ڈیجیٹل بزنس ماڈل اور کارپوریٹ سیکٹر

[ad_1]



Post Views:
4

سعودی موبائل کمپنی ایس ٹی سی دنیا بھر کی بہترین 44 ڈیجیٹل کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہے۔ اس کی مارکیٹ ویلیو 64.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

عاجل ویب سائٹ کے مطابق انٹرنیشنل میگزین فاربز کی درجہ بندی کے حوالے سے ایس ٹی سی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی مواصلاتی کمپنیوں میں سرفہرست آگئی۔ اس کی ویلیو میں 37.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

فاربز نے اپنی سالانہ ’گلوبل 2000‘ کی فہرست جاری کی ہے۔ یہ دنیا کی دو ہزار طاقتور ترین کمپنیوں پر مشتمل ہے۔ فاربز نے ڈیجیٹل کمپنیوں کی درجہ بندی میں چار باتوں کو بنیاد بنایا ہے۔ اس میں آمدنی، منافع، اثاثوں کا حجم اور ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو شامل ہیں۔

نئے صنعتی انقلاب کی باز گشت کے ساتھ ہی عالمی معیشت کے تمام شعبوں اور دنیا کے ہرحصے میں سرگرم کاروباری سربراہان کے لیے ڈیجیٹل ورلڈ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

موجودہ دور کسی حد تک لیکن مستقبل مکمل طور پر ڈیجیٹل کی دنیا قرار دی جا رہی ہے جبکہ کورونا وائرس جیسے وبائی مرض نے اس رجحان کو مزید تیز کردیا ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ 10 فیصد سے بھی کم کاروباری اداروں کے موجودہ بزنس ماڈلز ڈیجیٹل دور کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کسٹمر ویلیو آمدنی میں اضافے اور مارکیٹ اویلیوایشن کے لحاظ سے موجودہ وقت میں کامیاب ترین بزنس ماڈل ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل کے طور پر جانا جاتا ہے۔

دنیا کی 10 سب سے زیادہ قیمتی اور قابلِ قدرکمپنیوں میں 70 فیصد (ایمیزون، علی بابا، ایپل، مائیکروسافٹ وغیرہ) اور ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت رکھنے والے 70 فیصد اسٹارٹ اپس ڈیجیٹل بزنس ماڈل پر عمل پیرا ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں 2030ء تک 30 فیصد عالمی معاشی سرگرمیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل کے تحت وقوع پذیر ہوں گی۔ تاہم اس وقت 5 فیصد سے بھی کم روایتی کمپنیاں اس سلسلے میں کوئی مربوط لائحہ عمل اختیار کر پائیں گی۔

اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ موجودہ کمپنیوں کے بورڈ پر موجود 10 فیصد سے بھی کم اراکین ایسے ہیں جو ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل کی معیشت کو پوری طرح سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نتیجتاً آج کے کارپوریٹ لیڈرز کی ایک بڑی تعداد نئے صنعتی انقلاب کے لیے درکار تبدیلیوں کو اپنے اداروں میں متعارف کرانے کے لیے پراعتماد نظر نہیں آتی ہیں۔

بلاشبہ یہ ایک بہت بڑا ٹاسک ہو سکتا ہے جسے بیک وقت لاگو کرنے کی بجائے اس پر ٹکڑوں یا مختلف حصوں میں عمل درآمد کیا جاسکتا ہے۔ کارپوریٹ لیڈرز کاروبار کے روایتی طریقوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل پر منتقل کرنے کے لیے درج ذیل لائحہ عمل اختیار کرسکتے ہیں۔

کمپنی بورڈ اور ایگزیکٹوز کی ڈیجیٹل پلیٹ فارم بزنس ماڈل سے مکمل آگاہی

ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک نیا رجحان ہے جس کے بارے میں کم ہی لوگوں کو معلوم ہے۔ کارپوریٹ لیڈرز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کاروباری میدان میں تقابلی سرگرمیوں اور اشتراک میں کام کرنے کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار ہوسکیں۔

کارپوریٹ سیکٹر اور ڈیجیٹل منصوبہ بندی میں ہم آہنگی

معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ کارپوریٹ لیڈرز کو جب نئے مواقع اور خطرات کا ادراک ہوگا تب ہی وہ اپنے ادارے کی نمو کے لیے تیار کردہ لائحہ عمل میں ڈیجیٹل سوچ کو شامل کرسکیں گے۔ اس کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ محتاط روابط اور ابلاغ پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پانچ سال قبل ایک چینی کمپنی نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ خود کو انشورنس کمپنی تصور نہیں کرتی بلکہ وہ خود کو ’فناشل سروسز لائسنس یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی‘ سمجھتی ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارم ماڈل  کے لیے کم از کم 10 فیصد سرمایہ کاری مختص کرنے کی ضرورت

موجودہ دور اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آپ اپنے وسائل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل کریں جس سے کمپنی کے تمام اسٹیک ہولڈرز مستفید ہوں۔ موجودہ وسائل میں سے کچھ حصہ نکال کر ڈیجیٹل میں خرچ کرنا آپ کے مستقبل کے لائحہ عمل کو حقیقت میں بدلنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔ وال مارٹ نے اسی لائحہ عمل کے تحت بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے  جیٹ ڈاٹ کام اور فلپ کارٹ کو خریدا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

Leave a Reply

Your email address will not be published.