بارش کے پانی کا بہتر استعمال، مگر کیسے؟

[ad_1]


Post Views:
3

یہ تو آپ نے سُنا ہی ہوگا کہ پانی زندگی ہے۔ کوئی بھی ذی شعور شخص اِس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا۔ پانی وہ قدرتی ریسورس ہے کہ جس کے بغیر آپ زمین پر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ قدیم وقتوں سے آج تک، انسان وہیں بستا اور آباد ہوتا چلا آرہا ہے کہ جہاں پانی کی فراوانی ہو۔

دنیا میں جس رفتار، جس تناسب سے آبادی بڑھ رہی ہے، اگر پانی کا سوچ سمجھ کر یعنی دُرست استعمال نہ کیا گیا تو ہم بہت جلد ایک عالمی آبی قلت کے رو برو آسکتے ہیں۔ اُس کے آثار ابھی سے ہی بہت نمایاں ہیں لہٰذا پانی کے استعمال میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔

چند حقائق

عالمی جریدے فوربز کے مطابق پانی کرہ ارض کا 71 فیصد بنتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اس 71 فیصد کا صرف 3 فیصد فریش واٹر ہے یعنی وہ پانی ہے جو انسانوں کے پینے کے قابل ہے اور جس سے فصل اُگائی جاسکتی ہے۔ حیرت کی بات مگر یہ ہے کہ اُس 3 فیصد کا 2.5 فیصد دستیاب ہی نہیں ہے یعنی وہ آئس کیپس اور گلیشیرز میں بند ہے، کچھ زیرِ زمین ہے اور کچھ ہوا میں نمی کی صورت میں یعنی اپنے ایک مدار، اپنے سائیکل میں قید ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیں کہ ہم 7 ارب انسانوں کے لیے صرف 0.5 فیصد پانی بچتا ہے جسے ہم ضایع بھی کررہے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی اور گندگی کی وجہ سے اُس کی صحت کے بھی درپے ہیں۔ یوں رین واٹر ہارویسٹنگ ضروری ہی نہیں، انتہائی ضروری بن جاتی ہے۔

ہمارا ماڈرن لائف سٹائل، ایک المیہ

ہمارے ماڈرن لائف سٹائل میں جہاں پانی کے بچاؤ پر توجہ ہونی چاہیے تھی، بدقسمتی سے اُتنا ہی پانی ضایع ہورہا ہے۔ ہمارے واش رومز میں نصب نت نئے اقسام کے نلکوں سے پانی بہت تیز بہتا ہے اور ہم اپنی ضرورت سے بہت زیادہ پانی یونہی بہا دیتے ہیں۔ اسی طرح گھروں پر ٹینکیاں بھرنے کے لیے موٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے، وہ موٹر چند منٹوں میں ٹینک بھر دیتے ہیں اور ہمارے اُنہیں بند کرنے تک پہنچنے تک پانی بہتا چلا جاتا ہے، اور اکثر تو ہم اُسے بند کرنے میں اور بھی دیر کردیتے ہیں۔ یوں نت نئے اقسام کے شاورز کی بھی الگ ہی صورتحال ہے اور ہم اس بات کا احساس نہیں کر پارہے کہ فریش واٹر ایک انمول ریسورس ہے۔ آپ ماحولیاتی فوائد کو ہٹا بھی دیں، اس کے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا ہماری اپنی زندگیوں کے لیے اہم ہے۔

 

 

مون سون، پانی کے بچاؤ کا اہم سیزن

پاکستان میں آجکل مون سون سیزن چل رہا ہے۔ آئے روز بارشیں جہاں گرمی کے جانے کی نوید دے رہی ہیں، وہیں اس بات کا احساس بھی دلا رہی ہیں کہ قدرت کے اس انمول ترین تحفے کی قدر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مون سون سیزن میں بارش کا بہت سا پانی صرف اس لیے ضائع ہوجاتا ہے کہ ہمارے پاس اُس کے بچاؤ اور بہتر استعمال کا کوئی میکنزم نہیں ہوتا۔ آج کی تحریر میں مگر ایسے بہت سے طریقوں کا ذکر ہے کہ جس سے آپ ماحولیات پر اپنے منفی اثر کو کسی صورت کم کرسکتے ہیں۔

جب بھی بارش ہو تو وہ سامان کہ جس کا کھلے پانی میں دُھلنا ضروری ہے وہ باہر رکھیں اور اس پر بارش ہونے دیں تاکہ وہ سامان دُھل سکے۔ اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ بھلا اس سے پانی کا بچاؤ کیسے ممکن ہے۔ تو جناب وہ ایسے کہ آپ ویسے بھی یہ تمام اشیاء دھوئیں گے ہی اور اُس صورت میں پانی کے دیگر ذرائع استعمال ہونگے۔ تو کیوں نہ بارش کا ہی پانی استعمال کرلیا جائے۔ ایسے میں ایک بہتر امر یہ ہے کہ آپ اُس تمام سامان پر تھوڑا سا صابن یا سرف پہلے سے ہی لگا دیں تاکہ بارش کا پانی اُسے مکمل طور پر چمکا سکے۔

رین واٹر کلیکشن سسٹم

آپ اپنے گھر پر ایک رین واٹر کلیکشن سسٹم بھی انسٹال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک بڑا ٹینک ہوتا ہے جس میں پانی بھرا جاسکتا ہے مگر یہ زیرِ زمین ہوتا ہے۔ جب بھی بارش ہو، اور بارش کی صورت میں زیادہ پانی آئے، تو پانی رین واٹر کلیکشن ٹینک کی جانب ڈائریکٹ کردیا جاتا ہے۔

 

 

اس ٹینک میں ایک فلٹر بھی نصب ہوتا ہے جس سے پانی صاف کیا جاتا ہے اور قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ رین واٹر کلیکشن سسٹم کی لاگت تو زیادہ ہوتی ہے اور اسے نصب کرنا بھی ایک عام آدمی کے خود کے بس کی بات نہیں، یعنی یہ ایک پروفیشنل کی مدد سے ہی لگایا جاسکتا ہے مگر ایک بار اگر آپ یہ انویسٹمنٹ کر گزرے تو آپ پانی کو ضایع ہونے سے بھی بچا سکتے ہیں اور آپ کے گھر کو پانی کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا۔

پودوں تک پانی کی رسائی

اپنے مکان کی چھت کے ڈرین پائپ سے ایک ہوز کنیکٹ کرلیں اور اس کی ڈائریکشن نیچے دالان کی جانب کریں۔ یوں بارشوں کے موسم میں وہاں وہ گملے یا پلانٹ کنٹینرز رکھ لیں جن کو وقتاً فوقتاً آبیاری کی ضرورت رہا کرتی ہے۔

 

 

اسی طرح سے اپنے گھر میں بچوں کے سوئمنگ پول، بالٹیاں، واٹر کینز کو استعمال میں لاتے ہوئے بارش کا پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔ اس پانی سے گاڑی کا دھونا، فرش کی دھلائی یا پھر دیگر صفائی ستھرائی کا کام باآسانی کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ یہ پانی آپ کو چند دنوں کے اندر ہی استعمال کرنا ہے اور اسے زیادہ دیر تک ٹھہرانا اسے مچھروں کے افزائش کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے جو کہ آپ کی صحت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔




[ad_2]

Leave a Reply

Your email address will not be published.