گھر میں رنگ و روغن کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟



Post Views:
0

گھر میں رنگ و روغن تو سب ہی کرواتے ہیں۔ یہ گھر کے اہم ترین کاموں میں سے ایک ہے اور اس سے لوگ آپ کے جمالیاتی ذوق کا اندازہ بھی لگاتے ہیں۔ وہ دن گئے جب گھر کی دیواروں پر ہر کچھ سال کے بعد سفیدی کی ایک لہر دوڑا دی جاتی اور کام مکمل سمجھا جاتا۔ آج کا دور جدت کا دور ہے یعنی آج کے دور میں ہر طرف، زندگی کے ہر پیرائے اور ہر میدان میں آپ کو جدت کا پہلو نظر آتا ہے۔ یہی جدت، اگر دیکھا جائے تو رنگ و روغن میں بھی نظر آتی ہے کہ آج کا دور اس لحاظ سے بھی تبدیلی دکھا رہا ہے۔

اس موضوع پر لکھنے کی غرض سے کافی ایسے ہوم پینٹ ٹرینڈز دیکھنے کا اتفاق ہوا کہ آنکھیں ششدر رہ گئیں۔ آج واقعی لوگ ایسے ٹرینڈز بنا رہے ہیں کہ جس سے آنکھوں کو ریفریشمنٹ کا احساس ہوتا ہے۔ رنگ و روغن واقعی وقت لینے والا اور رقم لگنے والا پراجیکٹ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے کہ مشرقی ہاؤس ہولڈز میں تو لوگ اس سے بیشتر وقت بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ سالہا سال گھر کی دیواریں نہیں رنگتے۔ ہاں کبھی کبھار ہمت کر کے اس کام کو شروع کرتے ہیں تو اُکھاڑ پچھاڑ اتنی ہوجاتی ہے کہ پھر سو مزید کام نکل آتے ہیں۔ یوں دیواریں رنگنے کا عمل ایک مکمل گھر کی رنویشن کا عمل بن جاتا ہے۔

آج کی تحریر میں بات ہوگی اُن پہلوؤں کی کہ جن کا خیال گھر میں رنگ و روغن کرتے وقت لازمی رکھنا چاہیے۔

کونسا رنگ منتخب کیا جائے؟

سب سے پہلا پوائنٹ ہے کہ گھر میں دیواریں رنگتے وقت کن رنگوں کا انتخاب کیا جائے۔ گو کہ اس سوال کا کوئی ایک جواب نہیں اور آپ اگر سو لوگوں سے اُن کی پسند کے رنگ پوچھیں گے تو شاز و نادر ہی ایسا کوئی موقع آئیگا کہ اُن کے جوابات آپس میں ملتے ہوں۔

جیسا کہ تحریر کے شروع میں عرض کیا جا چکا کہ آج کل سفید رنگ کا زمانہ گیا۔ اب لوگ دیواروں پر کوئی ایک رنگ نہیں کرواتے۔ یعنی اب ملٹی رنگوں کا زمانہ ہے اور ایک سے زائد رنگوں کا کامبینیشن کافی اچھا لگتا ہے۔ اس کا مگر خیال ایسے رکھنا چاہیے کہ دونوں کا آپس میں میل ہونا بہت ضروری ہے۔ ایک ٹرینڈ یہ بھی ہے کہ تین دیواروں پر ایک سا رنگ ہو اور ایک دیوار پر یکسر مختلف رنگ کیا جائے۔ اسی طرح کوشش کرنی چاہیے کہ کمرے میں پڑے قالین یا کسی صوفے کے مطابق یا اُن سے کوئی ایک رنگ چرا کر آپ کسی دیوار پر وہ رنگ کردیں۔

بنیادی اصول

معروف ویب سائٹ 99 ایکڑز کے مطابق رنگ و روغن کا بنیادی اصول یہ ہے کہ 400 مربع فٹ دیوار کے لیے ایک گیلن رنگ درکار ہوتا ہے جبکہ اگر ڈبل کوٹنگ کروائی جائے تو 400 مربع فٹ دیوار پر دو گیلن رنگ لگایا جا سکتا ہے۔ اس حساب سے اگر پینٹ کیا جائے گا تو تسلی رکھی جا سکتی ہے کہ نہ رنگ زیادہ لگے گا اور نہ ہی آپ کو پیسوں کے ضائع ہونے کی پریشانی ہوگی۔

گھر پر رنگ و روغن خود کریں یا کسی ماہر پینٹر سے کروائیں، یاد رکھیں کہ رنگوں کا انتخاب اور انداز آپ کی شخصیت کے بارے میں آنے والوں کو چیخ چیخ کر بتائے گا۔ اس سے پہلے آپ اپنا تعارف کرائیں، آپ کے گھر کا انداز ہی آپ کے بارے میں آنے والوں کو خوب بتا دے گا۔

اچھے پینٹس کا استعمال

یہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ رنگوں کا استعمال جیسا بھی ہو، وہ بعد کی بات ہے۔ اولین ترجیح آپ کی رنگوں کی کوالٹی پر ہونی چاہیے کہ آپ ایک اچھی کوالٹی کا پینٹ استعمال کریں نہ کہ کسی سی گریڈ پینٹ کا استعمال کریں جو کہ ذرا سی موسم کی تبدیلی بھی برداشت نہ کر سکے۔

جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ مہنگا روئے ایک بار اور سستا روئے بار بار تو کوشش کیجئے کہ رنگوں کی مد میں پیسے نہ ہی بچائے جائیں۔ کوشش کریں کہ اچھے سے اچھے برانڈ کا پینٹ خریدیں اور اسی کو آزمائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ کسی سستے پینٹ باکس کا انتخاب کرتے ہیں تو امکان یہ ہے کہ آپ کو اس دورانیے میں زیادہ بار رنگ کروانا پڑے جس دورانیے میں ایک مہنگا پینٹ باکس شاید تھوڑا سا ہی خراب ہو۔ اس بات سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ اکثر پیسے بچانے کا یہ عمل زیادہ پیسوں کے خرچ ہوجانے کا بھی ذریعہ بن جاتا ہے۔

زمین اور دیگر اشیاء ڈھانپ لیں

رنگوں کی سپلائی خریدنے کے بعد آپ کا اگلا قدم ہونا چاہیے کہ آپ گھر کی زمین کو مکمل طور پر ڈھانپ لیں۔ اکثر لوگ یہ غلطی کرلیتے ہیں کہ وہ یہ سوچ لیتے ہیں کہ بعد میں تمام تر اشیاء کو ایک ہی بار صاف کرلیں گے لہٰذا ابھی نہیں ڈھانپتے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ماہرین کے مطابق بہت ساری چیزیں پینٹ فرینڈلی نہیں ہوتیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سی اشیاء پر اگر ایک بار رنگ لگ جائے تو پھر اُن سے رنگ اتارنا کافی حد ٹک مشکل ہوجاتا ہے۔ بعد کی تنگیوں سے بچنے کے لیے آپ کو وقتی قدم اٹھانا چاہیے اور وہ یہ کہ آپ ایک مضبوط کپڑے سے تمام تر اشیاء ڈھانپ لیں تاکہ کسی پر بھی رنگ گرنے کا چانس نہ ہو۔

دُرست ٹولز کا استعمال

ماہرین کہتے ہیں پینٹنگ کے لئے صحیح ٹولز کا استعمال اتنا ہی ضروری ہے جتنا صحیح رنگوں کو منتخب کرنا۔ تاہم ، مہنگے اوزار خریدنے اور اچھے معیار کے اوزار خریدنے میں فرق ہے۔

آخر کار ، آپ کسی ایسے برش کو استعمال نہیں کرنا چاہیں گے جو کام کرنے کے بعد اسٹروکس کے نشانات چھوڑ دے۔ لہذا ، اپنا ہوم ورک مکمل کرتے وقت ایئر اسپریپر یا پینٹ رولرز جیسے صحیح ٹولز حاصل کرنے چاہئیں چاہے اس میں تھوڑی سی اضافی رقم بھی خرچ ہوجائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




نقشہ سازی سے پہلے کن باتوں پر غور کرنا چاہیے؟


Post Views: 3

تعمیرات میں نقشہ سازی کی اہمیت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے؟ یہ ایک سکیچ ڈیزائن ہے جس سے آپ اپنے خوابوں کا محل اپنی نظروں کے سامنے دیکھ سکتے ہیں۔

اپنا گھر کون نہیں چاہتا؟ ان دو الفاظ یعنی اپنا گھر میں ایک جانب تو گھر کی اہمیت ہے مگر دوسری جانب لفظ اپنا بھی غور طلب ہے۔ یعنی ایک طرف تو چھت کی اہمیت ہے مگر دوسری طرف اگر وہ اپنی ہو تو کیا ہی بات ہے۔ یعنی جب وہ اپنی ہو تو آپ اپنی مرضی کے مطابق اُسے سجا سکتے ہیں، سنوار سکتے ہیں، اُس کی تزئین و آرائش کر سکتے ہیں اور آپ سے اُس صورت میں کوئی اور پوچھنے والا نہیں ہوتا۔

اسکیچ ڈیزائن کی اہمیت کو جانیے

سکیچ ڈیزائن سے آپ کو یہ آزادی ملتی ہے کہ آپ اپنا گھر اپنی مرضی سے تعمیر کر سکیں۔ اپنی مرضی کا مطلب یہ نہیں کہ قوانین اور بائی لاز کا خیال نہ رکھا جائے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کچن کہاں ہو اور دالان کیسا ہو، یہ آپ پر منحصر ہے۔

نقشوں سے آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ گھر کیسا نظر آئے گا، ایک کمرے کا دوسرے کمرے سے کتنا فاصلہ ہوگا اور گھر کے نمایاں حصے کون کون سے ہوں گے۔
یہ دور فلور پلانز کے لحاظ سے اس لیے بھی آسان ہے کہ اب معتدد ایسی ویب سائٹس اور ایپس آ گئی ہیں جن سے آپ آسانی سے اپنے گھر کو خود ہی بنا سکتے ہیں۔ ٹھیک فلور پلان بنانے کے لئے مشاورتی عمل بہت ضروری ہے تاکہ ایک بہترین نقشہ عمل میں آ سکے۔ اس کے لیے کچھ باتوں كا خیال رکھنا ضروری ہے۔ یہ چند باتیں کون سی ہیں، آئیں جانتے ہیں۔

موجودہ گھر سے کیا شکایات ہیں؟

سب سے پہلا کام جو آپ نے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے دیکھنا ہے کہ آپ کو اپنے حالیہ گھر سے کیا کیا شکایات ہیں۔ یہ جو شکایات ہوں، یہی اپنے اگلے گھر کی سہولیات بنا لیں۔ موجودہ گھر میں لیونگ روم چھوٹا ہے يا پھر باتھ روم اتنے نہیں ہیں، پارکنگ اسپیس نہیں ہے یا پھر اس طرح کا مہمان خانہ نہیں ہے تو پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔

اپنے اگلے فلور پلان میں اپنے مکان کے تعمیراتی کنٹریکٹر کے ساتھ باہم مشورہ کر کے آپ اپنے بجٹ اور پلاٹ کے حساب سے ان تمام سہولیات کو ایڈجسٹ کروا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، نقشہ ہی وہ ڈاکومنٹ ہے جو آگے چل کر حقیقت بنے گا لہٰذا سب سے پہلے خود کو نقشے کے لحاظ سے مطمئین کریں۔ اس کے بعد ہی آپ مکمل تعمیر سے مطمئن ہوں گے۔

اپنی ضرورت دیکھیں

خود سے ایک سوال کریں کہ آپ آئندہ کے چند سالوں میں خود کو کہاں دیکھ رہے ہیں۔ اپنی جو جو حقیقی تصاویر آپ کے ذہن میں آئیں، اُس حساب سے اپنے گھر کے فلور پلان میں تبدیلی کیجئے۔ آپ دیکھیں کہ آپ کی فیملی کتنی بڑھ سکتی ہے، مستقبل میں آپ کے گھر میں کتنے لوگ ہوں گے اور کیا کیا سہولیات ایسی ہوں گی جس کے آپ خواہشمند ہوں گے۔

خواہشات تو یقیناً بڑھتی رہیں گی مگر دیکھیں حقائق کے مطابق آپ کیا کیا آسائشیں چاہیں گے، اُس لحاظ سے اپنا فلور پلان سجائیں۔ گھر واقعی روز روز نہیں بنتے اور نہ ہی انسان پھر اتنی آسانی سے اُس میں تبدیلیاں کر سکتا ہے۔ بعد ازاں انسان یہ سوچتا ہے کہ کاش اس بات پر پہلے سوچ لیتا اور اپنی اس ضرورت کا پہلے اندازہ کرلیتا۔ تو آپ نے کرنا یہ ہے کہ خود کو یہ یاد دلانا ہے کہ بعد کے پچھتاوے سے اچھا ہے پہلے سوچ بچار کرلیا جائے۔

آپ کے پلاٹ کی جگہ کتنی ہے؟

ہاں جیسا کہ چند سطور اُوپر بتایا کہ واقعی خواہشات پر کسی کا زور نہیں ہوتا اور انسان کو اپنی ضرویات کے مطابق فیصلے لینے چاہئیں بلکل اسی سے ملا جلا پوائنٹ اس پیراگراف میں ملے گا۔ اپنے پلاٹ کی جگہ دیکھ لیجئے۔ دیکھیں کہ پلاٹ کتنی اراضی پر محیط ہے اور آپ اُس اراضی کا بہترین استعمال کیسے کر سکتے ہیں۔ دیکھیں ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ گھر بڑا ہو، حسین ترین دالان ہو اور وسیع و عریض کمرے ہوں۔

لیکن حقائق اس سے تھوڑا سا برعکس ہوتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اپنی خواہش کے مطابق کوئی تعمیر نہیں کر سکتے مگر اس کے لیے میانہ روش اختیار کرنی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو چند چیزوں پر قناعت اور کمپرومائز کرنا ہوگا تاکہ آپ چند خواہشات کا پیچھا کر سکیں۔ پلاٹ کی جگہ اس ضمن میں دیکھنا بہت ضروری ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ اسی احاطے کے آس پاس لوگوں نے کس طرح کی تعمیرات کی ہیں۔

تعمیر پر کتنی لاگت آ سکتی ہے؟

یہ پوائنٹ سب سے کلیدی ہے۔ آپ کو اپنی جیب کا بھی اندازہ ہونا چاہیے کہ آیا جو نقشہ سازی میں کر رہا ہوں کیا میری جمع پونجی مجھے اس کی اجازت دیتی ہے کہ نہیں۔ آپ کو سوچنا ہوگا کہ آپ کیسے اپنے بجٹ اور اپنی خواہشات کے مابین ایک میل بنا سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر آپ کو ایک لمبی پارکنگ اسپیس چاہیے مگر جب آپ وہ اسپیس بناتے ہیں تو بجٹ آئوٹ ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ دیکھیں کہ آپ کو واش رومز کی اتنی ضرورت نہیں اور دالان بھی اگر تھوڑا سا چھوٹا کر دیا جائے تو ٹھیک رہے گا۔ یوں آپ ایک فلور پلان کی مدد سے یعنی نقشہ سازی کی ہیلپ سے تمام تر فیصلے آسانی سے اور سوچ سمجھ کر سکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔