ہمیں مزید جنگلات کیوں چاہئیں؟

[ad_1]


Post Views:
60

اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن 6 ممالک میں شامل ہے جن پر ماحولیاتی تبدیلی سب سے زیادہ اثر انداز ہوگی۔ پاکستان کی صرف 5 فیصد اراضی پر جنگلات کا بسیرا ہے جو کہ انتہائی کم ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں یہ شرح اوسطاً 31 فیصد ہے۔ اسی طرح سے پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کی رفتار دنیا کے بیشتر ممالک سے زیادہ ہے۔ یہاں چونکہ موسم اب زیادہ تر خُشک رہنے لگا ہے اور آبی ذخائر میں بھی کمی واقع ہورہی ہے، جنگلات وقت کی اہم ترین ضرورت بنتے جارہے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت ٹین بلین ٹری سونامی پر کام کیا جا رہا ہے۔ ملک امین اسلم خان، جو کہ ماحولیاتی تبدیلی پر وزیرِ اعظم کے مشیر ہیں، دی تھرڈ پول کے لیے لکھتے ہیں کہ ٹین بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کو گرین اسٹمیولس مہم کے ذریعے مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے جس کے پہلے حصے میں 65 ہزار روزگار کے مواقع پیدا کیے جا چکے ہیں جبکہ دوسرے حصے میں 6 لاکھ سے زائد نوکریاں پیدا کی جائیں گی۔ مقصد پاکستان کا فاریسٹ کوور بحال کرنا ہے تاکہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوسکیں اور آنے والی نسلوں کو قدرے بہتر آب و ہوا میں سانس لینا نصیب ہو۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شجر کاری سے انسان اور حیوان، دونوں کے فائدے کے لیے ایک ایکوسسٹم جنم لیتا ہے۔ شجر کاری سے کاربن فوٹ پرنٹ میں بھی کمی واقع ہوتی ہے، روزگار کے مواقع بھی جنم لیتے ہیں اور وائلڈ لائف بھی مستفید ہوتی ہے۔ لیکن شجر کاری کا مکمل فائدہ تب تک نہیں اٹھایا جا سکتا جب تک موجودہ ڈی فاریسٹیشن کے ریٹ میں کمی نہیں لائی جاتی۔ ایک پودے کو تنآور درخت بننے میں بہت عرصہ لگتا ہے اور اس ضمن میں اُس کا کافی خیال رکھنا پڑتا ہے تاہم موجودہ جنگلات کی کٹائی سے وہ درخت جو کہ ماحولیاتی تبدیلی کا تدارک کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں، فوراً سے صاف کردیئے جاتے ہیں۔

دس ارب درخت لگانے کے اس پلان کے پہلے مرحلے کا ٹارگٹ 3.25 ارب درخت ہیں جس پر 105 ارب روپے کی لاگت آئیگی۔ یہ 650 ملین امریکی ڈالر بنتے ہیں۔ حکومت نے 10 ارب درختوں کا ٹارگٹ سال 2023 تک رکھا ہوا ہے۔ یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ انگریز دور کے بعد اس خطے میں کبھی بھی شجر کاری کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی اور آبادیاتی لہروں کے آگے بند نہ باندھنے کے باعث ہم جنگلات کھوتے چلے گئے۔ دس ارب درخت لگانے کے اس پلان میں کوشش یہ ہے کہ وہ درخت لگائے جائیں کہ جن کا بہت زیادہ خیال نہ رکھنا پڑے اور جن کی بڑھوتری کا سفر نسبتاً آسان ہو، نیز جو زمین سے بہت زیادہ پانی بھی نہ جذب کریں۔ اسی طرح سے حکومت وقت نے بہت توجہ قومی پارکس پر بھی دی ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان میں تین سال کی قلیل مدت میں کُل 9 نئے قومی پارکس کی بنیاد ڈالی جاچُکی ہے۔ اسی طرح سے بلین ٹری سونامی کے تحت شجرکاری سے خیبر پختونخوا میں فاریسٹ کوور 20 فیصد سے بڑھ کر 27 فیصد ہوچکا ہے اور یہ تبدیلی محض پچھلے 3 سے 4 سالوں کے درمیان آئی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کے لیے رہائش و خوراک کا بندوبست کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایندھن، گندم اور کیش کراپ یعنی کاٹن کی پیداوار کے لیے یہاں درختوں کی بےتحاشا کٹائی کی جاتی ہے۔ آنے والے وقتوں میں ماحولیاتی تبدیلی کی حفاظت کرنا اور اس ضمن میں ایسے چیلنجوں سے نمٹنا کلیدی اہمیت کا حامل ہوگا۔ اس سلسلے میں بھرپور تشہیری اور آگہی مہم چلانا ہوگی اور قومی نساب کے ذریعے بچوں کے اذہان میں یہ بات بٹھانا ہوگی کہ اگر اس ارضِ پاک پر صحت سے بھرپور زندگی یقینی بنانی ہے تو ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شجر کاری جیسے اقدامات کرنے ضروری ہونگے۔

ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ جنگلات سے آکسیجن پیدا ہوتی ہے جو کہ زمین پر زندگی کے پنپنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک درخت سے یومیہ تقریباً 10 لوگوں کے آکسیجن کا بندوبست ہوتا ہے۔ اس امر سے بھی خود کو روشناس کرانا ہوگا کہ درختوں سے زمینی درجہ حرارت کی کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی کا باعث بنتے ہیں اور آکسیجن کی فراوانی انہیں سے ممکن ہوتی ہے۔ اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ درختوں سے آب و ہوا کی صفائی ممکن ہوتی ہے۔ ان سے زمین پر سائے کا بندوبست ہوتا ہے، درجہ حرارت ایک بیلنس کے تحت رہتا ہے اور یوں موسم کو کنٹرول میں رکھنے کے مصنوعی اور ماحول دشمن طریقوں کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ بات بھی ذہن میں بٹھانی ہوگی کہ درختوں کے جڑوں سے بارش کا پانی جذب ہونے میں مدد ملتی ہے جس سے اربن فلڈنگ یعنی سیلابی صورتحال سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ یہ بھی کہ درختوں سے بہت سی دوائیوں کا جنم ہوتا ہے اور درخت زمینی خوبصورتی کے لیے اہم ہیں، ہمیں آج ہی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم جنگلات کی کٹائی سے مکمل انکار کریں اور شجرکاری کی بھرپور ترویج کریں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

Leave a Reply

Your email address will not be published.