ریئل اسٹیٹ میں ابتدائی طور پر سرمایہ کار کیا غلطیاں کرتے ہیں؟


Post Views:
31

یہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ یہ غلط فیصلے ہی ہوتے ہیں جو کہ تجربات کا باعث بنتے ہیں اور انسان اُن سے اپنے درست فیصلوں کی بنیاد ڈالتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جو انسان غلطیاں کرنے سے گھبراتا ہے وہ دراصل سیکھنے سے گھبراتا ہے اور جو سیکھنے سے گھبراتا ہے وہ کبھی بھی آگے نہیں بڑھتا۔

اسی بات کو ذرا ریئل اسٹیٹ کے تناظر میں لے کر آئیں اور سمجھیں۔ ریئل اسٹیٹ دراصل سرمائے کا کھیل ہے یعنی اس میں انسان کے خون پسینے کی کمائی کا کافی سروکار ہوتا ہے۔ آپ کو یہاں غلطیاں کرنے سے گھبرانا تو نہیں چاہیے مگر جتنا ہوسکے اُس حد تک اُن سے خود کو اور دوسروں کو بچانا چاہیے۔

آج کی تحریر اسی حوالے سے ہے کہ ابتدائی طور پر لوگ ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری میں وہ کون کون سی غلطیاں کرتے ہیں جن سے آسانی سے بچا بھی جا سکتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ یہ تحریر اُن کے لیے ان غلطیوں سے بچنے میں معاون اور کارگر ثابت ہوگی۔

پلاننگ نہ کرنے کی غلطی

سیانے یہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے بار بار سوچنا چاہیے۔ ہر پہلو اور ہر پیرائے سے اُسے پرکھنا چاہیے اور پھر جا کر اُس پر کھڑا اور قائم ہونا چاہیے۔ انگریزی کا مقولہ ہے کہ اگر آپ پلان کرنے میں ناکام ہوجائیں تو دراصل آپ ناکام ہونے کا پلان بنا چکے ہوتے ہیں۔ ریئل اسٹیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر پلاننگ کر کے ہی اس دشت کی سیاحت کو نکلیں۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر ہے ہی پلاننگ کا کھیل۔ ریٹ کس طرف جا رہے ہیں، کس جگہ ریٹ بڑھ رہے ہیں، کون سی زمین کی قیمت کو پر لگ رہے ہیں جبکہ کس جگہ قیمتیں کمی کا شکار ہیں، کہاں سرمایہ لگانا چاہیے جبکہ کہاں سرمایہ لگانا گھاٹے کا سودا ہوسکتا ہے، ان تمام باتوں کی طرف توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔

دولت جلدی کمانے کی سوچ

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں لوگ امیر ہونے کی سوچ سے آتے ہیں۔ یہ سوچ غلط نہیں ہے۔ خوشحالی ہر شخص چاہتا ہے اور آج کی اس دنیا میں جو کہ زر اور مال کے گرد گھوم رہی ہے، پیسوں کے لحاظ سے اپنے آپ کو محفوظ بنانا ہر شخص کا حق ہے۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں زمین کی قیمت ہمیشہ بڑھتی ہی ہے، کیونکہ دنیا آباد ہورہی ہے۔ دنیا کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اس ضمن میں لوگ ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ شہر آباد ہورہے ہیں، لوگ نوکریوں کی تلاش میں نکل رہے ہیں اور یوں پراپرٹی کی قیمتوں کو پر لگے ہوئے ہیں۔ لوگ چونکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں جلد امیر ہونے کی سوچ لے کر آتے ہیں تو یہ سوچ عموماً اُن سے جلد بازی میں کئی غلط فیصلے کروا دیتی ہے۔ لوگ بغیر سوچے سمجھے فیصلے لے لیا کرتے ہیں اور یوں وہ سرمایہ جو اُن کے لیے آگے چل کر بہت سے فائدے کا سامان ہوسکتا تھا، نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔

دُرست وقت پر دُرست اقدام کی اہمیت کو نہ سمجھنا

یوں سمجھیے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کامیابی کی کنجی اسی پوائنٹ میں ہے۔ ریئل اسٹیٹ دراصل کھیل ہی درست وقت پر درست قدم اٹھانے کا ہے۔ آپ درست وقت پر درست قدم اٹھا لیجیے اور دیکھیے کہ کیسے آپ دن دوگنی رات چوگنی ترقی حاصل کرتے ہیں۔ اس ضمن میں کافی حد تک سوچ بچار اور ماہرین کی رائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم، یعنی وہ لوگ جو کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں نئی نئی سرمایہ کاری کرنے داخل ہوتے ہیں، کافی حد تک یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں سب کچھ آتا ہے اور کسی قسم کی کوئی رائے روابط کی ضرورت نہیں۔ اس سیکٹر میں مگر اسرار و رموز کا کافی سامان ہے یعنی سیکھنے کو اتنا ہے کہ انسان ابتدائی ایام میں صرف اپنے آپ پر ہی انحصار کر کے کافی کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ وقت ہی سکھاتا ہے کہ درست وقت پر درست قدم اٹھانا کیا ہوتا ہے۔

ہوم ورک سے کترانا

یوں سمجھیے کہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی ہے جس کو این او سی جاری نہیں ہوا۔ اُس کی قیمت مگر بڑھ رہی ہے اور آس پاس کے لوگ اس میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے گویا ایک مقابلے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ سب اس سیکٹر میں نووارد ہیں اور اُنہیں یہی جھانسہ دیا گیا ہے کہ جلد ہی اس ہاؤسنگ سوسائٹی کو این او سی جاری کردیا جائے گا اور بس پھر آپ پلک جھپکتے ہی اربوں کے مالک بن جائیں گے۔ یوں آپ پر بھی پریشر آتا ہے اور آپ کے پاس بھی بجائے اُس میں سرمایہ لگانے کے، کوئی اور آپشن نہیں رہتا۔ ماہرین مگر یہ کہتے ہیں کہ کبھی بھی اپرول یعنی منظوری کے بغیر کسی صورت کہیں اپنا سرمایہ نہ لگائیں۔ ریئل اسٹیٹ ماہرین اونرشپ، اپروول، ڈیمانڈ اینڈ ڈیلیوری کے کرایٹریا پر جو پراجیکٹ پورا نہیں اترتا وہاں اپنا سرمایہ لگانا خود کو نقصان پہنچانے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ عقلمندی کا لیا غلط فیصلہ بھی بیوقوفی کے لیے گئے درست فیصلے سے اچھا ہے۔ ریئل اسٹیٹ میں نئے سرمایہ کار اکثر اس فارمولے کو نہیں سمجھ پاتے اور ایک عظیم غلطی سرزد کر بیٹھتے ہیں۔

ماہرین پر انحصار نہ کرنا

اسی طرح سے ایک پراپر ٹیم کا نہ ہونا بھی آپ کے غلطیاں کرنے کے چانسز کو بڑھا دیتا ہے۔ خود کو مکمل طور پر آئیسولیٹ یعنی بلکل الگ تھلگ کرلینا آپ کے لیے اچھا نہیں۔ اس کے لیے تجربہ کار سرمایہ کاروں سے بات چیت کریں اور اُن سے مشورے لیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ کسی عالم سے ایک گھنٹے کی گفتگو ایک ہزار برس کے مطالعے سے بہتر ہے، بلکل ویسے ہی تجربہ کار ریئل اسٹیٹ ماہرین کی رائے آپ کو اس لمبے سفر میں بہت سی اذیتوں سے بچا سکتی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *