منہ مانگے دام کا حصول یقینی بنانے کے لیے گھر کی فروخت سے قبل اس کی تزئین ناگزیر ہے

[ad_1]



Post Views:
5

کورونا وبا نے ہماری عادتوں کو تبدیل اور ہماری سرگرمیوں کو محدود کرکے رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر میں اربوں افراد کرونا پر قابو پانے کے لیے لگائی جانے والی عالمی پابندیوں کے باعث اپنے گھروں میں قید ہوکر رہے گئے ہیں۔ اس کے کچھ اثرات گھر سے باہر کھانا کھانے، سفرکرنے، جم جانے یا فلم دیکھنے کے لیے سنیما جانے پر پابندی کی صورت میں دیکھے گئے تاہم دفاتر اور کاروبار بند ہونے کے باعث کچھ لوگوں نے اپنے وقت اور پیسے کی بچت بھی کی۔

کورونا کی لہر کے دوران لاک ڈاؤن کا ایک مثبت پہلو یہ بھی تھا کہ بہت سے لوگوں کو اپنے خاندان کے ساتھ معیاری وقت گزارنے، نئے مشاغل اپنانے اور گھر کے وہ تمام کام جو مصروفیت کے باعث نہ ہوسکے تھے انہیں نمٹانے کا موقع ملا ۔ ایسے میں کئی لوگوں نے گھر کی تزئینِ نو (ری- ماڈلنگ) کے منصوبے بھی شروع کیے۔ گوگل کے تجزیے اور سروے کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران ہر دس میں سے نو افراد نے گھر کی ری-ماڈلنگ کے منصوبے پر کام کیا۔

یہاں آج ہم گھر کی تزئینِ نو کے حوالے سے کچھ اہم معلومات کا آپ کے ساتھ تبادلہ کریں گے جو بلاشبہ آپ کے گھر کی قدر و قیمت میں اضافے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

مسکن کے بیرونی حصے کی خوبصورتی خریدار کے اطمینان کی پہلی کنجی

اکثر لوگ صرف گھر کے اندرونی حصے کی سجاوٹ اور تزئین و آرائش پر اپنی توجہ پرکوز رکھتے ہیں جبکہ وہ گھر کی بیرونی خوبصورتی کو ہمیشہ نظرانداز کردیتے ہیں۔ یاد رکھیں! کسی بھی کام میں پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوتا ہے لہذا آپ کے گھر کا عقبی حصہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ گھر کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے خریدار کو اپنی طرف ہر ممکن طور پر متوجہ کر سکے۔ گھر کی عقبی بوسیدہ حال دیواریں، زنگ آلود دروازہ اور نکاسی آب کی ناقص لائنیں خریدار کو آپ کے گھر سے دور رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ اگر گھر کا بیرونی دروازہ دیکھ کر آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ اپنے اچھے دن گزار چکا ہے تو اسے تبدیل کرنے میں ہی بہتری ہے۔

سبزہ زار کسی بھی گھر کی خوبصورتی کا انتہائی اہم جزو ہوتا ہے

ایک خوبصورت اور صاف ستھرا صحن یا باغیچہ آپ کے گھر کی قدر و قیمت بڑھانے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے۔ صحن میں خوبصورت باغیچہ اور پودے اسے زندگی بخشتے ہیں۔ اگر آپ کو باغیچہ تیار کرنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا ہے تو آپ لینڈ اسکیپنگ کے کسی ماہر کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کے سبزہ زار یا باغیچے میں اگر درخت کی شاخوں کی کانٹ چھانٹ کی ضرورت ہے تواس کے لیے بھی کسی ماہر کی خدمات حاصل کرنا ہی مناسب ہے۔

گھر کے صحن میں نشست کا انتظام

وَبائی مرض کے باعث لوگ بڑے سماجی اجتماعات کا انتظام کرنے یا ان میں شرکت سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایسے میں کئی لوگوں نے گھر کے صحن میں آؤٹ ڈور ڈیک بنوا دیے ہیں جہاں محدود لوگوں کو مدعو کرکے سماجی فاصلہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یقیناً وَبا کے زمانے میں آؤٹ ڈور ڈیک پر سرمایہ کاری ناصرف آپ کے گھر کی قدر و قیمت بڑھا دے گی بلکہ اس طرح آپ اپنے خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ اچھا وقت بھی گزار سکتے ہیں۔

دیواروں اور فرش کی خوبصورتی گھر کی قدر میں اضافے کا باعث ہے

آپ کے گھر کی تعمیر چاہے پُرانی ہو لیکن جب فروخت کے لیے پیش کریں تو اسے صاف ستھرا اور دلکش نظر آنا چاہیے۔ سفید یا ہلکا نیا رنگ آپ کے کمروں کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے اور خریدار پر اچھا تاثر چھوڑے گا۔ اسی طرح اگر آپ نے دیواروں کو وال پیپر سے سجایا ہوا ہے تو دیکھ لیں کہ وہ پرانے اور پھٹے ہوئے نہ ہوں۔ آپ کی حتی الامکان یہ کوشش ہونی چاہیے کہ خریدار کو گھر میں ایسا کوئی نقص نظر نہ آئے جو اس کی گھر میں دلچسپی کو کم کرنے کا باعث بنے۔ اسی طرح اگر آپ نے گھر میں قالین بچھایا ہوا ہے اور وہ پُرانا ہوگیا ہے تو اسے بھی فوری طور پر بدل دیں۔ لکڑی کا فرش اس سے کہیں بہتر ہے۔

باورچی خانے کی صفائی یقینی بنائیں

باورچی خانہ میں آپ کو نئے اپلائنسز نصب کرنے اور دیگر مہنگی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پُرانی الماریوں کو تبدیل کرنے کے بجائے انہیں نیا پینٹ کردیا جائے یا صرف وارنش کرنے سے ہی وہ پھر سے چمک اٹھیں گی۔

قدرتی روشنی کے نکاس کا مناسب انتظام

ہر ممکن حد تک کوشش کریں کہ گھر کی تزئینِ نو میں کھڑکیوں، چھت اور دیواروں میں ایسے انتظامات کیے جائیں کہ ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ قدرتی روشنی آپ کے گھر کے اندر پہنچ رہی ہو۔ اس طرح آپ کا گھر کھلا کھلا اور کشادہ لگتا ہے۔ اگر کسی کمرے میں قدرتی روشنی کا انتظام نہ ہو تو وہاں چھت میں ڈھکی ہوئی لائٹنگ سسٹم نصب کرکے اسے روشن کیا جاسکتا ہے اور یہ روشنی آنکھوں پر بھی بوجھ نہیں بنتی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

کیڈیسٹرل میپنگ، اسلام آباد میں قبضہ مافیا سے 334 ایکڑ زمین واگزار

[ad_1]



Post Views:
36

اسلام آباد: اسلام آباد میں کیڈیسٹرل میپنگ کے استعمال سے قبضہ مافیا سے 334 ایکڑ زمین واگزار کرا لی گئی ہے۔

یہ بات قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ و تعمیرات کے گزشتہ روز منعقد ہونے والے اجلاس میں سامنے آئی۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر نے کی۔

اجلاس میں آپریشنز کی تیزی کیلئے ون ونڈو پورٹل کے قیام، بڑے شہروں کے ماسٹر پلانز کی تیاری اور پراجیکٹ منظوريوں سمیت متعدد اُمور زیرِ بحث آئے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

تعمیراتی صنعت میں فلک بوس عمارتوں کو زلزلے سے محفوظ رکھنے کے سائنسی اطوار | Graana.com Blog

[ad_1]



Post Views:
0

زلزلہ قدرتی آفات کی مختلف اقسام میں سے ایک ایسی تباہ کُن قسم ہے جس کے رونما ہونے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ زلزلے بنیادی طور پر زمین کی تہہ میں موجود پلیٹوں کے سرکنے کے باعث وارد ہوتے ہیں ایک دوسرا نظریہ یہ بھی ہے کہ آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے سے جو آتشی مادہ زمین پر بہتہ ہے وہ بھی زمین کو ہلا کر رکھ دیتا ہے جس کی وجہ سے زلزے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور ان علاقوں میں موجود انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق جاپان میں سالانہ 1500 کے قریب زلزلوں کے واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں تاہم وہاں آنے والے زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ دیگر ممالک کی نسبت انتہائی کم رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جاپان میں بننے والی فلک بوس عمارتوں، سڑکوں، پُل اور دیگر انفراسٹکچر کو زلزلے سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بچاؤ کی تدابیر کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جاتا ہے۔

ترقی کی اس دوڑ کے تاریخی اوراق اگر پلٹ کر دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں میں بتریج اضافے کے باعث فلک بوس عمارتوں کی تعمیر میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عمومی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ تر عمارتوں کی اونچائی شاید ہی 50 منازل سے کم ہو بلکہ اب تو ترقی پذیر ممالک بھی بلند و بالا عمارتوں کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں جہاں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ٹیکنالوجی اور تحقیق کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

تعمیراتی صنعت میں گراں قدر ترقی کے باوجود انسان آج بھی زلزلہ سمیت دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کے مکمل حل کی تلاش میں بے بس نظر آتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے ترقی یافتہ ممالک نے تعمیراتی صنعت میں جدید سائنسی علوم پر استوار زلزے سے بچاؤ کی کچھ ایسی تدابیر اور ٹیکنالوجی متعارف کروا دی ہیں جنھیں اختیار کرتے ہوئے زلزلے کے دوران جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

زلزلے کی صورت میں عمارتی ڈھانچے کو بنیادوں سے الگ رکھنے کی حیرانگیز ٹیکنالوجی

ترقی یافتہ ممالک میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کے ابتدائی مرحلے میں ہی عمارت کی بنیادوں اور اس کے بالائی حصے کے درمیان ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے زلزلہ آنے کی صورت میں اس قدرتی آفت کی شدت مکمل طور پر عمارت کے بالائی حصے تک نہیں پہنچ پاتی یا پھر بالائی حصے میں زلزلے کے اثرات پہنچنے تک اس کی شدت انتہائی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس کے اوپر سائنسی طور پر زلزلہ برداشت کرنے کی بین الاقوامی اداروں سے تصدیق شدہ ’ربر بیئرنگ‘ کی ایک موٹی تہہ رکھی جاتی ہے۔ یہ تہہ ربر، بیئرنگ اور اسٹیل کی پلیٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسٹیل کی پلیٹیں اس تہہ کو عمارت کی بنیادوں اور بالائی حصے سے جوڑتی ہیں۔ زلزلے کی صورت میں اس کا اثر عمارت کی بنیاد سے ہوتا ہوا صرف ربر کی تہہ تک آتا ہے جس سے عمارت کا بالائی حصہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

جاپان کے تعمیراتی ماہرین اور انجینئرز اس ٹیکنالوجی کو ایک درجہ اور آگے لے جا چکے ہیں جس کے تحت عمارت عملی طور پر ہوا میں تیرتی ہے۔ جاپانی ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس پر ہوا سے بھرا کُشن رکھا جاتا ہے۔ یہ کُشن سینسرز کے نظام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ زلزلے کی صورت میں سینسرز کا نظام حرکت میں آتے ہوئے ایئرکمپریسر تک معلومات پہنچاتا ہے۔ ایئرکمپریسر عمارت کے بالائی حصے کو 3 سینٹی میٹر بلندی پر لے جاتا ہے اور زلزلہ ختم ہونے کے بعد عمارت واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے اوراس طرح وہ عمارت زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتی ہے۔

زلزلے کے جھٹکے کی شدت کو زائل بھی کیا جا سکتا ہے مگر کیسے؟

جس طرح کسی بھی گاڑی میں شاک ایبزاربرز اس کے اسپرنگ کی غیر ضروری حرکت کو کُشن فراہم کرتے ہیں ویسے ہی عمارتوں میں بھی ان سے یہی کام لیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عمارت کی ہر منزل پر ’شاک ایبزاربرز‘ نصب کیے جاتے ہیں جس کا ایک سرا ستون اور دوسرا سرا بیم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ہر شاک ایبزاربر ایک پِسٹن ہیڈ پر مشتمل ہوتا ہے جو سیلیکون آئل سے بھرے سلنڈر کے اندر حرکت کرتا ہے۔ جب زلزلہ عمارت کے ساتھ ٹکراتا ہے تو شاک ایبزاربر کا پسٹن سیلیکون آئل پر دباؤ ڈالتا ہے اور زلزلے کی توانائی مکینیکل توانائی میں تبدیل ہوکر گرمی پیدا کرتی ہے اور اس طرح عمارت کا ڈھانچہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

دھات سے بنی دیومت گیند عمارت کا توازن کیسے برقرار رکھ سکتی ہے

یہ ٹیکنالوجی بھی شاک ایبزاربر سے ملتی جلتی ہے۔ دھات سے بنی دیومت گیند جیسے پینڈولم بھی کہا جاتا ہے کے تحت عمارت کے تمام ڈھانچے کا وزن اس کی چوٹی پر مرتکز کردیا جاتا ہے۔ عمارت کی چوٹی پر اس ڈھانچے کو اسٹیل کیبل کے ذریعے توازن فراہم کیا جاتا ہے۔ عمارت کے ڈھانچے اور اسٹیل کیبل کے درمیان مائع نما گاڑھا مادہ بھرا جاتا ہے۔ جب اس عمارت سے زلزلہ ٹکراتا ہے تو پینڈولم اسی قوت کے ساتھ مخالف سمت میں زور لگاتا ہے اور عمارت کو توازن فراہم کرتا ہے۔

ری انفورسڈ کنکریٹ کا عمارت کو زلزلے کی شدت سے محفوظ رکھنے میں کردار

جدید عمارتوں میں زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیے یہ ایک نسبتاً کم لاگت جدید ٹیکنالوجی ہے۔ اس نظام کے تحت ری انفورسڈ کنکریٹ کا ایک ڈھانچہ عمارت کے مرکزی حصے میں ایلیویٹر یا لفٹ کے چاروں اطراف لگایا جاتا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی اس وقت بہترین نتائج دیتی ہے جب اس کی بنیاد کو عمارت سے جدا رکھا جائے۔ بنیاد کو علیحدہ رکھنے کے لیے اس میں ایلاسٹیو میٹرک بیئرنگز لگائے جاتے ہیں۔ کنکریٹ کا ڈھانچہ تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی ایک تہہ اسٹیل اور دوسری تہہ قدرتی ربر یا ایک مصنوعی کیمیاوی مرکب  نیوپرین پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس طرح کے تعمیراتی ڈھانچے کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ عمودی طور پر یہ انتہائی مضبوط ڈھانچہ ہوتا ہے جبکہ افقی طور پر یہ لچکدار رہتا ہے۔ یہ عمارتوں کوزلزلے سے محفوظ رکھنے کی ایک کم لاگت انتہائی مؤثر اور نسبتاً سادہ ٹیکنالوجی ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

تعمیراتی صنعت میں فلک بوس عمارتوں کو زلزلے سے محفوظ رکھنے کے سائنسی اطوار | Graana.com Blog

[ad_1]



Post Views:
10

زلزلہ قدرتی آفات کی مختلف اقسام میں سے ایک ایسی تباہ کُن قسم ہے جس کے رونما ہونے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ زلزلے بنیادی طور پر زمین کی تہہ میں موجود پلیٹوں کے سرکنے کے باعث وارد ہوتے ہیں ایک دوسرا نظریہ یہ بھی ہے کہ آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے سے جو آتشی مادہ زمین پر بہتہ ہے وہ بھی زمین کو ہلا کر رکھ دیتا ہے جس کی وجہ سے زلزے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور ان علاقوں میں موجود انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق جاپان میں سالانہ 1500 کے قریب زلزلوں کے واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں تاہم وہاں آنے والے زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ دیگر ممالک کی نسبت انتہائی کم رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جاپان میں بننے والی فلک بوس عمارتوں، سڑکوں، پُل اور دیگر انفراسٹکچر کو زلزلے سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بچاؤ کی تدابیر کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جاتا ہے۔

ترقی کی اس دوڑ کے تاریخی اوراق اگر پلٹ کر دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں میں بتریج اضافے کے باعث فلک بوس عمارتوں کی تعمیر میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عمومی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ تر عمارتوں کی اونچائی شاید ہی 50 منازل سے کم ہو بلکہ اب تو ترقی پذیر ممالک بھی بلند و بالا عمارتوں کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں جہاں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ٹیکنالوجی اور تحقیق کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

تعمیراتی صنعت میں گراں قدر ترقی کے باوجود انسان آج بھی زلزلہ سمیت دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کے مکمل حل کی تلاش میں بے بس نظر آتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے ترقی یافتہ ممالک نے تعمیراتی صنعت میں جدید سائنسی علوم پر استوار زلزے سے بچاؤ کی کچھ ایسی تدابیر اور ٹیکنالوجی متعارف کروا دی ہیں جنھیں اختیار کرتے ہوئے زلزلے کے دوران جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

زلزلے کی صورت میں عمارتی ڈھانچے کو بنیادوں سے الگ رکھنے کی حیرانگیز ٹیکنالوجی

ترقی یافتہ ممالک میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کے ابتدائی مرحلے میں ہی عمارت کی بنیادوں اور اس کے بالائی حصے کے درمیان ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے زلزلہ آنے کی صورت میں اس قدرتی آفت کی شدت مکمل طور پر عمارت کے بالائی حصے تک نہیں پہنچ پاتی یا پھر بالائی حصے میں زلزلے کے اثرات پہنچنے تک اس کی شدت انتہائی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس کے اوپر سائنسی طور پر زلزلہ برداشت کرنے کی بین الاقوامی اداروں سے تصدیق شدہ ’ربر بیئرنگ‘ کی ایک موٹی تہہ رکھی جاتی ہے۔ یہ تہہ ربر، بیئرنگ اور اسٹیل کی پلیٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسٹیل کی پلیٹیں اس تہہ کو عمارت کی بنیادوں اور بالائی حصے سے جوڑتی ہیں۔ زلزلے کی صورت میں اس کا اثر عمارت کی بنیاد سے ہوتا ہوا صرف ربر کی تہہ تک آتا ہے جس سے عمارت کا بالائی حصہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

جاپان کے تعمیراتی ماہرین اور انجینئرز اس ٹیکنالوجی کو ایک درجہ اور آگے لے جا چکے ہیں جس کے تحت عمارت عملی طور پر ہوا میں تیرتی ہے۔ جاپانی ٹیکنالوجی کے تحت عمارت کی بنیاد تعمیر ہونے کے بعد اس پر ہوا سے بھرا کُشن رکھا جاتا ہے۔ یہ کُشن سینسرز کے نظام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ زلزلے کی صورت میں سینسرز کا نظام حرکت میں آتے ہوئے ایئرکمپریسر تک معلومات پہنچاتا ہے۔ ایئرکمپریسر عمارت کے بالائی حصے کو 3 سینٹی میٹر بلندی پر لے جاتا ہے اور زلزلہ ختم ہونے کے بعد عمارت واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے اوراس طرح وہ عمارت زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتی ہے۔

زلزلے کے جھٹکے کی شدت کو زائل بھی کیا جا سکتا ہے مگر کیسے؟

جس طرح کسی بھی گاڑی میں شاک ایبزاربرز اس کے اسپرنگ کی غیر ضروری حرکت کو کُشن فراہم کرتے ہیں ویسے ہی عمارتوں میں بھی ان سے یہی کام لیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عمارت کی ہر منزل پر ’شاک ایبزاربرز‘ نصب کیے جاتے ہیں جس کا ایک سرا ستون اور دوسرا سرا بیم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ہر شاک ایبزاربر ایک پِسٹن ہیڈ پر مشتمل ہوتا ہے جو سیلیکون آئل سے بھرے سلنڈر کے اندر حرکت کرتا ہے۔ جب زلزلہ عمارت کے ساتھ ٹکراتا ہے تو شاک ایبزاربر کا پسٹن سیلیکون آئل پر دباؤ ڈالتا ہے اور زلزلے کی توانائی مکینیکل توانائی میں تبدیل ہوکر گرمی پیدا کرتی ہے اور اس طرح عمارت کا ڈھانچہ زلزلے کی شدت سے محفوظ رہتا ہے۔

دھات سے بنی دیومت گیند عمارت کا توازن کیسے برقرار رکھ سکتی ہے

یہ ٹیکنالوجی بھی شاک ایبزاربر سے ملتی جلتی ہے۔ دھات سے بنی دیومت گیند جیسے پینڈولم بھی کہا جاتا ہے کے تحت عمارت کے تمام ڈھانچے کا وزن اس کی چوٹی پر مرتکز کردیا جاتا ہے۔ عمارت کی چوٹی پر اس ڈھانچے کو اسٹیل کیبل کے ذریعے توازن فراہم کیا جاتا ہے۔ عمارت کے ڈھانچے اور اسٹیل کیبل کے درمیان مائع نما گاڑھا مادہ بھرا جاتا ہے۔ جب اس عمارت سے زلزلہ ٹکراتا ہے تو پینڈولم اسی قوت کے ساتھ مخالف سمت میں زور لگاتا ہے اور عمارت کو توازن فراہم کرتا ہے۔

ری انفورسڈ کنکریٹ کا عمارت کو زلزلے کی شدت سے محفوظ رکھنے میں کردار

جدید عمارتوں میں زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیے یہ ایک نسبتاً کم لاگت جدید ٹیکنالوجی ہے۔ اس نظام کے تحت ری انفورسڈ کنکریٹ کا ایک ڈھانچہ عمارت کے مرکزی حصے میں ایلیویٹر یا لفٹ کے چاروں اطراف لگایا جاتا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی اس وقت بہترین نتائج دیتی ہے جب اس کی بنیاد کو عمارت سے جدا رکھا جائے۔ بنیاد کو علیحدہ رکھنے کے لیے اس میں ایلاسٹیو میٹرک بیئرنگز لگائے جاتے ہیں۔ کنکریٹ کا ڈھانچہ تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی ایک تہہ اسٹیل اور دوسری تہہ قدرتی ربر یا ایک مصنوعی کیمیاوی مرکب  نیوپرین پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس طرح کے تعمیراتی ڈھانچے کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ عمودی طور پر یہ انتہائی مضبوط ڈھانچہ ہوتا ہے جبکہ افقی طور پر یہ لچکدار رہتا ہے۔ یہ عمارتوں کوزلزلے سے محفوظ رکھنے کی ایک کم لاگت انتہائی مؤثر اور نسبتاً سادہ ٹیکنالوجی ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

لاہور میں 180 ارب کی لاگت سے 35 ہزار سستے مکانات کی تعمیر کا فیصلہ

[ad_1]



Post Views:
5

لاہور: وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اعلان کیا ہے کہ لاہور میں 180 ارب کی لاگت سے 35 ہزار سستے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں 4 ہزار سبسیڈايزڈ مکانات کی تعمیر کی جائیگی۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے کاروبار دوست اقدامات کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بلڈنگ اینڈ زوننگ قوانین میں ترمیم سے لاہور میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر میں اضافہ ہورہا ہے، نقشہ جات کی منظوری محض 30 روز میں ہوتی ہے جس سے کاروبار اور روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

بلوچستان میں ایک ارب روپے کی لاگت سے ماحول دوست ریزارٹس کی تعمیر کا منصوبہ

[ad_1]



Post Views:
3

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے ایک ارب روپے کی لاگت سے ماحول دوست ریزارٹس کی تعمیر کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے تاکہ بین الاقوامی سیاحوں کو بلوچستان کی ساحلی پٹی کی سیاحتی خوبصورتی سے روشناس کرایا جا سکے۔

ابتدائی طور پر بلوچستان کی ساحلی پٹی پر منتخب چھ علاقوں بشمول کنڈ ملیر، اورمارا، اور جیوانی پر ایک ارب چھ کروڑ نوے لاکھ روپے کی لاگت سے سیاحوں کے لیے عارضی رہائش کے یہ منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

بلوچستان حکومت کے مطابق ساحلی پٹی پر 25 کروڑ روپے کی لاگت سے بیچ پارک بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان کے ساتھ سمندر کی ساحلی پٹی 750 کلومیٹر طویل ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

سی پیک منصوبے کا فیز 2 کامیابی سے جاری، اسد عمر

[ad_1]



Post Views:
0

اسلام آباد : وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ چیلنجز کے باوجود چین پاکستان اقتصادی راہدری (سی پیک) منصوبے پر ترقیاتی کام کامیابی سے جاری ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ سی پیک کے جنوبی زون سے مُلک میں کثیر غیرملکی سرمایہ کاری آئے گی۔ جنوبی زون میں سی پیک کے تحت ریلوے کا سب سے بڑا منصوبہ ایم ایل ون ہے جبکہ بلوچستان میں بھی سی پیک کے تحت بہت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی زراعت پر انحصار کرتی ہے اور زراعت کے شعبے میں چین کا پاکستان کے ساتھ تعاون قابل ِستائش ہے۔

چینی ورکرز کی سیکیورٹی کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سی پیک پر کام کرنیوالے چینی ورکرز کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اور پاکستان میں کام کرنیوالے چینی ورکرز کو بہترین سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




[ad_2]

پائیڈ کا ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق قوانین کے نفاذ کی تجویز

[ad_1]



Post Views:
30

اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے زیر اہتمام ویبینار کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں ریئل اسٹیٹ بزنس اور رہائشی منصوبوں سے متعلق وضع کردہ قوانین کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کرونا ایس او پیز کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے معاشی ترقی کے خود مختار ادارے پائیڈ نے ریئل اسٹیٹ بزنس سمیت رہائشی اور تعمیراتی منصوبوں سے متعلق قوانین پر آن لائن ویبینار کا اہتمام کیا جس میں رءیل اسٹیٹ مارکیٹ کے ماہرین سمیت پائیڈ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تحقیقی ماہرین نے شرکت کی۔

ویبینار سےابتدائی خطاب میں پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق کا کہنا تھا کہ رہائشی منصوبوں، گھروں کی تعمیر، پلازوں اور کمرشل اراضی میں سرمایہ کاری کے باعث ملکی  زرعی اراضی میں بڑی تیزی کے ساتھ کمی واقع ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رہائشی منصوبوں سمیت حکومتی اور فوجی افسران کے لیے پلاٹ مختص کیے جانے کے عمل کو لازمی کسی نہ کسی قانون کے ماتحت ہونا چاہئیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایک واضح پالیسی مرتب کرتے ہوئے اس حوالے سے وضع کردہ قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانا ہو گا۔

اپنے خطاب میں پائیڈ کی سینئر ریسرچ اکانومسٹ ڈاکٹر لبنیٰ کا کہنا تھا کہ وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے گذشتہ اڑھائی سال میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ایک بھی این او سی جاری نہیں کیا اور نہ ہی گذشتہ 25 سالوں کے دوران ایک بھی رہائشی منصوبے کی تکمیل کے باوجود کوئی سند جاری کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں 90 فیصد ہاؤسنگ سوسائٹیز بغیر قانونی دستاویز کے تعمیر کی گئی ہیں۔

ویبینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اعلیٰ شہرت کی حامل مارکیٹنگ کمپنی گرانہ ڈاٹ کام کے گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ آبادی میں اضافے اور اراضی کے سکڑنے کے باعث ہمیں بلند عمارتوں پر محیط رہائشی منصوبوں کی تعمیر کی ضروت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس مسئلے کے مربوط حل پر توجہ دینا ہو گی کیونکہ یہ صرف ڈیولپرز کا مسئلہ نہیں بلکہ شہریوں کی ایک بڑی آبادی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو مذکورہ شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ انہوں نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ڈیجیٹائزیشن کے فروغ پر بھی زور دیا۔

ویبینار میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسلام آباد میڈیا ٹاون کے نائب صدر طارق ملک نے ریئل اسٹیٹ سے متعلق قوانین کے نفاذ پر اپنا نظریہ پیش کیا۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، سینیٹر شبلی فراز نے اس اہم مسئلے پر ویبینار کے انعقاد اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی ترویج سے متعلق معنی خیز مباحثہ پر پائیڈ انتظامیہ، محقیقین اور شرکاء کو مبارکباد پیش کی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

سندھ حکومت کا غیر قانونی صنعتوں کو رہائشی علاقوں سے منتقل کرنے کا فیصلہ

[ad_1]



Post Views:
18

کراچی:  سندھ کے صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ غیر قانونی صنعتوں کو رہائشی علاقوں سے باہر منتقل کرانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔

سندھ حکومت نے رہائشی علاقوں میں صنعتوں کا دوبارہ سروے کرنے اور ماحولیاتی امور کا جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

صوبائی وزیر نے اس ضمن میں حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ صوبے میں تمام ریسٹورانٹس کی صفائی اور اندرونی ماحول کی بھی چیکنگ کی جائے۔

انہوں نے افسران کو احکامات دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی صنعتوں کا ڈیٹا جمع کیا جائے اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

گرانہ ڈاٹ کام نے ایٹم کیمپ کی شراکت سے سرٹیفیکیشن برائے ہاسپیٹلٹی اینڈ ٹورزم مینیجمنٹ کا آغاز کردیا

[ad_1]



Post Views:
4

گرانہ ڈاٹ کام نے ایٹم کیمپ کی شراکت سے دو روزہ سرٹیفیکیشن برائے ہاسپیٹلٹی اینڈ ٹورزم مینیجمنٹ کا آغاز کردیا۔

یہ سرٹیفیکیشن گلگت بلتستان میں کروائی جارہی ہے۔

اس موقع پر ایٹم کیمپ کے بانی ڈاکٹر نوید افتخار کا کہنا تھا کہ یہ ہاسپیٹلٹی ٹریننگ ایٹم کیمپ اور گرانہ ڈاٹ کام کا مشترکہ پراجیکٹ ہے کہ جس کا مقصد ہزار سے زائد پروفیشنلز کی ٹریننگ کرنا ہے تاکہ وہ کریٹو اکانومی میں حصہ لے سکیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی یوتھ کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آرٹ، سائنس کلچرل ہیریٹیج اور کوڈنگ جیسے ہُنر سکھائے جارہے ہیں۔

چیئرمین امارات گروپ اور سی ای او گرانہ ڈاٹ کام جناب شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ہوٹل اور ٹورزم انڈسٹری کے فروغ کیلئے ایسے اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ گرانہ ڈاٹ کام اور ایٹم کیمپ کا یہ اقدام پاکستان کے سیاحتی سیکٹر کے موجودہ مسائل کے حل کی جانب ایک قدم ہے جس سے بین الاقوامی سطح پر مُلکی ٹورزم سیکٹر کا امیج بہتر ہوگا۔

گروپ ڈائریکٹر گرانہ فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ گرانہ ڈاٹ کام اور ایٹم کیمپ کی شراکت سے شروع کردہ یہ سرٹیفیکیشن پاکستان کے ٹورزم سیکٹر میں ٹریننگ کی ضرورت کا ادراک ہے۔

اس سرٹیفیکیشن کو 4 ماڈیولز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ریسٹورنٹ مینیجمنٹ، ٹور آپریشنز مینیجمنٹ، ہوٹل مینیجمنٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ شامل ہیں۔

یہ کورس تھیوری اور عملی مطالعات پر مبنی ہے جو کہ پاکستان کے ٹورزم سیکٹر سے جُڑے تکنیکی اور انتظامی امور کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہے۔




[ad_2]

امارات گروپ آف کمپنیز اور گرانہ ڈاٹ کام کو آئی سی سی آئی اچیومینٹ ایوارڈ 2021 سے نواز دیا گیا

[ad_1]



Post Views:
0

امارات گروپ آف کمپنیز اور گرانہ ڈاٹ کام کو چوتھے آئی سی سی آئی اچیومینٹ ایوارڈز کی تقریب میں ایوارڈ فار ایکسی لینس سے نواز دیا گیا۔

ایوارڈ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے چیئرمین امارات گروپ آف کمپنیز اور سی ای او گرانہ ڈاٹ کام جناب شفیق اکبر کو دیا گیا۔

ایوارڈز کی تقریب یکم ستمبر 2021 کو ایوانِ صدر میں منعقد کی گئی۔

اس موقع پر جناب شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ یہ اُن کے لیے ایک پُر مسرت لمحہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈ اُن کے گروپ کی پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو تبدیل کرنے کی مسلسل کاوشوں کا ثمر ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ امارات گروپ حکومت کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے ذریعے معاشی ترقی کے ویژن کے ساتھ ہے جس سے نہ صرف پاکستان میں ہاؤسنگ کے مسائل کا حل ہوگا بلکہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی ہوگی۔

یاد رہے کہ یہ دوسرا اچیومینٹ ایوارڈ ہے جس سے امارات گروپ آف کمپنیز کو نوازا گیا ہے۔ اس سے قبل، گزشتہ سال، امارات گروپ کو لیڈنگ کنسٹرکشن اینڈ ریئل اسٹیٹ گروپ کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔

امارات گروپ آف کمپنیز مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا سب سے منفرد نام ہے جس نے یہاں گالف فلوراز، ایمیزون آؤٹ لیٹ مال، فلورنس گیلریا، عمارت بلڈرز مال اور مال آف عریبیہ جیسے نامی گرامی ریئل اسٹیٹ پراجیکٹس کی بنیاد رکھی ہے۔




[ad_2]

وفاقی کابینہ کی سے ڈی اے کو سیکٹر ای الیون میں بائی لاز کے اطلاق کی ہدایت

[ad_1]



Post Views:
3

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں بائی لاز کے اطلاق کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق یہ ہدایت غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے لیے کی گئی ہے۔

سی ڈی اے نے وفاقی کابینہ کو بائی لاز کے نفاذ کی اجازت کے لیے ایک خط تحریر کیا تھا تاہم اب سی ڈی اے کو قوانین کے نفاذ کی مکمل اجازت دیدی گئی ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق سیکٹر ای الیون میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا حل نا گزیر ہے۔

سیکٹر ای الیون میں حالیہ بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث یہ فیصلہ جلدی کیا گیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]