جدید طرزِ تعمیر کے باورچی خانے میں شعلہ گماں رنگوں کی اہمیت

[ad_1]



Post Views:
1

باورچی خانہ کسی بھی گھر کا مسلسل استعمال ہونے والا ایک ایسا حصہ ہے جہاں صبح سے لے کر رات تک ہر فرد کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ تاہم عمومی طور پر اس کی تزئین و آرائش کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر آپ نے بھی گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے باورچی خانے کی تزئین و آرائش کو نظرانداز کیا ہوا ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے باورچی خانے پر تھوڑی توجہ مرکوز کرتے ہوئے اسے گھر کا ایک مثالی حصہ بنا سکتے ہیں۔ باورچی خانے کی تزئین و آرائش کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اس میں ایسے رنگ بھریں جو نا صرف انکھوں کو بھلے محسوس ہوں بلکہ گھر کی شادابی میں بھی اضافے کا باعث بنیں۔

باورچی خانے کی دیواروں کے لیے رنگوں کا انتخاب

غالباً باورچی خانے میں رنگ بھرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کی دیواروں پر رنگ و روغن کے لیے دلفریب رنگوں کا انتخاب کیا جائے۔ اس کے لیے ایک یا دو گہرے شوخ رنگوں کا انتخاب کریں اور باورچی خانے کی دیواریں ان رنگوں سے سجا دیں۔ یقین کریں کہ باورچی خانے کی دیواروں پر رنگ و روغن پر آپ کا خرچہ صرف پینٹ کے دو چار ڈبوں سے زیادہ نہیں آئے گا۔ اکثر لوگ باورچی خانے صرف ایک رنگ کا استعمال بہتر تصور کرتے ہیں لیکن اگر آپ بھی ایسی سوچ کے حامل ہیں تو اس کیلئے ہماری تجویز ہے کہ اس مرتبہ آپ ایک سے زائد شوخ گہرے رنگوں کا انتخاب کریں اور اپنی بہترین تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے باورچی خانے کو نئی جلا بخشیں۔

باورچی خانے میں موجود الماریوں پر بکھرتے رنگ

دیواروں کے بعد آپ اپنی توجہ کچن کیبنٹس کی طرف دیں کیونکہ یہ آپ کے کچن کے سب سے نمایاں ضروریات میں سے ایک ہوتی ہیں۔ یہ کچن میں سب سے زیادہ جگہ لینے گھیرنے والی ایسی سہولیات ہوتی ہیں اور ان الماریوں میں رنگ بھکیرنا ایک دلفریب عمل ہو سکتا ہے۔ باورچی خانے میں موجود الماریوں اور کیبنٹس کے معاملے میں اکثر لوگ بنیادی رنگوں کے ساتھ جُڑے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جیسے سفید یا لکڑی کا عام رنگ۔ تاہم اگر آپ کے کچن کی گیلری یا کھڑکی ہریالی اور سبزے میں کھلتی ہے تو آپ کچن کیبنٹس کو ہرا رنگ اور اگر آپ کا گھر ساحل سمندر کے قریب ہے اور آپ کے کچن کی گیلری یا کھڑکی سمندر کی طرف کھلتی ہے تو آپ کیبنٹس کو ہلکا نیلا رنگ کرکے باہر کے فطری ماحول کو اپنے کچن میں لاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عام طور پر گہرے نیلے رنگ کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن یہ کچن کے کیبنٹس کے لیے ایک شوخ انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔

 

کسی ایک منفرد رنگ کی مدد سے ماحول کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے

اگر آپ اپنے باورچی خانے میں رنگوں کے انتخاب کو ایک ہی تھیم دینا چاہتے ہیں تو مونوکروم تھیم اپنائیے۔ ایک ایسا رنگ جو آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے اس کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے شیڈز کی مکمل رینج کو اپنے کچن میں لے آئیں۔ رنگوں کو خود پر حاوی کرنے کے بجائے خود کو ان رنگوں میں ڈبو دیں جیسے اگر آپ نیلے رنگ کا انتخاب کرتے ہیں تو فرش کے لیے اسکائی بلیو، اسٹول کے لیے ڈارک بلیو اور کیبنٹس کے لیے گرے بلیو رنگوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

باورچی خانے کے فرش کے لیے دیدہ زیب ڈیزائن کا انتخاب

باورچی خانے کے فرش کے لیے دو مختلف رنگوں کے ٹائل یا ماربل کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ سفید اور کالے رنگ کے ٹائلوں کا انتخاب کچن میں کمال خوبصورتی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ کاؤنٹر ٹاپ اور پچھلی دیوار کے لیے بھی شوخ پیٹرن والی ٹائلوں یا وال آرٹ کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

باورچی خانے کی منفرد اور تاریخی ورثہ کی حامل اشیاء سے تزئین و آرائش

اگر کہیں قدیم زمانے کی اشیاء رکھی نظر آئیں تو ان کی کشش ہمیں اپنی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کردیتی ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ قدیم اشیاء کا ایک اپنا منفرد رنگ ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے باورچی خانے میں اینٹیک رنگ لانا چاہتے ہیں تو بہت ساری قدیم اشیاء اپنے باورچی خانے میں لے آئیے۔ آپ خود محسوس کریں گے کہ آپ کا کچن انتہائی دلچسپ اور رنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور اگر کبھی آپ کے کچن میں کوئی تاریخی ورثہ کی حامل اشیاء کا قدردان آ گیا تو آپ کو باتیں کرنے کے لیے ایک دلچسپ موضوع میسر آ سکتا ہے۔

مناسب قیمت میں باورچی خانے کی اشیاء کی سجاوٹ

یقیناً، آج کے دور میں ہر شخص کی جیب اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے کچن کا مکمل طور پر میک اوور کرواسکے یا اگر آپ کرائے کے اپارٹمنٹ یا گھر میں رہتے ہیں تو آپ یہ سوچیں گے کہ آپ دوسرے کے گھر پر سرمایہ کیوں لگائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ رنگوں کے ساتھ تجربات کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ بولڈ رنگوں کے بارے میں اتنے پُریقین نہیں۔ ایسی تذبذب کی صورتحال اور محدود بجٹ کے مسائل سے بچنے کے لیے آپ کم قیمت اَپ گریڈز پر غور کرسکتے ہیں۔ مثلاً کیبنٹس کو تبدیل کرنے کے بجائے صرف ان کے ہینڈل تبدیل کردیں، آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ اس کے نتائج اس قدر شاندار ہوسکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ

[ad_1]



Post Views:
15

لاہور: سڑکوں کی تعمیر سمیت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شامل دیگر  منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ اجلاس چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ عبداللہ خان سنبل کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں 1 ارب روپے سے زائد مالیت کی دو ترقیاتی اسکیموں کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان اسکیموں میں 36.57 کلومیٹر طویل قصور حجرہ سے منڈی بصیرپور تک کی سڑک کی بحالی نو کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

مذکورہ منصوبے پر 48 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ دوسری جانب اجلاس میں 63 کروڑ روپے کی لاگت سے شیخوپورہ میں 3.9 کلو میٹر طویل ایک سڑک کی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
1

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]

امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
109

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]

لاہور میں 180 ارب کی لاگت سے 35 ہزار سستے مکانات کی تعمیر کا فیصلہ

[ad_1]



Post Views:
5

لاہور: وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اعلان کیا ہے کہ لاہور میں 180 ارب کی لاگت سے 35 ہزار سستے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں 4 ہزار سبسیڈايزڈ مکانات کی تعمیر کی جائیگی۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے کاروبار دوست اقدامات کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بلڈنگ اینڈ زوننگ قوانین میں ترمیم سے لاہور میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر میں اضافہ ہورہا ہے، نقشہ جات کی منظوری محض 30 روز میں ہوتی ہے جس سے کاروبار اور روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

بلوچستان میں ایک ارب روپے کی لاگت سے ماحول دوست ریزارٹس کی تعمیر کا منصوبہ

[ad_1]



Post Views:
3

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے ایک ارب روپے کی لاگت سے ماحول دوست ریزارٹس کی تعمیر کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے تاکہ بین الاقوامی سیاحوں کو بلوچستان کی ساحلی پٹی کی سیاحتی خوبصورتی سے روشناس کرایا جا سکے۔

ابتدائی طور پر بلوچستان کی ساحلی پٹی پر منتخب چھ علاقوں بشمول کنڈ ملیر، اورمارا، اور جیوانی پر ایک ارب چھ کروڑ نوے لاکھ روپے کی لاگت سے سیاحوں کے لیے عارضی رہائش کے یہ منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

بلوچستان حکومت کے مطابق ساحلی پٹی پر 25 کروڑ روپے کی لاگت سے بیچ پارک بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان کے ساتھ سمندر کی ساحلی پٹی 750 کلومیٹر طویل ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

کراچی کے ساحلی زون کی سی پیک میں شمولیت، 20 ہزار سستے گھروں کی تعمیر کا اعلان

[ad_1]



Post Views:
22

کراچی: وفاقی حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت کراچی کے ساحلی زون کی تعمیرِ نو کا اعلان کردیا۔

اس منصوبے میں 3.5 ارب امریکی ڈالر کی براہِ راست چینی سرمایہ کاری شامل ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں اِس منصوبے کو ایک گیم چینجر قرار دیا۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہاں کم آمدن والے افراد کیلئے 20 ہزار سے زائد ہاؤسنگ یونٹس بھی تیار کیے جائیں گے جس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع جنم لیں گے۔

مزید برآں وزیرِ اعظم آج ایک روزہ دورے پر کراچی آئیں گے جہاں وہ کراچی سرکلر ریلوے کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

زیرِ تعمیر منصوبوں کیلئے بینک فنانسنگ کی اجازت

[ad_1]



Post Views:
0

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے زیرِ تعمیر رہائشی منصوبوں میں بینک فنانسنگ کے حصول میں خریداروں کی سہولت کیلئے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

اس ضمن میں بینکوں اور ڈی ایف آئیز کیلئے گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے اس اقدام سے لوگ نہ صرف زیرِ تعمیر منصوبوں کیلئے قرضے لے سکیں گے بلکہ اس سے بینکاری صنعت کیلئے خطرات کم کرنے کا ایک ضروری فریم ورک بھی مہیا ہوجاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اب لوگوں کو زیرِ تعمیر پراجیکٹس میں مکانات کے حصول میں آسانی ہوگی، جو کہ تعمیر شدہ منصوبوں سے قدرے کم لاگت کے ہیں، اور بینکوں کی جانب سے منصوبوں کی کڑی نگرانی کی جائیگی جس سے اُن کی بروقت تکمیل یقینی ہوگی۔

علاوہ ازیں چونکہ ہاؤسنگ یونٹس نئے ہیں تو خریداروں کو ابتدائی برسوں میں اُس کی بحالی اور مرمت کی کم لگتیں برداشت کرنا پڑیں گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

پی تھری اتھارٹی کی 27.8 ارب روپے لاگت سے سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کی تعمیر کی منظوری

[ad_1]


Post Views:
0

اسلام آباد: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی نے 27 ارب 80 لاکھ روپے لاگت کے سیالکوٹ کھاریاں موٹروے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے 16 ویں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اسد عمر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے بورڈ نے سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کی تعمیر پر غور کیا۔

اس سے قبل بورڈ نے پروجیکٹ کے ٹرانزیکشن سٹرکچر اور بڈنگ دستاویزی پیکج کی منظوری دی تھی اور کامیاب بولی دہندگان کی تجویز بالترتیب مارچ 2021ء اور جون 2021ء میں ہونے والی میٹنگز میں دی تھی۔ اس منصوبے میں 27.8 ارب روپے کی لاگت سے بلڈ آپریٹ ٹرانسفر (بی او ٹی) کی بنیاد پر 69 کلومیٹر گرین فیلڈ 4 لین موٹروے تعمیر کی جائے گا۔

اس منصوبہ کیلئے حکومت پاکستان سرمایہ کی فراہمی اور آپریشنل ویبلٹی گیپ فنڈنگ (VGF) کے ذریعے 10.94 ارب روپے فراہم کرے گی۔ یہ منصوبہ موجودہ لاہور سیالکوٹ اور مستقبل کے کھاریاں راولپنڈی موٹروے کو راولپنڈی شہر سے ملائے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

شمالی علاقہ جات میں پہاڑوں پر گھروں کی تعمیر قدیم ثقافت کی عکاس ہے

[ad_1]


Post Views:
5

قدرت کے ہر موسم کی خوبصورتی اور کشش کے باعث اپنی مثال آپ موسم سرما اپنے عروج پر ہوتا ہے تو شمالی علاقہ جات میں  برفباری کاسلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ مناظر دیکھنے کیلئے سیاح بڑے شوق  اور تیاری کے ساتھ شمالی علاقہ جات  اور پہاڑی مقامات کا رخ کرتے ہیں، شمالی علاقہ جات میں وادی گلگت، وادی ہنزہ،  وادی سکردو، وادی چترال، وادی سوات اور کاغان جو شاہراہ قراقرم کے راستے میں بلندیوں کو چھوتے پہاڑوں پر مشتمل ہیں برفباری سے اپنے حسن کو اور دوبالا کرتے ہیں۔

آپ اگر شمالی علاقہ جات اور گلیات جائیں تو آپ کوپہاڑوں پر بنے خوبصورت گھر دکھائی دیتے ہیں۔ پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر یہ گھراس طرح بنائے گئے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی شکست و ریخت کے باوجود یہ آج بھی قائم و دائم ہیں۔ لازمی طور پر ان گھروں کی تعمیر کرتے ہوئے تمام امور کا خیال رکھا گیا ہوگا تبھی تو افتادِ زمانہ کے باوجود بھی ان کا وجود برقرار ہے۔

پہاڑوں پر گھروں کی تعمیر کا تاریخی پہلو

کنکریٹ سے بنے مضبوط گھروں کا آغاز پہاڑوں پر بنی جھونپڑیوں  سے ہوا جسے مغرب میں لاگ کیبن بھی کہتے ہیں۔ آج کل کے جدید لاگ کیبن ہاتھ سے بنائے جاتے ہیں اور یہ پرانےدور کے کیبن کی نسبت زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ لاگ کیبن شمالی یورپ اور ایشیا میں سب سے پہلے تعمیر کی گئی اور جب لوگ ان علاقوں سے امریکا منتقل ہوئے تو انہوں نے اپنی روایات جاری رکھتے ہوئے لاگ کیبن تعمیر کیے۔ چونکہ لاگ کیبن پہلے عارضی ہوتے تھے اس لیے اب ان کے نشانات نہیں ملتے۔

لاگ کیبن کو موسمی حالات کی مزاحمت کے قابل بنانے کے لیے پلستر (مٹی اور گارے کے آمیزے کو سلیقے سے تھوپنا) سے تیار کیا جاتا ہے۔ جب لوگ لاگ کیبن کے بارے میں اپنے تجربے کو بڑھانے لگے تو اس کی تعمیر میں جدید اوزاروں کا استعمال کیا گیا اور اس کے ڈیزائن میں بہتری اور جدت آنے لگی۔

پہاڑوں پر گھروں کی تعمیر  سے قبل تفصیلی سوچ بچار

اگر آپ شمالی علاقہ جات میں کسی پہاڑ پر گھر بنانے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کے لیے کچھ مراحل اور سوچ بچار سے گزرنا پڑے گا کیونکہ یہاں کی آب وہوا شہرکے مطابق نہیں ہوتی، سردیوں میں شدید سردی کے ساتھ برفباری ہوتی ہے اور بھاری بھرکم اولے بھی پڑتے ہیں۔ ساتھ ہی ڈھلان پر گھر واقع ہونے کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ یا تودے گرنے کا بھی خطرہ لاحق ہو سکتاہے۔ ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ان مسائل کا سدباب کرتے ہوئے اگر آپ ایک خوبصورت گھر بناتے ہیں تو یقین جانیے کہ خوابی زندگی کے تصور کوعملی جامہ پہنا کر آپ بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

پہاڑوں پر گھروں کی تعمیر کی لاگت میدانی علاقوں کی نسبت عمومی طور پر زیادہ ہوتی ہے

یہ بات ذہن میں رکھیے کہ پہاڑوں پر گھر کی تعمیر عام گھروں کی تعمیر سے مختلف ہوتی ہے اور ان کے لوازمات بھی زیادہ ہوتے ہیں، اس کے علاوہ اس پر اٹھنے والے اخراجات بنے بنائے گھر کو خریدنے کے مقابلے میں زائد ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کو گھر تعمیر کرنے کے لیے جگہ صرف اس وجہ سے پسند آگئی ہے کیونکہ اس کا محل وقوع شاندار ہے اور چاروں طرف سبزہ زار ہے تو پھر آپ کو اپنے بجٹ پر نظر ثانی بھی کرنی پڑ سکتی ہے۔ اس کے لیے آپ کو سول انجینئرز اور آرکیٹیکٹس سے لاگت معلوم کرنی ہوگی مگریہ تخمینہ حتمی نہیں ہوسکتا کیونکہ گھر کی تعمیر کے دوران کون کون سے نئے اخراجات سامنے آتے ہیں یہ تعمیر کے دوران ہی سامنے آ سکتے ہیں۔

گھر کی تعمیر کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب

اگر آپ نے ابھی زمین کا ٹکڑا نہیں خریدا تو یہی موقع ہے کہ ایسے محل وقوع کا انتخاب کیا جائے جہاں سے آپ قدرتی نظاروں سے محظوظ ہو سکیں۔ نقشہ سازی کے دوران بھی ہر پہلو کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ انٹرنیٹ کی مدد سے ٹرینڈز اور ڈیزائن کی چھان بین کریں اور ساتھ ہی موسمی حالات کا بھی جائزہ لیتے رہیں۔ برف باری سے نمٹنے کے لیے ہموار چھتوں کے بجائے تکونی چھتوں کا انتظام بہتر رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پانی، بجلی، گیس، انٹرنیٹ اور دیگر بنیادی ضروریات کی سہولیات کی فراہمی کو بھی پیشگی یقینی بنائیں ۔

گھر کی تعمیر کے حوالے سے باقاعدہ منصوبہ بندی

ایک بار آ پ نے زمین اور محل وقوع کا انتخاب کر لیا تو اس پر وہ تعمیراتی پلان کام نہیں کرے گا جو عام طور پرہموار زمین کے لیے ہوتا ہے۔ پہاڑ کی ڈھلان ایک اہم پہلو ہوتا ہے جس کا تعمیر کے دوران بہت خیال رکھنا پڑتاہے، خاص طور پر جب مکان کی بنیادیں کھودی جائیں۔ ایک مستحکم مکان کے لیے اس کی بنیادیں مضبوط بنائی جائیں جو زمین میں موجود پانی، نمکیات اور دیگر حالات کو جھیلنے کے قابل ہوں۔ ان علاقوں میں رہنے والے بلڈرز جانتے ہیں کہ ڈھلان پر کیسی بنیادیں بنائی جاتی ہیں۔ بنیادیں ڈالتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ قدرتی خوبصورتی متاثر نہ ہواور کم سے کم درخت کاٹے جائیں۔ اس سلسلے میں چھوٹی چھوٹی جزئیات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ بنیادیں ڈالتے وقت پورچ، ڈیک، آتشدان، صحن اور ٹری ہاؤس وغیرہ کی بھی منصوبہ بندی ضروری ہے۔

پیشہ وارانہ اور تجربہ کار تعمیراتی کمپنی کا انتخاب

ایک عمدہ تجربہ کار تعمیراتے کمپنی نہ صرف آپ کے خوابوں کو تعبیر دے سکتی ہے بلکہ دوران تعمیرآپ کے لیے ذہنی سکون کا باعث بھی ہوتی ہے۔ ایسی تعمیراتی کمپنی کا انتخاب کریں جن کے پاس پہاڑوں پر گھر بنانے کا وسیع تجربہ موجود ہو اور ان کے بنائے گھروں میں لوگ مطمئن و مسرور ہوں۔ وسیع تجربے کے ساتھ ساتھ مٹیریل کے انتخاب میں بھی بلڈر کی سوجھ بوجھ بڑی مدد کرتی ہے۔ تعمیراتی کمپنی کا مناسب تخمینہ لاگت آپ کے بڑے مسائل حل کرسکتا ہے۔ جب یہ سب ہو جائے تو پھر آپ اپنے گھر کی تعمیر کا آغاز کیجئے اورایک خوبصورت طرزِ زندگی کے لیےتیار ہو جائیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]