باغِ گلشن کی آرائش میں روشنیوں کی اہمیت

[ad_1]


Post Views:
2

دور جدید میں آؤٹ ڈور کچن، عقبی حصہ ، پورچ اور باغیچہ ہر گھر کی ضرورت بنتے جارہے ہیں۔ اور جب بات ہو گھر کے بیرونی حصے کی تو اس میں لائٹنگ خاص اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے۔ گھر کے بیرونی حصوں میں سورج کی روشنی یا 14 ویں کے چاند کی چاندنی بہترین ’’روشنی‘‘ ثابت ہوتی ہے۔ تاہم دن کے اوقات میں تو بیرونی حصے قدرتی روشنی سے روشن رہتے ہیں لیکن رات کے وقت ان حصوں کو روشن رکھنے کے لیے مصنوعی روشنی درکار ہوتی ہے۔

غروب آفتاب کے بعد گھر کے اس حصے کی چکا چوند میں اضافہ لائٹنگ کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نہ صرف آؤٹ ڈور ایریا کی تعمیر وسجاوٹ پر بھرپور دھیان دیا جائے بلکہ یہاں روشنی کے منظم انتظام پر بھی توجہ مرکوز کی جائے تاکہ سردی ہو یا گرمی، دن ہو یا رات آپ گھر کے بیرونی حصے میں تمام کام بہتر طور پر سر انجام دے سکیں۔

گھر کے لان کی سجاوٹ ہو یا تعمیر لوگوں نے گھر کو سرسبز رکھنے پر کافی توجہ دی ہے۔ جیسے گھر کی سجاوٹ پر دھیان دیا جاتا ہے اسی طرح لان کو بھی خوبصورت بنانے پر توجہ دی جاتی ہے اوراس میں روشنی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ کچھ عرصہ قبل گھر کی تعمیر کے دوران اندرونی حصوں کے لیے تو روشنی کا خاص انتظام کیا جاتا تھا لیکن جب لان کی بات آتی تھی تو اس حصے میں لائٹنگ کا رجحان عام نہیں تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ اس رجحان میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ لان میں قدرتی روشنی تو آتی ہی ہے مگر اس حصے کو رات کے وقت کچھ مصنوعی روشنی کی بھی ضرورت ہوتی ہےکیونکہ غروب آفتاب کے بعد اس حصے کی چکا چوند میں اضافہ لائٹنگ ارینجمنٹ کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔

شمسی توانائی سے روشن قمقمے

گھرکے بیرونی حصے کی لائٹنگ کے حوالے سے سب سے پہلے سولر لائٹس کی تنصیب پر غور کریں۔ پاکستان میں سورج کی تپش بہت زیادہ ہوتی ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں سورج کی ریڈی ایشن اور درجہ حرارت کا موازنہ جرمنی سے کیا جائے تو پاکستان میں سولر پینلز سے33 فیصد زیادہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ سولر لائٹس کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے بجلی کے لوڈ کو ایل ای ڈی لائٹس لگا کر کم کیا جائے یہ لائٹس بہت کم بجلی استعمال کرتی ہیں جبکہ یہ چلتی بھی طویل عرصے تک ہیں۔ یہ قدرے مہنگی تو ہوتی ہیں مگر طویل المیعاد عرصے کے حوالے سے دیکھا جائے تو کفایتی ہوتی ہیں۔

دیواروں پر چراغاں کی بجائے فرشہ روشنیاں

دیواروں میں لائٹس تو سب ہی لگواتے ہیں لیکن آپ اپنے لان کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے فرشی روشنیوں کا انتخاب کریں۔ ان روشنیوں کا استعمال عام طور پر عمودی باغ والی دیوار سے منسلک فرش پر کیا جاتا ہے، جس کا مقصد اس دیوار کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرنا ہوتاہے۔ یہ لائٹس فرش پر اوپری رُخ نصب کی جاتی ہیں، جو روشنی کو ہر طرف بکھیرتی ہیں۔ ان روشنیوں کی موجودگی رات کو پراسرار بنا دیتی ہیں۔ رات کے وقت یہاں چہل قدمی کرنا بڑا رومانوی لگتا ہے۔

خفیہ ایل ای ڈی لائٹس

اگر آپ کے لان میں کوئی سیڑھی موجود ہے تو ہمارے خیال میں اس سیڑھی کو بھی روشنی کے بغیر بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ سیڑھیوں کو روشن بنانے کے لئے اس کے زینے پر لائٹس کے دلکش اور جدید اسٹائل اپنائے جا سکتے ہیں مثلاً ہر زینے کے زیریں حصے پر خفیہ ایل ای ڈی لائٹس کی تنصیب کروائی جاسکتی ہے جو بظاہر معلوم نہیں ہوتیں لیکن رات کے وقت آپ کے باغ کو جگمگا کر وہاں کا منظر دلکش بناسکتی ہیں ۔

درختوں پر روشنی

آپ نے درختوں کو پھل پھول سے سجا تو اکثر سنا اور دیکھا ہوگا لیکن روشنی فراہم کرتے درخت شاید نہ دیکھے ہوں۔ گھر کے اندرونی حصے میں داخلے سے قبل پورچ ایریا کو روشن کرنے کے لیے درختوں پر لائٹس لگانے سے بڑھ کر بہتر آئیڈیا نہیں ہوسکتا۔ شام کے وقت صحن اور باغ میں بیٹھ کر قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لئے باغ کے آغازیا اختتامی حصے میں درختوں پر لائٹس کی تنصیب کروائیں۔ اس کے لیے زمین پر لوہے کا اسٹینڈ بھی لگایا جاتا ہے، جس پر عام بلب سے بڑا بلب لگا کر باغ کو روشن کیا جاسکتا ہے۔

منفرد انداز کے قمقمے

گھر کے لان کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے ڈیکوریشن لائٹس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ لائٹس شیڈ کے ساتھ ہوتی ہیں تاکہ دھوپ اور پانی سے محفوظ رہیں۔ اس حصے کےلیے ہینگنگ لائٹس کا انتخاب بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے بلب اور روشنیوں کے ہار لٹکا کر باغیچے میں خوشگوار ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی راستہ سیڑھیوں کی جانب جاتا ہے تویہاں روشنی کاانتظام بیرونی حصے کی خوبصورتی کاباعث بنے گا۔

باطنی دیوار کی آرائش

مرکزی دروازے کے بعد گھر میں داخلے کے لیے جو دیوار سب سے پہلے آتی ہے اسے لائٹس کے بغیر ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔ دیوار کے دونوں حصوں میں ڈیکوریشن لائٹس کا استعمال خوبصورتی کے ساتھ کیا جائے تو گھر میں داخلے سے قبل ایک خوبصورت احساس پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے داخلی دیوار پر خوبصورت لائٹنگ پر ضرور غور کیجیے یہ لائٹس ابھری ہوئی ہونے کے بجائے دیوار میں نصب ہوں تو زیادہ اچھا تاثر قائم کریں گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

Leave a Reply

Your email address will not be published.