ٹاؤن پلاننگ کیوں ضروری ہے؟

[ad_1]


Post Views:
0

شہری احاطوں میں ٹاؤن پلاننگ کی اہمیت و افادیت سے انکار مشکل ہے۔ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے، اور جس تیزی سے یعنی جس تناسب سے بڑھ رہی ہے، یوں گمان ہوتا ہے کہ زمین پر جگہ کم پڑتی جارہی ہے لیکن آبادی کا زور ہے جو کسی صورت کم پڑنے کا نام نہیں لے رہا۔

آج کا دور وسائل کے گرد گھوم رہا ہے۔ ہر شخص خوشحالی چاہتا ہے اور ایسے میں ایک بہتر طرزِ زندگی کی تلاش میں ہے۔ یوں لوگ ایک کوالٹی لائف سٹائل کی تلاش میں جوق درجوق شہروں کا رخ کررہے ہیں۔

ہمارے شہر پھیلاؤ كا شکار ہیں اور اس ضمن میں ٹاؤن پلاننگ پہلے کی نسبت زیادہ ضروری ہوگئی ہے۔ ٹاؤن پلاننگ کے بغیر شہر پھیلتے چلے جاتے ہیں اور معاشی، معاشرتی اور ماحولیاتی مسائل کی آماجگاہ بن جایا کرتے ہیں۔

چونکہ ہم ایسا نہیں چاہتے اس لیے اس تحریر میں ہم ٹاؤن پلاننگ کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالیں گے اور اس بات کو سمجھیں گے کہ ٹاؤن پلاننگ ہوتی کیا ہے، یہ کیوں ضروری ہے، کیسے کی جاتی ہے اور اگر نہ کی جائے تو اس کے نقصانات اور اثرات کیا ہوتے ہیں۔

ٹاؤن پلاننگ کا مطلب کیا ہے؟

ٹاؤن پلاننگ کا مطلب ہے کہ ایک مخصوص احاطے کا بہتر استعمال کیسے کیا جائے۔ ایک ٹاؤن، ایک شہر ایک مقررہ اراضی پر بسایا جاتا ہے۔ وہ زمین کچھ مخصوص وسائل اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے، اور رہنے والوں کو اُن وسائل کا بہتر استعمال مقصود ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک پلان ضروری ہوتا ہے تاکہ کوئی بھی جب اس زمین پر رہے تو وہ تمام تر وسائل کا بہتر استعمال کرسکے۔ یہ ہم پر ہے کہ ہم کسی شہر میں کیسے آباد ہوتے ہیں۔ آیا ہم ایک پلان کے تحت، ایک سوچ کے تحت وہاں آباد ہوتے ہیں يا ہم ایسے آباد ہوتے ہیں کہ شہر ایسا منظر پیش کرے کہ جس کا جہاں دل کیا وہ وہاں آباد ہوگیا۔ کہتے ہیں جب آپ ایک پلان بنانے میں ناکام ہوجائیں تو دراصل آپ ناکام ہونے کا پلان بنا چکے ہوتے ہیں، لہٰذا پلاننگ نہایت ضروری ہے۔

 

ٹاؤن پلاننگ کی بنیاد اس بات میں ہے کہ ضروریاتِ زندگی کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے۔ شہروں کو اس انداز میں بنایا اور بسایا جاتا ہے کہ وہاں ہر طرح کی طرزِ زندگی اختیار کرنے والوں کو جگہ مل سکے۔ یعنی وہاں بہترین سڑکیں بچھائی جائیں، مخصوص ریزیڈینشل احاطے ہوں جہاں لوگ آباد ہوسکیں، الہ کمرشل احاطے ہوں جہاں لوگ اپنی کاروباری سرگرمیاں پوری کرسکیں اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے الگ سے جگہ مختص ہو۔ یہ ایک پلانڈ کمیونیٹی کہلاتی ہے جہاں انسان ایک معیاری زندگی جینے کے اہل ہوتا ہے۔

ٹاؤن پلاننگ اور ریئل اسٹیٹ

وہ شہری احاطے جہاں ڈیویلپمنٹ ایک پلان کے تحت کی جاتی ہے، وہاں ریئل اسٹیٹ کی قیمتیں ہمیشہ بڑھتی رہتی ہیں۔ گھر خریدنے اور بیچنے پر ایک بہتر ریٹرن آن انویسٹمنٹ کی اُمید ہوتی ہے۔ لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ پلان کے تحت بنائے گئے ٹاؤنز اور شہروں میں ہر طرح کی سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔ لوگ وہاں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور معاشرے میں اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اُن کا طرزِ زندگی باقیوں سے بہتر ہے۔ اس کے برعکس اگر شہر بغیر کسی پلاننگ کے تحت بنائے جائیں تو مجاز اتھارٹی کو لوگوں کے لیے ایک بہتر طرزِ زندگی اور سہولیات زندگی کی فراہمی نسبتاً مشکل ہوجایا کرتی ہیں۔

ٹاؤن پلاننگ اور ماحولیات

قدرتی آفات کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اکثر قدرتی آفات بغیر کسی پلان کے تحت بنائے گئے علاقوں اور ایک سطحی پلان کے تحت بنائے گئے شہروں کا پول کھول دیا کرتے ہیں۔ گزشتہ سال مون سون کے موسم میں کراچی کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد نہ کرنے کے بہت نقصانات سامنے آئے۔ جو شہر ایک پلان کے تحت بنائے جائیں، وہاں قدرتی آفات کا مقابلہ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔

نیشنل اربن پالیسی، وقت کی اہم ضرورت

اگر ہمارے پاس ایک مربوط اور متحرک اربن پالیسی ہوتی اور اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے حکومت نے لوکل انتظامیہ تشکیل دی ہوتی تو زمینوں کی تقسیم، مخلوط اراضی کے استعمال اور شہری پھیلاؤ، ماس ٹرانزٹ، سستی رہائش، انفراسٹرکچر، روزگار اور افرادی قوت کی مہارتوں کے بہتر استعمال سے آج ہم ایک بہتر پوزیشن میں ہوتے، تاہم یہ کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں کہ آج ہم بہت بہتر صورتِ حال میں نہیں ہیں۔

یہ نیشنل اربن پالیسی کے فقدان کا ثمر ہے کہ بڑے شہروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہتر سہولیات زندگی والے مقامات پر لوگوں کا بے ہنگم رش ہے جبکہ پسماندہ طبقے دور دراز علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

شہری پالیسی سے ہم ان باتوں پر غور کر سکتے ہیں کہ سرکاری اراضی کو کیسے بہتر انداز میں استعمال کیا جائے اور پسماندہ گروہوں کے لئے کون سی جگہ مختص ہو۔ مربوط اربن پالیسی ہو تو ہاؤسنگ فنانس تک آسان رسائی، منصوبہ بندی، زوننگ کے ضوابط، ترقیاتی معیار ، اراضی کی رجسٹریشن/منتقلی کے طریقہ کار، پراپرٹی ٹیکس، ٹیکس کے قوانین سمیت معتدد مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس پالیسی سے شہری انفراسٹرکچر، اداروں کی اصلاح اور استحکام کی فوری ضرورت کو بھی حل کیا جاسکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

ہمیں مزید جنگلات کیوں چاہئیں؟

[ad_1]


Post Views:
60

اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن 6 ممالک میں شامل ہے جن پر ماحولیاتی تبدیلی سب سے زیادہ اثر انداز ہوگی۔ پاکستان کی صرف 5 فیصد اراضی پر جنگلات کا بسیرا ہے جو کہ انتہائی کم ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں یہ شرح اوسطاً 31 فیصد ہے۔ اسی طرح سے پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کی رفتار دنیا کے بیشتر ممالک سے زیادہ ہے۔ یہاں چونکہ موسم اب زیادہ تر خُشک رہنے لگا ہے اور آبی ذخائر میں بھی کمی واقع ہورہی ہے، جنگلات وقت کی اہم ترین ضرورت بنتے جارہے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت ٹین بلین ٹری سونامی پر کام کیا جا رہا ہے۔ ملک امین اسلم خان، جو کہ ماحولیاتی تبدیلی پر وزیرِ اعظم کے مشیر ہیں، دی تھرڈ پول کے لیے لکھتے ہیں کہ ٹین بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کو گرین اسٹمیولس مہم کے ذریعے مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے جس کے پہلے حصے میں 65 ہزار روزگار کے مواقع پیدا کیے جا چکے ہیں جبکہ دوسرے حصے میں 6 لاکھ سے زائد نوکریاں پیدا کی جائیں گی۔ مقصد پاکستان کا فاریسٹ کوور بحال کرنا ہے تاکہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوسکیں اور آنے والی نسلوں کو قدرے بہتر آب و ہوا میں سانس لینا نصیب ہو۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شجر کاری سے انسان اور حیوان، دونوں کے فائدے کے لیے ایک ایکوسسٹم جنم لیتا ہے۔ شجر کاری سے کاربن فوٹ پرنٹ میں بھی کمی واقع ہوتی ہے، روزگار کے مواقع بھی جنم لیتے ہیں اور وائلڈ لائف بھی مستفید ہوتی ہے۔ لیکن شجر کاری کا مکمل فائدہ تب تک نہیں اٹھایا جا سکتا جب تک موجودہ ڈی فاریسٹیشن کے ریٹ میں کمی نہیں لائی جاتی۔ ایک پودے کو تنآور درخت بننے میں بہت عرصہ لگتا ہے اور اس ضمن میں اُس کا کافی خیال رکھنا پڑتا ہے تاہم موجودہ جنگلات کی کٹائی سے وہ درخت جو کہ ماحولیاتی تبدیلی کا تدارک کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں، فوراً سے صاف کردیئے جاتے ہیں۔

دس ارب درخت لگانے کے اس پلان کے پہلے مرحلے کا ٹارگٹ 3.25 ارب درخت ہیں جس پر 105 ارب روپے کی لاگت آئیگی۔ یہ 650 ملین امریکی ڈالر بنتے ہیں۔ حکومت نے 10 ارب درختوں کا ٹارگٹ سال 2023 تک رکھا ہوا ہے۔ یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ انگریز دور کے بعد اس خطے میں کبھی بھی شجر کاری کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی اور آبادیاتی لہروں کے آگے بند نہ باندھنے کے باعث ہم جنگلات کھوتے چلے گئے۔ دس ارب درخت لگانے کے اس پلان میں کوشش یہ ہے کہ وہ درخت لگائے جائیں کہ جن کا بہت زیادہ خیال نہ رکھنا پڑے اور جن کی بڑھوتری کا سفر نسبتاً آسان ہو، نیز جو زمین سے بہت زیادہ پانی بھی نہ جذب کریں۔ اسی طرح سے حکومت وقت نے بہت توجہ قومی پارکس پر بھی دی ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان میں تین سال کی قلیل مدت میں کُل 9 نئے قومی پارکس کی بنیاد ڈالی جاچُکی ہے۔ اسی طرح سے بلین ٹری سونامی کے تحت شجرکاری سے خیبر پختونخوا میں فاریسٹ کوور 20 فیصد سے بڑھ کر 27 فیصد ہوچکا ہے اور یہ تبدیلی محض پچھلے 3 سے 4 سالوں کے درمیان آئی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کے لیے رہائش و خوراک کا بندوبست کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایندھن، گندم اور کیش کراپ یعنی کاٹن کی پیداوار کے لیے یہاں درختوں کی بےتحاشا کٹائی کی جاتی ہے۔ آنے والے وقتوں میں ماحولیاتی تبدیلی کی حفاظت کرنا اور اس ضمن میں ایسے چیلنجوں سے نمٹنا کلیدی اہمیت کا حامل ہوگا۔ اس سلسلے میں بھرپور تشہیری اور آگہی مہم چلانا ہوگی اور قومی نساب کے ذریعے بچوں کے اذہان میں یہ بات بٹھانا ہوگی کہ اگر اس ارضِ پاک پر صحت سے بھرپور زندگی یقینی بنانی ہے تو ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شجر کاری جیسے اقدامات کرنے ضروری ہونگے۔

ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ جنگلات سے آکسیجن پیدا ہوتی ہے جو کہ زمین پر زندگی کے پنپنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک درخت سے یومیہ تقریباً 10 لوگوں کے آکسیجن کا بندوبست ہوتا ہے۔ اس امر سے بھی خود کو روشناس کرانا ہوگا کہ درختوں سے زمینی درجہ حرارت کی کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی کا باعث بنتے ہیں اور آکسیجن کی فراوانی انہیں سے ممکن ہوتی ہے۔ اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ درختوں سے آب و ہوا کی صفائی ممکن ہوتی ہے۔ ان سے زمین پر سائے کا بندوبست ہوتا ہے، درجہ حرارت ایک بیلنس کے تحت رہتا ہے اور یوں موسم کو کنٹرول میں رکھنے کے مصنوعی اور ماحول دشمن طریقوں کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ بات بھی ذہن میں بٹھانی ہوگی کہ درختوں کے جڑوں سے بارش کا پانی جذب ہونے میں مدد ملتی ہے جس سے اربن فلڈنگ یعنی سیلابی صورتحال سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ یہ بھی کہ درختوں سے بہت سی دوائیوں کا جنم ہوتا ہے اور درخت زمینی خوبصورتی کے لیے اہم ہیں، ہمیں آج ہی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم جنگلات کی کٹائی سے مکمل انکار کریں اور شجرکاری کی بھرپور ترویج کریں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]