ماحولیاتی آلودگی اور چھتوں پر باغبانی کا رحجان


Post Views:
4

بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے جہاں بالواسطہ اور بلاواسطہ قدرتی وسائل میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے جیسے کہ بلند و بالا برفانی تودوں کا تیزی کے ساتھ پِگھلنا، وہیں آلودگی بالخصوص فضائی آلودگی انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

ملکی آبادی میں بے پناہ اضافے کے باعث بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں رہائشی سہولیات کی کمی کی وجہ سے لوگوں نے شہر کے قرب و جوار میں سرسبز آبادیوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ درختوں کی کٹائی کے باعث فضا اتنی آلودہ ہوتی چلی جارہی ہے کہ شہری علاقوں میں نیلے آسمان اور رات میں دمکتے ستاروں کا دیدار اب ماضی کا طلسماتی قصہ معلوم ہوتا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کے پیش نظر آج کل ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک میں بھی رہائشی اور تجارتی مراکز کی بلند و بالا عمارتوں کی چھتوں پر باغبانی کے تصور کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

چھتوں پر باغبانی کی تاریخ

ویسے دیکھا جائے، تو چھتوں پر باغبانی کا شوق یا طریقۂ کار نیا نہیں ہے۔ تاریخ میں اس طریقۂ کار کے ثبوت 600 قبل مسیح کی رومن تاریخ اور گیارہویں صدی عیسوی میں مصر میں مسلم دور حکومت میں بھی موجود ہیں۔ جب چھتوں پر سبزیوں کی کاشت بھی کی جاتی تھی، جس کے لیے آب پاشی کا بھی انتہائی جدید اور معقول بندوبست کیا گیا تھا۔

عمارتوں کی چھتوں پر باغبانی کے تصور سے نہ صرف قدرتی حسن میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ باغبانی کا یہ تصور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔چھتوں پر باغبانی سے موسمی اثرات میں کافی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

باغبانی سورج کی تپش میں کمی کا اہم ذریعہ

شہری علاقوں میں جہاں سورج کی تپش، کنکریٹ کے استعمال سے چھتوں پر اور زیادہ بڑھ جاتی ہے، تو اس کو کم کرنے کے لیے چھتوں پر باغبانی کے فروغ سے اچھے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ چھتوں پر باغبانی سے ماحول میں نہ صرف اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، بلکہ گنجان آباد علاقوں میں صاف ماحول بھی میسر آجاتا ہے۔ جس سے انسانی صحت اور مزاج میں بھی بہتری نظر آتی ہے۔

اس مقصد کے لیے چھتوں کی منڈیروں پر گملوں اور ناکارہ برتنوں میں کئی قسموں کے پودے لگانے کا رواج کئی علاقوں میں عام تھا جن میں عام طور پر تلسی، گیندہ، دھنیا، پودینہ، مرچ، ٹماٹر، پیاز اور دوسرے آسانی سے اگنے والے پودے اور بیلیں اگائے جاتے تھے۔

ان سے نہ صرف کچی چھتوں کی منڈیروں کو مضبوطی ملتی تھی، بلکہ قدرتی خوب صورتی بھی ملتی تھی اور یہ نہ صرف ایک دو گھروں بلکہ ہر اس گھر میں لگائے جاتے تھے، جو باغبانی کا شوق رکھتے تھے۔ چھتوں کی منڈیروں پر گملوں اور ناکارہ برتنوں میں پودے لگانا پورے ملک میں عام بات تھی۔ پھر جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی گئی منڈیروں کا تصور بھی ختم ہو گیا اور عمارتوں کے جنگل میں زمین تنگ ہوتی گئی۔

ایسے میں چھتوں پر گملوں اور ناکارہ برتنوں میں پودے اگانے سے کافی حد تک باغبانی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ چھتوں پر باغبانی اب باقاعدہ ایک آرٹ اور بلڈنگ کنسٹریکشن کا ایک لازمی جزو بن گئی ہے۔

چھتوں پر باغبانی کے حوالے سے پودوں کا انتخاب بھی اہم ہے۔ اس وقت پاکستان میں پودوں کی نرسریوں میں بہت سارے ایسے اقسام کے پودے آسانی سے دستیاب ہیں، جن کو گملوں میں لگا کر خوبصورتی کے ساتھ ساتھ فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ پودوں کے انتخاب کے دوران سب سے اہم بات یہ مدنظر رکھنی چاہیے کہ آپ کے پاس دستیاب جگہ کتنی ہے اس کی مناسبت سے پودوں کا انتخاب کریں۔

چھتوں پر باغبانی سے متعلق مفید معلومات

چھت پر باغبانی کوئی مشکل عمل نہیں ہے۔ بس پودوں کو مناسب مقدار میں سورج کی روشنی کے ساتھ ساتھ پانی اور کھاد وغیرہ دی جانی چاہیے۔ آرائشی پودے لگاکر بھی اپنے گھر کے ماحول کو خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔ مارکیٹ میں ایسے میٹریل اور اشیا دستیاب ہیں، جن سے آسانی کے ساتھ بغیر کسی نقصان کے چھتوں پر خوبصورت باغ بنائے جا سکتے ہیں، جن میں مناسب سائز کے پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ یہ خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ چھت پر پودوں کے لیے جو گملے یا کیاریاں بنائی جائیں، ان میں فالتو پانی کے نکاس کا ایسا نظام ہو کہ نہ تو وہ کیاری یا گملے میں رہ جائے اور نہ ہی وہ چھت کو نقصان پہنچا سکے۔ یہ بہت ضروری ہے۔

اس بات کے پیش نظر چھت کی مضبوطی کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیے۔ پودوں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھیں، تاکہ ان کی نشوونما کا عمل متاثر نہ ہو۔ روشنی، پانی اور کھاد کا مناسب بندوبست ہونا چاہیے۔ مناسب وقفے سے گملوں اور کیاریوں میں گوڈی کرنی چاہیے۔

عمودی باغبانی کے لیے تیار چھتیں

چھت پر دیواروں کے ساتھ ساتھ اگر پودوں کے لیے جگہ بنالی جائے اور درمیان میں اٹھنے بیٹھنے کی جگہ سلیقے سے بنالی جائے، تو یہ ایک اچھی جگہ بن جائے گی۔ چھتوں پر پودے، بیلیں اور سبزیاں اگانے سے نہ صرف اپنے گھر کے کچن کی ضرورت کسی حد تک پوری کی جا سکتی ہے، بلکہ موسم کی شدت کو بھی کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

تعمیراتی ادارے اور پودوں کی نرسریاں عمودی باغبانی کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں اور ایسی دیواریں متعارف کروائیں جا رہی ہیں جن میں عمودی طریقے سے سبزیاں اور پھل کاشت کیے جا سکتے ہیں۔ اب ایسی ویب سائٹس بھی موجود ہیں، جن کی بدولت تھوڑی سی تلاش کے بعد چھتوں پر باغبانی اور فارمنگ کے بارے میں بہت ساری معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔