امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
1

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]

امارات گروپ اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

[ad_1]



Post Views:
109

امارات گروپ آف کمپنیز اور ڈی ایچ اے ملتان کے مابین امارات بلڈرز مال کی تعمیر کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر امارات گروپ تیمور الحق عباسی اور ایڈمنسٹریٹر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کیے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین امارات گروپ شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے ملتان سے شراکت امارات گروپ آف کمپنیز کے مُلک گیر برانڈ پورٹ فولیو میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور معیاری کنسٹرکشن مٹیریل کی فراہمی کیلئے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا کہنا تھا کہ امارات گروپ اپنے بہترین تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان میں امارات بلڈرز مال کا قیام کنسٹرکشن کیلئے درکار ساز و سامان کی خریداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع لیے ہوئے ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تیمور الحق عباسی نے کہا کہ امارات بلڈرز مال میں لوکل اور بین الاقوامی ریٹیل برانڈز کے ذریعے تعمیراتی ساز و سامان کی ایک ہی چھت تلے آسان دستیابی یقینی ہوگی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے ملتان برگیڈئیر (ر) شعیب کیانی نے کہا کہ وہ امارات گروپ کو ڈی ایچ اے ملتان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں امارات بلڈرز مال کے قیام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور تعمیراتی سامان کی آسان دستیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امارات گروپ کی جانب سے ہیڈ پی ایم سی ڈاکٹر شاہد، نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک اور جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے سیکریٹری ڈی ایچ اے ملتان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر پلاننگ کرنل (ر) تیمور شریک رہے۔




[ad_2]

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

[ad_1]



Post Views:
0

بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے دنیا میں جہاں دیگر وسائل  اور بنیادی ضروریات میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے وہیں دنیا بھر میں رہائشی    سہولیات کا بحران بھی سر اٹھا چکا ہے۔ ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق دنیا بھی میں رہائشی  سہولیات کے بغیر رہنے والے افراد کی آباد میں سالانہ بنیادوں پر 2.7 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

رہائشی  سہولیات کے فقدان کی وجہ سے نہ صرف نئے تعمیر ہونے والے گھروں کے سائزمیں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے بلکہ دنیا فیبریکیٹڈ گھروں میں رہائش اختیار کرنے کے رحجان کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔

تھری ڈی پرنٹنگ سے لے کر بائیو مینوفیکچرڈ مٹیریل تک تعمیرات کی نئی ٹیکنالوجیز کو ہاؤسنگ کے عالمی بحران جس سے 2025ء تک دنیا کے 1.6 ارب افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے کا تیزاور سستا تر حل قرار دیا جارہا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجیز تعمیراتی ضیاع میں بڑے پیمانے پر کمی لاکر ناصرف ماحولیات پر کم بوجھ ڈالیں گی بلکہ یہ کاربن نیوٹرل یا کسی حد تک منفی بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

کاربن نیوٹرل سے مراد وہ عمارتیں ہیں جن سے کاربن کا اخراج صفر ہوتا ہے جب کہ کاربن نیگیٹو کا مطلب وہ عمارتیں ہیں جو نا صرف خود کاربن خارج نہیں کرتیں بلکہ اس کے برعکس ماحول سے کاربن کو جذب بھی کرتی ہیں۔ تعمیراتی صنعت میں ان نئی ٹیکنالوجیز کا پرجوش طریقے سے خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اب بھی موجود ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجیز توقعات پر پوری اُتر سکیں گی؟

تیارشدہ گھروں کی فراہمی کے لیے مارکیٹ سروے کے بعد جگہ کا انتخاب

ہاؤسنگ کی عالمی مارکیٹ اپنے پیشگی متعین کردہ معیارات کے گرد چل رہی ہے جس میں نئی تعمیرات اور ہوم اونرشپ پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ جو کہ کسی بھی صنعت میں معیارات کا ہونا پیداواری صلاحیت میں اضافے اور لاگت میں کمی کا باعث ہوتا ہے تاہم ساکن معیارات مختلف لوگوں، طبقات اور خطوں کی مختلف ضروریات میں نہیں ڈھل سکتے۔ مثال کے طور پر میکسیکو میں ریڈی میڈ ہوم کی ٹیکنالوجی کو جب کم مطلوب مقامات پر متعارف کرایا گیا تو وہاں ہاؤسنگ مارکیٹ کریش کرگئی۔ میکسیکو کے ان مقامات پر پیشگی تیار شدہ گھر اب بھی خالی پڑے ہیں۔

کووِڈ 19 بحران نے ہاؤسنگ میں تبدیلی کو اپنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کے مکینوں کے پاس آپشن ہونا چاہیے کہ وہ گھر میں بآسانی نئی دیواروں کا اضافہ کرسکیں یا کسی دیوار کو گرا سکیں تاکہ گھروں کے مکین دفتر سے دور گھر میں دفتری کام انجام دینے کے لیے گھر کے ڈیزائن میں ترامیم لاسکیں۔ لوگوں کو صرف نئی تعمیرات کی ضرورت ہی نہیں بلکہ کئی لوگوں کو گھر کی سادہ سی مرمت، بحالی یا اَپ گریڈ کرنے کی سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

اندازہ ہے کہ اس وقت جو عمارتیں موجود ہیں ان میں سے دو تہائی عمارتیں 2050ء میں بھی زیرِ استعمال ہوں گی جو اس وقت کئی ڈھانچہ جاتی اور ماحولیاتی مسائل کا باعث بنیں گی جبکہ معیارِ زندگی پر ان کے اثرات اس کے علاوہ ہوں گے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی دستیاب ہے۔ بے قاعدہ آبادیوں کی نقشہ سازی کے لیے ’تھری ڈی اسکین‘ اور گرنے کے خطرات سے دوچار عمارتوں کی کم خرچ میں نشاندہی کے لیے مشین لرننگ سوفٹ ویئر کا استعمال کرنا ہو گا۔

گھر کی خرید یا تعمیر کے لیے ہوم فنانسنگ کی سہولیات کی دستیابی یقینی بنانا

آج دنیا بھر میں کئی گھرانے بینک سے مارگیج حاصل نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ یا تو بے قاعدہ (اِن فارمل) معیشت کا حصہ ہیں یا ان کے پاس زمین کے ٹائٹل کے کاغذات نہیں ہیں۔ آمدنی کا ثبوت اور ڈاؤن پے منٹ کی شرائط بھی کئی لوگوں کو مارگیج تک رسائی حاصل کرنے سے روک دیتی ہیں۔ فِن ٹیک میں جدت لا کر بے قاعدہ معیشت کا حصہ سمجھے جانے والے خاندانوں کی بے قاعدہ آمدنی کی تصدیق اور اسے تسلیم کرتے ہوئے انھیں ہاؤسنگ مارگیج کے اہل بنایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی سستے حل فراہم کرسکتا ہے۔

گھروں کی تعمیر سے متعلق جدید تحقیق پر مبنی تصوراتی ہم آہنگی

گھر کی ملکیت کے بین الاقوامی تصور نے غیرمساویت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ گھر کو قابلِ دسترس بنانے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ جس طرح ایئر بی این بی نے ’ویکیشن رینٹل‘ مارکیٹ میں انقلاب برپا کیا ہے، اسی طرح متذکرہ بالا اسٹارٹ اَپس کم آمدنی والے خاندانوں، پناہ گزینوں اور معاشرے کے نچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے لیے بڑے پیمانے پر مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، جو مناسب کرایہ پر گھر کی تلاش میں مارے پھرتے ہیں۔

کئی شہروں میں مالک مکان کرایہ داروں سے ناصرف بھاری پیشگی رقوم لیتے ہیں بلکہ کئی جگہوں پر ان کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ اگر اس شعبہ میں کچھ عالمی اسٹارٹ اَپس آجائیں تو کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے کرایہ کے گھروں کی ایک نئی مارکیٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ اچھے کرایہ داروں کی بچتوں اور حقوق کو تحفظ حاصل ہوسکتا ہے اور رینٹل سبسڈی اسکیموں اور گارنٹی فنڈز کے ذریعے بھاری پیشگی رقوم کے مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

پاکستان میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کا قیام اور وابستہ حقائق

[ad_1]



Post Views:
1

گزشتہ دنوں ادارہ برائے شماریات پاکستان کی ایک رپورٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ رپورٹ میں حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان میں پڑھے لکھے افراد میں سے 24 فیصد مرد اور 40 فیصد خواتین بیروزگار ہیں۔ اب اسے حُسنِ اتفاق کہیں یا کسی ایڈیٹر کا کمال لیکن اخبار کے جس صفحے پر یہ خبر درج تھی عین اسی کے ساتھ دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل کے سی ای او سندر پچائی کا ایک انٹرویو چھپا تھا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے اِس دور میں ہر شخص اپنے موبائل فون کے ذریعے روزگار کے بیش بہا مواقع اپنی ہی جیب میں لیے پھرتا ہے۔ سندر پچائی کے مطابق ٹیکنالوجی نے اس دور میں وہ آسانی پیدا کردی ہے کہ جس شخص کے پاس دنیا کیلئے جو کچھ ہے وہ اپنے موبائل فون کے ذریعے سب کے سامنے پیش کرسکتا ہے اور بدلے میں منہ مانگا معاوضہ وصول کرسکتا ہے۔

اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کا قیام

رواں ماہ ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلیکمیونیکیشن کے ایک اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی بل 2021 متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
عہدیداروں نے وضاحت کی کہ عالمی سطح پر مسابقتی اور برآمد پر منحصر ڈھانچے اور ماحولیاتی نظام کے ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے کیلئے ادارہ جاتی اور قانون سازی کی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔ ارکان نے مذکورہ قانون سازی کی حمایت کی اور بل کو ملکی آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کیلئے ایک بہت اہم اقدام قرار دیا۔

ایک ریگولیٹری اتھارٹی کی ضرورت

یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے خصوصی ٹیکنالوجی زونز کے قیام کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں اور پاکستان کی آبادی، جس کا بیشتر حصہ نوجوانوں پر محیط ہے، کے لیے معاشی و معاشرتی ترقی کا ایک بہترین اسٹرکچر قائم کیا جاسکے۔ دیکھا جائے تو یہ واقعی ایک انقلابی اقدام ہے۔ مانا کہ ٹیلنٹ، ریسورس اور پوٹینشل میں ہمارا کوئی ثانی نہیں اور ذرا نم ہونے پر یہ مٹی اپنی زرخیزی کے بیش بہا ثبوت دیتی ہے مگر ایک مرکزی ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام کسی بھی سیکٹر کو ایک ضابطے اور قائدے کے مطابق چلانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

 

ٹیکنالوجی زونز پر حکومتی موقف

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اُن کی حکومت نوجوانوں کو ٹیکنالوجی اور جدت کے اِس دور سے مستفید ہونے میں معاون بننا چاہتی ہے۔ بقول اُن کے ٹیکنالوجی ہی وہ گروتھ ڈرائیور ہے کہ جس سے صنعت، تجارت اور تعلیم کے میدان میں ترقی کا رجحان بڑھایا جاسکتا ہے۔ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کے قیام سے سرمایہ کاران، انٹرپرنیورز اور کاروباری طبقے کو سائنس و ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کا مکمل سامان مہیا کیا جائیگا اور اُنہیں اپنے کارہائے نمایاں کی انجام دہی میں حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہوگی۔ ایک موقع پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے رواں سال کے ابتدائی مہینے یعنی جنوری میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کا قیام کیا تاکہ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی میں روزگار کی شرح کو بڑھایا جاسکے اور آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دیا جاسکے۔

کچھ مثالوں کی روشنی میں

اس کی ایک مثال یہیں سے لے لیں کہ گزشتہ دنوں پاکستانی اسٹارٹ اپ ایئرلفٹ نے سیریز بی فنانسنگ میں 85 ملین ڈالر کی رقم حاصل کی۔ یہ پاکستانی اسٹارٹ اپ ہسٹری میں اب تک کی سب سے بڑی فنانسنگ ہے۔ اس فنڈنگ کے ذریعے اس نجی کمپنی نے سال 2021 میں پاکستان کی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں 5 فیصد تک کا اضافہ کیا۔ اسی طرح سے حال ہی میں ایک اور پاکستانی اسٹارٹ اپ پوسٹ ایکس نے 1.5 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی۔ اب سوچیے کہ اگر اسی کو نکتہ آغاز گردانتے ہوئے ہمارے پالیسی ساز اس امر کو سمجھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ملکی ترقی کیلئے ضروری اس سیکٹر کی گروتھ کیلئے انقلابی اقدامات کا آغاز کرلیتے ہیں تو یقیناً پاکستان محدود وسائل کے ساتھ بھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں کمالات دکھانے والے ممالک کی فہرست میں صف اول میں ہوگا۔

 

 

ٹیکنالوجی پر مبنی ایک روڈ میپ کی ضرورت

اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے چیئرمین عامر ہاشمی کے مطابق اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کا قیام پاکستان کو جدت کے اِس دور سے استفادہ کرنے کا مکمل موقع فراہم کریگا۔ اُنہوں نے کہا کہ دنیا بڑی تیزی سے ترقی کررہی ہے اور پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی ایک روڈ میپ کی ضرورت ہے جس میں معاشرے کے ہر شخص کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے قیام سے سرمایہ کاروں، بلڈرز اور ٹیکنالوجی کمپنیز کو حکومت کے ساتھ پارٹنرشپ کی صورت میں مراعات دی جائیں گی اور ون ونڈو فسیلیٹیشن کا بھی آغاز کیا جائیگا جہاں لوکل اور انٹرنیشنل کمپنیوں کی بھرپور معاونت کی جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹیک زونز کا مقصد ٹیکنالوجی ٹرانسفر، بیرونی سرمایہ کاری، ہیومن کیپٹل ڈویلپمنٹ، تحقیق و ترقی اور برآمدات بڑھانے کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

ڈیجیٹل بزنس ماڈل اور کارپوریٹ سیکٹر

[ad_1]



Post Views:
4

سعودی موبائل کمپنی ایس ٹی سی دنیا بھر کی بہترین 44 ڈیجیٹل کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہے۔ اس کی مارکیٹ ویلیو 64.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

عاجل ویب سائٹ کے مطابق انٹرنیشنل میگزین فاربز کی درجہ بندی کے حوالے سے ایس ٹی سی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی مواصلاتی کمپنیوں میں سرفہرست آگئی۔ اس کی ویلیو میں 37.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

فاربز نے اپنی سالانہ ’گلوبل 2000‘ کی فہرست جاری کی ہے۔ یہ دنیا کی دو ہزار طاقتور ترین کمپنیوں پر مشتمل ہے۔ فاربز نے ڈیجیٹل کمپنیوں کی درجہ بندی میں چار باتوں کو بنیاد بنایا ہے۔ اس میں آمدنی، منافع، اثاثوں کا حجم اور ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو شامل ہیں۔

نئے صنعتی انقلاب کی باز گشت کے ساتھ ہی عالمی معیشت کے تمام شعبوں اور دنیا کے ہرحصے میں سرگرم کاروباری سربراہان کے لیے ڈیجیٹل ورلڈ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

موجودہ دور کسی حد تک لیکن مستقبل مکمل طور پر ڈیجیٹل کی دنیا قرار دی جا رہی ہے جبکہ کورونا وائرس جیسے وبائی مرض نے اس رجحان کو مزید تیز کردیا ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ 10 فیصد سے بھی کم کاروباری اداروں کے موجودہ بزنس ماڈلز ڈیجیٹل دور کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کسٹمر ویلیو آمدنی میں اضافے اور مارکیٹ اویلیوایشن کے لحاظ سے موجودہ وقت میں کامیاب ترین بزنس ماڈل ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل کے طور پر جانا جاتا ہے۔

دنیا کی 10 سب سے زیادہ قیمتی اور قابلِ قدرکمپنیوں میں 70 فیصد (ایمیزون، علی بابا، ایپل، مائیکروسافٹ وغیرہ) اور ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت رکھنے والے 70 فیصد اسٹارٹ اپس ڈیجیٹل بزنس ماڈل پر عمل پیرا ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں 2030ء تک 30 فیصد عالمی معاشی سرگرمیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل کے تحت وقوع پذیر ہوں گی۔ تاہم اس وقت 5 فیصد سے بھی کم روایتی کمپنیاں اس سلسلے میں کوئی مربوط لائحہ عمل اختیار کر پائیں گی۔

اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ موجودہ کمپنیوں کے بورڈ پر موجود 10 فیصد سے بھی کم اراکین ایسے ہیں جو ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل کی معیشت کو پوری طرح سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نتیجتاً آج کے کارپوریٹ لیڈرز کی ایک بڑی تعداد نئے صنعتی انقلاب کے لیے درکار تبدیلیوں کو اپنے اداروں میں متعارف کرانے کے لیے پراعتماد نظر نہیں آتی ہیں۔

بلاشبہ یہ ایک بہت بڑا ٹاسک ہو سکتا ہے جسے بیک وقت لاگو کرنے کی بجائے اس پر ٹکڑوں یا مختلف حصوں میں عمل درآمد کیا جاسکتا ہے۔ کارپوریٹ لیڈرز کاروبار کے روایتی طریقوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل پر منتقل کرنے کے لیے درج ذیل لائحہ عمل اختیار کرسکتے ہیں۔

کمپنی بورڈ اور ایگزیکٹوز کی ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل سے مکمل آگاہی

ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک نیا رجحان ہے جس کے بارے میں کم ہی لوگوں کو معلوم ہے۔ کارپوریٹ لیڈرز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کاروباری میدان میں تقابلی سرگرمیوں اور اشتراک میں کام کرنے کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار ہوسکیں۔

کارپوریٹ سیکٹر اور ڈیجیٹل منصوبہ بندی میں ہم آہنگی

معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ کارپوریٹ لیڈرز کو جب نئے مواقع اور خطرات کا ادراک ہوگا تب ہی وہ اپنے ادارے کی نمو کے لیے تیار کردہ لائحہ عمل میں ڈیجیٹل سوچ کو شامل کرسکیں گے۔ اس کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ محتاط روابط اور ابلاغ پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پانچ سال قبل ایک چینی کمپنی نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ خود کو انشورنس کمپنی تصور نہیں کرتی بلکہ وہ خود کو ’فناشل سروسز لائسنس یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی‘ سمجھتی ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارم ماڈل  کے لیے کم از کم 10 فیصد سرمایہ کاری مختص کرنے کی ضرورت

موجودہ دور اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آپ اپنے وسائل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل کریں جس سے کمپنی کے تمام اسٹیک ہولڈرز مستفید ہوں۔ موجودہ وسائل میں سے کچھ حصہ نکال کر ڈیجیٹل میں خرچ کرنا آپ کے مستقبل کے لائحہ عمل کو حقیقت میں بدلنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔ وال مارٹ نے اسی لائحہ عمل کے تحت بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے  جیٹ ڈاٹ کام اور فلپ کارٹ کو خریدا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

[ad_1]



Post Views:
3

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کم آمدن والے افراد کے لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کے تحت سنگجانی کے علاقے میں 2,392 گھروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

وزارت ہاؤسنگ حکام کے مطابق مذکورہ ہاؤسنگ اسکیم کی تعمیر کے ابتدائی تخمینہ سے متعلق تمام امور سرانجام دیے جا چکے ہیں جبکہ وزارت نے منصوبے کی تعمیر سے متعلق تفصیلی دستاویز کی منظوری بھی دے دی ہے۔

حکام کے مطابق وفاقی حکومت کے نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کے تحت ملک بھر میں 45000 کے قریب گھروں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




[ad_2]

تجارتی مشاغل اور ماحولیاتی تغیرات میں باہمی ربط

[ad_1]



Post Views:
7

دنیا کے نقشے پر موجود 195 سے زائد ممالک ماحولیاتی تبدیلی کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر جانتے ہیں اور بلاشبہ بغیر کسی شک و شبہ کے یہ ایک تلخ حقیقت بھی ہے کہ دنیا بھر میں صنعتی انقلاب کے بعد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ کے رہنما اصولوں کو عمومی طور پر مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج پوری دنیا کو ماحولیاتی تغیرات کے مہلک اثرات کا سامنا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے کی حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ سمیت دنیا کے 23 ممالک میں اوسطاً 68 فیصد سے زائد نوجوان ماحولیاتی تغیرات کو ایک سنگین اور بقاء انسانی کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بسنے والے ایسے افراد کی تعداد میں گذشتہ پانچ برسوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو صنعتی فضلے کی وجہ سے فضائی اور آبی آلودگی کے تحت رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔

جنریشن زیڈ کا پالیسی سازی میں کردار

جنریشن ‘زیڈ’ نوعمر افراد پر مشتمل موجودہ نسل کا ایک ایسا گروہ ہے جو بھرپور توانائی کے ساتھ سماجی، معاشرتی اور ماحولیاتی مسائل پر زور شور سے اپنی آواز بلند کر رہا ہے اور یقین کیجیے کہ جنریشن ‘زیڈ’ کے ان افراد کی آواز کی گونج پوری دنیا میں سُنی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے دنیا بھر کے پالیسی ساز اب مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایسی مربوط حکمتِ عملی ترتیب دیں جس کی مدد سے اس سے بطریقِ احسن نمٹا جا سکے۔

بڑی بڑی صنعتوں بالخصوص فرنس آئل اور کوئلے پر چلنے والے کارخانوں کی وجہ سے فضائی آلودگی میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ ان صنعتوں سے نکلنے والے دھوویں میں کاربن کی مقدار ہے جو کہ فضاء میں شامل اکسیجن کے ساتھ مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیسوں کے بننے میں کیمیائی مرکب کا کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ فضاء میں کاربن کے اخراج کی موجودگی میں کمی لانے کے لیے بین الاقوامی، حکومتی اور اعلیٰ شہرت کی حامل تجارتی و کاروباری کمپنیوں کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔

فضاء میں شامل مہلک کیمیائی عنصر سے نمٹنے میں جنگلات کا کردار

کاروباروں اداروں کے لیے لوگوں کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف کام کرنے کا ایک فطری حل قدرتی وسائل کے تحفظ سے براہ راست منسلک ہے جیسے جنگلات کا تحفظ اور نئے درخت لگانا وغیرہ۔ امریکا میں ایک ریسرچ سینٹر کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ سروے میں 90 فیصد نوجوانوں نےایک کھرب درخت لگانے کی مہم کی حمایت کی ہے۔ اس سروے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر پسند، ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر امریکی نوجوان، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف حکومتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

جنگلات کی بحالی ایک پُرکشش عمل ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ فضاء میں کاربن کی خطرناک حد تک موجودگی سے انسانی زندگیوں پر پڑنے والے مضر صحت اثرات میں جنگلات کی بحالی کی مدد سے خاطر خواہ حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔  ایک بڑا تناور درخت تقریباً ایک سال میں 24 کلوگرام کاربن اپنے اندر جذب کرتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ جنگلات زمین کے کٹاؤ کو روکنے، حیاتی نظام میں تنوع کا تحفظ کرنے اور مقامی آبادی کو روزگار کے ذرائع فراہم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

دورِ جدید میں صارفین ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کا استعمال بھی بڑے پیمانے پر کرتے ہیں۔ ایک کاروباری ادارے ایسپریشن نے پلانٹ یور چینج نامی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کے استعمال سے کوئی بھی شخص اپنے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر بچ جانے والے چند سکّوں کو خود کار نظام کے تحت درخت لگانے کی مہم میں شامل کر سکتا ہے۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس پروگرام کے تحت اب تک 40 لاکھ  درخت لگائے جا چکے ہیں۔ یہ اعدادوشمار صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ تک محدود ہیں جہاں ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے سالانہ 115 ارب ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے اور ٹرانزیکشن سے بچ جانے والے چند سینٹ جمع کرکے درخت لگانے کے لیے سرمایہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی میں کاروباری اداروں کی ذمہ داری

ماحولیاتی تبدیلی اور صنعتی شعبے کے باہمی ربط پر کام کرنے والے ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ تجارتی اور کاروباری اداروں پر نوجوان نسل کو خود مختار بناتے ہوئے انہیں یہ بھروسہ دلانا ہو گا کہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے میں تمام اسٹیک ہولڈرز اپنا اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

یاد رکھیے! کاروباری اداروں کے اخلاقی معیار، پیشہ وارانہ رویوں اور تیز رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرتی کامیابیوں سے نوجوان نسل ان اداروں سے خاصی متاثر ہے۔ اٹھائیس ممالک پر مشتمل ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 90 فیصد سے زائد نوجوان کا اس بات پر قوی یقین ہے کہ دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کاروباری اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

شاہی قلعہ لاہور میں نولکھا دربار اور شاہ برج کی بحالی کا 60 فیصد کام مکمل

[ad_1]



Post Views:
1

لاہور: صوبائی دارالکومت لاہور کے شاہی قلعہ میں نولکھا دربار اور شاہ برج کے بیرونی دیوار کے نقش و نگار کی بحالی اور تزئین و آرائش کا 60 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

لاہور والڈ سٹی اتھارٹی حکام کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی گائیڈ لاءنز کے مطابق شاہی قلعہ کے تاریخی ورثہ کو محفوظ بنانے کا کام جاری ہے۔

والڈ سٹی اتھارٹی کے مطابق شاہی قلعہ کے تاریخی ورثہ کو محفوظ بنانے کا یہ عمل پنجاب حکومت سمیت ناروے اور جرمن سفارتخانے کی مالی معاونت کے ساتھ جاری ہے اور تزئین و آرائش کا یہ سلسلہ دسمبر 2020ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

سیالکوٹ اور ساہیوال میں 44 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام جاری: صوبائی وزیر بلدیات

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: صوبائی وزیر بلدیات میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ محکمہ بلدیات کے زیر اہتمام پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 44 ارب کی لاگت سے سیالکوٹ اور ساہیوال میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔

پروگرام کے دوسرے مرحلے میں راولپنڈی، سرگودھا، مظفر گڑھ، رحیم یار خان، ڈی جی خان، بہاولپور اور ملتان کو شامل کیا جا رہا ہے۔

پنجاب کے صوبائی وزیر میاں محمود نے ان خیالات کا اظہار حکومتی جماعت کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی سکیموں کی مانیٹرنگ کا موثر طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کو بین الاقوامی تحقیق کو سامنے رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے جن کے تحت ان اضلاع میں واٹر سپلائی، نکاسی آب، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، عوامی پارکس اور سٹریٹ لائٹس کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

دُھند میں لپٹی سرسبز و شاداب بالکنی اور ایک کَپ کافی

[ad_1]



Post Views:
0

پاکستان سمیت دنیا بھر میں رہائشی منصوبوں یا انفرادی سطح پر تعمیر کردہ گھروں میں بالکنی وہاں بسنے والے رہائشیوں کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ بنیادی طور پر بالکنی کسی بھی گھر یا رہائشی یونٹ  میں کمروں کے باہر ایسی کھلی جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں سے مسکن کے باہر کا نظارہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔

بالکنی جہاں موسمِ گرما میں رات کے وقت چلنے والی ہواؤں کی راہداری کے طور پر ہمیں ٹھنڈک کا احساس فراہم کرتی ہے وہیں برسات کے موسم میں بارش کے دلفریب نظاروں اور موسمِ سرما کی یخ بستہ دھندلی شاموں میں ایک کپ کافی کے ساتھ آپ کو ناقابل فراموش پرانی یادوں میں کھو جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

گھروں کی زیب و آرائش وہاں بسنے والے مکینوں کی ذہنیت کی عکاس ہوتی ہے۔ یہاں اس بات کو بالکل بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ انسانی فطرت کا براہ راست تعلق آپ کی زندگی اور رہنے سہنے کے طور طریقوں سے ہوتا ہے۔ بالکنی عمومی طور پر گھر میں شام کی چائے کے لیے ایک بہترین جگہ ہو سکتی ہے اور خاص طور پر سردی کی یخ بستہ شاموں میں تو گرما گرم کافی کے ایک کپ کے ساتھ یہ احساس اور بھی دیدنی ہو جاتا ہے۔

نباتات کے استعمال سے آپ گھر کی بالکنی کو کیسے ایک دیدہ زیب سکون گاہ میں تبدیل کر سکتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں۔

بالکنی کو ایک چھوٹی باغیچی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟

جی بالکل! تھوڑی سی محنت سے آپ اپنے گھر کی بالکنی کو ایک چھوٹی اور پُرکشش باغیچی میں تبدیل کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے مناسب سائز کی جگہ ہونا لازمی ہے۔ اگر آپ کے گھر کی بالکنی کے لیے مناسب جگہ مختص ہے تو آپ وہاں مختلف رنگوں سے مزین پھولوں کے گملوں اور پودوں کی کیاریوں سے سجاوٹ کر سکتے ہیں جو کہ آپ کو گھر میں ایک قدرتی ماحول کا احساس فراہم کرے گی۔ لیکن اگر بالکنی انتہائی اختصار سے تعمیر کی گئی ہے تو آپ وہاں دیوار کی آرائش و زیبائش کے لیے مختلف پوودوں اور پھولوں سے مزین نباتاتی بیل کا استعمال کر سکتے ہیں۔

ایک بات کا ضرور خیال رکھیں کہ بالکنی میں پودوں اور پھولوں کے لیے جو گملے لگائے گئے یا کییاریاں بنائی گئی ہیں وہاں نکاسی آب کا ایک مربوط نظام ضرور موجود ہونا چاہئیے تاکہ اضافی پانی بالکنی کے فرش کو خراب نہ کر پائے۔  اس طرح سے بالکنی کا فرش بھی خشک رہے گا اورعمارت کو پانی سے نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی نہیں ہوگا۔

یاد رکھیں! مٹی کے ساتھ گملوں کا وزن اور بھی بڑھ جاتا ہے اور اس بات کے پیش نظر بالکنی کی مضبوطی کو بھی دھیان میں رکھنا ضروری عمل ہے۔ پودوں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھیں تاکہ اُن کی بڑھوتری کا عمل متاثر نہ ہو۔ علاوہ ازیں  بالکنی میں پودوں کی نشونما کے لیے روشنی، پانی اور کھاد کا مناسب انتظام رکھیں۔

موسم اور ماحول کی مناسبت سے روشنیوں کا عمدہ انتظام

بالکنی کیلئے کچھ بھی خریدنے سے پہلے اس بات کا اندازہ لگائیں کہ آپ کی بالکنی میں دن میں کتنے گھنٹے دھوپ آتی ہے۔ خاص طور پر بلاواسطہ آنے والی دھوپ کے ساتھ ساتھ بلواسطہ دھو پ سے متعلق آپ آپ کو علم ہونا چاہئیے۔ عمومی طور پر دن کے وقت بالکنی پر آپ سورج کی روشنی سے براہ راست استفادہ کر سکتے ہیں لیکن رات میں یہ ضروری ہے کہ دلفریب احساس سے مزین اور موسم کی مناسبت سے آپ بالکنی میں ہلکی روشنیوں کا مناسب انتظام رکھیں۔

بالکنی میں فرنیچر کا مختصر استعمال

اگر آپ کے پاس جگہ کم ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں خوبصورتی نہیں لائی جا سکتی۔ یہ تو آپ کے ذوق پر منحصر ہے کہ آپ اس چھوٹی جگہ کو کتنی اچھی طرح استعمال میں لا سکتے ہیں ۔ بالکنی کی جگہ میں کم سے کم فرنیچر رکھیں تاکہ جگہ کے یک دم اختصار کا احساس جاتا رہے۔  بالکنی میں پڑا فرنیچر آپ کو اس وقت بہترین احساس فراہم کرے گا جب آپ باہر کے موسم کا لطف اٹھاتے ہوۓ کھانے یا موسم سرما میں کافی سے لطف اندوز ہونا چاہ رہے ہوں۔ کوشش کریں کہ اس کے اوپر آپ کسی قسم کا شیڈ بھی لگا دیں تاکہ آپ کا فرنیچر بارش اور دھوپ سے محفوظ رہ سکے۔ اس کے علاوہ کوشش کریں کہ بالکنی کو سادہ رکھیں اور ہلکے رنگوں کا استعمال کریں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




[ad_2]

پاکستان میں آبی وسائل کی کمی اور اِس کا حل

[ad_1]



Post Views:
96

پانی کی ایک ایک بوند کی قدر ضروری ہے کیونکہ اس نعمت کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔

کچھ حقائق

پانی ہماری زمین کا دو تہائی حصہ بنتا ہے مگر اس کا بیشتر حصہ قابلِ استعمال نہیں۔ اندازہ لگائیں کہ زمین کے 70 فیصد حصے پر جو پانی ہے اُس کا صرف 3 فیصد فریش واٹر ہے۔ اُس 3 فیصد میں سے اڑھائی فیصد گلیشیرز اور ہوا میں نمی کی صورت میں ہے یعنی پینے کے قابل ہے مگر دستیاب نہیں۔

یوں زمین کے کُل آبی ذخائر کا صرف 0.5 فیصد حصہ ہم 7 ارب سے زائد کی آبادی کیلئے دستیاب ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیا میں 1.1 ارب لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہی نہیں۔ دنیا میں 2.7 ارب لوگ ایسے ہیں کہ جن کو سال میں ایک ماہ پانی کی قلت شدید متاثر کرتی ہے اور 2.4 ارب لوگ ایسے ہیں جو ناقابلِ استعمال پانی پیتے ہیں۔ یوں اُن کا یرقان، ہیضے اور دیگر امراض کا شکار ہونا گویا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

کچھ مزید لرزا دینے والے حقائق کے مطابق ہر سال 2 ملین افراد صرف ڈائریا یعنی اسہال کے مرض سے لقمہ اجل بنتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق عالمی سطح پر آبی ذخائر میں خطرناک حد تک کمی واقع ہورہی ہے۔ سال 2025 میں، جو کہ ہم سے محض 4 برس کی مسافت پر ہے، دنیا کی آبادی کا دو تہائی حصہ آبی وسائل کی کمی سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہوگا۔

 

 

کچھ پاکستان کے بارے میں

پاکستان میں آبی مسائل کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
پہلا حصہ اُن لوگوں کا ہے کہ جن کو صاف پانی تک رسائی نہیں۔ دوسرا یہاں آبی ذخائر کی کمی ہے، تیسرا یہ کہ صوبوں کے مابین پانی کی غیر متوازن تقسیم ہورہی ہے اور چوتھا یہ کہ آبی وسائل غلط طریقے سے مینیج اور ریگولیٹ کیے جارہے ہیں۔

چونکہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 6 ممالک میں سے ایک ہے، یہ مسائل بڑھنے کا خدشہ ہے۔ بڑے شہروں میں زیادہ آبادی کے باعث حالات مزید سنگینی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق کراچی کی 20 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں۔ آبی ذخائر کی گرتی صحت کے پیچھے ہمارے انڈسٹریل سیکٹر یعنی کارخانوں کا بڑا کردار ہے جو کہ وہاں گندگی کا اخراج کرجاتے ہیں۔
اسی طرح سے یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ 70 کی دہائی کے بعد پاکستان میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا۔ اب کہیں جا کر ديامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی بنیاد رکھی گئی ہے اور ان پر کام جاری ہے۔ ڈیموں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہم پانی ذخیرہ نہیں کر پاتے اور بارشیں زیادہ ہونے کی صورت میں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے، اربن فلڈنگ کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے، دیہات زیر آب آجاتے ہیں، اور بارشیں نہ ہونے کی صورت میں قحط سالی کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔

ایک اور اسٹڈی یہ بتاتی ہے کہ پاکستان کے پاس محض 30 روز کی کیری اوور فسیلٹی ہے جو کہ عالمی سطح پر دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ عالمی سیاست اور بھارت کے ساتھ آبی معاہدے ہوں یا مقامی سیاست اور صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم، آبی وسائل کے تحفظ کیلئے حالات کبھی بھی زیادہ اچھے نہیں رہے۔ پاکستان میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ چھوٹے صوبوں کو اس ضمن میں ہمیشہ بڑے صوبوں سے شکوہ رہتا ہے اور یوں پانی کی تقسیم آج بھی ہمارے مُلک کے چند بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔

 

 

یہ مسائل حل کیسے کیے جائیں؟

مسائل کا تذکرہ تو ہوگیا مگر حل کیسے ممکن ہو اس پر بات ہونی چاہیے۔ پاکستان میں فی الحال واٹر ریسورسز پر کوئی مستند ڈیٹا دستیاب نہیں۔ نہ ہی ایسے کوئی فیکٹس اینڈ فگرز موجود ہیں جس سے ہمیں یہ اندازہ ہوسکے کہ آبی ذخائر کس تیزی سے کمی کا شکار ہیں۔ یوں اس ضمن میں ریسرچ اور ڈیٹا بیس تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاملات مکمل طور پر کلیئر ہوسکیں۔

اسی طرح سے پاکستان کو اپنی واٹر ریسورس مینجمنٹ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے نظام کے فروغ کی ضرورت ہے کہ جس میں فلیٹ یوزر فیس کے بجائے پانی کے استعمال کے مطابق اُس کا بل آیا کرے۔ ایسے لوگ کم لاگت کے چکر میں کم پانی استعمال کیا کریں گے اور پانی کے بچاؤ کا عمل یقینی ہوگا۔ اسی طرح سے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو صاف پینے کے پانی تک رسائی ممکن بنائی جاسکے۔ ڈیمز کی تعمیر کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے اور نئے ڈیموں کی بنیاد رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ پانی کو ڈمپنگ سائٹ بنانے کے عمل کے خلاف بھرپور مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ آبی ذخائر کی آلودگی کو روکا جاسکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

شہروں میں اوپن اسپیسز کی اہمیت اور افادیت

[ad_1]



Post Views:
0

ہمارے شہر بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے خوب پھیلاؤ کا شکار ہیں۔ لوگ بہتر روزگار اور معیارِ زندگی کے مواقع ڈھونڈتے شہری علاقوں کا رُخ کرتے ہیں تاکہ وسائل کے گرد گھومتے اس دور میں سر اُٹھا کر چلنا ممکن ہوسکے۔

یوں ہمارے شہر اپنے دِلوں میں انواع و اقسام کی کہانیاں سموئے صبح سے رات اور رات سے سپیدہ سحری تک کا فاصلہ طے کرتے ہیں۔ کوئی بھی شہر ویسے ہی نہیں بس جاتا۔ شہروں کو بستے بستے عمریں بیت جایا کرتی ہیں۔ یہ مختلف حصوں پر مبنی ایک مجموعہ اپنے ساتھ ایک ثقافت، ایک اندازِ زندگی لیے پنپتا ہے۔ آج ہم لوگوں کے لہجوں، اُن کے پہناوے اور اُن کے اندازِ فکر سے ہی اُن کے آبائی شہروں کا اندازہ لگا لیا کرتے ہیں۔ اور اکثر اوقات بلکل ٹھیک لگایا کرتے ہیں۔ اُس کی وجہ محض یہ ہے کہ ہر شہر اپنی ایک منفرد روایت اور ایک الگ طریقِ زندگی کا امین ہوتا ہے۔

آج کی تحریر شہری احاطوں میں اوپن اسپیسز کی اہمیت اور افادیت پر مبنی ہے۔ یہ اوپن اسپیسز ضروری ہیں تاکہ قدرتی ایکوسسٹم کا تحفظ کیا جاسکے، اربن لائف سٹائل کیلئے درکار ضروری آکسیجن کا بندوبست کیا جاسکے اور جنگلی حیات کو افزائشِ نسل کیلئے ایک محفوظ جگہ فراہم کی جاسکے۔

اوپن اسپیسز انواع و اقسام کے ہوتے ہیں۔ آج کی تحریر اسی بارے میں ہے۔

 

کہتے ہیں کہ جس شہر کے پارک آباد ہوں، وہاں کے ہسپتال خود بخود ہی ویران ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ شہری علاقوں میں دو طرح کے پارکس پائے جاتے ہیں، ایک ہاؤسنگ سوسائٹیز کے اندر اور دوسرا جنگلات کے لیے وقف کردہ زمین یعنی فاریسٹ پروٹیکٹڈ ایریاز میں۔ پاکستان میں خیبر پختونخوا اور پنجاب میں جنگلات کے لیے وقف کردہ اراضی میں نیشنل پارکس کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں نو قدرتی پارکس کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور ان کا قیام عمل میں ہے۔ یہ ایک بہترین سیاحتی مقام بننے کا پوٹینشل رکھتے ہیں اور مقامی معیشت کیلئے بھی ایک نیک شگون ہوا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ رہائشی علاقوں کے قریب پارکس بچوں کیلئے کھیل کود جبکہ بڑوں کیلئے واک اور ایکسرسائز کی ایک اچھی جگہ فراہم کرتے ہیں۔

گرین بیلٹ بیشتر لوگوں کیلئے دو مصروف سڑکوں کے درمیان والی ایک سبز جگہ ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی جریدے فوربز کے مطابق گرین بیلٹ درجہ حرارت کی ریگولیشن اور نوايز پولوشن یعنی شور کی آلودگی سے بچاؤ میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بات مگر اُن کی چوڑائی پر منحصر ہے۔ ایک پلان کے تحت بنائے گئے شہروں میں گرین بیلٹس کی چوڑائی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ بیشتر ویل پلانڈ شہروں میں گرین بیلٹس پر چھوٹے چھوٹے چڑیا گھر بنائے گئے ہوتے ہیں یا اُن کی تزئین و آرائش اس صورت میں کی جاتی ہے کہ وہاں خوبصورت کیاریاں، انواع و اقسام کے پودے، اور بیٹھنے کی غرض سے بینچز کا انتظام کیا جاتا ہے جہاں لوگ تفریح کی غرض سے رُخ کیا کرتے ہیں۔

اسی طرح سے اوپن پلے گراؤنڈز یعنی کشادہ میدان بھی بہت ضروری ہوا کرتے ہیں جہاں شام کے وقت بچے آپ کو کرکٹ اور فٹ بال جیسے کھیلوں میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ فوربز کا کہنا ہے کہ بیشتر جنوبی ایشیائی ممالک میں اربن ایریاز میں پھیلاؤ اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بھرمار سے کھیلوں کے لیے مختص کردہ پلے گراؤنڈز میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے۔ ایسے میں بچوں کے پاس کھیلنے کو مناسب جگہیں کم ہی رہ جاتی ہیں جس سے معاشرے میں منفی رجحانات، ڈپریشن، بیماریوں یعنی ذیابیطس اور موٹاپے سمیت بہت سے مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری علاقوں میں اوپن پلے گراؤنڈز کا نہ صرف تحفظ کیا جائے بلکہ مزید میدانوں کیلئے بھی راہ ہموار کی جائے تاکہ ہماری نوجوان نسل حقیقی معنوں میں مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کی جانب مائل ہو۔

کورونا وبا کے باعث 2019 کے باعث آؤٹ ڈور ڈائننگ کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ مشہور ویب سائٹ ریسٹورنٹ ڈائیو کے مطابق فائن ڈائننگ میں 62 فیصد جبکہ کیثول ڈائننگ میں عالمی سطح پر 56 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ویب سائٹ کے مطابق لوگ چونکہ اب اس وبا کے اثرات سے بخوبی آگاہ ہوچکے ہیں لہٰذا سماجی فاصلے کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تاہم ان ڈور ڈائننگ کی آپشن اگر دی بھی جائے تو لوگ آئوٹ ڈور ڈائننگ کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]