پنجاب حکومت نے 3 ہزار سے زائد ترقیاتی منصوبوں کے لیے 131 ارب روپے جاری کردیئے


Post Views:
3

لاہور: پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ نے 3 ہزار سے زائد ترقیاتی منصوبوں کے لیے 131 ملین روپے جاری کردیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ عبداللہ خان سنبل کی زیرِ صدارت پی اینڈ ڈی کمپلیکس میں ایک اجلاس ہوا۔

جاری منصوبوں کے لیے تمام تر فنڈز یکم جولائی 2021 کو جاری کیے گئے۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ 4,680 منصوبوں میں سے 3,179 منصوبے منظور کر لیے گئے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




سی ڈی اے نے اسلام آباد میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال سے متعلق نکاسی آب کا عمل مکمل کر لیا


Post Views:
2

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال سے متعلق نکاسی آب کا عمل مکمل کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں 3 گھنٹوں میں 350 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جس کے بعد مختلف علاقوں میں شہریوں کو سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد سی ڈی اے انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر تمام سڑکوں اور شاہراہوں کو کلیئر کرنے کا عمل شروع کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں آنے والے دنوں میں مزید بارشیں متوقع ہیں جس کی وجہ سے فلڈ سیل کا قیام کردیا گیا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




وزیراعظم کی ہدایت پر سٹیزن کلب کو عوامی مقاصد کے لیے فعال بنانے سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم


Post Views:
0

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایف نائن پارک میں سٹیزن کلب کی عمارت کو عوامی مقاصد کے لیے بروئے کار لانے سے متعلق امور یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایف نائن پارک میں سٹیزن کلب کا دورہ کیا اس موقع پر چئیرمین سی ڈی اے عامر احمد علی بھی وزیر اعظم کے ہمراہ موجود تھے۔

کابینہ کے حالیہ اجلاس میں سٹیزن کلب کی عمارت کو عوامی مقاصد کے لئے استعمال میں لانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور وزیراعظم کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

وزیرِ اعظم کی ہدایت پر معروف آرکیٹیک نیر علی دادا اور چئیرمین سی ڈی اے پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گءی ہے جو اپنی سفارشات وزیر اعظم کوجلد پیش کرے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




وزیراعظم کی ہدایت پر سٹیزن کلب کو عوامی مقاصد کے لیے فعال بنانے سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم


Post Views:
6

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایف نائن پارک میں سٹیزن کلب کی عمارت کو عوامی مقاصد کے لیے بروئے کار لانے سے متعلق امور یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایف نائن پارک میں سٹیزن کلب کا دورہ کیا اس موقع پر چئیرمین سی ڈی اے عامر احمد علی بھی وزیر اعظم کے ہمراہ موجود تھے۔

کابینہ کے حالیہ اجلاس میں سٹیزن کلب کی عمارت کو عوامی مقاصد کے لئے استعمال میں لانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور وزیراعظم کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

وزیرِ اعظم کی ہدایت پر معروف آرکیٹیک نیر علی دادا اور چئیرمین سی ڈی اے پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گءی ہے جو اپنی سفارشات وزیر اعظم کوجلد پیش کرے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے سی ڈی اے سے رنگ روڈ پراجیکٹ کا ریکارڈ طلب کرلیا


Post Views:
1

اسلام آباد: اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے رنگ روڈ پراجیکٹ کا ریکارڈ طلب کرلیا.

میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ڈی اے بورڈ ممبران نے اس ضمن میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے ساتھ مکمل تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔

سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اُن سے رنگ روڈ کے اُس حصے کا ریکارڈ مانگا گیا ہے جو کہ اسلام آباد کی حدود میں آتا ہے اور رنگ روڈ منصوبے کا دو کلومیٹر حصہ بنتا ہے۔

یاد رہے کہ رنگ روڈ پراجیکٹ پر کام اپریل کے وسط میں روک دیا گیا تھا جب چند ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانے کے لیے پراجیکٹ کی الائنمنٹ میں تبدیلی کا الزام منظرِ عام پر آیا۔

اس ضمن میں پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ دنوں ایک انکوائری کے پیشِ نظر سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن محمد محمود کو گرفتار کیا تھا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




پراپرٹی ویلیو پر کون کون سے فیکٹرز اثر انداز ہوسکتے ہیں؟


Post Views:
2

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ ایک ایسا انویسٹمنٹ ایونیو ہے جہاں آپ لانگ ٹرم یعنی طویل مدت کے لیے اور شارٹ ٹرم یعنی قلیل مدتی بنیادوں پر منافع بخش سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ملکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے پوٹینشل کا یہ عالم ہے کہ ہر شخص اپنا مستقبل معاشی طور پر محفوظ بنانے کے لیے اس کی جانب رجوع یا تو کر چُکا ہے يا کرنے کی سوچ رہا ہے۔

ایسے میں گرانہ ڈاٹ کام جیسے پلیٹ فارم نے بھی آسانیوں کا ایک ایسا باب کھول دیا ہے جو کہ مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں نا ممکنات کو ممکن کر دکھانے کے مترادف ہے۔ ٹیکنالوجی اور پراپرٹی کا امتزاج ہو یا پراجیکٹس کی بروقت ڈیلیوری کی بات ہو، گرانہ ڈاٹ کام کا نام ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں سہولیات کے لحاظ سے ایک لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

انسان جب بھی ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ کا سوچتا ہے، سب سے پہلے اُس کا خیال جگہ کی جانب جاتا ہے۔ دوسرا خیال قیمت کا آتا ہے کہ کس جگہ پر پراپرٹی ہونی چاہیے اور اُس کی قیمت کیا ہونی چاہیے۔ جب اُسے اپنی پسند کی لوکیشن پر پراپرٹی دستیاب ہو اور اس کی قیمت بھی اُس کے بینک بیلنس سے میل کھائے تو وہ سرمایہ کاری کرنے کے فیصلے میں کسی دوسری سوچ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔

کبھی سوچا کہ پراپرٹی کی قیمت کیسے طے کی جاتی ہے؟ یعنی آپ جہاں سرمایہ کاری کرنا چاہیں، وہاں کی جو قیمت ہوتی ہے، اُس کے پیچھے کون کون سے عناصر کار فرما ہوتے ہیں؟ یوں تو کسی سے بھی پوچھا جائے کہ کسی پراپرٹی کی ویلیو کیا ہے تو وہ کہے گا کہ اس کی ویلیو وہی ہے جو کہ کوئی خریدار اس کے عوض دینے کو تیار ہے۔ یہ سچ ہے مگر کسی بھی پراپرٹی ویلیو پر مختلف فیکٹرز اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ سمجھنا اتنا آسان تو نہیں مگر کسی بھی پراپرٹی کی کیا قیمت ہے، اگر زیادہ ہے تو کیوں ہے اور اگر کم ہے تو کیوں ہے، اس کے پیچھے کار فرما فیکٹر ز پر نگاہ دوڑا لی جائے تو معاملات سمجھنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔

آج کی تحریر سرمایہ کاری کے لحاظ سے پراپرٹی ویلیو کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگی۔

لوکیشن

پراپرٹی کی قیمت کو طے کرنے میں لوکیشن کا پہلو سب سے اہم ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کہیں بھی سرمایہ کاری کرنے سے پہلے آپ کو اس پراپرٹی کی لوکیشن دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ پراپرٹی کہاں واقع ہے، آیا یہ شہر اور ضروریاتِ زندگی کے تمام تر مراکز کے قریب تر ہے یا نہیں۔ اس کے آس پاس کے علاقے کتنے آباد ہیں اور آنے والے ایام میں یہاں پر ترقیاتی اداروں کی کتنی توجہ ہوگی۔یہ وہ تمام تر عناصر ہیں جن کا جواب اگر مثبت ہے تو پراپرٹی کی قیمت زیادہ ہوگی۔ اسی طرح سے اگر کوئی پراپرٹی شہر کے مرکزی علاقے میں نہیں اور مضافاتی علاقوں میں ہے جس سے اسکول، کالج، ہسپتال، شاپنگ سینٹرز اور اہم شاہراہیں دور ہیں تو سمجھ جائیں کہ وہ نسبتاً سستے نرخوں میں دستیاب ہوگی۔

پراپرٹی کی کنڈیشن

قیمتوں کے تعین کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر اُس پراپرٹی کی کنڈیشن آتی ہے۔ یہاں ہوم سائز اور یوز ایبل اسپیس بھی اہم پہلو ہیں۔ کسی بھی پراپرٹی کی اگر کنڈیشن ایسی ہے کہ آپ آج دام ادا کر کے کل کو اُس میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں تو اس کی قیمت زیادہ ہوگی۔ ایسی پراپرٹی کو لیوئبل پراپرٹی کہتے ہیں جس میں فوری طور پر رہائش اختیار کی جا سکے۔ اِس کے برعکس اگر کوئی پراپرٹی ایسی ہے کہ اس کی حالت قابلِ رہائش نہیں ہے تو پھر اس کی قیمت اتنی نہیں ہوگی۔ یوں اسی معاملے کو پلاٹ کے پیرائے میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پلاٹ اگر ایسا ہے کہ اس کی متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی کو تمام تر قانونی اداروں سے این او سیز مل چکے ہیں اور ڈیولپمنٹ شروع ہوچکی ہے تو پلاٹ کی قیمت زیادہ ہوگی۔ اس کے برعکس اگر آپ اس جگہ پلاٹ خریدیں جہاں متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی کو ابھی بہت سے قانونی معاملات طے کرنے ہیں تو اس کی قیمت نسبتاً کم ہوگی۔

اپ گریڈیشن کا پوٹینشل

اب یہ ذرا ٹیکنیکل پہلو ہے جس کے لیے آپ کی دیگر پوائنٹس کی نسبت ذرا زیادہ توجہ درکار ہے۔ آپ دیکھیں کہ اگر آپ ایک گھر خرید رہے ہیں تو اس میں من مرضی کی اپ گریڈیشن کا کتنا پوٹینشل ہے۔ یعنی اُس پراپرٹی کو کس حد تک بہتر بنایا جا سکتا ہے، یہ بھی ایک اہم پہلو ہے جو کہ قیمتوں کے تعین پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر کسی پراپرٹی کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا یعنی اُس میں تعمیر کا اتنا پوٹینشل نہیں تو لوگ اُس کے لیے منہ مانگی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر کسی پراپرٹی میں تبدیلی کرنے، اُس پر تھوڑی سی رقم خرچ کر کے اس کی حالت بہتر بنا سکتے ہیں تو اس کی ورتھ زیادہ ہوگی۔ کچھ لوگ اسی طرح ہاؤس فلپنگ بھی کرتے ہیں۔ یہ ریئل اسٹیٹ سے آمدن کے حصول کا ایک دلچسپ طریقہ ہے۔ اس طریقے سے لوگ ایک ایسا گھر خریدتے ہیں جو کہ اپنی بہترین حالت میں نہیں ہوتا۔ یعنی مکان میں کافی ایسا تعمیراتی کام کرنا ہوتا ہے جس سے گھر کی حالت دُرست ہو۔ یہ گھر عموماً قیمت میں باقی گھروں سے کم ہوتا ہے۔ سرمایہ کار کیا کرتے ہیں کہ وہ یہ گھر خریدتے ہیں اور پھر اس کی حالت دُرست کر کے اسے مارکیٹ کے مطابق ریٹ پر بیچ دیتے ہیں۔

لوکل مارکیٹ کی صورتحال

جب آپ مارکیٹ اسٹڈی کریں گے تو آپ کو آئیڈیا ہوگا کہ آیا مارکیٹ خرید کنندگان کے حق میں ہے یا فروخت کرنے والوں کے۔ لیکن اس بات کا اندازہ کیسے لگایا جائے؟ یہ بھی کوئی مشکل نہیں جناب۔ آپ نے دیکھنا صرف یہ ہے کہ مارکیٹ میں گھروں کی قلت ہے یا بہتات۔ یعنی آپ نے غور کرنا ہے کہ کسی ایک خاص احاطے میں فروخت کرنے والے تعداد میں زیادہ ہیں یا خریدنے والے۔ اگر فروخت کرنے والے زیادہ ہیں تو اس پراپرٹی کی قیمت اُس حساب سے لگائی جائے گی یعنی کم لگائی جائے گی۔ اسی طرح اگر خریدار زیادہ ہیں اور مکانات تھوڑے تو اس کا مطلب ہے کہ شہر کی ہوا آپ کو اپنی پراپرٹی ایک بہتر یعنی زیادہ قیمت میں فروخت کرنے کی مکمل اجازت دیتی ہے۔ یہ سب باتیں آپ پر آشکار ہوں گی مگر مارکیٹ اسٹڈی کے بعد۔




سی پیک کے تحت شمالی علاقہ جات کے پوٹینشل سے فائدہ اُٹھانے کا فیصلہ


Post Views:
16

اسلام آباد: چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت شمالی علاقہ جات کے پوٹینشل کا مکمل فائدہ اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں شمالی علاقہ جات کی انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن کی جائے گی جبکہ نئے ٹورسٹ زونز اور ایئرپورٹس کا قیام کیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ترقی و خوشحالی کا بیش بہا پوٹینشل ہے جس سے سی پیک کے تحت فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ریئل اسٹیٹ میں انویسٹمنٹ پورٹ فولیو سے کیا مراد ہے؟


Post Views:
3

اس میں تو کوئی شک ہے ہی نہیں کہ اپنے سرمائے کو بڑھنے کا موقع دینے کے لیے ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ یہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ایک عام خیال اور تاثر ہے۔ ریئل اسٹیٹ اُن چند ایک سیکٹرز میں سے ایک ہے جو کہ آپ کو قلیل عرصے میں معاشی طور پر مضبوط کرنے کی مکمل سکت رکھتا ہے۔

پوری دنیا میں پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ چونکہ پاکستان میں بھی ریئل اسٹیٹ کو ایک پرافٹ ایبل وینچر کہا جاتا ہے، نہ صرف لوکل بلکہ اوورسیز پاکستانی بھی مُلک کی پراپرٹی مارکیٹ میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں۔

پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بہتری کا سامان ہے جس میں گرانہ ڈاٹ کام جیسے پلیٹ فارمز نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس ضمن میں ٹیکنالوجی کا کردار بھی اہم رہا ہے اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والوں کا کردار بھی کلیدی رہا ہے۔ گرانہ ڈاٹ کام پراپرٹی اور ٹیکنالوجی کا ایک امتزاج ہے یعنی آپ کو یہاں ریئل اسٹیٹ سے جُڑے ہر مسئلے کا حل انتہائی آسانی سے مل سکتا ہے چونکہ یہ اس ضمن میں درپیش ہر اُلجھن کا مکمل جواب ہے۔

ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری ہر طرح کی سرمایہ کاریوں میں بہترین آپشن ہیں۔ زمین تب خریدنی چاہیے جب وہ آباد نہ ہو۔ آجکل کے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ایسی زمین کی طرف نگاہ لے کر جائیں جس کے آس پاس ڈیویلپمنٹ کے آثار ہوں۔ کیونکہ جلد آبادیاتی لہر اُس سے ٹکرائے گی اور اس کے بعد اُس زمین کی قیمتیں آسمان سے ٹکرائیں گی۔ ایسی زمین نہ صرف آپ کو سستی ملے گی بلکہ ایسی زمین میں سرمایہ کاری آپ ایک طویل مدتی بنیاد پر کر سکیں گے۔

پراپرٹی پورٹ فولیو سے مراد؟

آج پراپرٹی پورٹ فولیو کی بات کرتے ہیں اور سب سے پہلے اس بات پر غور کرتے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان دو الفاظ کے مجموعے کا مطلب کیا ہے۔ پراپرٹی پورٹ فولیو دراصل اُن ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹس یعنی سرمایہ کاریوں کا مجموعہ ہے جو ایک شخص نے انفرادی طور پر کی ہیں۔ اسٹرونگ یعنی مضبوط اور بہترین پورٹ فولیو کا مطلب ہے کہ ایک شخص نے متعدد اقسام کی ریئل اسٹیٹ پراپرٹیز میں اپنا سرمایہ لگایا ہے۔ یہ اُس رسک کو کم کردیتا ہے جو کہ جائیداد میں سرمایہ کاری سے وابستہ ہیں۔ ایک شخص کی کوئی سرمایہ کاری اگر اُس کا من چاہا رنگ نہ بھی لائے تو اس کی دیگر سرمایہ کاریاں اُسے اُس مقام تک پہنچا دیا کرتی ہیں کہ جہاں وہ انفرادی طور پر پہنچنا چاہتا ہے۔ متعدد شہری احاطوں میں اپنا سرمایہ لگانا ایک انسان کو وقتی طور پر رینٹل انکم دیتا ہے جبکہ کثیر الوقتی بنیادوں پر انسان کے لیے ایک سود مند انویسٹمنٹ بن جایا کرتا ہے۔

کم سے کم کتنی پراپرٹیز میں سرمایہ لگانا چاہیے؟

انسان کے پورٹ فولیو کو سیٹ کرنے کے لیے یہ تو کہیں نہیں لکھا گیا کہ کتنی پراپرٹیز میں سرمایہ کاری درکار ہے لیکن بین الاقوامی جرائد کے مطابق یہ ضروری ہے کہ کم سے کم 3 یا اُن سے زائد پراپرٹیز میں سرمایہ لگایا جائے تاکہ پورٹ فولیو کو ایک مضبوط پورٹ فولیو قرار دیا جا سکے۔

 

پھر اِن پراپرٹیز کی اقسام مختلف ہونی چاہئیں۔ کہیں آپ ہاؤس فلپنگ کی ٹیکنیک آزما سکتے ہیں، کہیں آپ کمرشل سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور کہیں آپ ریزیڈینشل سرمایہ کاری سے اپنے آپ کو مستفید کر سکتے ہیں۔ یوں انواع و اقسام کے طور طریقوں سے آپ اپنا انویسٹمنٹ پورٹ فولیو وسیع و عریض بنا سکتے ہیں۔

کچھ ضروری باتیں

اس ضمن میں ضروری ہے کہ آپ کی زیرِ تعمیر اور آنے والی پراپرٹیز پر نظر ہو۔ آپ کو پتہ ہو کہ آگے کون کون سے پراجیکٹس آنے والے ہیں اور اُن کا مستقبل میں کیا پراسپیکٹ ہے۔ آپ کو ملک کے بڑے علاقوں یعنی کراچی، لاہور، اسلام آباد کی پراپرٹی مارکیٹ کا پتہ ہونا چاہیے۔ دیکھیے کہ لاہور میں لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، کراچی میں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) اور اسلام آباد میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے ہائی رائز عمارات کی اجازت دے دی ہے اور پورے پاکستان میں پراپرٹی مارکیٹ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ گرم ہے۔ لوگ اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے کار فرما ہیں اور اس ضمن میں مختلف پراجیکٹس کی جانچ پڑتال کررہے ہیں۔

 

پاکستانی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ انویسٹر یعنی سرمایہ کار کے گرد گھومتی ہے۔ یہ سرمایہ کار ہی ہوتے ہیں جو کسی جگہ کا رُخ کرلیں تو صحراؤں میں آبی ذخائر پیدا کرلیتے ہیں اور اگر کہیں سے روٹھ جائیں تو خوشحالی کی مچھلیاں معیشت کے ساحل سے دور ہوجاتی ہیں۔ یہ سرمایہ کار ہمیشہ ایسے گھروں کی تاک میں رہتے ہیں جو کہ افورڈیبل ہوں اور جنہیں فروخت اور رینٹ کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

بطور انویسٹر آپ کی عادات و اطوار

ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کامیاب بنانے کا تعلق اس بات سے مگر کم ہے کہ آپ کہاں انویسٹ کررہے ہیں اور اس بات سے زیادہ ہے کہ بطور ایک انویسٹر آپ کی عادات و اطوار کیسی ہیں۔ ہم خوش قسمتی سے ایک ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جہاں بہت سے لوگوں نے خود کو اس سیکٹر میں ایک کامیاب سرمایہ کار کے طور پر منوا لیا ہے اور اب وہ دور ہے جہاں اُن کے تجربات سے نچوڑ سے ہم ایک ایسی گائیڈ لائن ترتیب دے سکتے ہیں جس سے آنے والے سرمایہ کار سیکھ سکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




ٹورزم کے فروغ سے مُلکی معیشت استحکام کی جانب گامزن، وزیرِ مملکت فرخ حبیب


Post Views:
5

فیصل آباد: وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا کہنا ہے حکومت کی تمام تر توجہ ٹورزم کے فروغ کی جانب ہیں جس سے مُلکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے۔

وہ ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے جہاں اُنہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) نے فیصل آباد تا سکردو ڈائریکٹ پروازوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس سے سیاحت کا مزید فروغ ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان قدرتی نظاروں اور حسین وادیوں کا شاہکار ہے جہاں ٹورزم کا بہت پوٹینشل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا سے دنیا بھر میں سیاحت کو نقصان پہنچا تاہم اب صورتحال بہتر ہورہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




گذشتہ مالی سال کے دوران عوامی ترقیاتی منصوبوں پر 300 ارب سے زائد رقم خرچ کی گئی: وزیرا علیٰ پنجاب


Post Views:
3

لاہور: گزشتہ مالی سال کے دوران پنجاب نے 308 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے 300 ارب سے زائد رقم ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ  پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پیغام ارسال کیا گیا جس میں  ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مختص کردہ ترقیاتی بجٹ کا 97 فیصد ترقیاتی کاموں پر خر چ کرنا حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

وزیر اعلیٰ  پنجاب نے کہا کہ رواں مالی سال کیلئے مختص 560 ارب روپےکےترقیاتی بجٹ کوسو فیصد خرچ کرنے کیلئے حکمت عملی وضع کر رہے ہیں تاکہ وسائل کو استعمال کرکے ترقیاتی  منصوبوں  کو بروقت مکمل کیا جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ترسیلاتِ زر سے متعلق نئی مراعات متعارف کروا دیں


Post Views:
1

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکاری نظام میں ترسیلاتِ زر سے متعلق نئی مراعات متعارف کروا دیں ہیں جن کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کی بینکوں کے ذریعے مالی ترسیلات کو فروغ حاصل ہو گا۔

متعارف کردہ نئی مراعات کے مطابق بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو رواں مالی سال کے ترسیلاتِ زر میں 10 فیصد نمو پر ایک امریکی ڈالر کے عوض 75 پیسے ریوارڈ دیا جائے گا۔

جبکہ ترسیلاتِ زر میں 15 فیصد نمو کی صورت میں بینک اور دیگر مالیاتی ادارے ایک امریکی ڈالر کے عوض 1 روپیہ ریوارڈ حاصل کر سکیں گے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری مراسلہ کے مطابق ان مراعات کا بنیادی مقصد موجودہ مالی سال کے دوران بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو گھریلو ترسیلات سے متعلق مارکیٹنگ میں مدد فراہم کرنا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




بلوچستان حکومت نے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق آٹومیشن سسٹم متعارف کروا دیا


Post Views:
2

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق آٹومیشن سسٹم متعارف کروا دیا ہے ۔ یہ سسٹم بار کوڈ کی مدد سے ترقیاتی منصوبوں کی تازہ ترین صورتحال کا ریکارڈ مرتب کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

بلوچستان حکومت کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد خود کار نظام ہے جس کی مدد سے بجٹ میں شامل ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تازہ تریں معلومات اور تفصیلات فوری حاصل کی جا سکتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سماجی و معاشی ترقی کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال اور اقدامات بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائے گئے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔