتدائی طور پر میاواکی جنگلات کا قیام کیا جائے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




سی ڈی اے نے اسلام آباد میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال سے متعلق نکاسی آب کا عمل مکمل کر لیا


Post Views:
2

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال سے متعلق نکاسی آب کا عمل مکمل کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں 3 گھنٹوں میں 350 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جس کے بعد مختلف علاقوں میں شہریوں کو سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد سی ڈی اے انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر تمام سڑکوں اور شاہراہوں کو کلیئر کرنے کا عمل شروع کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں آنے والے دنوں میں مزید بارشیں متوقع ہیں جس کی وجہ سے فلڈ سیل کا قیام کردیا گیا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




کراچی میں آئی ٹی پارک کے لیے 400 ملین روپے مختص


Post Views:
3

کراچی: حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت کراچی میں آئی ٹی پارک کی تعمیر کے لیے 400 ملین روپے مختص کردیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکومت رواں مالی سال میں 7050 ملین کی لاگت سے آئی ٹی کے 17 نئے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔

حکومت اس سال ورچوئل تعلیم کی اپ گریڈیشن پر 955 ملین روپے خرچ کرے گی اور آزاد جموں کشمیر میں موبائل سروسز کی بہتری کے لیے 616 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




کے پی حکومت کا صوبے میں 10 اقتصادی زون بنانے کا فیصلہ


Post Views:
0

پشاور: حکومتِ خیبر پختونخوا نے صوبے میں 10 اقتصادی زون اور 19 چھوٹے انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کا فیصلہ کرلیا ہے۔

یہ فیصلہ اگلے 5 سالوں کے لیے جاری کردہ انڈسٹریل پلان کا حصہ ہے۔

یہ فیصلہ منگل کے روز وزیرِ اعلیٰ محمود خان کے زیرِ صدارت ایک اجلاس میں کیا گیا۔

اس ضمن میں ایک 15 رکنی کمیٹی کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس کا مقصد تمام تر فیصلوں کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




سی ڈی اے کا اسلام آباد میں نئی بس سروس شروع کرنے کا اعلان


Post Views:
2

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں نئی بس سروس شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

یہ فیصلہ سی ڈی اے کے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد علی نے کی۔

تفصیلات کے مطابق اس سروس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی اور اس کا نام اسلام آباد بس سروس رکھا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر یہ سروس 30 بسوں پر مشتمل ہوگی جس میں بعد ازاں اضافہ کیا جائے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




وزیراعظم عمران خان کا پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کا عزم


Post Views:
5

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان سیاحت کے اعتبار سے خطے میں سب سے زیادہ وسائل کا حامل ہے اور موجودہ حکومت ان سے مکمل استفادہ کرنے کو یقینی بنائے گی۔

وزیراعظم  کی زیر صدارت سیاحت کے فروغ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے  متعلق جائزہ اجلاس  میں بتایا گیا کہ تمام صوبوں میں سیاحتی مقامات کی جیو میپنگ کا کام تقریباً مکمل کیا جا چکا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ  وزارت خارجہ کی کوششوں سے بیرونِ ممالک قائم 27 سفارتخانوں میں سیاحت کے فروغ کیلئے خصوصی ڈیسک مختص کئے جا چکے ہیں اور 133 کے قریب غیر ملکی سیاحتی کمپنیوں کو پاکستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ غیر ملکی سیاحوں کی سہولت کیلئے ای ویزہ کے اجراء کے وقت کو کم کرکے صرف 7-10 دن کر دیا گیا ہے اور اب تک 71 ہزار سے زیادہ غیر ملکی سیاح ای ویزہ کی سہولت سے استفادہ کر چکے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




تعمیراتی شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال


Post Views:
5

موجودہ صدی کو روبوٹکس کے انقلاب کی صدی مانا جاتا ہے اور ہر جگہ مصنوعی ذہانت اپنا دائرہ کار بڑھاتی جارہی ہے۔ ٹیکنالوجی کے انقلاب کی پوری عمارت مصنوعی ذہانت پر قائم ہے۔

انسان جب آرکیٹیکچرل ڈیزائن میں حیاتیات، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کو لاگو کرتا ہے تو یہ انسانی تجربے میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ انسانی دماغ انتہائی پیچیدہ اور اعلیٰ نوعیت کے حساب کتاب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور فوری طور پر ایک عمارت کے جیومیٹریکل ربط کا اندازہ لگالیتا ہے۔

مصنوعاتی ذہانت کا بڑھتا استعمال پراپرٹی اور کارپوریٹ دونوں سطح پر اخراجات میں کمی لانے کا باعث بنے گا۔ بہت سارے سپورٹ ڈیپارٹمنٹس اور افراد کا کام ختم ہوکر رہ جائے گا۔ تقریباً ہر چیز خودکار نظام پر منتقل ہوجائے گی، جیسا کہ ہم مالیاتی شعبہ میں پہلے ہی دیکھ سکتے ہیں۔

انٹیلیجنٹ آرکیٹیکچر درحقیقت ہے کیا؟

کرسٹوفر الیگزینڈر اپنی شہرہ آفاق کتاب “The Nature of Order”میں ایک ایسے تعمیراتی ڈیزائن کی بات کرتے ہیں جہاں عمارت اور فطرت انسانی ضروریات اور حسِ ادراک سے مطابقت میں ہے۔ یہ ناصرف دنیا کو دیکھنے بلکہ اس سے (اور خود سے بھی) جڑنے کا ایک نیا نظریہ اور انداز ہے۔ کرسٹوفر الیگزینڈر اسے انٹیلیجنٹ آرکیٹیکچر کا نام دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تعمیراتی ڈیزائن کا قدیم نظریہ بھی یہی تھا جسے دنیا نے ترقی کے نام پر فراموش کردیا ہے۔

انٹیلیجنٹ آرکیٹیکچر بنیادی طور پر ایک عمارت یا شہری ماحول کو جانچنے کا طریقہ ہے کہ آیا وہ ہماری جذباتی صحت (ایموشنل ہیلتھ) کے لیے اچھا ہے یا بُرا۔ جی ہاں! ایک عمارت کئی سطحوں پر اچھی یا بُری ہوسکتی ہے۔ لوگوں کو یہ جاننے کے لیے کسی ماہر سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایک عمارت اچھی ہے یا بُری۔ وہ اس سوال کا جواب خود ہی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک عمارت اچھی ہے یا بُری یہ جاننے کے لیے کرسٹوفر الیگزینڈر نے اپنی کتاب میں ایک طریقہ بتایا ہے جسے وہ ’مِرر آف دی سیلف ٹیسٹ‘ کا نام دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں  کہ آپ خود سے صرف ایک سوال کریں: ’یہ عمارت مجھے زندگی کا زیادہ احساس دِلا رہی یا کم‘؟

یہاں سوال کی مخصوص نوعیت کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ نہیں پوچھا گیا کہ: ’کیا آپ اس عمارت کو پسند کرتے ہیں‘؟ یا ’کیا یہ عمارت آپ کو ہیجان کا احساس دِلا رہی ہے‘؟ کیونکہ یہ سوالات ابہام کی طرف لے جائیں گے۔ پسند اور ناپسند انفرادی ترجیحات کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کے تعین میں بیرونی عناصر کارفرما ہوتے ہیں۔ بیرونی عناصر میں پروپیگنڈا ایک بڑا جزو ہے جو فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتا ہے۔

 

عمارتوں کی تعمیر میں عصبی نظام کا کردار

اسی طرح جذباتی ہیجان بھی دو کیفیات سکون یا انتباہ کے باعث پیدا ہوسکتا ہے اور اکثراوقات اس ردِعمل کی اصل وجہ جاننا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کی بجائے کرسٹوفر الیگزینڈر کا تجویز کردہ سوال ہمارے نیم شعور کے ان گہرے دریچوں کو ٹٹولتا ہے جسے انسانی ذہانت کہا جاتا ہے۔ کرسٹوفر الیگزینڈر کا انٹیلیجنٹ آرکیٹیکچر ہماری عصبی ساخت کو ہمارے تعمیراتی ماحول سے جوڑتا ہے۔

ایک اور سوال عمارت کے ربط یا باہمی وصل (Coherence)کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ سوال انتہائی پیچیدہ نظر آنے والی عمارتوں کے ربط کو جانچنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ کسی بھی عمارت کے کسی ایک تعمیری حصے جیسے دیوار، ستون، کھڑکی، کارنس وغیرہ کو دیکھیں اور خود سے ایک سوال پوچھیں:

‘اگر میں اس ٹکڑے کی جگہ تبدیل کردوں یا اس کی شکل بڑی حد تک بدل دوں یا پھر اسے اس جگہ سے ہٹا دوں، تو کیا اس سے عمارت کی مجموعی پائیداری متاثر ہوگی ‘؟

ایک اچھی عمارت میں اس کے حجم کے قطع نظر ہر سوال کا جواب ’ہاں‘ میں ہوگا۔ ایک اچھی عمارت میں اس کا ہر ایک حصہ وہیں ہوتا ہے جہاں اصولاً اسے ہونا چاہیے۔ ایک بے ربط عمارت میں اس کے مختلف حصے ایک دوسرے سے لاتعلق معلوم ہوتے ہیں اور ان کی حیثیت محض ایک نمائشی ٹکڑے کی سی ہوتی ہے جسے اس کی جگہ سے ہٹانے یا اس میں بڑی تبدیلی لانے سے عمارت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 

تعمیراتی صنعت میں نئے رحجانات

انسان جب مادی دنیا سے رابطے میں آتا ہے تو اس کی کچھ بنیادی ضروریات ہوتی ہیں۔ ایک تعمیر شدہ ماحول جینیاتی اعداد و شمار، ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا عمل دخل اور قوتِ شعوری کے مطابق کام کرتا ہے۔ ہم ان تصورات کو آرکیٹیکچرل زبان میں بیان کرسکتے ہیں جنھیں آرکیٹیکٹس اپنے کام میں بہتری لانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

تعمیراتی علم جو تعمیراتی ماحول کی صورت میں سامنے آتا ہے ناصرف پیچیدہ ہے بلکہ ناقابلِ تخفیف بھی ہے۔ جس کے باعث اسے سادہ بنا کر تحریری شکل میں منتقل کرنا مشکل ہے۔ الیگزینڈر نے ’پیٹرن لینگویج‘ میں یہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلاشبہ آرکیٹیکچر کی دنیا ان کے اس نظریے سے خوفزدہ نظر آتی ہے تاہم ان کے اس نظریہ کو مختلف پیچیدہ آرکیٹیکچرل سوفٹ ویئرز تیار کرنے میں استعمال کیا جارہا ہے۔

جب ہم روایتی تعمیراتی ماحول کو انسانی یاداشت کی خارجی شکل یا توسیع کے طور پر دیکھنا شروع کرتے ہیں تب کہیں جاکر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ حیاتیات کس پیچیدگی سے آرکیٹیکچر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان دوست آرکیٹیکٹس ایک ڈیزائن تیار کرتے وقت اس سے متعلق اپنے جذبات و تاثرات اور اس کے ساتھ جُڑی ثقافت کے حوالے سے حساس رہتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




سی ڈی اے کا اسلام آباد میں صفائی مہم تیز کرنے کا اعلان


Post Views:
2

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صفائی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس ضمن میں شہرِ اقتدار کو 4 زونز میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ عید الاضحٰی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

وفاقی ترقیاتی ادارے نے دو ایمرجنسی سیل بھی قائم کردیئے ہیں اور 200 سے زائد ملازمین کو ڈیوٹی سونپ دی گئی ہے۔

اس ضمن میں منگل کے روز چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد علی کے زیرِ صدارت اجلاس ہوا جس میں یہ تمام فیصلے لیے گئے۔

مزید برآں، عید الاضحٰی کے دوران سینیٹیشن ڈیپارٹمنٹ کی چھٹیاں منسوخ کی گئیں تاکہ صفائی ستھرائی کے حوالے سے شہریوں کو کسی قسم کا مسئلہ نہ ہوسکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔