شیرانوالہ گیٹ فلائی اوور منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے 4.9 ارب کی لاگت کے شیرانوالہ گیٹ فلائی اوور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

پنجاب حکومت کے مطابق یہ منصوبہ اندرون لاہور کے شہریوں کےلیے بڑا ریلیف لائے گا اور ریلوے سٹیشن، اندرون لاہور، شیرانوالہ گیٹ، مینار پاکستان، موریہ پل اور ڈینٹل ہسپتال کے علاقوں میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل کا حل ہوگا۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ کی شفاف ٹینڈرنگ سے 27 کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے، ناکارہ سیوریج لائن کی جگہ 2.5 کلومیٹر نئی لائن بھی ڈالی جا رہی ہے جس سے پرانے لاہور کا ایک اور بہت بڑا مسئلہ بھی حل ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ 360 ارب روپے کے خصوصی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکیج میں ہر ضلعے کے لیے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر سمیت اہم ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت شامل ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

شیرانوالہ گیٹ فلائی اوور منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا

[ad_1]



Post Views:
44

لاہور: وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے 4.9 ارب کی لاگت کے شیرانوالہ گیٹ فلائی اوور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

پنجاب حکومت کے مطابق یہ منصوبہ اندرون لاہور کے شہریوں کےلیے بڑا ریلیف لائے گا اور ریلوے سٹیشن، اندرون لاہور، شیرانوالہ گیٹ، مینار پاکستان، موریہ پل اور ڈینٹل ہسپتال کے علاقوں میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل کا حل ہوگا۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ کی شفاف ٹینڈرنگ سے 27 کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے، ناکارہ سیوریج لائن کی جگہ 2.5 کلومیٹر نئی لائن بھی ڈالی جا رہی ہے جس سے پرانے لاہور کا ایک اور بہت بڑا مسئلہ بھی حل ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ 360 ارب روپے کے خصوصی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکیج میں ہر ضلعے کے لیے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر سمیت اہم ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت شامل ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

این ایل سی سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے پر ترقیاتی کاموں کے لیے پُرعزم

[ad_1]



Post Views:
0

لاہور: لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل سی بی ڈی ڈی اے) نے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (سی بی ڈی) منصوبے کے تعاون کے ساتھ سائٹ پر جاری ترقیاتی کاموں کے لیے ایک بریفنگ سیشن کی میزبانی کی۔

لاہور میں ایک کھلی نیلامی میں 5 پرائم پلاٹوں کی کامیاب گرینڈ نیلامی کے بعد  لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ عمران امین نے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کی ٹیم کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل این ایل سی میجر جنرل یوسف جمال سے سائٹ پر ترقیاتی کاموں پر تبادلہ خیال کے حوالے سے ملاقات کی۔

ڈائریکٹر جنرل این ایل سی اور سی ای او لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے منصوبے کی جگہ پر درخت بھی لگائے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایل سی بی ڈی ڈی اے کے سربراہ عمران امین نے کہا کہ لاہور پرائم تعمیرات کے میدان میں ایک نئی شروعات کی علامت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سی بی ڈی کی ٹیم اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور پوری امید ہے کہ اس سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے روشن مستقبل کو فائدہ پہنچے گا۔

نیشنل لاجسٹک سیل کے (این ایل سی)  ڈائریکٹر جنرل  میجر جنرل یوسف جمال  کا کہنا تھا کہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے پر ترقیاتی کاموں کے لیے این ایل سی پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایل سی تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مذکورہ منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




[ad_2]

سی پیک منصوبے کا فیز 2 کامیابی سے جاری، اسد عمر

[ad_1]



Post Views:
0

اسلام آباد : وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ چیلنجز کے باوجود چین پاکستان اقتصادی راہدری (سی پیک) منصوبے پر ترقیاتی کام کامیابی سے جاری ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ سی پیک کے جنوبی زون سے مُلک میں کثیر غیرملکی سرمایہ کاری آئے گی۔ جنوبی زون میں سی پیک کے تحت ریلوے کا سب سے بڑا منصوبہ ایم ایل ون ہے جبکہ بلوچستان میں بھی سی پیک کے تحت بہت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی زراعت پر انحصار کرتی ہے اور زراعت کے شعبے میں چین کا پاکستان کے ساتھ تعاون قابل ِستائش ہے۔

چینی ورکرز کی سیکیورٹی کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سی پیک پر کام کرنیوالے چینی ورکرز کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اور پاکستان میں کام کرنیوالے چینی ورکرز کو بہترین سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 




[ad_2]

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی ایل سی بی ڈی منصوبے پر نظرثانی

[ad_1]



Post Views:
3

لاہور: وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بدھ کے روز لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (ایل سی بی ڈی) منصوبے کی ریویو میٹنگ کی صدارت کی۔

پراجیکٹ کے سی ای او عمران امین نے جاری تعمیراتی منصوبوں پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو تفصیلی بریفنگ دی۔

اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا قیام اُن کی حکومت کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جسے لاہور میں 125 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جارہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے صوبے بھر میں کاروباری سرگرمیوں کا فروغ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع جنم لیں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

شاندار رہائشی منصوبے جناح اسکوائر ریزیڈینشیل اپارٹمنٹس کا لاہور میں سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا

[ad_1]



Post Views:
3

گرانہ ڈاٹ کام کے تعاون سے لاہور کے علاقے خیابانِ جناح میں لگژری ہاؤسنگ پراجیکٹ جناح اسکوائر ریزیڈینشیل اپارٹمنٹس کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا۔

اس حوالے سے منصوبے کی سائٹ پر ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں جے ایس ایم ہائٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ریاض خان، سی ای او اعجاز خان، ڈائریکٹر پراپشور تیمور عباسی، گرانہ ڈاٹ کام کے نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار، ریجنل سیلز ہیڈ ناصر ملک، جنرل مینیجر ریگولیٹری برگیڈئیر (ر) جاوید، ڈائریکٹر جے ایس ایم ہائٹس اور سی ای او خان سنز ڈویلپرز صاحبزادہ عمران، ڈائریکٹر جے ایس ایم ہائٹس اور سی ای او جمال بلڈرز ملک اشرف ڈوگر، ڈائریکٹر جے ایس ایم ہائٹس اور سی ای او اسٹیٹ چینل شان محمد انور شریک تھے۔

جناح اسکوائر ریزیڈینشیل اپارٹمنٹس جے ایس ایم ہائٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کا ایک شاندار رہائشی منصوبہ ہے جو کہ خیابانِ جناح پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ یہ منصوبہ اعلیٰ ترین معیار اور جدید سہولیات سے آراستہ ایک، دو اور تین بیڈ کے رہائشی اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے۔ جڑواں عمارتوں پر مشتمل جناح اسکوائر میں مجموعی طور پر 340 رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں جبکہ مذکورہ منصوبے پر تعمیراتی کاموں کا باقاعدہ آغاز بھی کردیا گیا ہے۔

گرانہ ڈاٹ کام اور جے ایس ایم ہائٹس کی شراکت داری پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے سی ای او گرانہ ڈاٹ کام شفیق اکبر کا کہنا تھا کہ گرانہ ڈاٹ کام کی یہ کوشش ہے کہ اپنے برانڈ پورٹ فولیو کو مُلک گیر بنایا جائے تاکہ مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں معیاری پراجیکٹس کا فروغ ہوسکے۔

گرانہ ڈاٹ کام کے گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بطور مارکیٹنگ پارٹنر گرانہ ڈاٹ کام اس پُرتعیش اور جدید سہولیات سے آراستہ رہائشی منصوبے کو بہترین انداز میں مارکیٹ کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شہر لاہور کے دل میں یہ منصوبہ رہائش اور سرمایہ کاری کیلئے بہترین ہے۔

ڈائریکٹر پراپشور تیمور عباسی کا کہنا تھا کہ جناح اسکوائر ریزیڈینشل اپارٹمنٹس پراجیکٹ گرانہ ڈاٹ کام کے اونرشپ، اپروول، ڈیمانڈ اینڈ ڈیلیوری کے فارمولے پر پورا اترتا ہے جو کہ اسے سرمایہ کاری کی غرض سے بہترین منصوبہ بناتا ہے۔

جے ایس ایم ہائٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ریاض خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ مذکورہ منصوبہ خیابانِ جناح پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اپنی جدت اور پُر آسائش سہولیات میں کسی بھی بین الاقوامی معیار کے شاندار رہائشی منصوبے سے کم نہیں ہو گا۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے گرانہ ڈاٹ کام کے نیشنل سیلز ہیڈ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ گرانہ ڈاٹ کام اِس لگژری ہاؤسنگ پراجیکٹ کی سیلز سے متعلق امور میں جے ایس ایم ہائٹس کو بطور مارکیٹنگ پارٹنر خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر یہاں رہائشی منصوبوں کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ مذکورہ منصوبے میں دستیاب سہولیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہاں کی جانے والی سرمایہ کاری محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔

ڈائریکٹر جے ایس ایم صاحبزادہ عمران کا کہنا تھا کہ گرانہ ڈاٹ کام ایک اعلیٰ ترین معیار کی مارکیٹنگ کمپنی ہے جو کہ جناح اسکوائر ریزیڈنشیل اپارٹمنٹس کے منصوبے میں بطور مارکیٹنگ پارٹنر اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ منصوبے کی سنگ ِ بنیاد کی پُروقار تقریب اور کامیاب اوپن ہاؤس کے انعقاد پر انہوں نے گرانہ کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔

اس سے قبل گرانہ ڈاٹ کام نے تمام کورونا ایس او پيز کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے جناح اسکوائر ریزیڈنشیل اپارٹمنٹس کے اوپن ہاؤس کا انعقاد کیا جس میں شہر بھر سے سرمایہ کاروں، ریئل اسٹیٹ ایجنسیز اور رہائشی منصوبے میں دلچسپی رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔




[ad_2]

بی آر ٹی راہداری منصوبے پر ترقیاتی کاموں کی نگرانی کا ٹھیکہ تفویض کر دیا گیا

[ad_1]



Post Views:
0

کراچی: سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے دارالہنداسہ (لیڈ انٹرنیشنل فرم) اور نیسپاک کے اشتراک کو مشاورتی خدمات کے لیے تفصیلی ڈیزائن کی تیاری، خریداری میں معاونت اور کراچی موبیلٹی پروجیکٹ کی تعمیراتی نگرانی کا ٹھیکہ دے دیا ہے۔

کراچی موبیلٹی پروجیکٹ ییلو لائن بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک 21 کلومیٹر لمبی راہداری ہے جس میں 2 بس ڈپو، 28 اسٹیشن، 2 فلائی اوور، 9 انڈر پاس اور ایک دن میں 300,000 افراد سفر کر سکیں گے۔

ییلو لائن بی آر ٹی کے لیے تجویز کردہ بس کا بیڑا 268 ڈیزل ہائبرڈ گاڑیوں پر مشتمل ہوگا جبکہ منصوبے کی کل لاگت 438.9 ملین امریکی ڈالر ہے۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر عمران بھٹی کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے اور کراچی کے لوگ جلد ہی ایک بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کا مشاہدہ کریں گے جو ایک محفوظ اور قابل اعتماد ٹرانسپورٹ سسٹم فراہم کرے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

ڈائریکٹر جنرل آر ڈی اے کا عمار چوک منصوبے کا معائنہ

[ad_1]



Post Views:
4

راولپنڈی: راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے عمار چوک منصوبے کی سائٹ کا دورہ کیا اور وہاں جاری ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔

آر ڈی اے کی جانب سے جاری مراسلہ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ منصوبہ پنجاب حکومت، آڑ ڈی اے اور اسٹیشن ہیڈ کوارٹر کی مشترکہ کاوشوں سے شروع کیا گیا جو کہ اب تکمیل کے مراحل کے قریب پہنچنے والا ہے۔

عمار چوک پر ٹریفک کے شدید دباؤ کے باعث اس منصوبے میں 2 انڈر پاس تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹریفک کی راوانی کو یقینی بناتے ہوئے عوام کو ذہنی پریشانی سے نجات دلائی جا سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

پن بجلی کے بڑے منصوبے تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں

[ad_1]


Post Views:
1

توانائی کے شعبہ میں اصلاحات اور عوام کو سستی اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی کے لئے بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کو ناگزیر قرار دیا جا چکا ہے کیونکہ پن بجلی سستی ترین اور ماحول دوست ہوتی ہے اور یہ ملک کے اقتصادی اور معاشرتی شعبوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ملکی اقتصادیات میں پن بجلی کے مثبت اثرات کا اندازہ اِس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 21-2020 کے دوران پن بجلی کی فی یونٹ اوسط پیداواری لاگت 2 روپے 82 پیسے رہی جبکہ تھرمل ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی پراوسطاً 13 روپے 14 پیسے فی یونٹ لاگت آئی۔

اس وقت ملک بھر میں نیلم جہلم سمیت واپڈا کے پن بجلی گھروں کی تعداد 22 ہے جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 9 ہزار 406 میگاواٹ ہے۔

نیشنل گرڈ میں سستی پن بجلی کے تناسب میں اضافہ کرنے کیلئے واپڈا ایک مربوط پروگرام پر عمل کر رہا ہے جس کے تحت پن بجلی کے کئی ایک منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ یہ منصوبے 2023 سے 29-2028 کے دوران مکمل ہوں گے۔

اِن منصوبوں کے مکمل ہونے پر واپڈا کی پیداواری صلاحیت9 ہزار406 میگاواٹ سے بڑھ کر 20 ہزار 591 میگاواٹ ہو جائے گی۔ اسی طرح واپڈا کی نیشنل گرڈ کو مہیا کی جانے والی سستی اور ماحول دوست بجلی بھی 37 ارب یونٹ سے بڑھ کر 81 ارب یونٹ سالانہ ہو جائے گی۔

پن بجلی کے حصول کے لیے ملک میں ڈیموں کی تعمیر کی وجہ سے متعلقہ علاقوں میں رہائشی منصوبوں، سکولوں، مساجد اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔

تعمیراتی سرگرمیاں

ملک میں چار بڑے ڈیموں دیامر بھاشا، مہمند ڈیم، تربیلا ڈیم کا پانچواں توسیعی منصوبے اور داسو ڈیم کی تعمیر کے آغاز سے ان علاقوں میں 100 ارب روپے سے زائد کی دیگر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

دیامر بھاشا ڈیم سے ملحقہ علاقوں میں 78 ارب 50 کروڑ روپے، مہمند ڈیم کے علاقے میں 4 ارب 57 کروڑ، داسو ڈیم کے علاقے میں مجموعی طور پر 17 ارب 35 کروڑ جبکہ تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیعی منصوبے سے ملحقہ علاقوں میں رہائشی منصوبوں سمیت، تعلیم، صحت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر 29 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

وژن “عشرہ ڈیمز “کے تحت دس سال میں 10 بڑے آبی ذخائر تعمیر کئے جائیں گے، دیامربھا شا ڈیم، مہمند ڈیم اور داسو ڈیم سمیت دیگر کئی منصوبے ملک میں بجلی کی پیداوار بڑھانے اور صنعتی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے، ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

پن بجلی کی پیداوار میں اضافے، آبی تحفظ، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت کے حصول کے لئے توانائی کے شعبہ میں اصلاحات متعارف کرانے اور سستی بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں بہتری کے لئے جامع حکمت عملی پر فوری عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم

دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ پر عملدرآمد کیلئے حکومت کی جانب سے بروقت فیصلہ سازی کی گئی جبکہ واپڈا نے اس منصوبے کی تعمیر کیلئے ایک ایسا قابلِ عمل مالیاتی پلان ترتیب دیا جس میں قومی خزانے پر کم سے کم بوجھ پڑے جس کے بعد اب یہ منصوبہ اپنی تعمیر کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

مہمند ڈیم پن بجلی منصوبے پر تعمیراتی کام کے آغاز کے بعد تقریباً ایک سال کے عرصہ میں دیامر بھاشا ڈیم دوسرا کثیر المقاصد ڈیم ہےجس کی تعمیر شروع کی گئی ہے۔1970میں تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد ملک میں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے لئے اس شعبے کو نظر انداز کی اجاتا رہا لیکن اب پانی ذخیرہ کرنے اور سستی پن بجلی کی پیداوار کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان دونوں بڑے ڈیموں پر کام کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم کی مجموعی لاگت تقریباً 1406 ارب 50 کروڑ روپے ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی آبی ،غذائی اور توانائی تحفظ ضروریات کیلئے نہایت اہم منصوبہ ہے۔

دیا مربھاشا ڈیم دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم سے تقریباً 315 کلومیٹر بالائی جانب جبکہ گلگت سے تقریباً 180کلومیٹر اور چلاس شہر سے 40 کلو میٹر زیریں جانب تعمیر کیا جا رہا ہے اور تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ ڈیم زراعت کے لئے پانی ذخیرہ کرنے ، سیلاب کی روک تھام، بجلی کی پیداوار اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔ ڈیم میں مجموعی طور پر 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا جس کی بدولت 12لاکھ 30ہزار ایکڑ اضافی زمین سیراب ہوگی۔ منصوبہ کی بجلی کی پیدا کرنے کی صلاحیت 4ہزار 500 میگاواٹ ہے ۔

تربیلا، غازی بروتھا، جناح اور چشمہ سمیت موجودہ ہائیڈل پاور سٹیشن میں اضافی تقریباً 2 ہزار 520 گیگاواٹ آور (ملین یونٹس) بجلی شامل ہو گی جبکہ داسو، پتن اور تھاکوٹ کے مستقبل کے منصوبوں سے 7500گیگاواٹ آورز (ملین یونٹس) اضافی بجلی شامل ہو گی۔

دیا مر بھاشا ڈیم سے گلت بلتستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی۔ دیامر بھاشا ڈیم 29-2028میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرسے زیریں جانب واقع تربیلا اور غازی بروتھا سمیت دیگرموجودہ پن بجلی گھروں کی سالانہ پیداوار پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ان پن بجلی گھروں سے ہر سال اڑھائی ارب یونٹ اضافی بجلی حاصل ہوگی۔ 70 کی دہائی میں اپنی تکمیل کے بعد تربیلا ڈیم پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی عمر میں مزید 35سال کا اضافہ ہوجائے گا۔

مہمند ڈیم

مہمند ڈیم دریائے سوات پر قبائلی ضلع مہمند میں منڈا ہیڈورکس سے بالائی جانب تقریباً 5 کلومیٹر کے فاصلے پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ کووڈ۔19 کی وباء کے باوجود سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے منصوبے پر کام جاری رکھا گیا۔

واپڈا مقررہ معیاد کے مطابق 2025 میں مہمند کی تکمیل کے لئے پر عزم ہے۔ اس ڈیم کا بنیادی مقصد سیلاب کی روک تھام، آبپاشی اور پشاور کے لئے پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداوار حاصل کرنا ہے۔

یہ کنکریٹ ڈیم ہے اور اس کی اونچائی 213 میٹر ہوگی اوراس ڈیم سے منصوبے کے تحت اس سے 820 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔ مہند ڈیم میں 12 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی اور اس آبی ذخیرے سے ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ اراضی کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ ساتھ مزید 16 ہزار 737 ایکڑ رقبہ سیراب کیا جاسکے گا ، اس ڈیم کے ذریعے پشاور کو روزانہ 300 ملین گیلن پینے کا پانی فراہم ہو گا جس کا مجموعی فائدہ 95 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔

مہمند ڈیم سیلاب کی روک تھام کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہ واحد منصوبہ ہے جو پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کو تباہ کن سیلاب سے بچا سکتا ہے۔ ڈیم کے ذریعے قومی گرڈ میں ہر سال 2 ارب 86 کروڑ یونٹس سستی اور ماحول دوست بجلی حاصل ہو گی اور سالانہ 45 ارب 76 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہو گا۔

داسو ڈیم اور تربیلا کا پانچواں توسیعی منصوبہ

داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 2160 میگاواٹ حاصل کی جائے گی جو تقریباً 5 سال کے اندر مکمل ہوگا، جس کے بعد یہ منصوبہ نیشنل گرڈ کو سالانہ 12 ارب یونٹس بجلی فراہم کر پائے گا، جب کہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد یہ سالانہ مزید 9 ارب یونٹ نیشنل گرڈ کو فراہم کرے گا۔

تربیلا 5 توسیعی منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے۔ یہ منصوبہ 2024 تک مکمل ہو گا اس منصوبہ سے 1530 میگاواٹ سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا ہو گی۔ منصوبہ کی تکمیل سے تربیلا ڈیم کی بجلی کی پیداواری استعداد 4888 میگاواٹ سے بڑھ کر 6418 میگاواٹ ہو جائے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]